مسائل کا حل اور نظام حکومت
سوشل میڈیا پر آج کل صدارتی نظام حکومت کی چرچا کی جا رہی ہے۔ پارلیمانی اور صدارتی نظام کا موازنہ کیا جا رہا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مطلق العنانی سے بلیک میلنگ کم ہو جائے گی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ خلافت کا نظام قائم ہو اور کچھ چاہتے ہیں کہ نظام کوئی بھی ہو جمہوری روایات پر مبنی ہو تو میرے خیال میں یہ بات بڑی اہم ہے۔ ہم نے آمریت و صدارتی نظام بھی دیکھا ہے اور پارلیمانی نظام بھی تو کیا یہ نظام پاکستان میں جمہوریت کی تعریف پر پورا اترتے ہیں؟ جن لوگوں کو جمہوریت کی روح کا ادراک نہیں وہی اس کے خلاف ہیں۔ جمہوریت کا مطلب ہی عوام کی حکومت ہے تو اب کیسے پھلے پھولے تو عوام، حکومت اور دوسرے ادارے چاہیں تو نظام میں جمہوری اصلاحات ممکن ہیں لیکن کیسے تو میں کچھ نکات بیان کروں گا جس سے قارئین کو وضاحت ہو جائے گی۔
اداروں میں توازن اور سویلین بالادستی
نجی زندگی ہو یا ملکی معاملات توازن بہت ضروری ہے۔ پاکستان میں اداروں کے درمیان توازن نہیں ہے۔ مثال کے طور پر پولیس اور فوج، ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں فوج کا نظام پولیس سے ہر معاملے میں بہتر ہے۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ اتنا اہم ادارہ آخر پستی کا شکار کیوں ہے؟ سیاسی مداخلت کے ساتھ پریشر گروپس اور پھر اختیارات کی کمی سے پولیس میں اصلاحات لانا نا ممکن ہے۔ جب بھی بین الاقوامی سطح پر کارکردگی یا معاملات دکھانے ہوتے ہیں تو ہم سی ٹی ڈی اور موٹر وے پولیس کی کارکردگی دکھانے ہیں کیونکہ انہیں اختیارات ہیں اور وہ سویلین قیادت کو جوابدہ ہیں۔
موٹر وے پولیس کو اتنا اختیار ہے کہ وہ وزیراعلیٰ کا بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر چالان کر سکتی ہے جبکہ پولیس میں ایسا کوئی نظریہ نہیں ہے۔ بلوچستان میں فرنٹیر کورابھی بھی اور سندھ میں رینجرز نے ایک عرصے تکعملی طور پر انتظام سنبھالا تھا اور وہ سویلین بالادستی میں نہیں بلکہ فوج کو جوابدہ ہے ہمارے ملک میں وزیراعظم کی سیکورٹی فوج کر رہی ہے جبکہ آپ کسی دوسرے ملک میں اداروں کے نظام کو دیکھیں تو وہاں ایسے نہیں ہے وہاں سیکورٹی سیکرٹ سروس جو صرف اور صرف وزیراعظم یا صدر کے لیے وقف ہوگی اور سویلین اتھارٹی کے اختیار میں ہوتی ہے اور اسے ہی جوابدہ ہوتی ہے جیسے امریکہ کے صدر کی سیکورٹی پر جو سیکرٹ سروس معمور ہے وہ سویلین اتھارٹی کو جوابدہ ہے نا کہ فوج کو تو بنیادی مقصد کہنے کا یہ ہے فوج ایک علیحدہ اور اہم ادارہ ہے لیکن اس کا قیام صرف اور صرف ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے نا کہ داخلی مسائل میں الجھنا، جس سے اداروں میں انتشار ہو کہ ایک ادارے کو بہت اہمیت اور اختیارات دیے جا رہے ہیں اور دوسرا جو قانون نافذ کرنے والا اہم ادارہ ہے اسے جان بوجھ کر پیچھے رکھا جا رہا ہے۔
