ہم جیسا آزاد بھی کوئی کیا ہو گا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

14 اگست 1947 ہماری غلامی کا آخری دن تھا۔ آزادی پھیلنے کے کچھ عرصہ بعد ہمارے کرتا دھرتاؤں نے غلامی کے آخری دن کو یادگار کے طور پر اپنی آزادی کا پہلا دن منانے کا فیصلہ کیا۔ اور یوں یہ تاریخ غلامی کی آخری نشانی کے طور پر ہمارے ہاں ہر سال جشن آزادی کے طور پر منائی جانے لگی۔ آخر ایک آزاد ملک کو اتنا تو اختیار ہوتا ہی ہے کہ وہ یہ فیصلہ کر سکے کہ اسے اپنی آزادی کس دن منانی چاہیے۔ ( یاد رہے کہ انڈین انڈیپنڈینس ایکٹ 1947 کے تحت 15 اگست 1947 کو برصغیر کو دو نئی مملکتوں ( پاکستان اور ہندوستان) میں بانٹا گیا تھا۔ )

23 مارچ 1940 کو قرارداد لاہور منظور ہوئی اور 23 مارچ 1956 کو پاکستان کے پہلے آئین کے نفاذ کے دن کو ہم نے یوم جمہوریہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اکتوبر 1958 کے کامیاب انقلاب کے بعد یوم جمہوریہ منانا ممکن نہیں رہا تو ہم نے 23 مارچ 1959 کو یوم پاکستان کے طور پر منانے کا اعلان کر کے ایک بار پھر سے اپنی آزادی کا لوہا (دیگر تمام دھاتوں سمیت) منوایا۔

1947 میں انگریزوں کی پھیلائی گئی آزادی میں شاید کچھ کمی رہ گئی تھی جس کا ازالہ ہم نے بڑی مشکل سے 1971 میں جا کر کہیں کیا۔ اور یوں ہم نے اپنی آزادی کے لامحدود اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اپنے ہی وطن کے ایک حصے کو ایک بار پھر سے آزادی کی دولت سے مالا مال کر کے اپنی آزادی کا سوگ منایا۔ آزادی کا جشن سیمیں منانا کوئی ہم سے سیکھے۔ ہمارے حسن انتخاب کو داد دیجئے۔ ویسے بھی چند صدیوں سے مشرق پر مغرب کی بالادستی ایک حقیقت بن کے ابھری ہے۔ اس میں اب ہمارا کیا قصور۔

1971 کے بعد قائد اعظم کے پرانے پاکستان کی جگہ بھٹو نے اک نیا پاکستان بنانے کی آزادی کا حق استعمال کرنے کی کوشش کی۔ لیکن یار باشوں کو بانیٔ پاکستان کی اس طرح توہین بھلا کیسے برداشت ہو سکتی تھی نتیجتاً انہیں اس فانی عالم سے ہی آزادی کا پروانہ تھما دیا گیا۔ اور پھر دنیا کو اسلام کی ضرورت آن پڑی تو ہمیں توپوں کی گن گرج میں سب سے پہلے اسلام کا نعرہ لگانے کی آزادی ملی اور جب ضرورت اپنے انجام تک پہنچی تو تب کہیں جا کر سب سے پہلے پاکستان کا سلوگن لگانے کی آزادی نصیب ہوئی۔

آج ہمیں پھر سے ایک اور نیا پاکستان تعمیر کرنے کی آزادی وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک!

اسی طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں انسانی زندگیوں کو مختلف قسم کی آزادیاں گراں قانونی نرخوں پر عالمی بازار سے بارعایت دستیاب ہیں۔ گو کہ آئین کے آرٹیکل 11 کے تحت وطن عزیز میں غلامی کی کوئی بھی شکل جائز نہیں ہے لیکن آزادی کی ہر ممکنہ صورت ارزاں نرخوں پر مہیا کر دی گئی ہے۔ آئین اور قانون سے نکالی گئی سب آزادیوں کا احاطہ تو خیر ممکن نہیں رہا لیکن پھر بھی حتی المقدور چند آزادیوں کے تذکرے سے ہی اس بار اپنا لہو گرماتے پسینہ بہاتے اور سر پھوڑتے ہیں۔ اب آپ تھوڑا لکھے کو زیادہ سمجھنے کی طرح تھوڑی آزادیوں کے ذکر کو کچھ زیادہ ہی نہ سمجھ لیجیے گا۔

جیسا کہ ہمارے کرم فرماؤں کو ہر قسم کی پالیسیاں بنانے کے ساتھ ساتھ اہم ترین قومی اداروں پر اپنی مرضی سے اپنے بندے لگانے کی آزادی ہے۔ چاہے وہ حاضر سروس یا ریٹائرڈ۔ اس اہم ترین قومی فریضے کی ادائیگی کے لیے دنیا کے کسی بھی کونے سے قابل ترین بندے درآمد یا برآمد کرنے کی بیش بہا آزادی میسر ہے۔ حالات و واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارے سیاسی لیڈروں کو سیاسی پارٹیاں بدلنے کی آزادی ہے۔ بوقت ضرورت روٹی کپڑا مکان دینے ووٹ کو عزت دینے دو نہیں ایک پاکستان بنانے تک کی آزادیاں بھی کم قیمت پر دستیاب ہیں۔

قانون ساز اداروں کو عوامی مفاد میں قانون بنانے کی آزادی ہے۔ اس کے لیے ہم نے آئی ایم ایف ایف اے ٹی ایف کی تو کیا کالعدم تنظیموں تک کی بھی کبھی پرواہ نہیں کی۔ آخر اسلام کے نام پر بنے ملک میں اسلام کی بنیادوں کو تحفظ فراہم کرنے کی آزادی نہیں ہو گی تو اور کہاں ہو گی؟

ہماری عدالتوں کو نظریۂ ضرورت کی مختلف شکلیں صورتیں بنانے قانون کے مطابق سستے داموں انصاف مہیا کرنے اور نافرمانوں کو توہین عدالت کی سزا دینے کی آزادی کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کا دورہ کرنے اور ڈیم بنانے کے مختلف آئینی آپشنز پر غور کرنے کی بھی آزادی حاصل ہے۔

ہمیں ملک کو ہر دم نازک صورتحال میں رکھنے کی آزادی ہے۔ نہ صرف جمہوریت کا بستر گول مستطیل یا چوکور کرنے کی آزادی حاصل ہے بلکہ دشمن کو ووٹ کی طاقت سے شکست دینے کی بھی آزادی ہے۔ معلوم کو نا معلوم بنانے کی آزادی کا تو مقابلہ ہی کیا۔

ہمارے مذہبی نمائندوں کو اسلام کو ہر وقت خطرے میں دیکھنے کی آزادی ہے۔ زبردستی مسلمان اور کافر بنانے کی آزادی کا تو خیر ذکر ہی کیا۔

عوام کی بجائے سرکار کے ملازموں کو رشوت لینے کرپشن کرنے اپنے عزیز و اقارب کو نوکریاں بانٹنے کی آزادی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی بھی شہری کو بلاوجہ پکڑنے مارنے پیٹنے اور حبس بے جا میں رکھنے کی آزادی ہے۔

چند خاندانوں کو امیر ہونے فیکٹریاں لگانے پلازے بنانے اور سیاست کرنے کی آزادی ہے۔

ہمارے بازاروں میں کسی بھی شے میں ملاوٹ کرنے کی اپنی من مرضی کی قیمت وصول کرنے ذخیرہ اندوزی کرنے جعلی اشیا بیچنے ناپ تول میں کمی کرنے جھوٹ بولنے اور خیانت کرنے کی آزادی ہے۔

ہمیں کسی بھی سڑک یا راستے میں گڑھا کھودنے کسی بھی گلی یا سڑک کے عین درمیان گاڑی کھڑا کرنے اور شادی بیاہ یا کسی بھی مذہبی تقریب منعقد کرنے کی آزادی ہے۔ ویسے بھی ہماری قسمت کے اکثر فیصلے سڑکوں پرہی طے پانا ٹھہرتے ہیں۔

ہمارے ڈاکٹروں کو ادویات بنانے والی کمپنیوں سے مل کر مریضوں کو لوٹنے کی آزادی حاصل ہے۔ مسیحاؤں کو شفا خانوں میں موت بانٹنے کی آزادی ہے۔ ہمارے قانون دانوں کو کسی پر بھی کہیں بھی حملہ آور ہونے کی آزادی ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں تعلیم کے نام پر جہالت کا کاروبار کرنے کی آزادی ہے۔

اگر آزادی اوپر بیان کی گئی مختلف آزادیوں کا نام ہے تو یقین کریں دنیا میں ہم جیسا کوئی آزاد ملک نہیں ہے۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ ہر یوم آزادی کے ساتھ ہماری آزادی بڑھتی ہی جاتی ہے۔ دنیا کی دیگر اقوام کو بمشکل آزادی ہی دستیاب ہو پائی ہے جب کہ ہمارے نصیب میں بہت ساری آزادیاں بزور میسر آئی ہیں۔ جشن منانے کی رسیا قوم کو ایک بار پھر جشن آزادی مبارک!

رونے والوں کی ہنسی کو پہلے واپس لائیے
شوق سے پھر جشن آزادی مناتے جائیے
(عرش ملسیانی)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •