ڈیٹنگ ایپ کا استعمال: پاکستانی خواتین نے ٹابو توڑ دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مردوں کی اجارہ داری والے پاکستانی معاشرے میں لڑکیوں کے لیے ڈیٹننگ ناقابل قبول ہے۔ تاہم ’ٹنڈر‘ نامی ایپ پاکستانی سماجی معیارات کو چیلنج کر رہی ہے۔

’ٹنڈر‘ نامی ایپ پاکستانی سماجی معیارات کو چیلنج کر رہی ہے۔ اس ایپ نے خواتین کو بھی اپنی جنسی خواہشات کو اپنے ہاتھ میں لینے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ا

32 سالہ فائقہ اسلام آباد کی ایک کاروباری شخصیت ہیں اور دنیا بھر کی متعدد دیگر سنگل خواتین کی طرح وہ بھی مردوں سے رابطہ قائم کرنے کے لیے ٹنڈر ایپ کا استعمال کرتی ہیں۔ گرچہ معاشرتی طور پر قدامت پسند پاکستانی معاشرہ جو بہت زیادہ پدر سری ہے، میں اب بھی خواتین یا لڑکیوں کے لیے نہ تو ڈیٹنگ کے سہل مواقع میسر ہیں اور نہ ہی انہیں کھلے عام اس چیز کی اجازت ہے۔ یا یوں کہنا چاہیے کہ معاشرہ لڑکیوں کی ڈیٹنگ کے رجحان کو ناقابل قبول سمجھتا ہے۔ تاہم اب بڑے شہروں میں معاشرتی رویوں میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔

فائقہ دو سالوں سے ڈیٹنگ ایپ ’ٹنڈر‘ استعمال کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گرچہ اس ایپ کا تجربہ خواتین کو آزاد کرانے کا سبب بن رہا ہے تاہم بہت سے پاکستانی مرد خواتین کی طرف سے اپنی جنسی خواہشات پر خود اختیاری اور ڈیٹنگ کے خیال کے عادی نہیں ہیں۔

پاکستان میں خواتین کو عام طور سے اپنے خاندان کے ناموس اور غیرت کی حفاظت کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے فائقہ کا کہنا تھا، ”ٹنڈر پر میں نے کچھ مردوں سے ملاقات کی جو کھلے ذہن کے اور نسوانیت پسند ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور پھر مجھ سے پوچھتے ہیں، آپ کی طرح کی مہذب اور تعلیم یافتہ لڑکی ڈیٹنگ ایپ پر فعال کیوں ہے؟“

جنوبی ایشیا میں آن لائن ڈیٹنگ کا رجحان

جنوبی ایشیا کی آن لائن ڈیٹنگ مارکیٹ میں بھارت سرفہرست ہے۔ پاکستان آہستہ آہستہ اس طرف بڑھ رہا ہے۔ انڈونیشیا کے جرنل آف کمیونیکیشن اسٹیڈیز کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ٹنڈر ایپ کے زیادہ تر صارفین اسلام آباد، لاہور اور کراچی سمیت بڑے شہروں سے ہیں اور عام طور سے ان کی عمریں 18 تا 40 سال ہوتی ہیں۔

دیگر ڈیٹنگ ایپس کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر MuzMatch ایسے مسلم نوجوان استعمال کر رہے ہیں، جو ڈیٹنگ کے مواقع کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ Bumbel آن لائن ڈیٹنگ مارکیٹ میں نسبتاً نیا ہونے کے باوجود بہت سی پاکستانی نسوانیت پسند خواتین کی پسندیدہ ایپ ہے، اس پر خواتین ہمیشہ گفتگو میں پہل کرتی ہیں۔

لاہور کی ایک طالبہ نمرا Bumbel آن لائن ڈیٹنگ کے بارے میں کہتی ہیں، ”بمبل پر مرد کم ہیں اس لیے اس کا استعمال خواتین کے لیے محفوظ محسوس ہوتا ہے جبکہ ٹنڈر بہت مقبول ہے، مگر اس پر آپ کو آپ کے جاننے والے دیکھ سکتے ہیں۔ یہ احساس کچھ راحت کا باعث نہیں ہوتا۔“

