بھگوان کے لیے ہندوستان کو 15 اگست کو آزادی مت دیں
برطانیہ کی طرف سے لارڈ ماونٹ بیٹن کو ہندوستان کا وائسراے بنا کر بھیجا گیا۔ 24 مارچ 1947 کو لارڈ ماونٹ بیٹن نے ہندوستان کے آخری گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ اس کے بعد ہندوستانی رہنماؤں سے مشاورت کا سلسلہ شروع کیا تا ہم ماونٹ بیٹن کو اس نتیجے پر پہنچتے دیر نہیں لگی کہ اب ہندوستان کو تقسیم کیے بغیر چارہ نہیں ہے۔ اس ضمن میں ہندوستان کی تقسیم کا ایک منصوبہ تیار کیا گیا۔ برطانوی کابینہ سے منظوری اور صلاح مشورہ کے لیے ماونٹ بیٹن یہ منصوبہ لے کر 18 مئی 1947 کو لندن روانہ ہوئے۔
کابینہ کے سامنے ماونٹ بیٹن پلان پیش کیا گیا اور دس روز کی مشاورت کے بعد 28 مئی کو ماونٹ بیٹن پلان کی منظوری دی گئی۔ 30 مئی کو لارڈ ماونٹ بیٹن ہندوستان واپس پہنچے اور 2 جون 1947 کو وائسرائے لارڈ ماونٹ بیٹن اور ہندوستانی رہنماؤں کے درمیان فیصلہ کن اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ماونٹ بیٹن، قائد اعظم محمد علی جناح، پنڈت جواہر لعل نہرواوربلدیو سنگھ سمیت ان کے معاونین نے شرکت کی۔ ماونٹ بیٹن نے ان کے سامنے اپنا پلان پیش کیا۔ 3 جون کو آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا کانگریس نے پلان کو منظور کر لیا۔ اسی روز شام کو لارڈ ماونٹ بیٹن نے 15 اگست کو دو مملکتوں پاکستان اور ہندوستان کو اقتدار کی منتقلی کا اعلان کر دیا۔
لارڈ ماونٹ بیٹن کو اندازہ نہیں تھا کہ 15 اگست کو انتقال اقتدار کا اعلان کرکے اس نے اپنے سر ایک مصیبت مول لے لی ہے۔ 15 اگست کو جمعہ کا دن بنتا تھا اور ہندو جوتشیوں کے نزدیک جمعہ کا دن ایک منحوس دن تھا۔ ہندوستان بھر کے جوتشیوں نے زائچے تیار کیے اور بالآخر بنارس، جنوبی ہند کے جوتشی اس بات پر متفق ہوگئے کہ مستقبل میں عذاب سے بچنے لیے ضروری ہے کہ ہندوستان پر مزید ایک دن برطانوی راج بھلے قائم رہے مگر 15 اگست کو ہندوستان آزاد نا ہو۔
کلکتہ کے سوامی مدمانند نے ماونٹ بیٹن کو خط لکھا کہ بھگوان کے لیے ہندوستان کو 15 اگست کو آزادی مت دیں۔ ہندو جوتشیوں کی صورتحال دیکھ کر لارڈ ماونٹ بیٹن اور ہندوستانی رہنما مشکل میں پھنس گئے کہ اب کیا کریں۔ تاہم جوتشیوں کے کہنے پر ہندوستانی رہنماؤں نے ماونٹ بیٹن کو تجویز دی کہ انتقال اقتدار 14 اور 15 اگست کی درمیانی شب کو بارہ بج کر ایک منٹ پر کر دیاجائے اور ماونٹ بیٹن نے یہ تجویز منظور کرلی۔
اس مسئلے کے حل ہونے پر لارڈ ماونٹ بیٹن نے 8 اگست کو برطانوی حکام کے نام ہفتہ وار رپورٹ میں لکھا کہ ”مجھے اس بارے میں پہلے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا کہ مجھے انتقال اقتدار کی تاریخ کا تعین کرتے وقت جوتشیوں سے مشورہ کرنا چاہیے تھا۔ لیکن خوش قسمتی سے اب یہ معاملہ یوں طے ہوگیا ہے کہ آئین ساز اسمبلی کا اجلاس نصف شب سے پہلے یعنی 14 اگست کو شبھ (نیک) گھڑی کے اندر اندر ہو جائے گا جب کہ انتقال اقتدار کی رسم عین نصب شب کو ہوگی اور وہ بھی تقریباً شبھ گھڑی ہی ہوگی۔ اور نئی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب 15 اگست کی صبح کو ساڑھے آٹھ بجے منعقد ہوگی۔ انتقال اقتدار کے وقت کے تعین کے لیے جوتشیوں کے اثرو رسوخ کو دیکھتے ہوئے لارڈ ماونٹ بیٹن نے آئندہ کے لیے اپنے پریس اتاشی ایلن کیمبل جانسن کو باقاعدہ جوتشی برائے گورنر جنرل کے اضافی اور اعزازی عہدے پر فائز کر دیا۔
1947 میں انتقال اقتدار کے وقت ہی ہندوستان کے چہرے سے سیکولر کا نقاب مذہبی جوتشیوں نے نوچ کر پھینک ڈالا۔ اور پہلے دن ہی طے ہوگیا کہ سیکولر ہندوستان محض ایک دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ 14 اگست کی رات کو انتقال اقتدار کی تقریب سے قبل ہندو مذہبی رہنماؤں نے پنڈت جواہر لعل نہرو کی رہائش گاہ پر اس کو راج سنبھالنے کے لیے مذہبی انداز میں تیار کیا۔ نہرو پر مقدس پانی چھڑکا گیا اس کی پیشانی پر راکھ ملی گئی۔
ماضی میں جب کوئی مہاراجہ سنگھاسن پر بیٹھتا تھا تو اس پر بھگوان کی مقدس چادر پتامبرم لپیٹی جاتی اور یہی کچھ نہرو کے ساتھ ہوا کہ ناصرف چادر لپیٹی گئی بلکہ پانچ پاؤں کا بت نہرو کے بازوں پررکھا گیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ ہندوستانی آئین ساز اسمبلی کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرشاد کے گھر کے باغ میں مقدس آگ کا الاؤ روشن کیا گیا۔ نئے آزاد سیکولر ہندوستان کے بننے والے وزرا اس آگ کے گرد چکر لگا رہے تھے اور ایک برہمن ان پر متبرک پانی چھڑک رہا تھا۔
یہ وزرا مندر کی ایک داسی کے سامنے رکتے اور وہ ان کے ماتھے پر سرخ رنگ کا تلک لگاتی تھی۔ ان مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد سیکولر ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا اور پر بارہ بج کر ایک منٹ پر برطانوی جھنڈا اتار کر ترنگا لہرا دیاگیا۔ یوں شکتی سے بھرپور آگ، پوتر چادر، ماتھے پر تلک، پنڈتوں اور برہمنوں کے مقدس اشلوک اور مندر کی گھنٹیوں کے درمیان سیکولر ہندوستان کو آزادی مل گئی۔
سیکولر ہندوستان کی مذہبی تقریب آزادی کے برعکس پاکستان میں اقتدار انتقال کے موقع پر کوئی مذہبی رسم ادا نہیں کی گئی کسی بھی قسم کی توہم پرستی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ لارڈ ماونٹ بیٹن 13 اگست کو کراچی پہنچا تو اسی شام قائد اعظم نے ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ 14 اگست کی صبح کو لارڈ ماونٹ بیٹن نے پاکستان آئین ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کیا۔ دہلی واپسی سے قبل قائد اعظم اور ماونٹ بیٹن نے کھلی گاڑی میں بیٹھ کر جلوس کے ساتھ کراچی کی شاہراؤں پر نکلے تو پرجوش عوام نے پاکستان زندہ باد اور قائد اعظم زندہ باد کے نعرے لگائے۔ 15 اگست کی صبح کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرعبدالرشید نے قائد اعظم محمد علی جناح سے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کا حلف لیا۔
ہندوستان نے سیکولر ہونے کا ڈھونگ رچائے رکھا اور کئی دہائیوں تک یہ ڈرامہ جاری رہا بالآخر ہندوستان کا سیکولر چہرہ بے نقاب ہوا اور آج ہندوستان اپنی مذہبی انتہا پسندی کی اصل مکروہ شکل وصورت میں دنیا کے سامنے موجود ہے۔

