چوہدری صاحب


ہر چند میں ان دنوں مصروف تھا (ذہنی طور پر) مگر میرے دوست چوہدری صاحب کے بارہا اصرار پر میں ان کے ساتھ ”برگر پارلر“ نام کے فوڈ پوائنٹ پر جا پہنچا۔ کسی کو ٹالنا آسان ہوتا ہے مگر چوہدری صاحب کو ٹالنا اتنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ وہ ہر دو باتوں بعد پھر واٹس ایپ پر آڈیو میسج کرنے لگتے ”وڈے بندے ہو گے او تسی“ یعنی کہ آپ بڑے انسان ہو گئے اب ملنے سے رہے۔ یقین کریں یہ طعنہ ایک شریف آدمی کا دل توڑ دیتا ہے۔ ایک تو وہ بڑا آدمی بنا نہیں ہوتا دوسرا اس کو مستقبل میں اس کے آثار بھی نظر نہیں آ رہے ہوتے۔

خیر! چوہدری صاحب اور میں ایک ٹیبل پر بیٹھ چکے تھے جو اتنا چھوٹا تھا کہ دو پلیٹوں بعد اس پر تیسری پلیٹ رکھنا، شرمندگی کا کام لگے۔ جیسے کہ شرمندہ ہم پبلک ٹرانسپورٹ میں ہوتے ہیں۔

میں ادھر پہلی بار آیا ہوں۔ میرے اس جملے کے بعد کہنے لگے ان کے برگرز کا کوئی ثانی نہیں۔ میں پورے پاکستان کے نامی گرامی فوڈ پوائنٹس چکھے ہیں مگر ان جیسا کوئی نہیں۔ میں تو کہتا ہوں ان جیسا کوئی بیرون ملک بھی نہ ہو گا۔ سبحان اللہ کیا کہنے کیا ذائقہ ہوتا ہے یہاں! واہ واہ!

میرے اور چوہدری صاحب میں دوستی کا وہ رشتہ ہے جو کسی کو بتایا جائے تو وہ کہے گا ”یہ دونوں دوست بنے ہی کیسے؟ اور بنے ہی کیوں!“ کیونکہ چوہدری صاحب نے آج تک میری کسی بات کی تائید نہیں کی۔ ۔ ۔ ہوتا ہی ہے نا! کہ انسان دوست کا دل ہی رکھ لے مگر اللہ جانے چوہدری صاحب کو میری سمجھ بوجھ سے کیا بیر تھا۔ اب اس چھوٹے سے ٹیبل کو میں ”چھوٹا ہے“ کہہ دیا، فرمانے لگے نہیں! تو کیا تمہارے لیے فیملی ٹیبل لگوایا جائے۔ اور دو کرسیاں دی جائیں کہ ایک پر عبداللہ صاحب بیٹھیں اور دوسرے پر اپنی ٹانگیں رکھیں!

میں کہا ارے! میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ میرا مطلب تھا کہ اتنا ٹیبل تو ہو کہ اگر ایک ساتھ دوسری کوئی چیز بھی منگوائی جائے تو رکھنے کو جگہ تو ہو۔

کہنے لگے ”یار! ایک نارمل اور صحت مند دماغ رکھنے والا انسان ایک وقت میں ایک چیز ہی کھاتا ہے۔ تم کیا ارادہ کر کے آئے ہو؟ یہاں صرف برگر ملتے ہیں ساتھ کوفتے اور نان تمہارے لیے منگوانے سے رہا!

میں کہا: ارے چوہدری یار۔ ۔ ۔ میں نان کوفتے نہیں کھاتا اورر۔ ۔ ۔
کہنے لگے ”اور بریانی بھی نہیں اور نہ پیزہ ملتا ہے“

اس سے پہلے کہ میرا مزید مذاق اڑایا جاتا؛ پھولوں والا جاپانی طرز کا لانگ کوٹ ڈالے ایک لڑکا پاس آ کر بولا: کیا لیں گے سر؟

چوہدری صاحب بڑبراتے ہوئے ”دیکھو! تمہاری وجہ سے دیکھا تک نہیں کہ منگوایا کیا جائے ؛ انسان اپنی بے تکی باتیں بعد کے لیے رکھے“

اس لڑکے نے کن انکھیوں سے مجھے دیکھا۔ جبکہ میں چوہدری کو دل ہی دل میں کوس رہا تھا کہ چوہدری لحاظ کرنا آج تک سیکھ نہیں سکا جبکہ ہماری دوستی کو دس سال ہو چکے تھے۔ مگر مجھے چوہدری کی اس نوک جھونک کا ہمیشہ مزہ ہی آیا ہے۔

اس سے پہلے کہ میں اپنی رائے دیتا چوہدری صاحب آرڈر کر چکے تھے۔ باتوں دوران برگر آ گئے۔ جتنا بڑھا چڑھا کر اور تعریفوں کے پل چوہدری صاحب باندھے تھے، واقعی برگر اتنے ہی مزیدار تھے۔ میں تو پہلے ہی تاک میں تھا کہ ایسا ہو اور چوہدری صاحب کی بوتل کو ان کی کہنی لگی۔ ۔ ۔ ٹھششششش اور کرچی کرچی۔ ۔ ۔ بوکھلا کر چوہدری مجھے دیکھا اور میں بڑی مشکل سے اپنی ہنسی دبا رہا تھا۔ دھیمی آواز میں میں نے کہا ”ٹیبل چھوٹا تھا“ اور ہنسی کو میں نے بے لگام چھوڑ دیا۔ وہ دن اور آج کا دن چوہدری میری ٹانگ اس طرح نہیں کھنچتا کہ کہیں میں چھوٹے ٹیبل کا قصہ سب کو نہ بتا دوں۔

آپ کو سنایا ہے، اب آپ سے کیا پردہ۔ آگے مت کہئے گا کسی سے!

Latest posts by عبداللہ محمود (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).