مکی ماؤس کے خالق والٹ ڈزنی سے ملیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک اینیمیٹر کے طور پر اپنے کیریئر کا پہلا پراجیکٹ کرتے اور ہزاروں ڈالر کا مقروض ہوتے ہوئے، بین۔ Beans کے ڈبوں پر گزارا کرتے اور آفس کے کاغذات اور کینوس کے ڈھیر میں سوتے جب والٹ سے یہ پوچھا جاتا کچھ پسہ بھی کمایا تو وہ ہنستا اور کہتا

” نہیں! ۔۔۔۔۔ لیکن مجھے مزا خوب آیا“ ۔

مکی ماوس کے باپ اور ڈزنی لینڈ کے خالق والٹ ڈزنی سے کون واقف نہیں۔ والٹ ڈزنی جو خود کو والٹ کہلانا پسند کرتا خوبصورت خواب دیکھتا اور ان خوابوں کو زندگی کے سنگدل حقائق کے بیچ ممکن کر دیتا۔ والٹر الائس ڈزنی کی زندگی کا آغاز ہی مشکلات اور غربت سے بھرپور تھا۔ اس کی پلکو ں پر جڑے خوابوں کے انداز کچھ بھی ہوں مگر زندگی کی ترجیحات کا تعین کرتے والٹ ڈزنی نے اپنے شوق، محبتوں اور جذبوں کو سب سے اونچا رکھا اسی لیے ہمیشہ اپنے کام سے لطف اٹھاتا رہا۔

مسکراتا عزم لیے معاشی مسائل سے گزر جانا ڈزنی کی زندگی کا نصب العین تھا۔ شاید اس کی ایک وجہ وہ معاشی پسماندگی بھی تھی جنہوں نے اس کا بچپن مشکلات کی نزر کرکے اس کے کھیل اور مسکراہٹوں کو اس سے چھین لیا تھا۔ حالات کی سختی سے وہ کندن بن کر نکلا تھا اور ہر حا ل، ہر مشکل میں ہنسنے مسکرانے اور پرعزم رہنے کا ہنر سیکھ چکا تھا۔ اپنے جوان دل کی ہر دھڑکن پر وہ ناچنا اور اپنے سب خوابوں کو دن کی روشنی میں جینا چاہتا تھا۔ خوش قسمتی سے یہ خواب اور جذبے عورت، دولت اور نشے کے گرد نہیں بلکہ اپنے کارٹون کرداروں کی مسکراہٹوں چٹکلوں اور اٹکھیلیوں کے گرد گھومتے تھے۔ مکی ماوس کی انگلی تھام کر خوابوں کی پرمسرت اور رنگین دنیا کے سفرپر نکلتے والٹ ڈزنی کے عشق کا دیوتا کارٹوں کرداروں کی ہنستی مسکراتی دنیا تھی۔

” آخر تم کب بڑے ہو گے؟“ والٹ ڈزنی کے دوست اکثر اس سے کہتے۔

سنہرے بالوں اور تیکھے نقوش والے شرارتی اور ہنس مکھ والٹ ڈزنی کا بچپن مارسلین کے ایک فارم ہاؤس پر گزرا۔ سنگترے کے زرد درختوں، بید مجنوں، شکر کے سنہرے دیار اور گل باس کے جامنی پھولوں کے بیچ گھڑ سواری کرنا، جھیل کے ٹھنڈے پانی سے مچھلیاں پکڑنا، برف سے بھرے میدانوں میں پھسلنا ڈزنی کے بچپن کی گہری یاداشتوں کا حصہ ہے۔ مارسلین کی یادوں میں دو بہتریں یادیں جنہوں نے والٹ کے آنے والے مستقبل کی سمت تعین کرنے مں مدد دی. آنٹی میگی اور انکل ڈاک شیرؤڈ کی شفقت اور حوصلہ افزائی کی ہے۔ آنٹی میگھی والٹ کو ونڈر بواے کہہ کر پکارتیں اور انکل شیروڈ نے خاص طور پرسات سالہ والٹ سے اپنے محبوب گھوڑے کا خاکہ بنوایا اور معاوضے کے طور پر ایک نکل nikle والٹ کو ادا کیا۔ بعض روایات کے مطابق اس خاکہ کو فریم کروا کر اپنے کمرے کی زینت بھی بنایا۔ آٹھ سال تک رنگوں تصویروں اور خاکوں کے ساتھ مارسلین کے کھلے ہرے میدانوں، اونچے گھنے درختوں اور فطرت کی دوشیزہ خوبصورتیوں نے والٹ کی زندگی میں رنگ بھرے رکھے۔ اور یہ وقت والٹ کی زندگی کا سب سے متاثر کن باب تھا جسے والٹ نے ہمیشہ اپنی یاداشت میں محفوظ رکھا۔

پچھلی دو صدیوں میں سب سے زرخیز تخیل کے مالک والٹ کی محنت، جستجواور ریاضتوں کی کہانی جوانی کے خوبصورت خوابوں سے نہیں بلکہ بچپن کی نوخیز نرم ہتھیلیوں اور نھنھے پیروں سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ فطرت جن افراد کو بلند مقام کے لیے تخلیق کرتی ہے انہیں کندن بنانے کے لیے آغاز سے ہی معصوم اور کمزور ہاتھوں کو سنگ تراشی کی مشقت عطا کر دیتی ہے۔ سڈنی شیلڈن کی طرح ڈزنی کا بچپن بھی غربت اور افلاس میں والدین کے شانہ بشانہ معاشیات کو سنبھالنے کی کوشش میں گزرامگر سڈنی شیلڈن سے زیادہ مشکل اس طرح کہ والٹ ڈزنی کی مشقت کی ابتدا آٹھ نو سال کی عمر سے ہو چکی تھی۔

والد کے کاروبار میں ہاتھ بٹاتے نو سالہ والٹ ایک بڑے علاقے میں گھر گھر دو بار اخبار پہنچاتا مگر اس کے باوجود اس کی جیب میں پاکٹ منی کہ نام پر ایک سکہ تک نہ ہوتا۔ پاکٹ منی کے حصول کے لئے نو سالہ والٹ نے فارمیسی کی دوایاں سپلای کیں، اپنی مقرر تعداد سے زیادہ اخبارات کی سپلای کی اور سکول کے تفریح کے اوقات میں ایک دکان پر ٹافیاں بیچیں تاکہ خود کچھ سکے والد سے نظر بچا کے اپنے لیے بچا سکے۔

”اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ میں ہر وقت کام میں
مصروف تھا۔ میرا مطلب ہے مجھے در حقیت
کھیلنے کا وقت نہ ملا! ”

نو سال کی کم عمری میں جب آسودہ حال گھرانوں کے بچے جھولوں کھلونوں اور والدین کی گود میں وقت گزارتے، والٹ کے پاس کھیل سیکھنے، کھیلنے اور نیند پوری کرنے کا وقت نہ تھا۔ سردی ہو یا گرمی، کہر ہو یا برف باری، والٹ ڈزنی کو اپنی مزدوری ہر موسم اور ہر حال میں نبھانی پڑتی۔ وہ کبھی دوسرے بچوں کی طرح گیند پکڑنا نہ سیکھ سکا کیونکہ گیند پکڑنا سیکھنے کے لیے اس سے کھیلنا ضروری ہے اور نو سالہ کمسن مزدور کے پاس کھیلنے کا وقت نہ تھا۔ لوگوں کے گھروں میں اخبار پہنچاتے ان کے پورچ میں کہیں ڈزنی کو کھلونے نظر آتے تو وہیں بیٹھ کر کچھ دیر ان سے کھیلتا اور پھر کھلونے وہیں چھوڑ کر اٹھ جاتا۔

اخباروں سے بھرا ریڑھا دھکیلتے سردی کی کپکپاہت سے تھک کر کبھی اخباروں کے ڈھیر میں اور کبھی کسی گاہک کے گھر کے گرم پورچ میں لیٹ کر سو جانا والٹ ڈزنی کا شوق نہیں جان توڑ مجبوری تھی۔ اور یہ مزدوری کم و بیش چھ سال تک والٹ نے نبھای۔ اس مشقت کی تھکاوٹ اور مزدوری کی الجھنیں اس کے لاشعور پر ایسے گہرے نقوش چھوڑ گئیں کہ ساری عمر اسے ایک ڈراونے خواب کی طرح یاد رہیں۔ حتی کہ چالیس سال کی عمر میں بھی والٹ آدھی رات کو پسینے سے شرابور اس خوف سے اٹھ بیٹھتا کہ کہ کوی گھر اخبار پھیکنے سے رہ نہ جائے اور گلی کی نکڑ پر کھڑا الایس، اس کا باپ، اسے دوبارہ وہاں اخبار پھینکنے کے لئے اسی طویل رستے پر نہ دوڑا دے۔

معاشی بدحالیوں اور جا بجا بدلے گئے کاروبار میں ناکامیوں کا شکار الائس ڈزنی ( باپ) کے مزاج کی تلخی اور معاشی مسائل کی سختی دو بیٹوں کے سہارا بن جانے کے باوجود نہ حل ہوئی نہ کم ہوئی۔ بڑے دو بیٹوں کے گھر سے بھاگ جانے نے تندی مزاج پر اور بھی برا اثر ڈالا۔ باپ کی شکست خوردہ اور ٹوٹی ہمت کا سارا غصہ دو چھوٹے بیٹوں پر نکلتا اور وہ ہتھوڑوں اور ڈنڈوں سے اپنے بازو اور سہارا بنے بیٹوں پر حملہ آور ہو جاتا۔ نارسائی اور محرومیوں سے بھرے بچپن میں والٹ اور راے معاشی حالات کی تلخی کے ساتھ ایک ناکام باپ کی زود رنجی مار کی صورت برداشت کرنے پر مجبور تھے۔

کنساس سٹی کا سکول والٹ کے لیے ایک نیا قدم ثابت ہوا۔ ہر وقت تصویریں اور خاکے بنانے والا والٹ بہت جلد سکول میں نمایاں نظر آنے لگا اور جلد ہی سکول کا باقاعدہ آرٹسٹ اور سرکاری اخبار میں کارٹونسٹ مقرر ہوا۔ سکول میں گزارے سات سالوں میں جو سب سے اہم کام والٹ نے کیا وہ ڈرائنگ، ڈرائنگ اور صرف ڈرائنگ تھی۔ کارٹون اور خاکے بنانا اور ان کی نمائش کرنا والٹ کامقصد حیات بن چکا تھا۔ جب خاکے نہ بناتا تو وہ خاکہ نگاری پر غوروحوض کرتا اور کسی اخبار سے جڑے اپنے ایک کارٹونسٹ کے طور پر سہانے مستقبل کے میٹھے میٹھے سپنے دیکھتا۔ والٹ کے اس قدر جنون کو دیکھتے ہوئے الآئس ڈزنی نے والٹ کو آرٹ کلاس کی اجازت دی اس کے باوجود کہ بیسویں صدی کی شروعات میں اس شعبے کا عوام کی نظر میں کہیں کوئی مستقبل نہ تھا۔ والٹ نے اپنی دلچسپی میں مہارت حاصل کرنے کے لئے ہفتہ وار آرٹ کی کلاسز بھی لیں اور خط وکتابت کے ذریعے آرٹ کا ایک کورس بھی کیا۔

باپ کی بے جا سختیوں، ضرورت سے زیادہ ڈسیپلن اور کفایت شعاری کے باوجود والٹ کی شخصیت اس کے بالکل الٹ ثابت ہوی۔ والٹ ایک ہنس مکھ، قہقہوں اور اٹکھیلیوں کا شوقین اور شرارتوں کا شیدای تھا۔ اس کی پور پور میں جوش اور جذبہ بھرا تھا کچھ کر دکھانے کا اور کچھ بدل دینے کا! الائس جس قدر کفایت شعار اور پیسے سمیٹ کر رکھنے والا تھا والٹ اپنی غربت کے باوجود کھلے ہاتھ رکھتا۔ خصوصاً اپنے شوق کی راہ میں پیسہ اس کی نظر میں کوئی اہمیت نہ رکھتا۔ اس کی محنت اور کوشش کا پہیہ اس کے شوق اور جنون کے ایندھن سے چلتا رہتا۔

”وہ جو بھی کرنا چاہتا بغیر نفع نقصان کا سوچے وہ کر گزرتا۔ وہ ہمیشہ اپنے خیالات حقیقت بنانے کی کوشش کرتا خواہ اس کے پاس اس کے لئے وسائل ہوں یا نہیں! ”
حتی کہ الآیس کو بھی اپنے بیٹے کی یہ خوبی یا خامی ماننی پڑی۔

1918 میں جنگ عظیم کے دوران سولہ سال کی عمر میں نوجوان والٹ میں وطن کے لیے کچھ کرنے کا عزم جاگا اور وہ ملٹری میں بھرتی ہونے کے ارادے سے کیمپ جاپہنچا۔ کم عمری آڑے آئی اور ایک سپاہی کے طور پر وہ مسترد ہو گیا۔ ہار نہ ماننے والا والٹ اپنی عمر غلط بتا کر آخرکار ریڈ کریسنٹ کی ایمبولنس سروس میں بھرتی ہونے میں کامیاب ہوا اور سال بھر فرانس میں اپنی جنگی ملازمت کے دوران اپنے بناے کارٹون سے سجی ایمبولینس چلاتا رہا۔

دنیا کی ابھرتی ہوی طاقت امریکہ کے لیے اپنی خدمات پوری کر کے والٹ کنساس پہنچا تو سب سے پہلی مشکل غم روزگار کی تھی۔ بچپن سے کارٹون بناتے والٹ کی سب سے بڑی خواہش اخبار میں ایک کارٹونسٹ بننے کی تھی۔ والٹ کے باپ جیسے بھائی راے کے کچھ تعلقات کی مدد سے اسے ایک آرٹ شاپ میں تربیتی ملازمت مل گئی۔

”وہ مجھے تصویریں بنانے کے پیسے دے رہے ہیں!“

سترہ سال کی عمر میں ایک کاروباری فنکار بن جانا والٹ کے لئے بہت بڑا اعزاز تھا ایک ایسی عظیم کامیابی جس کی خوشی سنبھالے نہ سنبھلتی تھی۔ اپنے شوق کو روزگار اور کمائی کا ذریعہ بنتا دیکھنا والٹ کی زندگی کی سب سے پہلی کامیابیوں میں سے ایک تھی۔ شوق اور لگاؤ کو معاشیات سنبھالتے اور غم روزگا رکا تریاق بنتے دیکھنا والٹ کے لیے ایک معجزہ بھی تھا ور نئے افق کے دروازے کھولتا ایک رستہ بھی۔ والٹ کو اک ادراک سا ہونے لگا کہ انگلیوں کی مہارت کا جادو زندگی کی مشکلوں کا سہارا بھی بن سکتا ہے۔

بیسویں صدی عیسوی کی شروعات میں کارٹونسٹ کا مستقبل محض اخبار میں کارٹون بنانے یا چھوٹی چند سیکنڈز اور منٹوں کے خاموش اشتہار بنانے تک محدود تھا۔ یقینی طور پر والٹ ڈزنی سے پہلے کارٹون سیریرز اور کارٹوں پر مبنی لمبی فیچر فلموں کے بارے میں سوچنے کا بڑا کام صرف والٹ کے تخیل اور کوششوں نے کیا اس لیے بجا طور پر والٹ ڈزنی ساری کارٹون دنیا کے بانیوں میں شمار ہوا اور مکی ماؤس کا باپ کہلایا۔

آرٹ کی دکان میں نوکری کی خوشی بہت دیرپا ثابت نہ ہوئی۔ کرسمس کی چھٹیوں کے بعد آرٹ شاپ پر کام کم ہو جانے کی بنا پر والٹ کو اس ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ والٹ ڈزنی ایک بار پھر روزگار کی مشکل میں پھنس گیا۔ ادھر ادھر ملازمت کی ناکام کوشش کے بعد والٹ نے اپنے دوست کے ساتھ مل کے ایک آرٹ شاپ کھولنے کا فیصلہ کیا۔ اور۔ ۔ ۔ IWWERKS۔ DISNEY۔ کے نام سے اس دکان کا آغاز کیا۔ فرانس میں فوج کی ایمبولینس سروس سے کمایا گیا معاوضہ اپنے والد سے منگوا کر والٹ نے دفتر کے لیے بنیادی سازوسامان کا انتظام کیا۔

اور جلد ہی اتنا منافع کما لیا کہ دوسرے ماہ اپنا ذاتی دفتر حاصل کرنا ان کے لیے ممکن ہو گیا۔ ایک مناسب منافع بخش کاروباری شروعات کے باوجود والٹ کے دل میں اپنے کارٹون کرداروں کی سیریز بنانے کا خواب زندہ و جاوید تھا۔ کاروبار کے ساتھ ساتھ وہ اپنے کارٹون کی مشہوری بھی جاری رکھے تھے اور اس مشہوری کی بنا پر والٹ کو ایک اشتہاری فلم بنانے والی کمپنی۔ kansas city film ad۔ میں 40 ڈالر والی نوکری مل گئی۔ ذاتی کاروبار دوست کے حوالے کر کے والٹ نے اس نوکری کا آغاز کیا۔ مگر دوست تنہا اس کاروبار کو نہ سنبھال پایا اور جلد اس دکان کو بند کر کے وہ بھی نوکری میں والٹ کے ساتھ شریک ہو گیا۔

یہ نوکری والٹ ڈزنی کے لئے ایک نئی درسگاہ ثابت ہوئی۔ اس مختصر مدت کی ملازمت کے دوران والٹ نے نہ صرف اشتہارات کے لئے خیالات خود دینے شروع کر دیے بلکہ نوکری سے فراغت کے بعد اینیمیشن کی مشق بھی شروع کر دی۔ گھر کے پچھواڑے میں واقع ایک چھوٹے سے گیراج کو والٹ نے سٹوڈیو کا درجہ دے دیا اور اپنی کپنی سے ادھار مانگے کیمرے اور لائبریری سے اینیمیشن سے متعلقہ ادھار لی گئی کتاب کے ساتھ اینیمیشن کی مشق کرنے لگا۔ بچپن سے ہی مرتکز خیالات کے مالک والٹ نے اس سٹوڈیو میں راتیں جاگ جاگ کر اپنے ہنر میں مہارت حاصل کرنے کی کامیاب سعی کی۔

والٹ کا خاندان اس بات سے قطعی لاعلم تھا کہ بچپن سے اخبار میں کارٹونسٹ بننے کا بیکار خواب دیکھنے والا والٹ ایک اور پہلے سے بھی زیادہ بیکار اور بے فائدہ قسم کا شوق پال رہا ہے جس میں کسی بھی قسم کے منافع یا روزگار کے مواقع سرے سے ہی مفقود ہیں۔ صرف والٹ جانتا تھا کہ اینیمیٹر بننا اس کا جنون بن چکا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب اینیمیشن کا محض آغاز تھا اور اس سلایڈز کے ذریعے بناے گئی ابتدائی اینیمیشن کا کام صرف اشتہارات یا فلم اور ڈرامہ کے درمیان کچھ وقفے کی خانہ پری کے لئے استعمال کیا جانا تھا۔

والٹ کے باقاعدہ اینیمیٹر بن جانے کا آغاز اس کے ایک منٹ کے پراجیکٹ۔ Newman Laugh O gram۔ سے ہوا۔ نیومین کنساس کا سب سے بڑا تھیٹر تھا جس کا مالک بلاشبہ اس شہر کے میڈیا کا بے تاج بادشاہ تھا۔ نیومین تھیٹرمیں ہال کی کرسیوں پر بیٹھے جب والٹ کی ریل۔ Reel۔ پروجیکٹر پر چلای گئی تو نیومین کے پیچھے والٹ ایک دبکی ہوی بلی کی طرح خوفزدہ اور تیزی سے دھک دھک کرتا دل لیے بیٹھا تھا۔ ریل ختم ہوتے ہی نیومین والٹ کی طرف مڑا اور اس نے فلم کی تعریف کی اور ساتھ ہی اس کے بجٹ کے بارے میں استفسار کیا۔

گھبراہٹ میں والٹ کے منہ سے تیس سنٹ ایک فٹ کے لئے نکلا۔ اور نیومین نے موقع پر ہی یہ ڈیل طے کر لی۔ ہواؤں میں اڑتے والٹ کو کم و بیش ایک گھنٹے بعد اندازہ ہوا کہ وہ اس بجٹ میں اپنا منافع شمار کرنا بھول گیا تھا۔ نتیجتاً اس پروجیکٹ میں اسے ایک پای کا بھی منافع ملنے کی امید نہ تھی۔ مگر اپنے شوق اور خوشی کے تعاقب میں نکلنے والے والٹ کے لیے یہ بہت بڑا مسئلہ نہ تھا۔ پیسہ اس کے لئے ایک ضمنی حیثیت رکھتا تھا۔ سب سے بڑی خوشی اور کامیابی یہ تھی کہ بالآخو وہ ایک اینیمیٹر کے طور پر کنساس کی چھوٹی سے دنیا میں شناخت حاصل کرنے کے لئے تیار تھا۔ لافوگرام نے ایک چھوٹی سی کمپنی کے طور پر کام شروع کیا تو والٹ نے رضاکارانہ بنیادوں پر کچھ سٹاف بھی بھرتی کیا جن کا معاوضہ صرف ان کا حاصل کیا جانے والا تجربہ تھا۔ اگرچہ ان کی تفصیلات کے بارے میں مختلف سوانح عمریوں میں کچھ اختلافات ہیں۔

دس لاکھ لوگوں کا حوصلہ اور خواہش رکھنے والا والٹ اپنی زندگی کے سب سے پہلے کنٹریکٹ میں ہی پائی پائی کا محتاج تھا۔ ستمبر 1922 میں بالآخر لاف او گرام نے سکول اور کالجز کے لیے فلمیں بنانے والی ایک کمپنی Pictorial Club۔ کے ساتھ صرف ایک سو ڈالر کی پیشگی ادائیگی کے ساتھ کنٹریکٹ پر دستخط کیے۔ جبکہ باقی تمام رقم چھ کارٹون فلمیں بنا کر جمع کروانے کے بعد وصول ہونا تھیں۔ والٹ کے پاس ان فلموں کو بنانے کے لئے سوائے حوصلے، ہمت، شوق اور جذبے کی اڑانوں کے اور کچھ نہ تھا۔

پراجیکٹ کی تکمیل کے لئے کئی قسم کے ادھار اور قرضے لئے گیے۔ بجٹ پوراکرنے کے لیے لاف او گرام نے پورٹریٹ فوٹوگرافی کا آغاز کیا اس کے باوجود کہ بیسویں صدی کے آغاز میں بہت کم لوگ اپنے بچوں کی معصوم مسکراہٹوں اور بے ساختہ لحوں کو تصویروں کی صورت محفوظ کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ بجٹ پورا کرنے کے لیے کارٹون سازی کے خط وکتابت کے کورس بھی متعارف کروانے گئے جن کے اشتہارات میں والٹ ڈزنی کا نام جنرل مینیجر کے طور پر لکھا گیا۔ اشتہار کی عبارت جعلی حروف میں کچھ ایسی تھی:

”اس تربیت کو حاصل کرنے کے بعد ملنے والا معاوضہ آپ کو حیران کر دے گا۔ ”

اسکے علاوہ بھی والٹ نے بہت حوصلہ اور بے شرمی سے چھوٹے چھوٹے پراجیکٹ اور کام کیے تاکہ یہ چھوٹی سی فلمساز کمپنی چلتی رہے۔ جب کمپنی کے تھوڑے سے عملے کابال بال قرضے میں جکڑا تھا اور وہ مستقبل اور حال کے اندیشوں میں گم اور اور ناکامی کے وسوسے سے گھبرانے میں مگن تھے والٹ کی آنکھوں میں امید کے ستارے جھلملاتے تھے۔ ہنستا مسکراتا لطیفے سناتا اور چٹکلے چھوڑ تا سترہ سالہ والٹ کسی قیمت پر اپنے خوابوں اور ان کو پانے کی کوششوں سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھا۔

پہلا پراجیکٹ ابھی تکمیل کے مراحل میں تھا کہ والٹ نے نیویارک کے ڈسٹربیوٹر سے رابطوں کا آغاز کیا۔ اگرچہ وہاں سے کامیابی کی نوید تو نہ آئی مگر حوصلہ افزائی کے پیغامات خاصے آئے جنہوں نے والٹ کے نہ ٹوٹنے والے عزم اور چٹان سے ارادوں کو مزید طاقت بخشی۔

پہلے پراجیکٹ کے درمیان ہی والٹ نے ایلس ان ونڈر لینڈ پر کام شروع کر دیا اور اس پراجیکٹ کے لیے جس چار سالہ بچی کو ایلس کے کردار کے لیے بھرتی کیا گیا۔ اسے کوئی معاوضہ ادا کرنے کی بجائے آنے والے ممکنہ منافع میں سے چار فی صد ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ والٹ فلموں پر فلمیں بناے جاتا تاکہ ان کو بیچ کرکچھ رقم حاصل کر سکے مگر اکثر اپنی اس کوشش میں ناکا م ٹھہرتا۔ کتنے ہی دنوں اور ہفتوں تک والٹ تین وقت کے کھانے سے محروم رہا۔

ایلس ان ونڈر لینڈ مکمل ہونے سے پہلے پہلے معاشی ابتری کے تحت اس کی آدھی سے زیادہ ٹیم والٹ کو بیچ میدان میں چھوڑ کر جا چکی تھی۔ والٹ کا پراجیکٹ اپنی قیمت وصول کرنے کو ابھی مکمل نہ ہوا تھا کہ laugh o gram۔ کے سب اثاثے بک گئے۔ کرایہ ادا کرنے کے لیے رقم نہ ہونے کی بدولت والٹ آفس میں میز کرسی پر کاغذات اور کینوس کے ڈھیر کے درمیاں سونے لگا۔ ۔ معمولی سے ہوٹل سے کھانا کھاتا اور معاوضہ کی ادائیگی ہوٹل کے مالک کے بچوں کے فوٹو بنا کرنی پڑتی۔ نہانے کے لیے ہفتہ میں ایک بار کنساس سٹی کی نیے یونین آفس جانا پڑتا۔ فاقہ کشی سے اس کی حالت ٹی بی کے مریض جیسی ناتواں ہو گئی تھی۔

ستم یہ کہ اس سے پہلے کہ چھ فلیں بنا کر والٹ اپنا معاوضہ وصول کرے اور قرضوں کی ادائیگی کرے پکٹوریل کمپنی کا کاروبار بند ہو گیا اور والٹ کا سب منافع اور اثاثہ ساتھ لے ڈوبا۔ اب والٹ کے پاس کنساس سٹی میں رہنے کی کوی وجہ نہ رہ گیی تھی۔ ۔

ناکامیوں کا بوجھ کاندھے پر لادے والٹ نے کنساس کو الوداع کہ کر کیلفورنیا کی جانب رخت سفر باندھا۔
”میں ہار چکا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ یہ اچھا ہے کہ آپ جوانی میں ہی مشکل ناکامی دیکھ لیں۔ میں نے اس سے بہت کچھ سیکھا۔ ”

ایلس ان ونڈرلینڈ کی چھ فلمیں والٹ قرضوں کی ادائیگی میں ہار چکا تھا۔ کنساس کی ہار سے والٹ بہت حد تک ٹوٹ چکا تھا۔ کیلفورنیا میں والٹ کے سامنے کچھ اور رستے کھلے اور ونکلرز۔ Winklers۔ سے ایلس سیریز کی چھ فلموں کا معایدہ ہوا۔ والٹ نے اپنے بھاعروے کے ساتھ مل کر چھوٹے پیمانے پر والٹ ڈزنی برادرز سٹوڈیو کی بنیاد رکھی اور ان فلموں کے لیے کام شروع کیا۔ بہت پستہ حالی سے شروع کیا گیا یہ سٹوڈیو ایلس سیریز کی کامیابی سے صوفوں پردوں اور لیمپ سے سجتا والٹ ڈزنی پروڈکشن کی صورت اختیار کر گیا۔ عمدہ منافع اور کارٹون سیریزکے بڑھتے ہوئے معاوضے نے جلد ہی والٹ اور روے کو ایک الگ گھر اور گاڑی کے قابل کر دیا۔ 1926 تک والٹ ڈزنی نے چالیس ایلس کامیڈیز بنایں جو اپنی ڈرائنگ کردار نگاری اور اینیمیشن کے حساب سے پہلے سے کہیں زیادہ بہتر اور مکمل تھیں۔

ایلس سیریز کے بعد اسولڈ دی ریبٹ۔ Oswald the rabbit۔ کا معایدہ والٹ نے اسی ڈسٹری بیوٹر سے کیا اور بہت مقبول کارٹوں بناے۔ مگر کچھ عرصے میں والٹ اور ڈسٹربیوٹرز کے تعلقات میں سختی آنے لگی۔ دوسری طرف سٹوڈیو میں کام بڑھ جانے اور عملہ میں اضافہ ہونے کی بنا پر والٹ کا رویہ خاصا مالکانہ ہوئے چلا جاتا تھا جس نے مشکل وقت کے دوستوں جو اب بھی اس کی ٹیم کا ایک اہم حصہ تھے خاصے خائف کیا۔ ڈسٹریبیوٹر نے اپنے معاہرے کی تجدیدنہ کی بلکہ والٹ کی ٹیم کے کچھ بہت اہم لوگ خرید کر اسولڈ کارٹون اپنے سٹوڈیو میں بنانے کے کام کا آغاز کر دیا۔

سادہ الفاظ میں والٹ کی ٹیم کے اہم لوگ والٹ کی کمر میں چھرا گھونپ کر دشمن سے جا ملے۔ والٹ دوستوں اور دشمنوں کے ہاتھوں ایک برا زخم کھاے۔ نیویارک سے واپسی کے سفر میں اپنے لئے ایک نئے کردار کی تخلیق کے بارے میں سوچتا رہا۔ اور یہ نیا کردار ایک چھوٹے سے نٹ کھٹ چوہے مکی ماوس کا تھا اور والٹ کی کنساس کی یادوں کا ایک حصہ تھا۔

مکی ماوس کے ساتھ ہی والٹ نے ساونڈ کے ساتھ کارٹون کا آغاز کیا اور مکی ماوس کے کردار نے والٹ ڈزنی کے نام کو صرف امریکہ میں نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی پہچان دی۔

مکی ماوس کی تخلیق سے والٹ کی زندگی کا پہیہ پھر سے کامیابی کی طرف مڑنے لگا مگر اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ والٹ کی زندگی سے دوستوں اور دشمنوں کی دشمنی اور سازش، اس کی سماجی معاشی مشکلات یا اس کی زندگی میں جدوجہد کا نام ختم ہو چکا تھا۔ دوستوں اور دشمنوں کے وار اور قسمت کے جھٹکے والٹ کو ہر موڑ پر کھڑے ملے۔ اگر ان کی تفصیل میں جایا جائے تو والٹ کی زندگی کی ہر دہای پر ایک الگ مضموں تحریر کیا جا سکتا ہے۔ لیونارڈو کے بعد گرافک آرٹس میں سب سے اہم شخصیت گردانا جانے والے والٹ ڈزنی کی زندگی کی جدوجہد کی کہانی محض چند صفحات یا چند سالوں پر محیط نہیں نہ ہی والٹ کی محنت اور کامیابی کی داستان چند ہزار الفاظ میں بیان ہی کی جا سکتی ہے۔ اس لئے اس مضمون کو محض اس کی پہلی کامیابی تک محدود کرنا بہتر ہے۔

تیس سال کی عمر میں والٹ امریکہ کی مشہور شخصیت اور چالیس سال کی عمر میں زہین ترین شخص (جو ہارورڈ سمیت بے شمار یونیورسٹیوں سے اعزازی ڈگریاں حاصل کر چکا تھا) بن چکا تھا۔ والٹ نے امریکہ اور دنیا بھر کی سب سے بڑی انٹرٹینر کمپنی کی نہ صرف بنیاد رکھی بلکہ اسے ایک انڈسٹری ایک شعبہ اور ایک روایت بنا دیا اور ڈزنی لینڈ اور ڈزنی ورلڈ کی صورت امریکہ کے سیاحتی مقامات میں ایک اہم سنگ میل کا اضافہ کیا۔ ایک فلم پروڈیوسر کے طور پر والٹ کا 59 دفعہ اکیڈمی ایوارڈ کے لئے چناؤ کیا گیا جن میں سے 6 2 وہجیت گیا۔ دو بار گولڈن گلوب اور ایک ایمی ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

آرٹ شاپ سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والے والٹ نے کارٹوں کو خانہ پری سے فیچر فلموں اور کارٹوں کو سکرین سے نکال کر ڈزنی لینڈ اور ڈزنی ورلڈ اور ڈزنی ہوٹلز تک پھیلا دیا۔ آج کی دنیا کے تھیم پارکس کا بانی بھی والٹ ڈزنی ہی ٹھہرا۔

”اگر تم اس کا خواب دیکھ سکتے ہو، تو تم یہ کر سکتے ہو! ”

والٹ نے ہزاروں لاکھوں لوگوں اور کئی نسلوں کو یہ یقین دیا کہ خواب سچے بھی ہوتے ہیں۔ والٹ کا صرف ایک ہی روپ نہ تھا وہ کارٹونسٹ کے روپ میں ایک تخیل کا موجیں مارتا سمندر، ایک کامیاب بزنسمین، ایک خواب دینے والا دکاندا، ایک موجد ایک بانی اورایک زرخیز اور ایسا تند دماغ تھاجو وقت کے ہاتھوں سے کم کم تخلیق پاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •