سی پیک انقلابی ایم ایل ون منصوبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1804 ء میں ایک انگریز انجینیر رچرڈ ٹرے دی تھک نے بھاپ سے چلنے والا انجن تیار کیا۔ اس کے بعد جارج سٹیفن سن نے اس سے زیادہ طاقتور انجن بنایا۔ اس انجن کے کامیاب تجربے کے بعد سٹاکٹن سے ڈارلنگٹن تک ریل کی پٹری بچھائی گئی جس پر صرف مال گاڑیاں چلائی گئیں۔ 1830 ء میں لیور پول سے مانچسٹر کو ملانے والی ریلوے لائن کا افتتاح ہوا اور برطانیہ میں سب سے پہلی مسافر گاڑی اسی ریلوے لائن پر چلی۔ اس کے بعد ریاست ہائے متحدہ میں 1833 ء بلجیم اور جرمنی میں 1835 ء میں کینیڈا 1836، فرانس 1837 ء ہالینڈ اور اٹلی میں 1839 ء میں ریل گاڑیاں چلنے لگیں۔

ہندوستان میں ریلوے کی تاریخ کا آغاز 1845 ء سے ہوا۔ اس سال کلکتے سے رانی گنج بمبئی سے کلیان اورمدراس سے ارکونام تک تین ریل گاڑیاں تجرباتی طور پر چلائی گئیں۔ 13 مئی 1861 ء کو کراچی سے کوٹری تک چلنے والی ریل گاڑی کا افتتاح ہوا۔ 10 اپریل 1862 ء کو لاہور اور امرتسر کے درمیان پہلی گاڑی چلی۔ 1865 ء میں ملتان کو لاہور سے ریلوے کے ذریعے سے ملا گیا۔ 1889ء میں سکھر کے مقام پر دریائے سندھ پر پل تعمیر ہونے سے پنجاب اور سندھ ریل کے ذریعے مل گئے۔

دنیا بھر کے ممالک میں ریلوں کے جال بچھا ہوا ہے انجنوں اور گاڑیوں کی ساخت اور رفتار انتہا کو پہنچی ہوئی ہیں انجنوں نے بہت ترقی کی ہے جدید قسم کے انجن بنائے گئے ہیں شروع میں بھاپ کے انجن بنے پھر ڈیزل سے چلنے والے انجن بنائے گئے اس کے بعد بجلی سے چلنے والے انجن بن گئے بھاپ کے مقابلے میں ڈیزل اور بجلی کے انجن بن گئے ہلکے پھلکے اور تیز رفتار ہوتے ہیں۔

برصغیر میں ریل کا اغاز مواصلات کے جدید، اور بڑی حدتک انقلابی ذریعے کے طور پر ہوا، مگرجلد ہی ریل ایک اہم علامت بھی بن گئی۔ برصغیرکے جن علاقوں میں ریل کی پٹریاں بچھائی گئیں، وہاں ایک نئی ثقافت کا اغاز ہوا۔ موجودہ پاکستان میں ریلوے کا آغاز 13 مئی 1861 ء میں ہوا جب کراچی سے کوٹری 169 کلومیٹر ریلوے لائن کا افتتاح ہوا۔ 1885 ء تک موجودہ پاکستان میں چار ریلوے کمپنیاں سندھ ریلوے، انڈین فلوٹیلا ریلوے، پنجاب ریلوے اور دہلی ریلوے کام کرتیں تھیں۔

1885 ء میں انڈین حکومت نے تمام ریلوے کمپنیاں خرید لیں اور 1886 ء میں نارتھ وسٹرن اسٹیٹ ریلوے کی بنیاد ڈالی جس کا نام بعد میں نارتھ وسٹرن ریلوے کر دیا گیا۔ قیام پاکستان کے وقت پاکستان میں تین مختلف براڈ گیج، میٹر گیج اور نیرو گیج ریلوے لائنیں استمال ہوتی تھیں۔ جن میں سے کچھ میٹر گیج اور نیرو گیج ریلوے لائنیں براڈ گیج میں تبدل کر دیں گئیں ہیں اور باقی بند ہوچکی ہیں۔ اب پاکستان ریلوے کے نظام میں صرف براڈ گیج ریلوے لائنیں استمال ہو رہی ہیں۔ پاکستان ریلویز کی ٹرینوں کی رفتار زیادہ سے زیادہ 120 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ پاکستان بھارت، ایران اور ترکی سے بذریعہ ریل منسلک ہے۔

عوام کے لئے سستا ’معیاری سفر، ریل گاڑی آمدو رفت، سامان کی ترسیل کے لئے سستا اور آسان ترین ذریعہ، مال بردار ٹرینیں ریلوے کا سب سے بڑا ریونیو حاصل کرنے کا ذریعہ مال بردار گاڑیوں کے ذریعے گڈز کی آمدورفت سے وابستہ ہے۔ ایم ایل ون پاکستان ریلوے کا تاریخ ساز منصوبہ کیونکہ ماضی میں ریلوے کی ترقی کے حوالہ سے اتنے بڑے منصوبے نہیں لائے گئے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے ریلوے کے انقلابی ایم ایل ون منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے منصوبے ایم ایل ون ہے۔ ایم ایل ون منصوبہ سی پیک کا سب سے بڑا منصوبہ ہے، اس منصوبے کے تحت ریل کے انفرا اسٹرکچر میں بہتری ہوگی۔ 14 سال پہلے جس منصوبہ پر میں نے دستخط کیے تھے۔ ایم ایل ون پراجیکٹ کوسی پیک میں انتہائی اہمیت حاصل ہے، ریلوے کی ترقی ملکی ترقی کے لئے ناگزیر تھا۔ ایم ایل ون منصوبہ کے بعد ایم ایل 2، ایم ایل 3 یہ روہڑی جنکشن ریلوے اسٹیشن سے شروع ہو کر چمن ریلوے اسٹیشن پر ختم ہوتی ہے، ایم ایل۔ 4 یہ لائن ایران میں داخل ہوتی ہے اور زاہدان کو جاتی ہے۔ منصوبہ ہے۔ خنجراب ریلوے یا قراقرم ریلوے پاکستان کے گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ نگر کو براستہ درہ خنجراب عوامی جمہوریہ چین کے خود مختار علاقے شنجیانگ سے ملانے کا ایک منصوبہ ہے۔

لاہور میٹرو پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت چینی اورنج لائن لاہور میٹرو کی پہلی لائن۔ اس کے مالی اخراجات اور تعمیر پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت چینی حکومت نے کء۔ منصوبے کے لیے زمین پنجاب حکومت نے مہیا کی۔

وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں ریلوے کے شعبہ میں تاریخ ساز ترقیاتی کام ہونے جا رہے ہے اس منصوبہ سے ریلوے کا سارا سسٹم خودکار ہو جائے گا، ایم ایل ون منصوبہ میں 90 فیصد ملازمتیں پاکستانیوں کے لئے مختص ہوں گی۔ منصوبہ سے نہ صرف ٹرینوں کی تعداد بڑھے گی بلکہ سفر کا دورانیہ بھی کم ہو گا۔ ایم ایل ون منصوبہ سے کراچی سے پشاور تک 1780 کلومیٹر کا ڈبل ٹریک پر کام ہو گا اور اس منصوبہ پر چین کے تعاون سے 6.80 بلین ڈالر لاگت آئے گی۔

اس منصوبہ پر 90 فیصد پاکستانی لیبر کام کرے گی جس سے ڈیڑھ سے 2 لاکھ افراد کو روزگار میسر آئے گا۔ ریلوے میں حادثات کی بڑی وجہ ریلوے کراسنگ ہے، اس منصوبہ سے خودکار سسٹم شروع ہو گا جس سے نہ صرف حادثات سے بچا جا سکے گا بلکہ سفر کی تکمیل میں بھی وقت کی بچت ہو گی۔ ایم ایل ون ملک کی تقریباً 71 فیصد آبادی سے گزر کر جائے گا جس سے شہریوں کو سفر کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔ مسافر ٹرینوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا جو 34 سے بڑھ کر 140، مال بردار ٹرینوں کی تعداد بھی 160 تک پہنچ جائیں گی۔ نئے اور بہتر ٹریکس سے مسافر ٹرینوں کی رفتار 110 سے بڑھ کر 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی۔ کراچی سے خیبر تک سامان کی آسان محفوظ اور سستی ترین ترسیل مال گاڑیوں کی بدولت ہے اور دفاعی ساز و سامان کی نقل و حرکت صرف مال بردار گاڑیوں کے ذریعے باآسانی منتقل ہو سکے گا۔

تمام ٹریکس کے اردگرد حفاظتی باڑ اور راستے میں جدید ٹیلی کام سنگنلز کی تنصیب ہوگی جب کہ ہر روز ٹرینوں کی آمدورفت کی تعداد بڑھ جائے گی۔ اس منصوبے سے ڈیڑھ لاکھ افراد کو بالواسطہ یا بلا واسطہ روزگار میسر ائے گا یہ پاکستانی عوام کے لئے ایک بڑا منصوبہ ہے جو ملک میں سفری سہولتوں کے حوالے سے انقلاب برپا کرے گا

Latest posts by سید کمال حسین شاہ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •