مساجد کا تقدس آمدن سے کہیں زیادہ قیمتی!
مقدس مقامات سے عقیدت و احترام ہر پاکستانی کے ایمان کا حصہ ہے، مقدس مقامات کی بے حرمتی کی پاکستانی قانون میں گنجائش ہے نہ ہی معاشرتی اقدار ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔ اس کے باوجودایک نجی پروڈکشن کمپنی نے مسجد وزیر خان میں ریکارڈنگ کے لئے وضع کیے گئے قواعد و ضوابط کو پامال کرتے ہوئے رقص اور قابل اعتراض عکسبندی کی ہے۔ اس سے انکار نہیں کہ مغلیہ دور کی تاریخی مسجد وزیر خان میں عسکبندی کی باضابطہ اجازت لی گئی تھی، تاہم مسجد کے تقدس کا احترام پروڈکشن کمپنی کی ذمہ داری تھی، لیکن جس انتظامیہ نے عکس بندی کی اجازت دی، اس کا بھی فرض تھا کہ اس کے اہلکار مسجد کے تقدس کو قائم رکھنے کے لئے ضروری اقدامات کو یقینی بناتے، دونوں جانب سے ایک تو انتہائی غیر ذمہ دارانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، دوسرا متعلقہ افراد کا مجرمانہ سرگرمی پر خاموشی اختیار کیے رکھنا باعث شر م اور ناقابل معافی مجرمانہ فعل ہے۔ اس مذموم فعل میں ملوث پروڈکشن کمپنی کے ساتھ محکمہ اوقاف کے اہلکاروں، بالخصوص خطیب کو بھی قانون کے مطابق سزا دینے کی ضرورت ہے، تاکہ مستقبل میں کسی کو بھی عبادت گاہوں کا تقدس پامال کرنے اور مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی جرات نہ ہو سکے۔
یہ امرواضح ہے کہ مساجد جو کہ اللہ کا گھر اور عبادت کے لئے ہیں، وہاں پر فحش گانے کے ویڈیو شوٹ سے بڑھ کر گھٹیا حرکت اور کیا ہو سکتی ہے، لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی، بے حسی اور لاپرواہی کی انتہا ہے کہ عوام کے سراپہ احتجاج ہونے سے قبل کسی نے مذموم فعل پر کوئی نوٹس نہیں لیا، اس سے پہلے بھی سنجیدہ حلقے بادشاہی مسجد، فیصل مسجد اسلام آباد، مسجد وزیر خان سمیت دیگر تاریخی مساجد میں فوٹو شوٹس کے حوالے سے سراپہ احتجاج رہے ہیں، لیکن انتظامیہ معمولی آمدن کے لالچ میں بے خوف ان عبادت گاہوں کا تقدس پامال کرتی رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ایک طرف تو مساجد و عبادت گاہوں میں کرونا کی وجہ سے ایس او پیز پر سختی سے عمل کرایا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب انہی مساجد میں گانوں کی عکس بندی کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیاپر کسی وردی کی توہین، اداروں کی کرپشن کے حوالے سے حقائق اورسیاسی لیڈر کے بارے اظہار خیال پر تو قانون فوری حرکت میں آتا ہے، لیکن مساجد کے تقدس کی پامالی، شعائر اسلام کی توہین اور عبادات و دینی تہواروں کا مذاق اڑانے یا ان پر فحاشی و عریانی پھیلانے پر کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا، بلکہ بڑی بے حسی کے ساتھ خاموشی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ حکومت کو عوام کی جانب سے۔ ”علماء جیلوں اور کنجر مسجدوں میں“ جیسی پوسٹوں کا مزہ لینے کی بجائے سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔
یہ آمر خوش آئند ہے کہ بہت دیر سے ہی سہی، مگر وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار اور صوبائی وزیر مذہبی امور سید سعید الحسن شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہو ئے کہا ہے کہ ایسے غیر ذمہ درانہ واقعات کو ہر گزبرداشت نہیں کیا جائے گا، مساجد اور مقدس مذہبی مقامات کا تقدس ہر قیمت برقرار رکھا جائے گا۔ علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) نے مسجد وزیر خان میں ”انار کلی“ فلم کی شوٹنگ کے دوران مبینہ طور پر ساؤنڈ سسٹم لگا کر سرعام رقص و سرور کی محفل منعقد کرنے کے خلاف تحریک التوا کار بھی جمع کرا دی ہے، رکن اسمبلی سنبل مالک حسین کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک کے متن میں کہا گیا ہے کہ اندرون شہر کی تاریخی مسجد وزیر خان میں 28 جولائی کو ”انارکلی فلم“ کی شوٹنگ کی گئی۔ مبینہ طور پر ساؤنڈ سسٹم لگا کر مسجد میں سرعام رقص و سرور کی محفل منعقد کرکے مسجد کے تقدس کی دھجیاں بکھیری گئیں ہیں۔ مسجد میں جس جگہ امام امامت کرواتا اور موذن اذان دیتا ہے، وہاں پر میوزک اور ڈانس کی محفلیں کرانے سے نہ صرف مسجد کا تقدس پامال ہوا، بلکہ دنیا بھرکے مسلمانوں کی دل آزاری بھی ہو ئی ہے، لہذا اس گھناؤنے اور شیطانی عمل میں شامل لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں لاکر عبرت کا نشان بنایا جائے۔
اس میں شک نہیں کہ ہماری تمام مشکلات بڑھنے کا سبب ہی دین سے دوری ہے، دنیابھر میں کوئی ایسی قوم نہیں ہو گی کہ جو اپنے ذاتی مقاصد اور کاروباری لالچ میں اپنے مذہبی مقامات، مقدس جگہوں، عبادات گاہوں، اپنی مذہبی روایات، دینی شعائر اور روحانی اقدار کو بھی طنز ومذاق، فحاشی اورتفریح کی نظر کر دے۔ ہمارے ہاں تو رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے کو بھی کمائی کا ذریعہ بنایا جاتا ہے، فلمی دنیا کے ستاروں سے مذہبی پروگرامز، کوئز شوز اور ہلے گلے والے شوز کرائے جاتے ہیں، جادو ٹونہ کرنے والوں کے اشتہارات اشاعت کا حصہ بنتے ہیں۔
عبدالاضحی اور قربانی جو کہ سنت ابراہیمی ؑ اور نبی اکرمﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں ایک خالص دینی فریضہ ہے، اسے بھی نمود و نمائش، جانوروں کی سج دھج اورمختلف قسم کے پکوان تیار کرنے کی پہچان بنا دی گئی ہے۔ کمرشل ازم کے تحت ہر مذہبی تہوار، مقام اور شعائر اسلام تک کو اشتہار بازی، فحش ویڈیوز اور فوٹو گرافی کے لیے استعمال کرنے کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔ مساجد نماز و عبادت کے لئے ہیں، انہیں گانوں کی ریکارڈنگ، ماڈلنگ، فوٹوگرافی اور ویڈیو شوٹنگ کی جگہیں نہ بنایا جائے، خدارا مساجد اور عبادت گاہوں کے تقدس کا خیال کریں، امت مسلمہ پہلے ہی کوتاہیوں کے باعث ذلیل و خوار ہو رہی ہے، اگر ہم نے اپنی روش نہ بدلی اور اللہ کے گھر کی بے حرمتی کرنے والوں کو سخت سزا نہ دی توپھر ہمیں اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ حکومت وقت اور انتظامیہ کا بھی فرض بنتا ہے کہ مساجد کی بے حرمتی پر زبانی کلامی بیان بازی کرنے کی بجائے ہوش کے ناخن لے اورمذہبی مقامات پرکسی بھی قسم کے ویڈیو یا فوٹو شوٹ کی اجازتدینا بند کردے، کیو نکہ مساجد کا تقدس معمولی آمدن سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔


