یہ منگل کو کراچی واقعے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب نے بلاول بھٹو زرداری سے فون کر کے کہا تھا کہ فوج تحقیقات کرے گی اور 10 دن میں انکوائری رپورٹ سامنے لائی جائے گی مگر جب نہیں آئی تو پی ڈی ایم نے 8 تاریخ کو مطالبہ کیا تھا کہ انکوائری رپورٹ سامنے لائی جائے جلد از جلد۔ پھر 10 تاریخ کو جب رپورٹ آئی تو جو آئی ایس پی آر نے پریس ریلیز جاری کی اس کے مطابق مزار قائد پر جو کیپٹن (ر) صفدر نے ووٹ کو عزت دو اور مادر ملت زندہ باد کے نعرے لگائے تھے۔
اس کے بعد مزار قائد کی بے حرمتی کی گئی تو عوامی دباؤ بڑھ رہا تھا اور پولیس سست کارروائی کر رہی تھی اور مقدمہ درج کرنے سے گریزاں تھی تو شدید ترین عوامی دباؤ پر آئی ایس آئی سیکٹر کمانڈ اور رینجرز کے اہلکاروں نے آئی جی سندھ کو اغوا کیا اور زبردستی ان سے وارنٹ گرفتاری پر دستخط لے کر پھر مریم نواز کا کمرہ توڑ کر کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کیا گیا اور یہ ساری کارروائی اس لئے ہوئی کیونکہ اہلکار جذبات میں آ گئے تھے اور اس سے دو اداروں میں بدمزگی ہوئی اور ناگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اور ان چار افسران کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے مگر نام صیغہ راز ہیں اور مزید کارروائی جی ایچ کیو میں ہوگی۔
Read more