اسرائیل کے ساتھ امن: متحدہ عرب امارات کے بعد کون… کیا پاکستان؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات فی الحال خفیہ رکھی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے بعد مزید کون سے عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ہیں ۔ تاہم نومبر کے انتخابات سے پہلے اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینے کے لئے ٹرمپ حکومت مزید عرب ملکوں پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے دباؤ بڑھائےگی تاکہ صدر ٹرمپ کورونا وائرس سے شکست کھانے کے باوجود خود کو امریکی عوام کے سامنے ایک معتبر عالمی لیڈر کے طور پر پیش کرسکیں۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اسے خطے کے لئے امید اور بڑی پیش رفت قرار دیا ہے جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ’تاریخی دن ‘ کے دو الفاظ پر مشتمل ٹوئٹ کرتے ہوئے خود اپنی سیاسی مشکلات میں سے راستہ نکالنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔ متحدہ عرب امارات کو اس سے کیا حاصل ہوگا، اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے کیوں کہ وہاں کے حکمران مطلق العنان ہیں اور اپنے سیاسی یا غیر سیاسی فیصلوں کے لئے کسی کو جوابدہ نہیں ہیں۔ تاہم جیسا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ بھی دیا ہے کہ مزید عرب ممالک جلد ہی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کرسکتے ہیں۔ یہ اعلان سعودی عرب کی طرف سے بھی آسکتا ہے جس کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کئی برس سے درپردہ اسرائیل کے ساتھ روابط اور معاملات طے کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔ تاہم سعودی عرب خود کو چونکہ مسلمانوں کا ’امام‘ سمجھتا ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ ریاض سے کسی اعلان سے پہلے دیگر چھوٹی خلیجی ریاستوں مثلاً سلطنت آف عمان، بحرین یا کویت کی طرف سے ایسا اعلان کروالیا جائے تاکہ عرب لیگ میں ڈالے گئے اس شگاف کو بڑا کیاجاسکے۔

اس سے پہلے 1979 اور 1994کے علیحدہ علیحدہ معاہدوں کے تحت مصر اور اردن نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا اور اس کے بدلے میں 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں کھوئے گئے علاقے اسرائیل سے واپس حاصل کئے تھے۔ متحدہ عرب امارات کے امیر خلیفہ بن زیاد النیہان کی ایسی کوئی مجبوری نہیں ہے لیکن امریکہ کا حلیف اور ایران کا ہمسایہ ہونے کی وجہ سے یو اے ای کو اپنی سلامتی کی فکر لاحق رہتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی ’سپر پاور‘ اسرائیل کے ساتھ ’امن‘ اور سفارتی تعلقات قائم کرنے کے بعد اسے یقین ہوگا کہ کوئی امریکی حکومت اگر کبھی مشرق وسطیٰ کی سیاسی و علاقائی چھینا جھپٹی میں براہ راست امارات کی مدد کے لئے نہ بھی آسکی تو ’علاقہ بدمعاش‘ کا ہاتھ اس کے سر پر ہوگا۔ اس طرح متحدہ عرب امارات نے اس معاہدہ کے تحت باقی ماندہ خلیجی ریاستوں سے سبقت حاصل کی ہے اور اسرائیل سے معاہدہ کرکے وہ خطے کے سیاسی موسم کی تبدیلی میں ’بارش کا پہلا قطرہ‘ ثابت ہؤا ہے۔

تاہم سفارتی ’فیس سیونگ‘ کے لئے امریکہ، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’متحدہ عرب امارات کی خواہش اور صدر ٹرمپ کی درخواست پر وزیر اعظم نیتن یاہو مقبوضہ مغربی کنارے کے ان علاقوں پر اپنے اقتدار اعلیٰ کا اعلان معطل کردے گا جن پر اسرائیلی وزیر اعظم انتخابی مہم کے دوران حق ملکیت کا وعدہ کرچکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت کے ترجمان نجی طور سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ایسا کوئی حتمی وعدہ نہیں کیا گیا۔ البتہ اس معاملہ پر مزید بات چیت ہوگی۔ تاہم مغربی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ رعایت دے کر دراصل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو خود کو ایک ایسی سفارتی مشکل سے نکالنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں جو انہوں نے انتخابی جوش میں مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ قرار دینے کا اعلان کرکے خود اپنے لئے پیدا کی تھی۔ اس طرح بظاہر ایک معتبر عرب ملک کو سفارتی تعلقات کے بدلے میں یہ رعایت دیتے ہوئے، نیتن یاہو خود کو ہی سیاسی سہولت فراہم کریں گے۔ متحدہ عرب امارات جیسے ملک کے ساتھ تعلقات بحال ہونے کے پرجوش ماحول میں اسرائیلی عوام اپنے وزیر اعظم کے ایک غیر ضروری وعدے کو فراموش کردیں گے۔ نیتن یاہو کے لئے یہ معاملہ یوں بھی کٹھن ثابت ہورہا تھا کہ ٹرمپ حکومت کے علاوہ تمام یورپی ممالک بھی اس قسم کے اشتعال انگیز فیصلہ کو مسترد کررہے تھے۔

یہ رعایت دیتے ہوئے اسرائیل نے مشترکہ اعلامیہ کے الفاظ میں ہی اس وعدہ سے انحراف کی گنجائش بھی پیدا کرلی ہے کیوں کہ مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ قرار دینے کے فیصلہ کو صرف معطل کرنے کی بات کی گئی ہے، تبدیل یا منسوخ کرنے کا عہد نہیں کیا گیا۔ بظاہر امارات کے صدر خلیفہ بن زیاد النیہان یا کسی بھی عرب لیڈر کو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھتا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کے علاوہ گزشتہ چند برس کے دوران خلیجی ممالک اور سعودی عرب نے اسرائیل کے لئے جو نرم گوشہ پیدا کیاہے ، اس میں فلسطینیوں کے مصائب دور کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کا معاملہ اہم نہیں ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنا اور اس کی طاقت سے خود کو محفوظ رکھنا زیادہ ضروری ہے۔ اس مقصد کے لئے امریکہ کی پہلی ترجیح اسرائیل اور ہمسایہ عرب ممالک کے درمیان مصالحت و مواصلت کی راہ ہموار کرنا رہی ہے۔

 امریکی حکومت نے عرب حکمرانوں کو باور کروادیا ہے کہ انہیں اسرائیل سے نہیں بلکہ ایرانی ’توسیع پسندی‘ سے حقیقی خطرہ لاحق ہے۔ انہیں کسی بھی طرح اسرائیل کے ساتھ مراسم استوار کرنے چاہئیں تاکہ وہ مشرق وسطیٰ میں ان کا ’محافظ‘ بن سکے۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے معاہدے کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ ایران کے خلاف محاذ کو مضبوط کرنے کی ٹرمپ کی خواہش پوری ہوگی۔ وہ اس کامیابی کو انتخابی مہم کے دوران یوں فروخت کریں گے جیسے انہوں نے دنیا کا کوئی بہت بڑا خطہ فتح کرکے امریکہ میں شامل کردیا ہو۔ یہودی اثر و رسوخ کی وجہ سے امریکی ووٹروں کی بڑی تعداد اسرائیل نواز ہے ۔ اگرچہ گزشتہ سات دہائیوں سے فلسطینی اپنی ہی سرزمین پر پناہ گزین بنے ہوئے ہیں اور انہیں مسلسل اسرائیلی استبداد کا سامنا ہے لیکن امریکی عوام کی نظر میں اسرائیل ہی مظلوم رہا ہے۔ اگر کوئی صدارتی امید وار ’مظلوم اسرائیل‘ کی حفاظت کے لئے کسی عرب ملک کو ’ بے اثر‘ کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کرتا ہے کہ ابھی دوسرے ملک بھی ایسے ہی معاہدے کرنے والے ہیں تو اسے طاقتور امریکی لابیوں کی حمایت سے ووٹروں پر اثرا انداز ہونے کا موقع ضرور ملے گا۔ صدر ٹرمپ کو دوبارہ منتخب ہونے کے لئے ایسے تعاون کی شدید ضرورت ہے۔

طالبان سے معاہدہ کو بھی صدر ٹرمپ کا سیاسی کارڈ سمجھا جاتا ہے۔ اس مقصد میں کامیابی کے لئے انہوں نے پاکستان کو پوری طرح استعمال کیا ہے حالانکہ پاکستان اور اس کی سیاسی و عسکری قیادت کے بارے میں صدر ٹرمپ کے خیالات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ کے ذریعے بھی صدر ٹرمپ خود کو ’سپر ڈپلومیٹ ‘ قرار دینے کی پوری کوشش کریں گے۔ ان کے مد مقابل ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار اگرچہ انتخابی جائزوں میں اس وقت ٹرمپ پر سبقت لئے ہوئے ہیں لیکن مشرق وسطیٰ کی سیاست میں امریکی اثر و رسوخ کو مستحکم کرنے اور اسرائیل کو ’محفوظ‘ بنانے کا سیاسی نعرہ جو بائیڈن کی مہم کے لئے اہم چیلنج ثابت ہوسکتا ہے۔ خاص طور سے اگر آنے والے چند ہفتوں کے دوران صدر ٹرمپ دو ایک اہم عرب ملکوں سے ایسا ہی اعلان کروانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہونے کے اعلامیہ میں اگرچہ فلسطین کا براہ راست ذکر نہیں کیا گیا لیکن متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور کرغش نے ایک تبصرے میں امید ظاہر کی ہے کہ اس طرح اسرائیل فلسطین تنازعہ حل کرنے میں مدد ملے گی اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر فلسطینیوں کو اپنا وطن مل سکے گا۔ تاہم موجودہ حالات میں خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی امید نہیں رکھی جاسکتی۔ ایک خلیجی ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات کے بدلے میں اسرائیل اپنی دہائیوں پرانی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آسکتا۔ عرب لیڈروں کو خود مختار فلسطینی ریاست سے کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے اور فلسطینی کاز کے ساتھ ان کی وابستگی ہمیشہ مشکوک رہی ہے۔

 آج صدر ٹرمپ کی طرف سے ہونے والے اعلان سے البتہ یہ واضح ہؤا ہے کہ پاکستان اور ترکی کی سیاسی قیادت ’مسلم امہ‘ کا جو تصور اپنے عوام کو فروخت کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے، وہ ناقص اور ناقابل عمل ہے۔ مشرق وسطیٰ میں محاذ آرائی مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ اپنے اپنے مفادات کی بنیاد پر استوار ہورہی ہے۔ پاکستان کو اب یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کیا وہ اسلامی اتحاد کے ایک ناقابل عمل تصور سے بندھا رہے گا اور عربوں کے ساتھ وفاداری نبھانے کے لئے اسرائیل کو دشمن قرار دیتا رہے گا۔ یا اپنے علاقائی اور اسٹریجک مفادات کی روشنی میں ایک قدم آگے بڑھ کر اسرائیل کو حقیقت مان لے گا تاکہ ملک میں ’ہندو اسرائیلی خطرے‘ کا جو خوف عام کیا جاتا رہا ہے اسے ختم کرنے کا اہتمام ہوسکے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اسی ہفتے کے دوران سعودی عرب جارہے ہیں جہاں وہ مبینہ طور پر دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی سفارتی دوری ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس موقع پر پاکستانی قیادت اگر سعودی حکمرانوں کو اسرائیل کے بارے میں اپنا رویہ تبدیل کرنے کا پیغام دے دے تو اسلام آباد کو ریاض کی منت سماجت نہیں کرنا پڑے گی۔ اسرائیلی طاقت سے متاثر اور امریکہ کے سامنے مجبور سعودی شاہی خاندان خود ہی پاکستان کے سارے ’گناہ ‘ معاف کردے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1625 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali