14 اگست: جشن آزادی اور اس کے تقاضے!


آزادی کسی قوم کا وہ بیش بہا سرمایہ افتخار ہوتا ہے جو اس قوم کی زندگی اور اس کے تابناک مستقبل کا ضامن حیات ہوتا ہے غلام قومیں اور محکوم افراد پر مشتمل معاشرے نہ صرف اصل حیات و ممات سے محروم رہ جاتے ہیں بلکہ زمین پر ایک بوجھ بھی ہوتے ہیں۔ غلامی وہ مرض کہن ہے کہ جو دلوں کو یکسر مردہ کردیتا ہے شاید اسی لئے غلامی کو آزادی میں بدلنے کا زریں نسخہ بتاتے ہوئے علامہ اقبال نے بجا طور پر فرمایاتھا کہ، دل مردہ، دل نہیں ہے، اسے زندہ کردوبارہ! ، کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ!

حقیقی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی مرضی سے ہر کام کر سکیں پھر چاہے ان کے کاموں کا نتیجہ کچھ بھی ہو۔ ‏ اس حوالے سے ”‏ دی ورلڈ بک انسائیکلوپیڈیا“ ‏ میں بتایا گیا ہے کہ ”آزادی“ ‏وہ نعمت ہے جس کی بنا پر ہم اپنی مرضی سے فیصلے کر سکتے ہیں اور ان پر عمل کر سکتے ہیں ‏ساتھ ہی ساتھ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے :‏ ”‏‏قانونی نقطۂ‌نظر سے لوگوں کو آزادی دراصل اس وقت ملتی ہے جب ان پر کوئی ناجائز یا غیرضروری حدیں نہیں لگائی جاتیں“ ۔

‏ مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ملک پاکستان جو رمضان المبارک کی 27 ویں کو معرض وجود میں آیا۔ قائداعظم نے 13 اگست 1947 ء کو کراچی میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے اعزاز میں ضیافت کے موقع پر تقریر میں فرمایا ”آج ہندوستان کے لوگوں کو مکمل اقتدار منتقل ہونے والا ہے اور 15 اگست 1947 ء کے مقررہ دن دو آزاد اور خودمختار مملکتیں پاکستان اور ہندوستان معرض وجود میں آ جائیں گی“ ۔ [قائداعظم تقاریر و بیانات: بزم اقبال لاہور صفحہ 361 ]

قائداعظم نے 15 اگست 1947 ء کو پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس کی افتتاحی تقریب پر قوم کے نام پیغام میں فرمایا ”بے پایاں مسرت اور تہنیت کے ساتھ میں آپ کو مبارک باد کا پیغام دیتا ہوں۔ 15 اگست آزاد اور خودمختار پاکستان کی سالگرہ کا دن ہے“ ۔ [ایضا صفحہ 364 ] جولائی 1948 ء میں پاکستان کی پہلی ڈاک ٹکٹ جاری کی گئی اس پر بھی آزادی کی تاریخ 15 اگست 1947 ء درج کی گئی۔

آج قائداعظم کے 13، 14 اور 15 اگست 1947 ء کے خطابات کے اقتباسات سے آزادی کی روح کو تلاش کرنے کی کوشش کرنے کا وقت تقاضا کر رہا ہے۔ قائداعظم نے اپنے 13 اگست 1947 ء کے خطاب میں فرمایا ”اب ہمارے سامنے ایک نئے باب کا آغاز ہورہا ہے۔ ہماری کوشش یہ ہوگی ہم برطانیہ اور ہمسایہ مملکت ہندوستان اور دیگر برادر اقوام کے ساتھ بھی خیر سگالی اور دوستی کے تعلقات استوار کریں اور انہیں برقرار رکھیں تاکہ ہم سب مل کر امن، امن عالم اور دنیا کی خوشحالی کے لیے اپنا عظیم ترین کردار ادا کرسکیں“ ۔ [ایضا صفحہ 363 ]

قائداعظم نے 14 اگست 1947 ء کو مجلس دستور ساز پاکستان کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں فرمایا ”ہماری پیہم کوشش یہ ہوگی کہ ہم پاکستان میں آباد تمام گروہوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں اور مجھے توقع ہے کہ ہر شخص خدمت خلق کے تصور سے سرشار ہوگا۔ وہ جذبہ تعاون سے لیس اور ان سیاسی اور شہری اوصاف سے سرفراز ہوں گے جو کسی قوم کو عظیم بنانے اور اس کی عظمت کو چار چاند لگانے میں ممدو معاون ہوتے ہیں۔ [ایضا صفحہ 363 ]

قائداعظم نے اپنے اسی خطاب میں فرمایا ”عظیم شہنشاہ اکبر نے تمام غیر مسلموں کے ساتھ رواداری اور حسن سلوک کا مظاہرہ کیا۔ اس کی ابتداء آج سے چودہ سو برس پہلے بھی ہمارے پیغمبرﷺ نے کردی تھی۔ آپﷺ نے زبان سے ہی نہیں بلکہ عمل سے یہود و نصاریٰ پر فتح حاصل کرنے کے بعد نہایت اچھا سلوک کیا ان کے ساتھ رواداری برتی اور ان کے عقائد کا احترام کیا“ ۔ قائداعظم نے خود حضور اکرمﷺ کے اسوۂ حسنہ (امانت، دیانت، صداقت اور شجاعت) پر عمل کردکھایا۔ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ ان کے پاکستان میں وہ دن بھی آئے گا جب مسلم اور غیر مسلم دونوں محفوظ نہیں ہوں گے اور کلمہ گو مسلمان ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہوں گے ۔

کیا آج ہم سرور کائناتﷺ کے اسوۂ حسنہ پر عمل کر رہے ہیں؟ قائداعظم نے 15 اگست 1947 ء کو پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس کی افتتاحی تقریب پر قوم کے نام ایک پیغام میں فرمایا ”نئی مملکت کی تخلیق کی وجہ سے پاکستان کے شہریوں پر زبردست ذمے داری آن پڑی ہے انہیں یہ موقع ملا ہے کہ وہ دنیا کو دکھا سکیں کہ ایک قوم جو بہت سے عناصر پر مشتمل ہے کس طرح امن و آشتی کے ساتھ رہ سکتی ہے اور ذات، پات اور عقیدے کی تمیز کے بغیر سارے شہریوں کی بہتری کے لیے کام کر سکتی ہے“ ۔

[ایضا صفحہ 364 ] اسی خطاب میں قائداعظم نے مزید فرمایا ”امن اندرون ملک اور امن بیرون ملک ہمارا مقصد ہونا چاہیے۔ ہم پر امن رہنا چاہتے ہیں اور اپنے نزدیکی ہمسایوں اور ساری دنیا سے مخلصانہ اور دوستانہ تعلقات رکھنے چاہتے ہیں۔ ہم کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں کررکھتے۔ ہم اقوام متحدہ کے منشور کے حامی ہیں اور امن عالم اور اس کی خوشحالی کے لئے اپنا پورا کردار ادا کریں گے“ ۔ [ایضا صفحہ 364 ]

امن اور خوشحالی قائداعظم کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول تھا۔ ہم آزادی کی روح سے انحراف کرکے مسلسل بھٹک رہے ہیں۔ ہمارا چالاک اور مکار ہمسایہ بھی ہمارے لیے مصائب پیدا کر رہا ہے۔ قائداعظم نے اپنے اسی پیغام میں فرمایا ”اے میرے ہم وطنو آخر میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان بیش بہا وسائل کی سرزمین ہے لیکن اس کو ایک مسلم قوم کے شایان شان ملک بنانے کے لئے ہمیں اپنی تمام توانائیوں کی ضرورت ہوگی“ ۔ بیش بہا وسائل کے باوجود پاکستان آج بھی زوال پذیر ہے۔

قائداعظم نے یوم آزادی پر گورنر جنرل ہاؤس میں ایک استقبالیہ دیا۔ سٹاف نے مہمانوں کے لیے کاریں رینٹ پر لینے اور گرمی کی وجہ سے چھتریاں خریدنے کی اجازت طلب کی۔ قائداعظم محسن انسانیت اور رحمتہ الالعالمینﷺ کے نقش قدم پر چلنے والے سیاسی رہنما تھے۔ آپ نے یوم آزادی پر بیت المال (قومی خزانے ) کے محتاط خرچ کی شاندار روایت کا آغاز کیا اور سٹاف سے کہا کہ مسلم لیگ کے لیڈروں سے کاریں اور وائی ایم سی اے ہال سے چھتریاں عارضی طور پر حاصل کر لی جائیں۔ قائداعظم کے بعد ہم مجموعی طور پر قول و فعل کے تضاد کا شکار ہوگئے ہیں۔ آزادی کی روح کو فراموش کربیٹھے ہیں جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے مگر ہم تاریخ سے سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

یوم آزادی کا سبق اور پیغام یہ ہے کہ نوجوان قائداعظم کی اساسی تعلیمات اور آزادی کی روح کے مطابق پاکستان کی تشکیل نو کی جدوجہد کا آغاز کریں اور سیرت رسولﷺ کے خلاف چلنے والوں اور قائداعظم کے ذہنی اور فکری مخالف عناصر کا بے دریغ اور بلا امتیاز کا قلع قمع کرکے آزادی کی روح کو بازیاب کرائیں۔ انقلابی عوامی جدوجہد کے بغیر پاکستان کو غاصبوں اور ظالموں کے قبضے سے نجات دلاناممکن نہ ہوگا۔ جب تک آزادی کی روح بحال نہ ہو جائے ہم اپنے مسائل سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔

ہمارا مکار دشمن ابتداء سے ہی امن دشمن پالیسوں پر گامزن ہے، جس میں مسلسل تیزی آ رہی ہے،

قائداعظم نے خیر سگالی، دوستی، امن اور خوشحالی کا جو پیغام دیا تھا وہ ہی آزادی کی روح تھا۔ افسوس بھارت نے قائداعظم کے پرخلوص جذبے کی قدر نہ کی اور ہندو ذہنیت تبدیل نہ ہوئی۔ بھارت آج بھی سرحدی کشیدگی پیدا کرکے اپنا اصل چہرہ دکھا رہا ہے، جس نے اقوام متحدہ کی قراردوں کو بھی پاؤں تلے روند دیا، یوں تو بھارت نے شروع دن سے ہی امن کی خواہش کو نظر انداز کیا، لیکن 05 اگست 2019 کو جملہ انسانی حقوق کو پامال کر کے غیر قانونی، غیر آئینی، جبری کشمیر کی حیثیت تبدیل کی، پھر غیر قانونی ڈومیسائل کا اجراء، اور جبری، انسانیت سوز کرفیو کو سال سے زائد کا عرصہ بیت گیا، علاوہ ازیں جنگی جنون میں آزاد کشمیر میں بھی ایل او سیز پر بلا اشتعال گولہ بھاری بھارتی عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہیں، سب سے بڑھ کر مودی سرکار نے انسانی بنیادی حقوق آزادی کو سلب کر لیا، جو اقوام عالم کے لیے لحمہ فکریہ ہے۔

پاکستان کلمہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا، اس کا بنیادی مقصد امن، سب کے حقوق کا تحفظ ہے۔ ہمیں آزادی کی قدر کرنی چاہیے، وہ وقت بھی قریب ہے جب بھارت کے ظالمانہ تسلط سے وادی کشمیر بھی پاکستان کے ساتھ جشن آزادی منائیں گے (ان شاء اللہ تعالیٰ)

Facebook Comments HS