مسلم امہ کی قیادت کا فریضہ
پاکستان نے سعودی عرب کا تین ارب ڈالرز کا قرض واپس کرنے کا آغاز کر دیا ہے جس کی پہلی قسط ایک ارب ڈالر ادا کر دی گئی ہے۔ پاکستان کو کشمیر پالیسی کے متعلق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے گلہ رہا ہے۔ کشمیر میں بسنے والے اسی لاکھ مسلمانوں کا جب ہندوستان نے کرفیو لگا کر ناطقہ بند، کر دیا تو پاکستان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادتوں سے مطالبہ کیا کہ بھارت کو کشمیریوں کے ساتھ ان انتہا پسندانہ اقدام سے باز رکھنے کے لیے عالمی سطح پراپنا کردار ادا کریں۔
لیکن دونوں ممالک نے پاکستان کی بات سنی ان سنی کردی کیونکہ ہندوستان ایک کثیر آبادی والا ملک ہے جہاں دنیا کی بڑی تجارتی منڈی اور صارف موجود ہے اس لیے کوئی بھی ملک اس سے بگاڑنا نہیں چاہتا حالانکہ ہم نے محض لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے آفاقی رشتے کی بنا پر اپنے تمام مفادات کو ٹھکرا کراسرائیل کو کبھی قبول نہیں کیا اور ہر معاملے پر سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے لیکن سعودی عرب اور عب امارت مسئلہ کشمیر کو امہ کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان اور ہندوستان کے مابین ذاتی قرار دیتے ہیں۔
حتٰی کہ ہندوستان کی ناراضی سے بچنے کے لیے حج کے خطبہ اور دعا میں کشمیری مسلمانوں کا ذکر تک نہیں ہوتا۔ شاید اس کا یہ خیال رہا کہ پاکستان ہمارا مقروض ہے اور اس پرہمارا ہر طرح کا استحاق ہے۔ اس سلسلہ کی ایک کڑی، جب سعودی عرب نے ہمیں ملائشیا کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا کہا تو مہاتیر محمد سے انتہائی دوستانہ تعلقات ہونے کے باوجود ہم نے کانفرنس میں شرکت نہیں کی لیکن داد دینا پڑتی ہے مہاتیر محمد کو جن کے لبوں پر کبھی حرف شکایت نہیں آیا اور وہ اس کے باوجود کشمیر کے معاملے میں ہر فورم پرپاکستان کی حمایت کرتے رہے۔
اب چند روز قبل بھارت نے تاریخی بابری مسجد کی جگہ متنازعہ رام مندر تعمیر کر لیا ہے پاکستان نے بار ہا سعودی عرب کو اس معاملے میں پوری عرب قیادت کو ایک موقف اختیار کرنے کا کہا لیکن سعودی عرب نے اس پر بھی مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی۔ اس ضمن میں پاکستان نے سعودی عرب کو ایک ارب ڈالرز تھماتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ ہم مکہ مدینہ کی حرمت اور تحفظ کی خاطر ہر وقت کٹ مرنے کے لیے تیار تھے، ہیں اور رہیں گے ہمارے تعلقات اپنی جگہ، لیکن آپ اگر دنیا کے مظلوم مسلمانوں کی آواز نہیں بن سکتے تو آپ کو بھی مسلم دنیا کا چودھری بننے کا کوئی حق نہیں۔
اس ضمن میں ترکی، ملائشیا، قطر ایران اور کئی دیگر اسلامی ممالک نے بھی کھل کر پاکستان کی حمایت کی ہے۔ ان ممالک نے پاکستان کے اس فیصلہ کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ آئندہ آنے والے وقت میں پاکستان انشاء اللہ 57، اسلامی ممالک کی قیادت کا فریضہ سر انجام دینے والا ہے اس سلسلے میں طیب اردگان کی کوشش ہے کہ پاکستان اب سامنے آکر امت مسلمہ کی قیادت سنبھالے کیونکہ ہم ان عربوں کی امت کے معاملے میں سرد مہری سے عاجز آ چکے ہیں۔ لہٰذا یاد رہے کہ اب پورے عالم اسلام کے اہم فیصلے پاکستان میں ہوا کریں گے۔ اس موقع پر چین نے پاکستان کی اس لیے مدد کی ہے کہ وہ پاکستان کا مخلص دوست ہے اور وہ پاکستان کوعالمی سطح پر ایک مضبوط بلاک کے ساتھ مستحکم دیکھنا چاہتا ہے۔


