کرپشن فری پاکستان میں بدعنوانی کی نئی کونپلیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے انگریزی اخبار دی نیوز کو دیے گئے انٹرویو سے اپوزیشن میں انتشار کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں نفاق کے حوالے سے بھی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے عید الاضحیٰ سے پہلے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں عید کے فوری بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا تھا تاکہ حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جاسکے۔ اب اس کانفرنس کا انعقاد بھی مشکوک دکھائی دے رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اور حکومت کے لئے اپوزیشن کا باہمی انتشار ایک اچھی خبر ہے لیکن یہ سوال بدستور جواب طلب ہے کہ کیا یہ ملک کے لئے بھی اتنا ہی خوشگوار واقعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس اصول پر اختلاف نہیں ہونا چاہئے کہ تحریک انصاف کو انتخابی کامیابی اور پارلیمنٹ میں اکثریت کی بنیاد پر پانچ برس حکومت کرنے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ کسی مصنوعی طریقے یا غیر ضروری احتجاج کے ذریعے ملک میں سیاسی صورت حال کو غیر مستحکم کرنا نہ تو مناسب ہوگا اور نہ ہی اس سے ملک میں جمہوری روایت کو فائدہ ہونے کا امکان ہے۔ اس کے باوجود یہ حقیقت فراموش نہیں کی جانی چاہئے کہ تمام تر اختلاف رائے اور بالواسطہ یا براہ راست اشاریوں کے باوجود ملک میں پارلیمانی نظام حکومت کام کررہا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن پر اس نظام کو کامیاب بنانے کی یکساں ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ موجودہ حالات میں یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ دونوں ہی اس ذمہ داری سے عہدہ برا نہیں ہورہے۔

عمران خان بدستور اپوزیشن لیڈروں کے خلاف معاندانہ رویہ رکھتے ہیں اور ان سے ملاقات تو کجا آئینی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ملاقات کے بھی روادار نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس اپوزیشن لیڈر ملک میں تبدیلی کی بات بھی کرتے ہیں اور موجودہ حکومت کو ملکی مفاد کے خلاف بھی قرار دیتے ہیں لیکن وہ نہ تو متبادل قیادت سامنے لانے میں کامیاب ہیں اور نہ ہی موجود مسائل سے نمٹنے کے لئے کوئی متبادل ایجنڈا فراہم کرسکے ہیں۔ اس طرح بیان بازی اور ایک دوسرے کے بارے میں ذاتیات پر مبنی تبصروں سے ملک کی سیاسی فضا کو آلودہ اور پارلیمانی تعاون کو مشکل بنایا جارہا ہے۔

شہباز شریف جو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی ہیں، جمہوری طریقوں سے زیادہ گٹھ جوڑ اور اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ساز باز سے حکومت گرانا یا اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کا صدر اور اپوزیشن لیڈر کے عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود اپنا جمہوری کردار ادا کرنا اہم نہیں سمجھتے۔ شہباز شریف کے طرز عمل سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر عمران کی سب سے بڑی کمزوری اسٹبلشمنٹ کے تعاون سے اقتدار تک پہنچنا اور اسے برقرار رکھنا ہے تو اسی اسٹبلشمنٹ کے تعاون سے برسر اقتدار آنے کی خواہش رکھنےوالا شہباز شریف کیسے ایک بہتر متبادل ثابت ہوگا۔ برسر اقتدار اور اپوزیشن میں ہونے کی تخصیص سے قطع نظر ملک کے سب سیاسی لیڈروں کو اس بنیادی نکتہ پر اتفاق کرنا پڑے گا کہ عسکری اداروں سے تعاون اور اہم قومی پالیسی سازی میں مشاورت کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہونا چاہئے کہ یہ ادارے سیاسی لیڈروں کو کٹھ پتلیاں بنائے رکھیں۔ عمران خان اور شہباز شریف کو یکساں طور سے یہ بات سمجھنا ہوگی۔ تاہم اس مقصد کے لئے انہیں ذاتی اقتدار کی ہوس اور انا کے خول سے باہر نکلنا ہوگا۔

ملک کو متعدد معاشی، سماجی اور سفارتی مسائل کا سامنا ہے۔ عالمگیر سطح پر پھیلنے والی وبا کورونا کی وجہ سے ہمہ قسم مسائل کی سنگینی اور شدت میں اضافہ ہؤا ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لئے بطور قوم مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ مقصد حاصل کرنے کی بجائے ضد اور تصادم کا راستہ اختیار کیا جارہا ہے۔ حکومت اپوزیشن لیڈروں کی کردار کشی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی اور قومی احتساب بیورو کو مسلسل اپوزیشن کو دبانے بلکہ نشان عبرت بنانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ عید الاضحیٰ کے بعد نیب نے خاص طور سے اپوزیشن لیڈروں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ حالانکہ خواجہ برادران کیس میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلہ کے بعد نہ صرف حکومت کو نیب قوانین میں تبدیلی کے لئے سرعت کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا بلکہ نیب کے چئیرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کو بھی اپنے ذاتی کردار پر اٹھنے والی انگلیوں کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہئے تھا۔ حکومت البتہ بدستور نیب کے موجودہ کردار کو برقرار رکھنے بلکہ اسے کسی حد تک مستحکم کرنے میں یقین رکھتی ہے تاکہ ’کرپشن کے خاتمہ‘ کا مشن پورا کیا جاسکے۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر چئیرمین نیب کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے اور اس مطالبہ کی بنیاد خواجہ برادران کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے علاوہ ایک دوسرے معاملہ میں ججوں کی اس آبزرویشنز کو بنایا گیا ہے کہ’ ایسے لوگوں کو نیب میں اعلیٰ عہدے تفویض کئے گئے ہیں جن کے پاس قانونی معاملات کی نہ تو تعلیم ہے اور نہ ہی وہ اس کا تجربہ رکھتے ہیں‘۔ احتساب بیورو کے چئیر مین وقتاً فوقتاً ملک سے بدعنوانی ختم کرنے اور قومی دولت واپس لانے کا دعویٰ کرتے رہتے ہیں لیکن جب ان کے اپنے کردار پر سوال اٹھتے ہیں تو وہ خود کو جوابدہ نہیں سمجھتے۔ جاوید اقبال اگرچہ خود سپریم کورٹ کے جج رہے ہیں اپنے ادارے کے ناقص، خلاف قانون اور انسانیت سوز اقدامات پر انہیں احتساب کا خیال نہیں آتا حالانکہ سپریم کورٹ نے ہی ان کی نشاندہی کی ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کس اخلاقی جواز پر سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد اپنی کرسی سے چمٹے ہوئے ہیں کہ نیب کو ’سیاسی انجینئرنگ ‘ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اب جاوید اقبال کا استعفیٰ اپوزیشن کے مطالبے سے زیادہ اس ادارے کی رہی سہی عزت اور غیر جانبداری کو محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہو چکا ہے۔

گزشتہ دنوں منی لانڈرنگ کے حوالے سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے مطالبات پورے کرنے کے لئے حکومت نے چند قوانین پارلیمنٹ سے منظور کروائے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان قوانین کے علاوہ نیب آرڈی ننس میں ترمیم کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن کے ساتھ مواصلت و اتفاق رائے کا اشارہ دیا تھا۔ تاہم نیب قانون میں اپوزیشن کی تجاویز کو یہ کہتے ہوئے حقارت سے رد کردیا گیا کہ اس طرح وہ اپنے لیڈروں کو بچانا چاہتے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے تین قوانین منظور کئے جا چکے ہیں لیکن حکومت نے جان بوجھ کر نیب ترمیمی قانون کو التوا میں رکھا ہے اور اس بنیاد پر اپوزیشن لیڈروں کے خلاف نئے سرے سے پروپیگنڈا مہم شروع کی گئی ہے۔ حالانکہ سوال چند افراد پر الزامات کا نہیں ہے بلکہ ایک ایسے ادارے کا اعتبار بحال کرنے کے بارے میں ہے، جسے ایک فوجی آمر نے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے قائم کیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اپنے ادوار اقتدار میں اس قانون کو تبدیل نہیں کرسکے اور ان کی قیادت اس وقت اسی کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ کیا تحریک انصاف کے لیڈر اتنا سمجھنے کی عقل بھی نہیں رکھتے کہ نیب کا موجودہ قانون اور ڈھانچہ مستقبل میں ان کے خلاف بھی ویسے ہی استعمال ہوگا جیسے حکومت انہیں ناپسندیدہ لیڈروں کے خلاف اس وقت استعمال کررہی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے دی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ایف اے ٹی ایف کے بارے میں قانون سازی پر اپوزیشن اور حکومت کے تعاون پر نکتہ چینی کی ہے اور انکشاف کیا ہے کہ لندن میں مقیم مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے خود انہیں فون پر بتایا تھا کہ ان کی پارٹی اتفاق رائے کے بغیر ان قوانین کی حمایت نہیں کرے گی۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے مقامی لیڈروں نے اس قانون سازی پر حکومت سے تعاون کر کے ایک طرف نواز شریف سے بغاوت کی ہے تو دوسری طرف موجودہ نااہل اور ابتر حکومت کے خلاف اپوزیشن کا کردار ادا کرنے سے گریز کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو یقین دہانی کروائی ہو لیکن ملک میں سیاسی بزدلی کی موجودہ صورت حال کی بنیادی ذمہ داری خود ان پر ہی عائد ہوتی ہے۔ وہ اگر اس قانون سازی کے خلاف تھے تو ان کا ایک بیان پاکستان میں اپوزیشن لیڈروں کو ایسے تعاون سے باز رکھ سکتا تھا۔ نواز شریف کی پراسرار خاموشی نے ہی اس وقت ملک میں جمہوریت پسند حلقوں کو سب سے زیادہ مایوس کیا ہے۔

اس دوران وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں شجر کاری کی مہم کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے گزشتہ دو سال سے گندم کی فصل میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنی پارٹی کی ٹائیگر فورس کو روزانہ 35 لاکھ درخت لگانے کا مشن تفویض کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا سبز ہونا ہی ہمارا مستقبل محفوظ کر سکتا ہے۔ وزیر اعظم کی اس بات سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ تصویر کا محض ایک پہلو ہے۔ آبادی میں خطرناک اضافہ اور پانی کی شدید قلت بھی ماحولیات ہی کے حوالے سے اہم ہیں۔ شدید مالی مشکلات کا شکار لوگ شجر کاری کے خوشگوار نعرے سے پہلے اپنے زندگی میں کوئی ہریالی دیکھنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی سے حکومت کے پاس مسائل کے جواب میں نعرے ہیں یا سابقہ لیڈروں پر الزام تراشی کا تیر بہدف ہتھکنڈا۔

دیانت داری میں نیک نامی رکھنے والے وزیر اعظم تو اپنی تقریر میں یہ بتانے کا حوصلہ بھی نہیں کرسکے کہ شجر کاری کی موجودہ مہم دراصل عالمی بنک سے حاصل کی گئی 188 ملین ڈالر امداد سے شروع ہوئی ہے۔ یہ بجائے خود کوئی بری بات نہیں ہے لیکن ایک ایسے منصوبہ کو پارٹی کےسیاسی مقصد کے لئے استعمال کرنا اور عمران خان کے ذاتی وفادار نوجوانوں پر مشتمل ٹائیگر فورس کو یہ وسائل فراہم کرنے کا عمل یقیناً اس نیک مقصد کو داغدار کرے گا۔ ایسے فیصلے بدعنوانی ختم کرو، کے نعروں میں عمران خان کے کردار پر بھی سوال اٹھائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1617 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali