خون چوسنے والی جونک اور گرم دیسی گھی کا پیالہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کبھی ہر سال چھ مہینے بعد بستی بستی پربت پربت گھومتا گاتا۔ کمر پر رنگ بر نگی کانچ کی چوڑیوں کی گٹھری لادے بنجارا یا کندھے سے گیلی مٹی میں کلبلاتی جونکیں مٹی کی کپڑے سے منہ بندھی گڑویوں یا پوٹلیوں سے بھرے جھولے لٹکائے جونک لگانے والا جوگی اور جوگن کسی گاؤں یا بستی کی گلی میں داخل ہوکر ”لے لو چوڑیاں“ یا جونکیں لگوا لو خون صاف کرا لو ”کی صدا لگاتا۔ یا پہلے آنے والے دو تین گھروں کی کنڈی کھٹکھٹا لیتا تو مانو لمحوں میں پورے گاؤں یا پوری گلی میں میلہ کا سماں بندھ جاتا۔

جہاں بنجارے کے گرد چھوٹی بچیوں سے لے کر بوڑھی اماں تک کا جمگھٹا ہوتا وہاں جوگی سے ایک دو بڑی بوڑھیاں بھاؤ تاؤ کرکے ہر (اپنی دانست میں) ضرورت مند عموماً شادی شدہ خاتون کو بچوں کے ہاتھ جوگی کی آمد کا پیغام پہنچا دیتیں۔ اور بقرعید کے قصاب کی طرح ہر گھر کی باری کی بکنگ شروع ہو جاتی۔ اس دن ان بوڑھیوں کو ہر گھر کی خاتون  کو جونکیں لگوانے کی ضرورت محسوس ہوتی اور یوں جوگی کی روزی کا سامان ہوتا

آئیے پہلے اس اب معدوم میلے کے آخری سانسیں لیتے زمانے کا حیران کن آنکھوں دیکھا واقعہ سناؤں۔

انیس سو چھپن ہم فیصل آباد ستیانہ روڈ پر اس وقت شہر کے آخری چھوٹے سے گھر میں مقیم تھے۔ گھر کے سامنے سے نہری پانی کا کھال اور اس کے ساتھ ساتھ کچا راستہ قبرستان والی آبادی ( بعد میں شاید شریف آباد کہلایا ) کی طرف جاتا تھا۔ بجلی تھی نہیں شام گرمیوں میں باہر کھڑے ہو جاتے۔ ایک شام والدہ باہر کھڑی تھیں تو دو تین عورتیں اور ایک مرد اونچے بین کرتے ایک دس گیارہ سال کے پیلے زرد بچے کو لپٹائے سڑک سے اس راستے پر مڑے۔

والدہ نے دور سے (دستور زمانہ ) رونے پیٹنے کی وجہ پوچھی تو کھڑی ہو گئیں اور کہنے لگیں کہ دس بارہ روز سے یہ بچہ بار بار خون کی الٹیاں کر رہا ہے۔ حکیموں ویدوں کو سمجھ نہیں آج ڈاکٹر نے بھی جواب دے دیا ہے۔ ہم بے وسیلہ لوگ کہاں جائیں۔ ۔ ۔ والدہ نے اپنے پاس بلا لیا اور محض تسلی دینے باتیں کرتے اچانک کوئی خیال آیا تو پوچھا تم رہتے کہاں ہو؟ بتایا قبرستان آبادی سے ذرا آگے۔ پوچھا اس نہری پانی کے کھال کے قریب اور کیا یہ وہاں نہانے بھی جاتا ہے۔

جواب اثبات میں تھا۔ الٹی میں خون کا رنگ پوچھا۔ تفصیل سے پتہ چلا کہ لوگ اپنی بھینسیں نہلانے بھی وہاں آتے ہیں اور یہ ان کے بچوں کے ساتھ کھیلتا نہاتا اور بھینسیں نہلانے میں ساتھ بھی دیتا رہا ہے۔ ۔ ۔ والدہ بولیں خدائی تقدیر میں دخل نہیں مگر ایک ٹوٹکا میرا کر دیکھو۔ دیسی گھی گرم کر کے اس کو تھوڑے تھوڑے وقفے سے پلاؤ۔ ان کے منہ لٹک گئے۔ ایک دھیرے سے بولی دیسی گھی کہاں ہمارے نصیب۔ والدہ نے انہیں روکا اندر گئیں اور پیالہ بھر کے دیسی گھی کا انہیں پکڑاتے کہا۔

کہ قابل برداشت گرم کر کے جتنا یہ پی سکتا ہے۔ خواہ کچھ زبردستی پلانا پڑے۔ بار بار پلا ئیں۔ اور اب جب بھی الٹی کرے یا اجابت ہو تو غور سے دیکھنا۔ اس میں کوئی کیڑا نکل آئے تو سمجھنا بیٹا ٹھیک ہو گیا۔ میرا خیال ہے نہاتے اس کے پیٹ میں کوئی جونک جا کر اندر دانت گاڑ چکی ہے جو اس کا خون چوستی ہے اور جب اگلتی ہے تو خون کی الٹی آتی ہے۔ اور سوائے گھی کی چکنائی اس کے دانتوں کو چھڑوانا مشکل ہے۔

ایک دن چھوڑ اس سے اگلی دوپہر سے قبل دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ لڑکے کی ماں لڑکے کو ساتھ لئے ہاتھ میں اسی پیالہ میں تازہ بنا ساگ لئے کھڑی تھی۔ خوشی سے چیخیں مارتی دعائیں دیتی والدہ سے لپٹ گئی۔ بتایا کہ گھی پلاتے رہنے کے بعد بھی دو مرتبہ لڑکے نے خون کی قے کی مگر اگلی شام جو قے آئی اس میں خون کم گھی کافی تھا اور ساتھ خون بھری دو ڈھائی انچ لمبی جونک باہر پڑی تھی۔ اور پھر کوئی الٹی نہ آئی اور لڑکا بھی ٹھیک محسوس کر رہا تھا۔ ۔ ۔

بعد میں ہمارے پوچھنے پر کہ آپ کو جونک کا خیال کیسے آیا۔ تو بتایا۔ کہ والدہ کے بچپن میں پنڈی بھٹیاں کے جولاہوں کے گھر کے ایک بچہ کی کیفیت ایسی تھی اور اپنی والدہ کے ساتھ ان کے گھر گئیں تو ایک بزرگ نے ان کے سامنے کہا تھا کہ میں نے اپنی بھینسوں کے جسم پر جونکیں دیکھی ہیں اور وہ یہاں ”ڈھاب“ پنڈی بھٹیاں کے باہر جوہڑ۔ جو شاید اب ختم ہو چکا اور ڈھاب کہلاتا تھا۔ میں نہاتے لگی ہوں گی تو ممکن ہے ڈھاب میں نہاتے اس کے پیٹ میں چلی گئی ہو (اس ڈھاب میں نہانے کا شرف ہمیں بھی حاصل ہے)۔ اور اس نے یہ علاج بتایا اور کار گر ہوا اور شاید اس بچے جان بچانا خدا کو منظور تھی۔ جو اچانک مجھے وہ بات یاد آ گئی۔ ۔ ۔

جونک قدرت کا ایک انمول اور حیران کن تحفہ ہے دو ڈھائی انچ کا یہ کیڑا انگریزی حرف وائی کی شکل تین طرف جلد کو پکڑتا ہے۔ اس کی گرفت چھڑوانا آسان نہیں اور جوگی کے مخصوص گر ہی کار آمد ہیں ورنہ خاصی دیر خون رستا ہے ایک پیالی کی طرح کی تھیلی میں خون جمع کرتا جاتا ہے اور ایک جونک اپنے وزن سے تین گنا تک خون اپنے اندر سٹور کر سکتی ہے اس کے منہ کے لعاب میں تیس قسم کے پروٹینز ہوتے ہیں جن میں درد جامد کرنے سوجن دور کرنے خون میں بنے لوتھڑے ختم کرنے خون کی روانی بحال رکھنے کے علاوہ کئی انتہائی فائدہ مند خصوصیات ہوتی ہیں۔

ہندوستان میں اور مصر میں خصوصاً ساڑھے تین ہزار سے پانچ ہزار سال قبل تک اس سے علاج کے شواہد ہیں۔ اور زیادہ تر خون کی صفائی کے نعرہ سے مستعمل تھا ہندوستانی اس طریق علاج کو اپنی ایجاد بتاتے ہیں۔ اور اب جدید تحقیق دوبارہ اس کی تجدید کر رہی ہے۔ کان کی انتہائی باریک رگوں میں جمع ہونے والے خونی لوٹھڑوں کو نکالنے میں استعمال کر رہے ہیں

جونکیں والے جوگی جوگن کے جونک لگانے کے بہت نظارے میرے بچپن کے دیکھے ہیں۔ عموماً بڑی عمر کے جوگی۔ کبھی شاگرد بھی ساتھ۔ اور عموماً ایک ساتھی خاتون کے ساتھ جن کا تجربہ مریض کی جلد کے کسی حصے کو دیکھتے ہی ان سے کہلواتا کہ آپ کو فلاں فلاں جگہ جونک کی ضرورت ہے۔ زیادہ تر ٹخنے گھٹنوں اور کندھے کے جوڑوں کے قریب۔ پنڈ لیوں پر اور گردن کے عقب میں لگائی جاتیں۔ چھاتیوں پر بھی لگی دیکھیں۔ ۔ مرد بہت کم لگواتے دیکھے۔

جوگی کو اس رگ کا اندازہ ہوتا جہاں اس کی پکڑ زیادہ موثر ہو سکتی۔ بالکل آج کل کے ایکو پریشر پوائنٹ اور ایکو پنکچر پوائنٹ کی طرح۔ جب جونک خون چوس کر اپنی جسامت سے دو تین گنا ہو چکتی تو مخصوص گر سے اسے اتارتے اور دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر اس کا چوسا خون منہ کے رستے نچوڑا جاتا اور رنگت اور گاڑھے پن کا موازنہ کر کے بتایا جاتا۔ کہ آپ کے جسم کو کس طرح اور کتنا بیماری سے بچاؤ ہوا۔ سر درد بواسیر کان کے انفیکشن تک کا علاج ہوتا۔ ۔ ۔

انیس سو پچاس اکاون تک یہ جوگی اکثر گلی محلوں میں پھرتے نظر آتے۔ آہستہ آہستہ یہ طریق علاج معدوم ہوتا گیا۔ اور شاید انیس سو اٹھاون کے بعد تو میں نے نہ کہیں سنا نہ کہیں دیکھا۔ اور ایک رپورٹ کے مطابق اب دہلی میں سالانہ کوئی چار سو کے قریب جونکیں لگوا علاج کرواتے ہیں۔ مگر شاید وہ بھی جو گیوں سے نہیں۔ میڈیکل ڈاکٹروں سے۔ تاہم مغربی دنیا میں قدرت کے اس عجوبہ پر تحقیق کرکے اس قدرت کے تحفہ سے مستفید ہونے کے نئے نئے راستے نکالے جا رہے ہیں۔ اور انٹرنیٹ پر تلاش کریں تو خون چوسنے والا یہ کیڑا آپ کو ایک عجیب دنیا میں پہنچا دے گا۔

جب کہ ترقی پذیر ممالک میں اس کا نام زیادہ تر ملک کی دولت وسائل لوٹنے اور غریب کے خون چوسنے والوں کو جونک۔ لیچز۔ کا نام دے کر ہی زندہ ہے اور ہماری نئی نسل تو زیادہ تر جونک کی اسی جدید نسل سے واقف ہے اور بنجارے کی یاد ”تیرے ہاتھوں میں پہنا کے چوڑیاں۔ نی موج بنجارا لے گیا“ والا گانا دلاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •