لاہور میں این ڈی ایم اے بلا لیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور کو آج طوفانی بارش کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ علاقوں میں 100 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔ سب سے زیادہ تاج پورہ میں 107 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ لاہور میں اوسطاً بارش جو تمام علاقوں میں ریکارڈ کی گئی وہ 70۔ 80 ملی میٹر ہے۔ آج لاہور کی گلیاں اور سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے تھے۔

پچھلے 2 سالوں سے لاہور بھی ابتری میں کراچی کے ساتھ جارحانہ مقابلہ کر رہا ہے۔ اگر اسی طرح تندہی سے ابتری کا مقابلہ جاری رہا تو لاہور کراچی کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔ یہ میڈیا پر شاید سنسرشپ کا نتیجہ ہے یا میڈیا کو ہدایات دی گئی ہیں کہ آپ نے لاہور کو اس طرح فوکس نہیں کرنا جس طرح کراچی کو کرنا ہے۔ لاہور میں ہر جگہ کوڑا کرکٹ کے ڈھیر لگے ہیں۔ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ملازمین کئی ماہ سے تنخواہیں نا ملنے پر ہڑتال پر ہیں۔ حکومت اور ملازمین کے تنازعہ کا خمیازہ اہل لاہور بھگت رہے ہیں۔

لاہور میں صفائی کے مسائل پہلے بھی تھے۔ مگر اس طرح نا تھے جس طرح اب ہیں۔ کوئی بھی ذی شعور لاہور کا رہائشی آپ کو آج سے 2 سال پہلے کے لاہور اور آج کے لاہور کا موازنہ کرتے ہوئے رنجیدہ ہو جاتا ہے۔ لاہور میں کچھ نشیبی علاقوں میں نکاسی آب کا مسئلہ رہتا ہے۔ اس حکومت نے دعویٰ کیا کہ ہم نے ایک 11 کلو میٹر ڈرین بنائی ہے بوہڑ والہ چوک سے لے کر جی پی او چوک تک اور اب یہاں اور لکشمی چوک پر پانی نہیں کھڑا ہوگا۔ مگر آج ان تمام علاقوں میں پانی کھڑا تھا۔ مزید بتایا گیا کہ لارنس روڈ پر زیر زمین پانی کا ٹینک بنایا گیا ہے جس میں 14 لاکھ گیلن پانی جمع کیا جا سکے گا مگر آج لارنس روڈ پر بھی پانی جمع تھا۔

شہر کے پوش علاقوں کا حال تو اس سے بھی ابتر ہے۔ جوہر ٹاؤن اور گلبرگ کے علاوہ ڈی ایچ اے اور والوں روڈ تو دریا کے مناظر پیش کر رہے تھے۔ مولانا شوکت علی روڈ آج ایک جھیل کا منظر پیش کر رہی تھی۔ والٹن روڈ آج کل بہت مصروف شاہراہ ہے۔ فردوس مارکیٹ انڈرپاس زیر تعمیر ہونے کی وجہ سے اس سڑک پر آمد و رفت بڑھ گیا ہے۔ اس روڈ کی ایک دکھ بھری داستان ہے۔ یہ والٹن کنٹونمنٹ کے زیر انتظام علاقہ ہے۔ اس کے ساتھ ایک نالہ رواں ہے۔

اس نالے میں اس قدر کوڑا جمع ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو نالہ بپھر جاتا ہے اور دو دو دن پانی کا نکاس ممکن نہیں ہوتا۔ دو سالوں سے یہاں کے رہائشی کنٹونمنٹ بورڈ کی توجہ دلا رہے ہیں مگر ان کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ حالانکہ کنٹونمنٹ بورڈ آپ کے گلے پر چھری کی نوک رکھ کر آپ سے ٹیکس وصول کرتی ہے مگر آج تک والٹن کنٹونمنٹ والٹن روڈ کا یہ مسئلہ حل نہیں کر سکی۔ آپ سوال بھی نہیں کر سکتے کیونکہ وجہ آپ سب کو بہتر معلوم ہے۔

ویسے اس قدر طوفانی بارش پر وزیر اعظم کو لاہور کا خیال کیوں نہیں آیا؟ راوی کنارے نیا لاہور جب بنے گا سو بنے گا پہلے کوئی پرانے لاہور کی خبر لے لے۔ لاہور کی بارشوں کا وزیر اعظم نوٹس کیوں نہیں لیتے؟ یہاں بھی تو این ڈی ایم اے بھیجیں نا اب۔ لاہور میں بھی اربن فلڈ آیا ہوا ہے۔ ادھر این ڈی ایم اے کے چئیرمین کو بھیجنا چاہیے۔ مگر ادھر اس لئے نہیں بھیجیں گے کیونکہ اپنی جماعت کی حکومت ہے اور یہ وسیم اکرم پلس کے خلاف وہ عدم اعتماد کیسے کر سکتے ہیں؟ نیز یہ کہ لاہور اور کراچی میں کوئی فرق نہیں رہا۔ وزیر اعظم پورے ملک کا ہوتا ہے اور انصاف کی بات یہ ہے کہ لاہور میں بھی فوج کو اس مسئلے کے لئے طلب کیا جائے تا کہ سندھ اور پنجاب میں تفریق نا کی جائے۔ اسی لئے جناب وزیر اعظم لاہور میں بھی این ڈی ایم اے کو بلا کر لاہور کے مسائل حل کیے جائیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •