کرونا وائرس۔ ۔ ۔ NCOC کی شاباش تو بنتی ہے (مکمل کالم)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانوی صحافی مہدی حسن بہت دلچسپ انداز میں چہکارتے (ٹویٹ کرتے )ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے ٹویٹ کی کہ اگر کوئی شخص کہے کہ باہر بارش ہو رہی ہے اور دوسرا شخص کہے کہ بارش نہیں ہو رہی تو صحافی کا کام یہ خبر بنانا نہیں کہ الف کہہ رہا ہے کہ بارش ہو رہی ہے جبکہ ب کا کہنا ہے کہ نہیں ہو رہی، ایک کھراصحافی کھڑکی کھول کر دیکھے گا اور بتائے گا کہ حقیقت کیاہے۔ یہ تو ہوا خبر نگاری کا اصول۔ کالم کا معاملہ ذرا مختلف ہے، یہاں ذاتی رائے کی کافی گنجایش ہوتی ہے، موضوع کے چناؤ میں بھی کالم نگار آزاد ہوتا ہے اور اپنے نظرئیے کی حمایت میں دلائل دینے کی بھی اسے آزادی ہوتی ہے۔ تاہم نقطہ نظر جو بھی ہو، حقائق کو درست انداز میں پیش کرنے کی ذمہ داری سے کوئی کالم نگار مبرّا نہیں ہو سکتا۔

آج اگست کا 11ہواں دن ہے اورسال 2020ء۔ آج کی تاریخ تک پاکستان میں کرونا وائرس کی صورتحال یہ ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں پورے ملک سے صرف516نئے مریض سامنے آئے ہیں اور 15اموات ہوئی ہیں، اب تک کرونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد285,016ہے جبکہ کُل ملا کر اِس وائرس سے 6,107اموات ہوئی ہیں۔ ممکن ہے یہ بات کہنی قبل از وقت ہو مگر اِس کے باوجود حقائق یہی بتاتے ہیں کہ وہ ملک جو دو ماہ پہلے تک وائرس کے پھیلاؤ میں دنیا میں بارہویں نمبر پر تھا آج اُس فہرست میں نیچے جا چکا ہے۔ بل گیٹس اِس بات پر حیران ہے جبکہ جوتشی پشیمان ہیں۔ اِس کامیابی کا سہرا بے شک حکومت کے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سر ہے مگر اِس کے علاوہ بھی کچھ لوگ اِس سہرے کے حقدار ہیں۔ وہ لوگ کون ہیں ؟

پاکستان میں چھوٹی عید 24مئی کو منائی گئی، عید سے پہلے تاجروں کے دباؤ پر قفل بندی میں نرمی کرکے دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی، نتیجتاً بازاروں میں رش بڑھ گیا، لوگوںنے یوں خریداری کی جیسے یہ اُن کی آخر ی عید ہو، وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لینے کی بجائے ہم نے اِس بات کو زیادہ اہم جانا کہ نئے جوڑے کے ساتھ جوتا کون سا پہنا جائے۔ وائرس کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ عید، شب برات، کرسمس، کسی تہوار کی پرواہ نہیں کرتا، بڑے چھوٹے کا لحاظ نہیں کرتا، دکاندار اور گاہک میں فرق نہیں کرتا، امیر اور غریب کی تمیز نہیں کرتا۔ اِس کی سائنس یہ ہے کہ جب لوگ احتیاط چھوڑ دیتے ہیں تو یہ دو سے تین ہفتے میں اپنے جوبن پر آتا ہے۔ وہی ہوا۔ ٹھیک تین ہفتوں بعد 15جون کو ایسی خوفناک لہر آئی کہ بڑے شہروں میں اسپتال مریضوں سے بھر گئے، آکسیجن کے سلینڈر مہنگے ہو گئے، ضروری ادویات اور ٹیکے نایاب ہو گئے، لوگوں نے خوف کے مارے جنازوں میں جانا چھوڑ دیا، میل ملاقات ختم ہو گئی۔

اُن دنوں جس دوست رشتہ دار کو فون کرتے تو پتا چلتا کہ اُس کے گھر میں کوئی نہ کوئی کرونا کا مریض ہے۔ میرے کئی دوست رشتہ دار شدید اذیت کا شکار ہوئے، کچھ کو اِس وائرس نے بے حد تکلیف پہنچائی جبکہ کچھ خوش قسمت محض دو چار کھانسیوں کے بعد ہی ٹھیک ہوگئے۔ یہ وہ وقت تھا جب ایک دن میں کرونا وائرس کے پانچ سے چھ ہزار کیس روزانہ سرکاری طور پر رپورٹ ہو رہے تھے جبکہ اصل مریضوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔ اِس کے بعد حکومت نے کچھ سختی کی اور ملک میں ’سمارٹ لاک ڈاؤن‘ کیا۔

سمارٹ لاک ڈاؤن کی اصطلاح ایک ذہین بیوروکریٹ راشد محمود لنگڑیال کے ذہن کی اختراع تھی، اِس افسرنے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک مختصر سا مقالہ لکھا جس میں حکومت کو تجویز دی کہ اِس وبا پر قابو پانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جو علاقے وائرس کے گڑھ بن رہے ہوں اُن کی مکمل ناکہ بندی کر کے سمارٹ لاک ڈاؤن کر دیا جائے۔ میں نے یہ بات ایک سطر میں بیان کر دی ہے جبکہ اصل میں یہ تحقیقی مضمون کہیں زیادہ مفصل تھا اور اِس میں بے شمار عملی تجاویز تھیں۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ راشد لنگڑیا ل جیسے قابل اور اعلی ساکھ کے افسر پاکستان میں ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ آپ میں سے جن لوگوں کو اِس بات میں غلو کا شائبہ ہو وہ صرف آدھ گھنٹہ نکال کر یہ مضمون پڑھ لیں جو PIDE کی ویب سائٹ پر موجود ہے، آپ کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا۔

اِسی طرح پنجاب میں جس افسر نے دن رات کام کیا وہ سیکریٹری ہیلتھ نبیل اعوان ہے، یہ ہے تو میرا بیچ میٹ، مگر میں ذرا ’بمار شمار ‘ رہا ہوں۔ سندھ میں مراد علی شاہ اور کے پی میں سلیم جھگڑا نے بے پناہ کام کیا جبکہ وفاقی سطح پردو افراد کو اِس کام کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی، ایک اسد عمر اور دوسرے ڈاکٹر فیصل سلطان، این سی او سی میں کلیدی کردار انہی کا تھا۔ مگر سب سے بڑھ کر اِس وبا میں جو لو گ ہیرو بن کر سامنے آئے وہ ہمارے ڈاکٹرز اور گمنام سرکاری ملازم ہیں جنہوں نے اِس محاذ پر یوں کام کیا جیسے کوئی فوجی ملک کے لیے جان پر کھیل جاتا ہے۔ سلام ہے ڈاکٹرز کو جنہوں نے اگلے پچھلے تمام رونے دھو دیئے، میں ایسے ڈاکٹرز کو بھی جانتاہوں جو کئی کئی ہفتے اپنے خاندان والوں سے نہیں مل پائے کیونکہ انہیں وائرس لگنے کا خدشہ تھا اور بے شمار تو جان سے چلے گئے۔ ایک تاریخ ہے جو اِن ڈاکٹرز نے رقم کی ہے۔

آخری تجزیے میں ایسے کاموں کا ’کریڈٹ‘ بہرحال حکومت وقت کو ہی جاتا ہے، تجاویز تو ہر حکومت کو دی جاتی ہیں، اصل کام تو اُن پر عمل کرکے نتیجہ برآمد کر نا ہوتا ہے۔ تا دم تحریر پاکستان میں کرونا وائرس کاخط نیچے کو جارہا ہے، اسپتالوں سے حاصل کردہ اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ اب وہاں کرونا کے اکا دکا مریض ہیں، وینٹی لیٹر خالی پڑے ہیںاورنجی لیبارٹریوں میں کرونا کے جو ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں اُن میں مثبت کیسوں کی شرح پہلے کے مقابلے میں کئی گنا کم ہے۔ پاکستان کی اِس حیرت انگیز کامیابی کا ذکربل گیٹس نے بھی کیا ہے، سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے اکیسویں صدی کے اِس اصلی اور وڈے حاتم طائی نے کہاہے کہ ’’دنیا میں سری لنکا اور پاکستان جیسے ممالک کی مثالیں بھی ہیں، خاص کر پاکستان جہاں میری معلومات کے مطابق انہوں نے کرونا پر قابو پانے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا، یقینا وہاں بہت سے متاثرین رپورٹ بھی نہیں ہوئے ہوں گے لیکن اس کے باوجود پاکستان میں متاثرین اور اموات کی شرح انتہائی کم ہے۔

۔ ۔ ۔ ‘‘یہ تو ہوا بل گیٹس کا تبصرہ۔ فدوی کا تبصرہ یہ ہے کہ سمارٹ لاک ڈاؤن کے علاوہ جس چیز نے پاکستان میں کرونا وائرس کا زور توڑا وہ Herd Immunityہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اگر پچیس فیصد آبادی میں وائرس پھیل جائے تو پھر اس کے مزید پھیلنے کی شرح جسے تکنیکی زبان میں Rناٹ کہتے ہیں، ایک سے کم ہوجاتی ہے۔ با الفاظ دیگر، جب وائرس پھیلنے کی شرح اتنی کم ہو جائے کہ وہ ایک سے بھی کم رہ جائے تو ایسی صورت میں اُس کا پھیلنا رُک جاتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کی پچیس فیصد آبادی یعنی ساڑھے پانچ کروڑ لوگوں کو کرونا ہو چکا ہے تو جواب ہے نہیں۔ اِس بارے میں صرف یہی قیاس آرائی کی جا سکتی ہے کہ لاہور کراچی جیسے بڑے شہروں کو شاید یہ اجتماعی مدافعت حاصل ہو چکی ہو کیونکہ وبا کازیادہ زور انہی شہرو ں میں تھا۔ مثلاً لاہور میں اگر پچیس لاکھ افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں، جو کہ ایسی نا قابل یقین بات نہیں، تو کوئی بعید نہیں کہ یہاں اجتماعی مدافعت کی وجہ سے وائرس ختم ہو رہا ہو۔ یہی صورتحال کراچی میں بھی ہو سکتی ہے۔

لیکن اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ بڑی عید گزرے دس دن ہوئے ہیں، اگلے دو ہفتوں میں پتا چل جائے گا کہ عید پر میل ملاپ کی وجہ سے وبا کی دوسری لہر آئے گی یا نہیں۔ اسی طرح یکم ستمبر کو دس محرم ہے۔ اگر ستمبر کے تیسرے ہفتے تک وبا میں تیزی نہ آئی تو پھر شاید ہم سکھ کا سانس لے سکیں۔ اُس وقت تک ویسے ہی احتیاط لازمی ہے جیسی اب تک کرتے آئے ہیں، یقین کریں کہ وائرس کو اِس بات کا نہیں پتا کہ ہم نے وبا کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ وائرس بڑا بے غیرت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 130 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada