گورکھ ہل جتنا خطرناک سفر، اتنے دلکش نظارے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیر و سیاحت انسان کے لیے ایسے ہی ضروری ہے جیسے کھانا پینا یا دوسری تمام ضروریات۔ سندھ میں دیکھنے کے لیے ایسے بہت سے مقامات ہیں جنہیں دیکھنے کے بعد سندھی ہی کیا دنیا کے تمام لوگ سندھ کے کلچر اور تہذیب کو بہت قدیم اور انسان دوست مانتے ہیں۔ سندھ میں زیادہ تر علاقے گرم ہیں پر حیرانی تب ہوتی ہے جب ایک ایسی جگہ کے بارے میں پتہ چلا جہاں شدید گرمیوں کے دن میں بھی درجہ حرارت 10 سے 15 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔

اور سردیوں کے دنوں میں برف باری ہوتی ہے۔ اسی لیے اسے سندھ کا مری کہا جاتا ہے۔ اس جگہ کا نام گورکھ ہل اسٹیشن ہے۔ گورکھ کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ برسوں پہلے یہاں کوئی گورکھ ناتھ نامی ایک سادھو سری رہتے تھے انہی کے نام سے پہاڑی کا نام گورکھ ہے جبکہ سنسکرت کی روایت کے مطابق گورکھ کے معنی مویشی چرانا ہیں اور سندھی زبان میں لفظ گورکھ کے معنی مشکل اور دشوار گزار کے ہیں۔ جو کہ آگے کے بیان کے مطابق آپ کو صحیح معلوم ہوں گے ۔

گورکھ ہل اسٹیشن سطح سمندر سے تقریباً 5600 فٹ کی بلندی پر ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی وہاں آکسیجن کی کمی محسوس ہوتی ہے ایسے افراد جنہیں سانس لینے میں کسی بھی قسم کا مسئلہ ہوتا ہے وہ اپنا انتظام بہتر طریقے سے کر کر جائیں۔ جن لوگوں کو نئی نئی جگہیں دیکھنے کا شوق ہے گورکھ ان کے لیے ایک بہترین جگہ ثابت ہو سکتی ہے۔ پر آپ وہاں جا کر بہت اچھی طرح خوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو کچھ معلومات آپ کے لیے موجود ہیں اگر آپ ان پر عمل کریں تو بہت بہترین وقت بغیر دقت کے گزار کر آسکتے ہیں۔

گورکھ جانے کے لیے اندرون سندھ سے پہلا اسٹاپ دادو پھر جوہی اور اس کے بعد واہی پاندھی آتا ہے جبکہ کراچی کی طرف سے آنے والوں کے لیے پہلے سیہون اور پھر واہی پاندھی کا اسٹاپ آتا ہے۔ اگر آپ اپنی گاڑی میں جا رہے ہیں اور آپ کی گاڑی اونچی ہے تو آپ 35 جبل (جگہ کا نام) تک اپنی گاڑی لے جا سکتے ہیں۔ پر گاڑی میں پیٹرول جوہی یا سیہون سے فل کروا کر جائیں آگے پیٹرول مہنگا ہے اور ملنا مشکل بھی۔ اگر آپ اپنی گاڑی سے نہیں جا رہے ہیں تو آپ کو واہی پاندھی سے جیپ بک کروانی ہوگی جو کہ آپ کو اوپر لے کر بھی جائے گی اور واپس لے کر بھی آئے گی۔

تہوار یا کوئی خاص ایام میں جیپ کا کرایہ 16000 سے 10000 تک ہوتا ہے۔ (حالانکہ ایسا ہونا نہیں چاہیے پر جیپ مافیا اس میں شامل ہوتی ہے تو مجبوراً لوگوں کو یہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ) جس میں بڑی اور چھوٹی جیپ شامل ہیں بڑی جیپ میں 8 اور چھوٹی جیپ میں 5 لوگوں کو بٹھایا جاتا ہے۔ زیادہ بھی بیٹھ سکتے ہیں پر یہ جیپ والے کے اوپر ہے کہ وہ کتنے لوگوں کو لے کر جاتا ہے۔ تہوار یا خاص ایام کے علاوہ کرایہ تقریباً 3 سے 4 ہزار تک ہو سکتا ہے۔

اگر کوئی موٹر سائیکل پر جانا چاہتے ہیں تو وہ چائنا موٹر سائیکل لے کر جائیں کیونکہ اس کا پک اپ بہتر ہے CD موٹر سائیکل پہاڑوں پر چلانا مشکل ہے جس کی وجہ سے کافی حادثات پیش آتے ہیں۔ گورکھ ہل پر روڈ راستے بے حد خراب ہیں وہاں چڑھائی اور اترن بہت خطرناک ہیں روڈ راستوں کو بنانے کے دوران کوتاہی صاف نظر آتی ہے اسی لیے وہاں ماہر ڈرائیور کا ہونا ضروری ہے نہیں تو سیر و سیاحت کے لیے آنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ویسے تو ہر جگہ جہاں بھی آپ سیر کے لیے جاتے ہیں فرسٹ ایڈ باکس لے جانا لازمی ہے پر گورکھ ہل اسٹیشن پر جاتے ہوئے لازمی لے کر جائیں اور ساتھ ہی پانی اور کچھ کھانے کا انتظام بھی۔ کیونکہ آپ کو وہاں خالی روٹی بغیر رہائش کے نہیں ملے گی۔ آپ ریسٹ ہاؤس میں بکنگ کروایں گے تب ہی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں میڈیکل اسٹور یا جرنل اسٹور وغیرہ کی سہولت موجود نہیں ہے۔ ویسے تو وہاں ہل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی ( جی ایچ ڈی اے ) موجود ہے پر اس کا ہونا نہ ہونا ایک ہی جیسا ہے وہاں بجلی اور پانی کی بہت قلت ہے۔

اس کے علاوہ اگر آپ 35 جبل تک گاڑی لے کر جاتے ہیں اور آگے کا سفر جو کہ 18 کلو میٹر بلندی پر مشتمل ہے جیپ میں طے کرتے ہیں تو پارکنگ کی عام سہولت بھی موجود نہیں ہے، اس صورت میں آپ کو اپنی گاڑی پیسے دے کر پارک کرنی ہوگی اور خود اپنا ہی شناختی کارڈ جمع کروانا ہو گا۔ گاڑی میں موٹر سائیکل کی پارکنگ کی قیمت 300 اور کار کی 500 روپے ہے۔

یہ عمل کافی ناگوار محسوس ہوتا ہے۔ آپ جیسے جیسے اوپر کا سفر طے کرتے ہیں ویسے ویسے ٹھنڈی ہوا آپ کی تمام مشکلات کو بھلا دیتی ہے اور فرحت کا احساس آپ کے اندر ایک خوشی کی لہر پیدا کر دیتا ہے۔ گورکھ ہل پر کسی بھی نیٹ ورک کے سگنل نہیں آتے ہیں اسی لیے آپ وہاں موبائل کا استعمال صرف بے حد حسین نظاروں کو کیمرے میں قید کرنے کے لیے کر سکتے ہیں۔ وہاں اتنی ٹھنڈ ہے کہ آپ کو اپنے ساتھ گرم شال یا جیکٹ وغیرہ ضرور لے جانی ہوگی۔

گورکھ پر ریسٹ ہاؤس ہیں پر اگر آپ اصل کیمپنگ کا مزا لینا چاہتے ہیں تو ٹینٹ ساتھ لے کر جائیں کیونکہ وہاں آپ کو بہت مہنگا پڑے گا۔ شام ڈوبتے سورج اور صبح ابھرتے سورج کا نظارہ ایسا ہے جیسے تمام وادی پر سونے کی بارش ہو گئی ہو۔ اور اس کے ساتھ گڑھ والی چائے جو کہ مزا دوبالاہ کر دیتی ہے۔ بینظر ویو پوائنٹ سے سامنے بلوچستان ضلع خضدار کے کھیر تھر کے پہاڑ نظر آتے ہیں جو بہت ہی دلکش نظارہ ہے۔ گورکھ ہل جائیں اور قدرتی مناظر اور تاریخی جگہوں سے لطف اندوز ہوں۔ پر وہاں کچرا کرنے اور چاکنگ کرنے سے گریز کریں۔ کیونکہ یہ تمام مقامات ہماری تاریخی دولت ہیں اور ان کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
صبا سندھی کی دیگر تحریریں