نابیحہ مہر شیخ لاہور کی ایک حقوق نسواں کی سرکردہ کارکن ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ”ڈیٹنگ ایپ کی مدد سے ایک عورت اس بات کا انتخاب کر سکتی ہے کہ وہ کسی مرد کے ساتھ طویل مدتی رشتہ استوار کرنا چاہتی ہے یا وقتی طور پر یہ تعلق قائم کرتی ہے۔ ہمارے کلچر میں خواتین کے لیے کھل کر ایسا کرنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے ڈیٹنگ ایپ انہیں وہ مواقع فراہم کرتی ہیں، جو انہیں کہیں اور میسر نہیں۔“

ایک قدامت پسند معاشرے میں جنسی خواہشات کا تجسس

صوفیہ لاہور سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ محقق ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ وہ اپنی جنسی خواہشات کی بغیر کسی رکاوٹ کے حصول کے لیے ٹنڈر ایپ کا استعمال کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ”مجھے اس کی کوئی پروا نہیں کہ معاشرہ مجھے کس نظر سے دیکھتا ہے، میرے بارے میں کیا سوچتا ہے۔ میں معاشرے کو خوش کرنے کی فکر کیوں کروں۔“

تاہم پاکستان کی تمام ٹنڈر صارفین صوفیہ کی طرح بے باک نہیں ہیں۔ پاکستان کی زیادہ تر خواتین کی ٹنڈر پروفائلز میں ان کی پوری شناخت درج نہیں ہوتی۔ ان کی پروفائل فوٹو میں غیر واضح یا ہاتھوں، پیروں اور انگلیوں کی تصاویر دکھائی دیتی ہیں۔ ”

لاہور ہی سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ علیشبہ کہتی ہیں، ”اگر ہم اپنے اصلی نام یا تصویر اپنے پروفائل میں لگاتے ہیں تو زیادہ تر مرد ہمیں تنگ کرتے ہیں، اگر ہم ان کا جواب نہیں دیتے تو یہ سوشل میڈیا پر بیہودہ قسم کے پیغامات پوسٹ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

علیشبہ ڈیٹنگ کے دوہرے معیار پر بھی تنقید کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شادی شدہ مرد ٹنڈر پر زیادہ تر اپنی شادی کے خراب ہونے اور ازدواجی بندھن کے ٹوٹ جانے کا بہانہ بنا کر دوسری عورتوں کے ساتھ ڈیٹنگ کا جواز تلاش کر لیتے ہیں۔

28 سالہ فریحا کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک سال تک ٹنڈر کا استعمال کیا۔ ڈی ڈبلیو کو بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ”میں نے مردوں سے ملنے کے لیے ہمیشہ عوامی مقامات کا انتخاب کیا اور جب تک خود کو محفوظ محسوس نہیں کیا تب تک کسی سے اکیلے نہیں ملی۔ لیکن مرد ہمیشہ مجھے اپنے گھر پر مدعو کرتے تھے۔ مرد اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بار بار پوچھتے رہنے سے ایک نا ایک دن عورت جنسی تعلق کے لیے تیار ہو جائے گی۔“

پاکستان کی اسلامی سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری امیر العظیم نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”لڑکے لڑکیاں اس ایپ کا استعمال کرتے ہوئے چوری چھپے ملاقات کرتے ہیں کیونکہ کہیں نا کہیں انہیں پتا ہوتا ہے کہ یہ غلط ہے اور جو وہ کر رہے ہیں وہ غیر اخلاقی حرکت ہے۔“

انہوں نے مزید کہا کہ مغرب میں رائج سخت قوانین خواتین کو ہراساں کرنے سے بچاتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں ایسی خفیہ ملاقاتوں کے دوران خواتین کی حفاظت نہیں کی جاسکتی ہے کیونکہ ایسے قوانین موجود نہیں ہیں۔ ”
سحر مرزا/ کشور مصطفی۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشور مصطفیٰ

یہ مضامین ڈوئچے ویلے شعبہ اردو کی سیینیئر ایڈیٹر کشور مصطفی کی تحریر ہیں اور ڈوئچے ویلے کے تعاون سے ہم مضمون شائع کر رہے ہیں۔

kishwar-mustafa has 43 posts and counting.See all posts by kishwar-mustafa