ہر ادارے کی اپنی اہمیت اور ایک کردار ہے مگر جب ایک ادارہ دوسرے اداروں پر اثر انداز ہو گا اور اس کا کردار ادا کرے گا تو اس سے توازن برقرار نہیں رہے گا۔ سول اداروں اور فوجی اداروں میں کھچاؤ کی صورتحال ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی وفاقی و صوبائی ادارے ایسے ہیں جن کی تنخواہیں یکساں نہیں ہیں تو پھر آپ اصلاحات کی کیسے توقع کر سکتے ہیں؟
قانون، قانون سازی اور آئین کی بالادستی
اس نکتے کو سمجھنے کے لیے ریاست کا ڈھانچہ یا سٹرکچر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ریاست کے چار بنیادی اور اہم ستون عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ اور ذرائع ابلاغ ہوتے ہیں۔ جمہوریت میں عوام کے ووٹ سے منتخب نمائندہ اسمبلی میں قرار داد پیش کرتا ہے۔ دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور ہو کر سینیٹ میں پیش ہوتی ہے جہاں اگر منظور ہو جائے تو سپریم کورٹ اس کا جائزہ لیتی ہے کہ آیا یہ قانون جو پاس ہوا ہے آئین کے مطابق ہے یا نہیں۔
انتظامیہ اس قانون پر عملدرآمد کرواتی ہے اور ذرائع ابلاغ اس پر گہری نظر رکھتے ہیں کہ اس پر عمل ہوا یا نہیں اور یہ کتنا موثر ہے۔ اب ہم اپنے ملک میں جائزہ لیتے ہیں کہ ہمارے ہاں یہ نظام کیسے چلتا ہے۔ جتنے بھی سڑکوں اور پلوں کے ٹھیکے منتخب نمائندوں نے لے رکھے ہوتے ہیں حالانکہ یہ کام میونسپل کارپوریشن اور کمشنرز کے کرنے کے ہوتے ہیں تو یہ منتخب نمائندے قانون سازی کیا کریں گے جب یہ وہ کام کرتے ہیں جو کسی اور کا ہے۔
پاکستان میں ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں جب لیڈرشپ کی جانب سے قانون شکنی ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر کچھ دن پہلے اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے مسئلہ سامنے آیا۔ اب صورتحال یہ ہوئی کے پریشر گروپس نے اصل پلیٹ فارم استعمال نہیں کیا اور حکومت پر دباؤ ڈال کر تعمیر روک دی۔ آئین میں اقلیتی برادری کے عبادت گاہیں تعمیر نا کرنے کے حوالے سے کچھ نہیں لکھا نا ہی ایسا کوئی قانون ہے تو حکومت نے کس قانون کے تحت اس تعمیر کو روکا؟
اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ ایک قرارداد قومی اسمبلی میں پیش ہوتی۔ وہاں سے پاس ہوتی اور سینیٹ بھی یہ قرارداد پاس کرتی تو اس کے بعد یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں جاتا جیسے پہلے بھی گیا تھا۔ سپریم کورٹ اس فیصلے کو آئین اور قانون کا باقاعدہ حصہ بناتی کہ اس ملک میں نئے سرے سے اقلیتوں کی عبادت گاہیں تعمیر نہیں ہوں گی تو اب ایک قانون بن گیا ہوتا اور نافذ بھی ہوتا لیکن ایوانوں میں تو ایک دوسرے پر الزامات اور طنزیہ جملوں کی محفل جمتی ہے تو کیا قانون سازی ہوگی۔
اسی طرح ایک اور حالیہ مثال یہ ہے کہ وزراء اور مشیروں کے اثاثوں اور دوہری شہریت کے حوالے سے رپورٹ منظر عام پر آئی۔ کئی وزراء اور مشیروں نے دوسرے ممالک کی شہریت حاصل کی ہوئی ہے۔ اب مختلف حلقوں سے ان کے حلاف آوازیں اٹھنے لگیں ہیں۔ مگر آئین اور قانون کی نظر میں وزراء دوہری شہریت نہیں رکھ سکتے مگر مشیروں کے معاملے میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے۔ ماضی میں تو وزراء نے اقامے رکھے ہوئے تھے تو جب یہی وزراء قانون شکنی کرتے ہیں تو اوپر سے نیچے اس کا اثر ہوگا۔ اب یہاں میڈیا اس معاملے کو ذمہ داری سے رپورٹ کرے اور اداروں اور حکومت کی توجہ قانونی نقطے کی طرف دلائے تاکہ دوبارہ ایسی نوبت نہ آئے۔ ایسے آئین اور قانون دونوں کی شکنی ہوتی ہے اور اس کی بالادستی قائم ہونی چاہیے۔
شفافیت اور احتساب
قانونی اور اخلاقی نکتہ ہے جو نمائندہ قومی اور ملکی معاملات چلا رہا ہے اتو اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے اثاثے ظاہر کرے اور آمدنی کے ذرائع بھی بتلائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس پر یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنا عہدہ اور ذمے داریاں آئینی حدود میں رہ کر سرانجام دے رہا ہو۔ مگر اب تک ایسا ہو نہیں پایا۔ ایسا ہی اداروں پر بھی فرض ہے کہ وہ اپنی کریڈیبلٹی قائم رکھنے کے لیے اداروں کے اندر احتساب اور شفافیت قائم کریں تاکہ کوئی ان پر انگلی نا اٹھا سکے۔
ہمارے ملک میں احتساب ادارے ہی مخالفین کے لیے انتقامی کارروائی کی غرض سے بنائے گئے تھے۔ اسی لیے یہ ادارے فعال نہیں ہو سکے جتنا ان کو ہونا چاہیے تھا۔ اس کی بڑی وجہ ہے کہ جمہوری ممالک میں احتساب ادارے تحقیقات کرکے جب تک ثابت نہ ہو جائے کہ یہ شخص بدعنوان ہے تب تک اسے گرفتار نہیں کرتے، مگر یہاں پر معاملات اور ہیں۔ ملزم کو گرفتار پہلے کیا جاتا ہے پھر تحقیقات شروع کی جاتی ہیں۔ عدالت ثبوت نا ہونے پر رہا کرتی ہے تو پھر کہا جاتا ہے کہ ہم تو پکڑتے ہیں عدالتیں چھوڑ دیتی ہیں۔
اصل بات یہی ہے کہ ہوم ورک مکمل نہیں ہوتا لہٰذا جیسے ہی کسی کو گرفتار کرتے ہیں وہ ان کی قابلیت پر سوال اٹھانا شروع کردیتا ہے جس سے عوام کے اندر اداروں کی مخالفت پائی جاتی ہے۔ پاکستان میں تو تاریخ بھری پڑی ہے کہ لیڈرشپ قانون اور آئین کی پاسداری نہیں کرتی اور جب احتساب ہوتا ہے تو معاملات ادھر ادھر کرکے عوام کو دوسری جانب لگا دیا جاتا ہے جیسے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے کیس میں عدالت ایک ہی سوال ہے کہ جو آپ نے پی سی او جاری کیا تھا کس قانون کے تحت جاری کیا تھا۔ بس اسی کا جواب دیے دیں لیکن آپ کو پتا ہے کہ کیسے کیس پر اثرانداز ہوا گیا اور معاملات الجھائے گئے۔ اگر کسی کو پتا ہے کہ یہ آرڈر جنرل صاحب نے کس ایکٹ اور شق کے مطابق جاری کیا تو مہربانی کرکے ہمیں بھی بتائیں۔
ای گورننس
پاکستان میں ای گورننس سسٹم لانے کا فیصلہ ہوا ہے جو خوش آئند ہے۔ آئی ٹی سیکٹر میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے کیونکہ یہ پاکستان کا مستقبل ہے۔ اس سیٹ اپ سے ہمارے کئی مسائل حل ہوں۔ آن لائن ڈگری ویریفیکیشن اور سرکاری ملازمین کا تمام ریکارڈ آن لائن ہوگا جس وہ ایک کلک سے اپنی متعلقہ دستاویزات لے سکیں گے۔ گزارش ہے ملازمین کی سروس کے اختتام پر خودکار طریقہ بھی متعارف کرایا جائے تاکہ وہ اپنے واجبات جلد اور بغیر کسی حیل و حجت کے وصول کر سکیں۔
وزیر تعلیم مراد راس نے جو آن لائن ٹرانسفر کا نظام شروع کیا ہے اس میں اساتذہ کے ساتھ نان ٹیچنگ سٹاف اور دوسرے محکمہ جات کے ملازمین کے ای ٹرانسفر کا نظام بھی لایا جائے۔ سٹیزن پورٹل سسٹم کو مزید فعال کیا جائے۔ اس کے ساتھ اور بھی جتنے معاملات زندگی سے جڑے ہیں ان میں آسانیاں لائی جائیں۔ ریموٹ ایریاز میں انٹرنیٹ کی دستیابی ممکن بنائی جائے تاکہ وہاں رہنے والے بھی سہولیات کا فائدہ اٹھا سکیں۔ اس کے ساتھ ایک گزارش یہ بھی ہے کہ جن ڈیجیٹل ذرائع سے لوگ پیسہ کما رہے ہیں ان کو بین نا کیا جائے۔ ایسے انسٹیوٹس بنائے جائیں جہاں آن لائن کام کرنے کی ٹریننگ دی جائے۔ رقوم کا آن لائن ترسیل کا نظام مزید بہتر کیا جائے اور پے پال، بٹ کوئن اور کرپٹو کرنسی جیسے اہم ذریعے پاکستان میں متعارف کروائے جائیں تاکہ بین الاقوامی سطح پر رقوم کی ترسیل ہو سکے۔
آزادی اظہار رائے
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات اور آزاد بنایا ہے۔ لیکن مطلق العنان حکومتی نظام نے انسان کی بولنے اور سوال کرنے کی آزادی سلب کر لی۔ کچھ لوگ خلافت اور بادشاہی نظام کو ایک ہی خیال کرتے ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔ خلافت نے تو انسان کو اتنی ازادی دی کہ وہ خلیفہ وقت سے سوال کر سکے کہ جب تک آپ یہ وضاحت نہیں کر دیتے کہ سب کو ایک چادر ملی اور آپ کو دو کیوں تب تک آپ ممبر پر کھڑے ہو کر خطبہ نہیں دے سکتے تو یہ تھا وہ نظام جس میں عوام اور ریاست کا مضبوط رشتہ تھا۔
پاکستان میں کیا ایسا ممکن ہے؟ ہم تو ان ایم این اے اور ایم پی اے سے سوال نہیں کر سکتے جو ایک بار ووٹ لے کر اگلے پانچ سال تک اپنی شکل نہیں دکھاتے۔ جمہوریت تو یہ ہے کہ ایسا قانون نافذ ہو جس میں عوام کی فلاح نہ ہو تو وہ کہیں کہ جس فیصلے میں میں یعنی عوام شامل نہیں تو مجھ پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ ادھر پہاڑ جتنے ٹیکسز اس عام آدمی پر لگے ہیں جو بیچارہ پانچ سو روپے کا دیہاڑی دار مزدور ہے۔ ابھی بھی پاکستان میں بیوقوف لوگ رہتے ہیں جو بادشاہی نظام کے حق میں ہیں۔
ان مردہ ضمیر غلام لوگوں نے پاکستان میں کالے قانون نافذ ہونے پر بھی احتجاج نا کیا ہوگا۔ جب قدرت آپ کو تحفہ دے رہی ہے تو آپ غلامی کو کیوں ترجیح دے رہے ہیں۔ ادھر میڈیا پر پابندیوں کا سب کو پتا ہے کہ کیسے قومی سلامتی کا بہانہ بنا کر سنسر لگتا ہے۔ تو یہ ذمے داری عوام کی ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ انہیں آزاد رہنا ہے یا غلام، مرضی پر منحصر ہے۔ اگر آپ غلام رہنا چاہتے ہیں تو پھر بادشاہ تو پیدا ہوں گے۔


