14 اگست: یہ آزادی منزل نہیں، نشان منزل تھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قیام پاکستان کو 73 سال ہو چکے ہیں۔ آزادی کا ہر سال گزرنے پر ہم ”یوم آزادی“ کو بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں۔ پرچم کشائی کی جاتی ہے۔ بینڈ بجتا ہے، پریڈ ہوتی ہے، خصوصی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ اہم عمارتوں اور گھروں پر جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، چراغاں ہوتا ہے اور ایک دن کے لیے پورا ملک سبز ہلالی پرچموں میں لپٹا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ سب کچھ ہر سال ہوتا ہے، اگر نہیں ہوتا تو اپنا احتساب نہیں ہوتا۔ اگست میں ہم ایک یوم جشن، جب کہ دوایام سیاہ منا رہے ہیں۔

۔ 5 تاریخ کو بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خودمختارانہ حیثیت کے خاتمے کے خلاف اور۔ 15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی کے خلاف احتجاج کا یوم سیاہ ہے۔ تاہم ہر سال یوم آزادی ہم سے یہ سوال کرتا سنائی دیتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک ان 73 سالوں میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا؟ اگر ہم اپنا محاسبہ کریں تو حقائق بہت تلخ اور افسوسناک نظر آتے ہیں، کیوں کہ 1947 میں انگریز سے آزادی کے چند سال بعد ہی ہمارے ملک میں اقتدار کی رسا کشی شروع ہوئی، جو آج تک جاری ہے۔

برطانیہ کے ایک رسالے Time and Tide میں قائداعظم کا ایک مضمون 9 مارچ 1940 ع کو شایع ہوا تھا، جس میں قائداعظم نے لکھا تھا:

”ہندوستان میں متعدد نسلوں کے لوگ بستے ہیں۔ ان میں سے بہت سی نسلیں اپنی روایات اور طرز زندگی میں ایک دوسرے سے اسی قدر مختلف ہیں جتنی یورپ کی قومیں۔ اس ملک میں دو تہائی باشندے ہندو مت کے پیروکار ہیں، اور پونے آٹھ کروڑ مسلمان ہیں۔ ان اقوام کا اختلاف صرف مذہبی معاملات تک محدود نہیں، ان کے کلچر اور قانون بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ بل کہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ اسلام اور ہندو مت دو مختلف تہذیبوں کے مظہر ہیں۔

ہندو مذہب اور سماج کا بنیادی اصول ذات پات کی تفریق ہے۔ اس کے برعکس انسانی مساوات کا تصور اور فلسفہ اسلام میں بنیادی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔“ اس مضمون کے آخری حصے میں قائداعظم نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیے دو قوموں کی معنی خیز اصطلاح استعمال کی اور کہا کہ ہمیں ایک ایسا آئین وضع کرنا چاہیے جو اس حقیقت پر مبنی ہو کہ ہندوستان میں دو قومیں بستی ہیں ”۔ دو قومی نظریے کا یہ تصور قائداعظم کے فکر میں راسخ ہوتا گیا اور بعد کے برسوں میں اس کی مزید وضاحت اور صراحت سامنے آئی، مثلاً لاہور میں 23 مارچ 1940 ع کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا:

”قومیت کی جو بھی تعریف کی جائے، مسلمان اس تعریف کی رو سے ایک الگ قوم ہیں۔ لہٰذا وہ اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ ان کی ایک الگ مملکت ہو جہاں وہ اپنے عقائد کے مطابق معاشی، سماجی اور سیاسی زندگی بسر کرسکیں۔ ہندو اور مسلمان ہر چیز میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ہم اپنے مذہب، تہذیب و ثقافت، اپنی تاریخ، اپنی زبان، اپنے طرز تعمیر، اپنے اصول و قوانین، اپنی معاشرت، اپنے لباس غرضے کہ ہر اعتبار سے مختلف ہیں۔“

بلا شبہ 23 مارچ 1940 ع برصغیرکی ملت اسلامیہ کی تاریخ کا سنگ میل تھا کیوں کہ اس دن برصغیر کی ملت اسلامیہ کے نمایندوں نے لاہور میں جمع ہوکر مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کا باضابطہ مطالبہ کیا۔ اور اس سلسلے میں منظور ہونے والی قرارداد اتنی غیر معمولی تھی کہ مسلم لیگ کے رہنماؤں اور کارکنوں نے اسے قرارداد لاہور کہا، مگر ہندو پریس نے اس قرارداد کو قرارداد پاکستان کا نام دیا۔ وہ دن دو قومی نظریے کی وجہ، سے طلوع ہوا تھا۔ قرارداد پاکستان کے ظہورکا سبب بھی دو قومی نظریہ تھا، جو لا الٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کے سوا کچھ نہ تھا۔

۔ 14 اگست ہم پاکستانیوں کے لیے بہت اہم دن ہے۔ اس لیے کہ اس دن اللہ رب العزت نے ہمیں ایک ایسا ملک عطا کیا جو کہ جغرافیائی لحاظ سے پہلے دنیا کے نقشے پر موجود نہ تھا۔ پاکستانی قوم کا حق ہے کہ وہ آج کے دن کو جشن آزادی کے طور پر منائے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی تاریخ کو دہراتے رہنا چاہیے اور وہ تمام قربانیاں جو ہمارے بڑوں سے یہ ملک حاصل کر نے کے لیے دی تھیں۔ اپنی نسلوں کو بتانا چاہیے کہ یہ وطن کس قدر خون کے دریا بہا کر حاصل کیا گیا تھا اور ہمارے بزرگوں نے کیا کیا دکھ نہیں سہے۔

بے شمار سہاگنوں کے سہاگ لٹے، ماؤں کی گودیں اجڑیں، بہنوں کے بھائی شہید ہوئے۔ مگر آج اہم باریک بینی سے دیکھیں کہ ہم اس ملک کے ساتھ کیا کر رہے ہیں تو ہمیں واضح نظر آئے گا کہ جس مقصد کے لیے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا ہم اس کے بالکل الٹ کام کر رہے ہیں۔ آج ملک میں چوربازاری، قتل و غارت، رشوت ستانی اور لوٹ مارعام ہے۔

حضرت قائداعظمؒ محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ مگر آج خود ہماری کوتاہیوں اور نا اہلیوں کی وجہ، سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز بڑھتے گئے۔ رفتہ رفتہ صورت حالات خراب ہوتے ہوئے پاکستان سیاسی عدم استحکام، اداروں کے باہمی ٹکراو، بدعنوانی، توانائی بحران، صوبوں اور وفاق کے درمیان دوریاں، عسکریت اور انتہاپسندی جیسے سنگین مسائل کی دلدل میں دھنستا چلا گیا، اس کے ساتھ غربت، منہگائی اور بے روزگاری نے عوام کا جینا محال کر دیا۔

کشمیر کی آزادی کو ہم صرف سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کرتے آ رہے ہیں مگر حقیقی جدوجہد سے عاری ہیں۔ در اصل کشمیر کی آزادی تکمیل پاکستان ہے اور جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے آزادی حاصل کر لی ہے کیوں کہ ہماری شہ رگ تو دشمن کے قبضے میں ہے اور ایک شخص جس کی شہ رگ دشمن کے قبضے میں ہو وہ اپنے آپ کو کیسے آزاد کہہ سکتا ہے۔ در حقیقت یہ آزادی نہیں بل کہ نشان آزادی ہے۔ منزل کو پہنچنا ہے جس کے لیے کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں اور ہماری راہ تک رہے ہیں کہ آزاد خطہ حاصل کرنے کے بعد ہم کن موج مستیوں میں پڑ گئے اور اپنے اصل مقصد کو بھول بیٹھے ہیں۔ اگر ہم خواب غفلت سے نہ جاگے تو یاد رکھیں ہندو بنیا ہمارے گریبان کو آن پہنچے گا۔

قیام پاکستان کا مقصد صرف زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کر لینا ہی نہیں تھا، بل کہ یہ ایک سوچ، فکر، نظریے اور اصول و قانون کی ترویج کے لیے ایک فلاحی ومثالی مملکت بنانے کا خواب تھا، جس کو مسلمانان برصغیر نے برسوں اپنی آنکھوں میں سجایا تھا ایسی طاقت جو عالم اسلام اور باقی دنیا میں مسلمانوں کے حقوق کی جنگ لڑ سکے۔ ارسطو کا قول ہے ”انسانیت پر مبنی معاشرہ اپنے شہریوں کی آزادی کے تحفظ اور اس کی پرورش کے لیے پرعزم رہتا ہے۔

“ اسی خیال نے ہماری تحریک آزادی کو جلا بخشی تھی اور مسلمانان برصغیر کے دلوں میں یہ بات جاگزیں کردی کہ آزاد انسانوں کی حیثیت سے سانس لینے کے لیے ایک آزاد ریاست کا قیام ازحد ضروری ہے۔ یہی وہ یقین تھا جس نے قائد اعظم محمد علی جناح کے لیے تخلیق پاکستان کی جدوجہد کی راہ ہموار کی تھی۔ قوم کے لیے ڈٹ جانا اور آزادی کی خاطر مصائب برداشت کرنا آسان ہوا اور طویل تگ و دو کے بعد آزادی کا حصول ممکن ہوا۔ آزادی قدرت کا انمول خزانہ ہے، جسے پانے کے لیے ہمارے بڑوں نے اپنا کل قربان کر کے ہمارا آج آزاد بنایا۔

ان تمام برائیوں کی وجہ، کیا ہے کبھی آپ نے غور کیا ہے۔ در اصل جو خاندان غلامی کے دور میں انگریز کے ساتھ موج مستی میں تھے وہ کسی نہ کسی طرح آج تک حکومتوں کا حصہ رہے ہیں۔ تب بھی انھوں نے جایدادیں تحفوں میں لی تھیں اور آج بھی حکومتی وظائف اور مراعات حاصل کر رہے ہیں۔ انھیں کیا فکر کہ کس کے باپ کا سر کٹا، کس کے بچے کو والد کے سامنے گولی مار کر شہید کر دیا گیا اور کس طرح لوگ خون میں لت پت بارڈر کراس کر کے پاکستان کی طرف لپکے اور نہ ہی انھوں نے لاشوں کی بھری ٹرینیں پاکستان پہنچتی دیکھیں اور نہ ہی ٹرینوں کے ڈبوں سے خون بہتا دیکھا۔

اگر آج قربانیاں دینے والے لوگ قانون ساز اداروں میں ہوتے تو قانون کا راج ہوتا، پاکستان کی بات ہوتی، اسلام کی بات ہوتی اور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ کا نظام نافذ کیا جاتا۔ معذرت کے ساتھ اس فقرے پر یہ بات ختم کروں گا کہ سرکاری ملاؤں نے بھی اس ملک کے عوام کو دین سے دور رکھنے میں اور قوم کو آپس میں ایک نہ ہونے دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا بل کہ یوں کہیں تو درست ہو گا کہ غیرمسلموں کے کارندوں کا کام کیا۔

ہم نے ان 73 سالوں میں بہت کچھ کھویا اور شاید ہی کچھ پایا ہو۔ ستر سال بعد بھی ہم ایک قوم نہیں بن پائے۔ ہم ایک ملت نہیں بن پائے۔ متحد ہونے سے قاصر رہے۔ ایک مسلک کے لوگ دوسرے مسلک کے لوگوں کو مسلمان تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ہم نے الگ ملک تو حاصل کر لیا لیکن حقیقی پاکستانی اور حقیقی مسلمان نہیں بن پائے۔ ہم متحد ہونے کے بجائے چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں بٹنا پسندیدہ فعل سمجھ بیٹھے۔ حال آں کہ 14 اگست 1947 کو جب آزادی کی دولت نصیب ہوئی، اس وقت ہم ذات پات، علاقے اور لسانی گروہوں کے بجائے ایک ملت تھے، جو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر متحدہ تھی اور قیام پاکستان سے پہلے ہمارا نعرہ تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ اور ہم نے خود سے عہد کیا تھا کہ اگر ہمیں ایک الگ خطۂ زمین مل جائے تو ہم اس میں عدل و انصاف اور اسلام و امن کا قانون نافذ کریں گے، لیکن آج ہم خود اپنے تمام وعدوں کو فراموش کرچکے ہیں۔ ہم نے قیام پاکستان کے وقت اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے لاکھوں افراد کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔

آئیں ہم سب مل کر جشن آزادی منائیں مگر اس کے ساتھ ساتھ تجدید عہد کریں کہ ہمارا مرنا جینا پاکستان کے لیے ہو گا اور ہم اس کی تکمیل کے لیے اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتیں استعمال کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •