لاہور سے شیلا باغ تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خوشیا لاہورسے جعفر ایکسپریس پر سوار ہوا تھا۔ وبا کے سبب چھ افراد کے کمپارٹمنٹ میں چار کی بکنگ ہو رہی تھی۔ وہ کل چھ افراد تھے مجبوراً دو کمپارٹمنٹ بک کروانے پڑے۔ بچے اور اس کی بیوی ایک میں چلے گئے اور تمام سامان دوسرے میں رکھ دیا گیا۔ وہ بھی اسی کمپارٹمنٹ میں آ گیا۔ بظاہر پورا خاندان اس کے ساتھ تھا اور ٹرین بھی بھری ہوئی تھی۔ لیکن وہ تنہا تھا۔ جب انسان اکیلا ہوتا ہے تو یادوں کی بارات اس کے ساتھ چل رہی ہوتی ہے۔

خوشیا کی عادت تھی کہ وہ ہر چیز کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لیتا تھا۔ حالات وواقعات کا بغور مطالعہ کرتا تھا۔ وہ اپنے بچوں کو لے کر کوئٹہ نہیں جانا چاہتا تھا۔ بلوچستان کے حالات مخدوش تھے۔ اگر چہ اب اغوا اور بم دھماکے شاذہی ہوتے تھے لیکن اس کا خوف ابھی برقرار تھا۔ بچوں کی ضد تھی کہ پورا ملک دیکھ چکے ہیں، اب کوئٹہ جانا چاہیے۔ اس کے بھائی کی پوسٹنگ ادھر ہوئی تو بچوں نے اور بھی زور دینا شروع کر دیا۔

گاڑی لاہور اسٹیشن سے رات آٹھ بجے چلی۔ بچوں کے ساتھ کھانا کھایا اور اپنے کمپارٹمنٹ میں برتھ پر لیٹ کراس نے سگریٹ سلگا لی۔ لمبا کش لے کر دھوئیں کے مرغولوں سے سوچوں کے دائرے بنانے لگا۔ دھوئیں کے یہ چھلے پیچ در پیچ ابھرتے ہوئے چھت کی طرف جا رہے تھے ان میں اسے ایک ہیولا سا ابھرتا ہوا نظر آ رہا تھا۔

وہ جوانی میں دوستوں کے ساتھ جب کوئٹہ گیا تو اس وقت بھی روسی فوجوں کی افغانستان میں موجودگی اور مہاجرین کی آمدکی وجہ سے بلوچستان کے حالات بہت خراب تھے۔ وہ سب خوفزدہ تھے لیکن لاہورریلوے سٹیشن پر ہی انہوں نے شرارتیں اور تاکا جھانکی شروع کردی تھی۔ کوٹ رادھا کشن سے تھوڑا آگے جا کر ویرانے میں گاڑی خراب ہو گئی اور کئی گھنٹے تک ادھر کھڑی رہی۔ پھر اسے وہ چہرہ نظر آیا جو ابھی بھی اکثر اسی کی نیندیں اڑا دیتا تھا۔

کھڑکی کے فریم میں وہ نازنین، مہ جبیں اسے بطور تصویر کے نقش بہ دیوار دکھائی دے رہی تھی۔ کوئٹہ تک ہر سٹیشن پر وہ اسے دیکھنے جاتارہا۔ ایک دن کے سفر میں وہ دونوں انتہائی قریب آ گئے تھے۔ اس کا تعلق کوئٹہ سے ہی تھا اوراسٹیشن پر اترنے سے پہلے ہی وہ اسے خداحافظ کہہ کر جدا ہو گئی۔ اتنے سالوں کے بعد آج بھی سوچوں کی پاتال میں ڈوبی ہوئی وہی مورت دھویں کے بادلوں میں ہیولا بن کر ابھر رہی تھی۔ اب وہ یہ سفر اسی یاد کے سہارے کرنا چاہتا تھا۔ یوں ہی جاگتے ہوئے، سوئے ہوئے، خیالوں خوابوں میں کھوئے ہوئے اسے جب ہوش آیا تو دن چڑھ چکا تھا اور گاڑی روہڑی سے چل پڑی تھی۔ وہ بھاگ کر دروازے میں آ گیا۔

ٹرین سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی دریاے سندھ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ دور سے کرمچی رنگت کا چابی والا پل اورسفید ایوب برج آگے پیچھے کھڑے یوں دکھائی دے رہے تھے جیسے افق کی حسینہ نے ماتھے پر دو رنگا تاج سجا رکھا ہو۔ ابھرتے ہوئے سورج کی دلفریب شعاؤں نے لوہے کے ستونوں، شہتیروں اور محرابوں سے الجھ کرسندھ کے پانی اور سبزے کو شفق گوں سا رنگ دیا تھا۔ ٹرین اس پل کو پار کرنے والے پہلے ڈرائیور شیدی جمالو کا نام الاپتی، ہو جمالو، ہو جمالو گاتی ہوئی آہستہ آہستہ سکھر کی طرف بڑھ رہی تھی۔ وہ سندھ کے قرمزی پانی میں نظریں جمائے مست کھڑا تھا کہ اسے اپنے پیچھے کسی دوسرے کی موجودگی کا احساس ہوا، مڑ کر دیکھا۔ ۔ ۔ تو، وہی تھی۔

ہاں، ہاں! وہی تھی؟
نہیں، وہ نہیں!
اس جیسی ہی کوئی اور تھی۔

وہی جوان رعنا مہ جبین، سرو قد، وہی سرخ وسفید پشتون چہرہ بازلف مشکیں، تیکھا ناک، دائیں رخسار گلگوں پر گودے ہوئے چار کالے نشان ’شین خالئی‘ ۔ خوبرو گہری بھوؤں کے درمیان گودا ہوا کالا تل۔ دنداسے کے سرخ رنگ سے رنگے ہوئے ہاتھ اور پاؤں۔ دوپٹے کا کنارہ دانتوں میں ایسے دبایا ہوا تھا کہ آدھا چہرہ اس میں چھپ گیا تھا۔ ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پرموجود تھی۔ اتنی دیر میں گاڑی سکھر سٹیشن پر رک گئی۔ وہ آگے بڑھی تو خوشیا ڈبے کی دیوار میں دبک گیا۔

وہ آہستہ سے چلتی ہوئی پلیٹ فارم پر اتر گئی۔ خوشیا اس کی طرف دیکھے جا رہا تھا۔ اپنی عادت کے عین مطابق وہ اس کی چال ڈھال اور جسم کے نشیب و فراز کو بغور دیکھ رہا تھا۔ ربع صدی پہلے کے دیکھے ہوئے جسمانی مدو جزر نے اس کے خون کی متلاطم لہروں کو آج پھر تیز کر دیا تھا۔ وہ نظروں سے اوجھل ہوئی تو پریشان ہو گیا۔ لیکن اسے پکا یقین تھا کہ اس کی منزل بھی کوئٹہ ہی ہے اور وہ دوبارہ ضرورملے گی۔

شکار پور میں وہ اسے ڈھونڈتا رہا لیکن کہیں نظر نہ آئی۔ جیکب آباد میں گاڑی کافی دیر رکی رہی۔ ادھرسندھی ٹائلوں سے سجے ہوئے دلفریب سٹیشن پر اس کی ایک جھلک دیکھتے ہی قوس قزح کے رنگ بکھرگئے۔

گاڑی بلوچستان کی حدود میں داخل ہوئی ہی تھی کہ ایک ویران سے ریلوے سٹیشن، ڈیرہ اللہ یار پر رک گئی۔ اس کا ڈبہ پلیٹ فارم کی حدود سے باہر ہی تھا۔ وہ تو بھول چکا تھا کہ بلوچی علاقوں میں خطرات موجود ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد فرینٹئر کانسٹیبلری کے جوان ڈبے چیک کرتے ہوئے اس کے پاس آ ئے۔ دو سدھائے ہوئے کتوں نے اس کے سامان کو بھی سونگھا۔ وہ باہر والی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔ ساتھ والا دروازہ کھلا تو اس کمپارٹمنٹ میں اسے اس کی جھلک دکھائی دی۔

اب اس کا زیادہ سفر اسی سیٹ پر بیٹھ کر ہی جاری رہنا تھا۔ سبی سٹیشن پر اس نے اپنے بچوں کے ساتھ کھانا کھایا۔ وہ بھی اسی سٹال سے کھانا لے رہی تھی۔ وہاں ان کی آنکھیں چار ہوئیں تو اس نے ہلکی سی مسکراہٹ بکھیر کرسبی کی گرم ہواؤں کو ٹھنڈا کر دیا۔ ”آپ نے کہاں جانا ہے؟“ خوشیا نے ہمت کر کے اسے پوچھ ہی لیا۔ ”کوئٹہ“ جواب اس کی توقع کے عین مطابق تھا۔

ٹرین درہ بولان میں کسی الھڑ دوشیزہ کی طرح پوری آب و تاب سے بل کھاتی ہوئی آگے بڑھتی جا رہی تھی۔ اس علاقے میں پولیس اور ایف سی والے ہر طرف نظر آ رہے تھے۔ تاریخی درہ بولان، جس کے سنگلاخ پہاڑوں اور آبی گزر گاہوں کو پار کرتے ہوئے کئی جنگجو اور قافلے راستے میں ہمت ہار کرجان گنوا بیٹھے، آج بھی اپنی پوری ہیبت کے ساتھ ریل کی پٹڑی کو گھیرے ہوئے تھا۔ اب بھی اس علاقے میں ملک دشمن عناصر کی موجودگی کا امکان پایا جاتا تھا۔

یہی خوف اسے اس سفر سے روک رہا تھا۔ سرنگ سے گزرتے ہوئے جب ہر طرف اندھیرا چھا جاتا تو اس کا دل ان باتوں کو سوچ کر مزید کانپنے لگتا۔ ایک لمبی سرنگ سے گزرتے ہوئے وہ یہی سوچ رہا تھا کہ اسے اپنے پیچھے پھر اس کی موجودگی کا احساس ہوا۔ مڑ کر دیکھا تو وہی مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ”کتنا خوبصورت سفر ہے؟“ وہ کہنے لگی۔ ”لیکن، خوفناک بھی۔“ خوشیا نے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ”نہیں، فکر والی کوئی بات نہیں۔ ایف سی والے ساری ٹریک کو پہلے چیک کرتے ہیں پھر ٹرین کو روانگی کی اجازت ملتی ہے۔“ اس نے پور ے اعتماد کے ساتھ جواب دیا۔ ”ایف سی کے جوان کوئٹہ تک ہمارے ساتھ ہی رہیں گے۔“

”تم کہاں سے آ رہی ہو؟“
”میں تمہارے ساتھ ہی لاہور سے سوار ہوئی ہوں۔“
”کیا تم اکیلی ہو؟ تمہیں ڈر نہیں لگتا؟“

”میں اکثر آتی رہتی ہوں۔ یہ میرا ملک ہے۔ مجھے کیوں ڈر لگے گا۔ تمہیں پتا ہے اس روٹ پر پورے ملک کی نسبت سب سے کم حادثات ہوتے ہیں۔ اکا دکا ہونے والے واقعات سیاسی وجوہات کی بنیاد پر زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں۔“ اس کا لہجہ بہت پر اعتماد تھا۔

ٹرین کے ساتھ تین انجن لگے ہو ئے تھے ایک آگے دو پیچھے۔ وہ پھر بھی بہت آہستہ چل رہی تھی۔ سرنگ کے اندر ٹرین داخل ہوئی تو خوشیا نے اسے تھام لیا۔ حال اور ماضی کے ہاتھوں نے اسے مضبوطی سے جکڑ لیا۔ روشنی ہوتے ہی وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے۔

گاڑی مچھ سٹیشن پر رک گئی۔ وہ سوچ رہا تھا کاش یہ ساری عمر ادھر ہی رکی رہے۔ یا پھر واپس ہی چل پڑے، دوبارہ آنے کے لئے۔

وہی ہوا۔ گاڑی واپس چل پڑی۔ وہ حیران ہو گیا۔ کہنے لگ، ”یہ ریورس ہو رہی ہے، کیوں؟“

بولی ”پہاڑی سلسلے کا کٹاؤ اتنا زیادہ ہے کہ پٹری سیدھی اسٹیشن پر نہیں پہنچتی۔ اس لئے پہلے ٹرین آگے جاکر رکتی ہے پھر ریورس ہو کر ٹریک تبدیل کر کے پلیٹ فارم پرآ کر لگتی ہے۔“

وہ مسکرا اٹھا۔
”تمہارا کیا نام ہے؟“
”آرامش“
”اور تمہارے ساتھ جو خواتین ہیں؟“
”میری دوست ہیں نہ رشتہ دار، لیکن میں ان کی وجہ سے ہی ادھر ہوں۔“
”کیا مطلب؟“
”میں ابھی نہیں بتا سکتی۔“
”اب کوئٹہ آنے والا ہے۔ تم چلی جاؤ گی۔ پھر کہاں ملا قات ہو سکے گی؟“
”شیلا باغ۔“
”شیلا باغ؟ درہ کوژک میں۔ کوئٹہ چمن شاہراہ پر، وہ تو انتہائی خطرناک علاقہ ہے۔“
”خاطر جمع شدن، میں ادھر ہی ہوں گی ۔“
اگلے ہی دن خوشیا نے سب کو ساتھ لے کر چمن جانے کا پروگرام بنا لیا۔

پاکستان کا خوبصورت ترین ریلوے اسٹیشن شیلا باغ، کوئٹہ سے 112 کلو میٹر دور، اس نرتکی کے نام پر ہے جس کے اعضا کے نرت بھاؤ پر بل کھاتی ہوئی ریلوے لائن کوژک ٹنل میں داخل ہوتی ہے۔ دور سے سرنگ کا دہانہ پہاڑیوں کے بیچ افق سے ابھرتے ہوئے سرخ چاند کی طرح نظر آ رہا تھا۔ پریوں کا یہ دیس خواجہ عمران پہاڑی سلسلہ کی گود میں آباد ہے۔ دو منزلہ عمارت بلوچی مٹی کے رنگ کی پیلی انیٹوں اور سرخ سیمنٹ سے بنی ہوئی تھی۔ بل کھاتا ہوا راستہ بھی انہیں دو رنگوں سے سجا ہوا تھا۔

پگڈنڈی کے اطراف رکھے گئے چھوٹے چھوٹے گول پتھروں کو بھی سفید اور سرخ رنگ دیا گیا تھا۔ اگر چہ کئی ہفتوں سے بارش نہیں ہوئی تھی لیکن پوری عمارت اور پلیٹ فارم دھلا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ ان کے استقبال کی تیاری کئی دنوں سے کی جارہی ہے۔ لیکن ان کے آنے کی کسی کو خبر نہیں تھی۔ وہ سوچ رہا تھا، یہ بات سچ ہے کہ یہاں کے باسی مہمانوں کے انتظار میں ہمیشہ ایسے ہی چشم براہ رہتے ہیں۔ خوشیا دنیا کے بہت سے ممالک گھوم چکا تھا لیکن اتنا پیارا اور صاف ستھرا ریلوے اسٹیشن اس نے کہیں بھی نہیں دیکھا تھا۔

کئی سیڑھیاں اتر کر وہ پلیٹ فارم پر پہنچے۔ دو مزدور ایک ٹھیلے کے پاس کھڑے ان کا انتظار کر رہے تھے۔ چھوٹے بچے بھاگ کر ٹھیلے پر موجود بنچ پر بیٹھ گئے۔ بڑا لڑکا ا اور وہ بنچ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ وہ چاروں طرف نظرگھما رہا تھا لیکن آرامش کہیں دکھائی نہ دی۔ دور دور کی پہاڑیاں بھی ویران تھیں۔ سگنل ڈاؤن ہو چکا تھا۔ ایک مزدورٹھیلے کے پیچھے بیٹھ گیا دوسری طرف کے مزدور نے دھکا لگا نا شروع کیا۔ اتنے افراد کو بٹھا کر ریل کی پٹری پر جوتے سمیت ٹھیلے کو بھگانا سخت محنت اور مہارت کا کام ہے۔ سرنگ کا پہلا حصہ چڑھائی ہے۔ کبھی ایک آدمی دھکا لگاتا جب وہ تھک جاتا تو دوسرا شروع ہو جاتا۔ سرنگ تقریباً چار کلومیٹر لمبی ہے۔

اندھیری سرنگ کے درمیانی حصہ میں نصب گھڑیال کے نیچے وہ موجود تھی۔ ٹرین میں اس کے ساتھ موجود دونوں عورتیں بھی پاس ہی بیٹھی ہو ئی تھیں۔ وہ گھڑیال کو حرکت دے رہی تھی۔ اس موڑ کے بعد ڈھلوان شروع ہو گئی۔ اندھیرے میں اسے صرف ایک جھلک دکھائی دی تھی۔ خوشیا کا دل چاہتاتھا کہ وہ چھلانگ لگا دے۔ وہ مڑ کر اسے دیکھ رہا تھا۔ گھنٹی کی آواز سن کر ٹھیلے کو دھکا دینے والے دونوں مزدور چھلانگ لگا کو اس پر سوار ہو گئے۔ ٹھیلے پر لگا ہوا ریلوے کا تکونا سرخ جھنڈا اور بھی تیزی سے لہرانے لگا۔

ڈھلوان پر جونہی رفتار تیز ہوئی بچوں نے خوشی سے چیخنا شروع کر دیا۔ چار کلو میٹر لمبی سرنگ پلک جھپکتے ہی گزر گئی۔ شانزلہ اسٹیشن آیا، ٹھیلے کی رفتار اور بھی بڑھ گئی۔ سگنل ڈاؤن تھا۔ سگنل مین ہری جھنڈی لہرا رہا تھا۔ ریلوے لائن بل کھاتی ہوئی مختلف سرنگوں سے گزرتی ہوئی چمن کی طرف جا رہی تھی۔ دور بہت دور افغانستان بھی نظر آ رہا تھا۔ ایک دو کلو میٹر مزید سفر کرنے کے بعد دونوں ڈرائیوروں نے بریکیں لگانی شروع کیں۔ رفتار آہستہ ہوئی اور ٹھیلہ گڑنگ پوسٹ کے سامنے رک گیا۔

خوشیا کا دل و دماغ ادھر ہی الجھا ہوا تھا۔ جس کار میں وہ آئے تھے وہ شیلا باغ اسٹیشن پر پارک تھی۔ اس نے بیوی بچوں کوگڑنگ پوسٹ پر بٹھایا اور خود ایک ویگن میں سوار ہو کر واپس چل پڑا۔ وہاں آکر اس نے اسٹیشن کی بجائے کوژک ٹنل کا راستہ لیا۔ اندھیرے میں تھوڑا دور ہی گیا تھا کہ اسے سامنے سے آتی ہوئی آرامش مل گئی۔

”تم اکیلی اس سرنگ میں! تمہارے ساتھ والی عورتیں کہاں ہیں؟“
”میں انہین ادھر دفن کر آئی ہوں۔“ وہ پر سکون لہجے میں عجیب بات کر رہی تھی۔ پھر پوچھنے لگی،
”لیکن تم بھی اکیلے ہی اس سرنگ میں! تمہیں تو اندھیری سرنگ اور اس علاقے سے ڈر لگتا تھا۔“
خوشیا سینہ پھلا کر بولا،

”اب میں کسی سے نہیں ڈرتا۔ یہ میرا ملک ہے مجھے کسی سے خوف کھانے کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن تم ان کو کیوں دفن کر آئی ہو؟ وہ کون تھیں؟“

”میں ان سب کو ادھر ہی دفن کرتی ہوں۔ وہ تمہارا خوف تھیں۔ تمہارا فوبیا۔“
”اور تم کون ہو؟“ وہ حیران ہو کر بولا۔

”میں ہوں، آرامش۔ تمہاری بے خوفی، تمہارا سکون۔ دیکھو! تمہیں اس علاقے میں کسی سے ڈرنے کی کوئی ضرور ت نہیں۔ ہم مہمان نواز لوگ ہیں۔ جاؤ! اپنے بچوں کے ساتھ پورا علاقہ دیکھو۔“

”اور تم اب کدھر جا رہی ہو؟“
” واپس لاہور۔“

خوشیا کو دیکھ کر اس کے پیچھے ریلوے کے ملازم بھی آ گئے تھے۔ جب وہ اس کے پاس پہنچے تو وہ پٹری پر اکیلا بیٹھا سگریٹ کے لمبے لمبے کش لے رہا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •