ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگ اور کشمیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈی جی ”آئی ایس پی آر“ میجر جنرل بابر افتخار نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ آج کی پریس بریفنگ کا مقصد ملک کی مجموعی صورتحال، کشمیر، لائن آف کنٹرول پر بھارتی اشتعال انگیزیاں، پاک افغان بارڈر کی صورتحال اور کچھ دیگر امور پر بات چیت کرنا ہے۔ ڈی جی ’آئی ایس پی آر‘ کی طرف سے کشمیریوں کے عزم آزادی اور اور قربانیوں کا اعتراف خوش کن ہے تاہم اس پریس بریفنگ اور سوالات کے جواب میں ایسا کچھ نہیں کہا گیا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے ظالمانہ، جارحانہ اقدامات اور عزائم پر صرف بیان دیتے ہوئے محض تماشائی کے کردار میں محدود نہیں رہ سکتا۔ پریس بریفنگ کے بیان کردہ موضوعات سے ملک میں فوج کا دائرہ اختیار بھی واضح ہوتا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ کشمیر پر سفارتی کوششیں وزارت خارجہ کا کام ہے، مقبوضہ کشمیر میں انڈیا کے بدترین مظالم اور جارحانہ اقدامات و عزائم کے پیش نظر افواج پاکستان کا کردار کیا ہے؟ ’ایل او سی‘ پر دفاع کے علاوہ، اس بات کا اظہار بھی اس پریس بریفنگ میں نہیں ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ آزادی کی قدر مقبوضہ کشمیر کی ان ماؤں سے پوچھے جو اپنے بیٹوں کو پاکستان کے پرچم میں دفن کرتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی تاریخ کا بدترین محاصرہ ایک سال سے جاری ہے۔ ہندوستانی کی ریاستی دہشت گردی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی اور انسانی حقوق کی بدترین ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ ہندوستان ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مقبوضہ کشمیر کی ’ڈیموگریفی چینج‘ کر کے، وہاں بسنے والے مسلمانوں کو بیدخل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دنیا کا کوئی ظلم ایسا نہیں ہے جو کشمیریوں پر نہ آزمایا جا رہا ہو۔ خواتین اور بچوں کی حرمت کو پامال کیا جار ہا ہے۔ ”کاؤنٹر ٹیرر ازم“ کے نام پر نوجوانوں کو شہید کر کے گمنام جگہوں پر دفن کیا جا رہا ہے۔ معصوم کشمیریوں پر ”پیلٹ گنز“ کا استعمال معمول بن چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی مقامی لیڈر شپ ایک سال سے پابند سلاسل ہے لیکن سلام ہے مقبوضہ کشمیر کے بہادر عوام کو جو جبر و استبداد کے خلاف تہتر سال سے آزادی کے لئے مزاحمت کی ایک علامت بنے ہوئے ہیں۔

ڈی جی ’آئی ایس پی آر‘ نے کہا کہ حکومت پاکستان نے ہر علاقائی اور انٹرنیشنل فورم پر مسئلہ کشمیر کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے۔ ظلم کے خلاف اٹھنے والی آوازیں اب تمام دنیا کے ایوانوں میں گونج رہی ہیں۔ ”جینو سائیڈ واچ“ ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور انٹرنیشنل میڈیا نے تاریخ کے بدترین محاصرے کے باوجود بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پاسداری پر زور دیا ہے۔ حال ہی میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ’یو این‘ جنرل اسمبلی کے صدر نے جموں وکشمیر کے تنازعہ کے حل کو جنوبی ایشیا کے پائیدار امن کی کلید قرار دیا ہے۔ پچھلے ایک سال کے دوران تین مرتبہ اقوام متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ زیر بحث آنا اس بات کی دلیل ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام عالم کی نظر میں تصفیہ طلب ہے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد آزادی انشا ء اللہ کامیاب ہو گی۔

اسی سے متعلق لائن آف کنٹرول پہ صورتحال پر انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی سیز فائر اپیل کے باوجود بھی ہندوستان نے ’ایل او سی‘ پر اپنی روایتی بزدلانہ کارروائیاں جاری رکھیں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔ رواں سال اب تک ہندوستان نے ایک ہزار، نو سو ستائیس مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور جان بوجھ کر ’ایک او سی‘ کے ساتھ آباد آزاد کشمیر کے پرامن شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس ضمن میں سولہ معصوم شہری شہید ہو چکے ہیں جبکہ ایک سو اٹھاون لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ شہدا میں پانچ بچے، سات خواتین اور چار مرد شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں اکتالیس بچے اور پچاس خواتین بھی شامل ہیں۔ ان سیز فائر کی خلاف ورزیوں میں بلا دریغ بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ ان تمام سیز فائر خلاف ورزیوں کا پاکستان آرمی بہت موثر طریقے سے جواب دیتی ہے۔ لیکن پروفیشنل فوج ہوتے ہوئے ہم لوگ صرف فوجی اہداف اور ان پوسٹس کو نشانہ بناتے ہیں جہاں سے سیز فائر کی خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ حال ہی میں بائیس جولائی کو انٹرنیشنل میڈیا نے آزاد کشمیر کا دورہ کیا۔ اس وفد کو ’ایل او سی‘ کی مقامی آبادی تک مکمل رسائی دی گئی اور یہاں انہوں نے ہندوستان کی سیز فائر خلاف ورزیوں کا خود مشاہدہ کیا اور ان سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا نشانہ بننے والے شہریوں کے ساتھ بھی بات چیت کی۔ لیکن اس کے برعکس مقبوضہ کشمیر کی طرف ہندوستان کی طرف سے انٹرنیشنل میڈیا کو ، یا ’یو این‘ کے مبصر گروپ کو ’لائن آف کنٹرول‘ کے اوپر جانے کی کوئی آزادی حاصل نہیں ہے۔ ہمارے پاس چھپانے کو کچھ نہیں ہے اسی لئے ہم نے ہمیشہ بین الاقوامی میڈیا اور ’یو این‘ مبصرین کو آزادکشمیر میں جہاں کہیں وہ جانا چاہیں، اس کی جانے کی آزادی دی ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام کی حفاظت ہر صورت ممکن بنائی جائے گی۔ حکومت پاکستان نے بھارتی اشتعال انگیزیوں کے پیش نظر لائن آف کنٹرول کے نزدیک رہائشیوں کی حفاظت کے لئے ان کے گھروں کے اندر شیلٹرز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں تقریباً ایک ہزار شیلٹر تعمیر ہو چکے ہیں اور مزید بنائے جا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •