لبرل امریکہ میں مسلمان ہونا اب گویا جرم ٹھہرا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"nasir-salahuddin-1b\"

پاکستان کے لبرل ہمیں ہر وقت یہ سبق پڑھاتے ہیں کہ ہم اپنی اقدار ترک کر کے امریکہ جیسے ہو جائیں۔ ان کو نہ تو نظریہ پاکستان پسند ہے اور نہ ہی دستور کی اسلامی شقیں۔ ان کی رائے میں ’یہ شہریوں کے خلاف تعصب کو جنم دیتی ہیں جبکہ لبرل ازم میں تعصب نہیں ہوتا ہے‘۔ جبکہ ہر راسخ العقیدہ مسلمان کا یہ کہنا ہے کہ اسلام میں اقلیتوں کو جو حقوق دیے گئے ہیں، وہ ان کی حفاظت کے لئے کافی ہیں۔ اب ان لبرلوں کے نظریاتی منبع امریکہ سے ایک چشم کشا رپورٹ آئی ہے جس کے بعد ان کے پاس خفت کے سوا کچھ نہیں بچا ہے۔

نیویارک کی پولیس کے سربراہ جیمز اونیل نے کہا ہے کہ نیویارک میں نفرت کی بنیاد پر جرائم میں 31 فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر کیے جانے والے جرائم میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے سال نیویارک میں مسلمانوں پر ان کے مذہب کی وجہ سے 12 حملے ہوئے تھے جب کہ اسی اثنا میں اس سال اب تک 25 حملے کیے جا چکے ہیں۔ جیمز کی رائے میں اس کی وجہ ڈانلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں ابھارے گئے شدت پسند جذبات ہیں۔

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے مطابق بھی مسلمانوں کے خلاف جرائم میں خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سنہ 2014 میں مسلمانوں سے نفرت کی بنا پر 154 جرائم کیے گئے جبکہ 2015 میں ان کی تعداد 257 رہی۔ نفرت کی بنا پر کیے گئے جرائم میں مجموعی طور پر تقریباً سات فیصد اضافہ ہوا جبکہ مسلمانوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم میں 67 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ 2001 کے نائن الیون کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ہے۔

\"muslim-crying-hijab\"

کیلیفورنیا سٹیٹ یونیورسٹی کے برائن لیون کے اکٹھے کیے گئے اعداد و شمار بھی ایسے ہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت تمام گروہوں میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ان کے خلاف تعصب آمیز رویہ پھیل رہا ہے۔ اس کی وجہ پیرس اور امریکہ کے شہر سان برنارڈینو میں ہونے والی دہشت گردی جیسے واقعات ہیں۔

امریکی ووٹر نے فیصلہ دے دیا ہے۔ وہ مسلمانوں کے خلاف صف بستہ ہیں۔ وہ اپنے ان نمائشی نظریات کو ایک طرف رکھ چکے ہیں جن کے سبق ہمیں پڑھائے جاتے ہیں۔ اس وقت ان کا صدر ایک مسلم دشمن انتہاپسند ہے۔ اقلیتوں کے خلاف ان کے رویے کا یہ عالم ہے کہ سیاہ فام امریکی اس وقت ’بلیک لائف میٹرز‘، یعنی سیاہ فاموں کی زندگی کی بھی کوئی قدر و قیمت ہے، کے نام سے ایک مہم چلائے ہوئے ہیں اور پچھلے برس سیاہ فام افراد کے پولیس کے ہاتھوں مارے جانے پر کئی شہروں میں فسادات ہو چکے ہیں۔ ہسپانوی النسل افراد کو بھی تعصب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ہر طرح کے جرم کو زبردستی ان کے سر پر تھوپا جا رہا ہے۔ یہ وہ نسلی گروہ ہیں جو کہ صدیوں سے امریکہ میں آباد ہیں مگر ابھی تک ان کے ساتھ اچھوتوں جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ ابھی پچاس سال پہلے تک امریکہ میں سیاہ فاموں کے ساتھ غلاموں جیسا برتاؤ کرنے کی ریاستی پالیسی برقرار تھی۔ اگر بس میں ایک ضعیف العمر سیاہ فام خاتون سیٹ پر بیٹھی ہوتی تھی اور ایک ہٹا کٹا سفید فام جوان بس میں داخل ہوتا تھا، تو ازروئے قانون اس ضعیفہ کو اپنی سیٹ اس سفید فام جوان کو دینی پڑتی تھی۔

سوویت یونین کے ساتھ نظریاتی جنگ میں امریکہ نے محض دنیا کو دکھانے کے لئے یہ امتیازی قوانین ختم کیے تاکہ وہ اپنی اخلاقی برتری کا ڈھنڈورا پیٹ سکے، مگر سوویت یونین کے ختم ہونے کے بعد اب امریکہ نے منافقت کا یہ چولا اتار پھینکا ہے۔ اب ٹرمپ ان کا صدر ہے جو کہ ہر ایسے شخص کا دشمن ہے جو کہ مسلمان ہے یا سفید فام نہیں ہے۔ حتی کہ یورپ کے دل سپین کے لوگوں کی ہمارے جیسی رنگت بھی اسے گوارا نہیں ہے۔

\"black_lives_matter_group_protesting\"

ایسی نسل پرستی رکھنے کے باوجود امریکہ انسانی برابری اور مساوات کے سبق اس دین کے ماننے والوں کو پڑھانے چلا ہے جس نے آج سے چودہ سو سال پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ گورے کو کالے پر، اور عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے۔ سب برابر ہیں۔ حضرت بلال حبشیؓ کو رسالت مآبؐ نے مسجد نبوی میں اذان دینے کا منصب جلیلہ عطا کیا تھا۔ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ جیسے عالی نسب قریشی ان کے احترام میں کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔

ہمارے پیارے دین اسلام میں رنگ یا نسل کی بنیاد پر کسی کو اکثریت یا اقلیت قرار دینے کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایک مسلم مملکت میں غیر مسلم شہری اقلیت قرار پا سکتے ہیں، مگر ان کی جان مال کا مکمل تحفظ کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ کسی دشمن ملک سے جنگ کی صورت میں بھی ان کو ہتھیار اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ یہ کام مسلمان ہی کریں گے اور ان کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کریں گے۔

لیکن ہمارے لبرل طبقات کا مطالبہ ہے کہ انسانی برابری کے علمبردار دین کی اسلامی شقوں کو دستور سے نکال کر اس امریکہ کے آئین کی پیروی کی جائے جس کا خمیر ہی نفرت اور تعصب کی مٹی سے گندھا ہوا ہے۔ اگر ہم اسلام کے اصولوں پر سچے دل سے چلیں گے تو محض چند برس کے مختصر سے عرصے میں ہم امریکہ اور یورپ سے کہیں آگے نکل جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply