دوسالہ بندش کے بعد ہیڈ پنجند کے تاریخی پل کی بحالی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہیڈ پنجند کے تاریخی پل کو دو سالہ بندش کے بعد یوم آزادی کے پرمسرت موقع پر ہمہ قسم کی ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا۔ پاکستان کے تین صوبوں کو ملانے والی قومی شاہراہ پر واقع اس اہم پل کی بندش و بحالی کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ یہ پل گزشتہ کئی سالوں سے خستہ حالی کا شکار تھا اور غالباً اپنی طبی عمر ہی پوری کر چکا تھا، مذکورہ پل کو کئی بار مرمت کے لئے عارضی بنیادوں پر بند کیا جا چکا تھا۔ جون 2018 ء میں محکمہ ہائی وے نے مظفر گڑھ کی ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا کہ ہیڈ پنجند کا یہ قدیمی پل اپنی خستہ حالی، شکستگی اور گڑھوں کے باعث پل بھاری ٹریفک کا بوجھ مزید نہیں سہار سکتا اور کسی بھی وقت اندوہناک حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔

چنانچہ ضلعی انتظامیہ نے پل کے دونوں جانب لوہے کے جنگلے لگا کر اسے ٹریفک کے لئے بند کر دیا۔ اس دوران اس کی تعمیر و مرمت پر لاکھوں روپے ضائع ہوئے لیکن ایگزیکٹو انجینئر پنجند ہیڈ ورکس ڈویژن پنجند کی سفارشات پر مورخہ 6 اگست 2018 ء کو ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ قیصر سلیم نے مذکورہ پل کی مرمت کو ناقص قرار دے کر پل کے اڑھائی سو فٹ طویل شکستہ حال ٹکڑوں کو مکمل طور پر گرانے اور ان پر مکمل سلیب تعمیر کرنے کے لئے پل کو مورخہ 11 اگست 2018 ء سے مکمل طور پر بند کرنے کا مراسلہ جاری کیا۔ اس سلسلے میں حکومت پنجاب نے اپنے بجٹ میں خطیر رقم بھی مختص کی۔ پل کی بندش کے دوران دریائی مٹی کے دونوں بندوں کے درمیان عارضی سڑک تیار کی گی جس پر صرف پیادہ رو، موٹرسائیکل سوار اور کار سوار لوگوں کو ہی گزرنے کی اجازت تھی۔

ہیڈ پنجند کے پل کی بندش کے اس طویل ترین دورانیہ کے دوران بھاری ٹریفک کو متبادل راستہ اختیار کرنے کی ہدایات پر ٹرک، ٹرالر، ڈمپر اور بڑی بسیں بہاول پور ملتان روڈ اور براستہ اوچ شریف جلال پور پیر والا روڈ استعمال کرتے رہے جبکہ اس کی بندش سے جہاں شمالی پنجاب سے جنوبی پنجاب اور پھر صوبہ سندھ کے علاقوں میں جانے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا، وہاں کے ایل پی روڈ پر بھاری ٹریفک کی بندش سے آس پاس کے سینکڑوں دیہات کے لاکھوں لوگوں نے سکھ کا سانس بھی لیا تھا کیونکہ بھاری بے ہنگم اور بہت زیادہ ٹریفک کے کم ہونے سے آئے روز ہونے والے حادثات غیر معمولی طور پر کم ہو گئے تھے۔

واضح رہے کہ پشاور، راولپنڈی، فیصل آباد، میانوالی، خوشاب، لیہ، جھنگ، چینیوٹ اور مظفرگڑھ سے کراچی جانے والی تمام گاڑیاں کے ایل پی روڈ استعمال کرتی ہیں۔ اسی طرح اندرون سندھ اور کراچی سے آنے والی گاڑیاں بھی اسی سڑک سے گزرتی ہیں۔ یوں تین صوبوں پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کی ٹریفک اسی سڑک پر گزرنے سے اب تک ٹریفک کے سینکڑوں حادثات رونما ہو چکے ہیں اور اب تک ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

ہیڈ پنجند پل کی بندش کے دوران اوچ شریف شہر کے بیچوں بیچ بھاری ٹریفک گزرنے سے بھی اب تک کئی حادثات رونما ہو چکے ہیں جبکہ للو والی پل، الشمس چوک اور دیگر مقامات پر تو کئی کئی گھنٹے ٹریفک بلاک ہونے سے جہاں شہریوں کو خواری کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے وہاں نئی بننے والی دو رویہ سڑک اور مین ہولز کے ڈھکنوں کا بھی آئے روز نقصان ہوتا تھا۔ عوامی شکایات پر اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ چوہدری نعیم صادق چیمہ نے دن کے اوقات میں شہر سے بھاری ٹریفک کے گزرنے پر پابندی عائد کر دی تاہم بھاری ٹریفک کے گزرنے کایہ سلسلہ تادم تحریر جاری ہے۔

ہیڈ پنجند پل کی بندش سے جہاں اس سڑک پر واقع مارکیٹوں، ہوٹلوں، ورکشاپس سے وابستہ افراد کے کاروبار ٹھپ ہوئے، وہاں راستہ مسدود ہونے سے علی پور، جتوئی، خیر پور سادات، سیت پور، خان گڑھ ڈوئمہ اور دیگر علاقوں کے کاشت کاروں کو اپنی زرعی اجناس منڈیوں اور فیکٹریوں تک لے جانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔ تعمیراتی عمل کے شروع میں انتظامیہ کی طرف سے اس پل کو تین سال کے لئے بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم چند ماہ قبل وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہیڈ پنجند کا اچانک دورہ کر کے پل کے تعمیراتی عمل کا جائزہ لیا تھا اور انجینئروں کو جلد از جلد ہیڈ پنجند کے اس اہم پل کی تعمیر مکمل کر کے اسے عوام اور بھاری ٹریفک کے لئے کھولنے کی ہدایت کی تھی۔

اس دوران پنجند ہیڈ ورکس کی انتظامیہ کی طرف سے عوام کو پل کھولنے کی کئی بار خوشخبریاں بھی سنائی جاتی رہیں۔ تاہم گزشتہ روز یعنی 12 اگست کو ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ انجینئر امجد شعیب خان ترین نے مراسلہ نمبری 1183 /PA/DCکے تحت اپنے جاری کردہ اعلامیہ میں عوام کو ہیڈ پنجند کے پل کو 14 اگست سے کھول دینے کا مژدہ سنایا۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ماضی کے ساتھ ساتھ پل کی حالیہ تعمیر و مرمت پر خرچ ہونے والے اربوں روپے کا فرنزک آڈٹ بھی کرایا جائے۔

برصغیر میں تاریخی، روحانی اور تہذیبی حیثیت کے حامل شہر اوچ شریف سے شمال کی جانب 12 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیڈ پنجند وہ تفریحی مقام ہے جہاں پانچ دریا چناب، ستلج، بیاس، جہلم اور راوی مل کر حسین سنگم بناتے ہیں۔ پنجند کی تاریخی حیثیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مہا بھارت کے قصے کہانیوں میں اس کا ذکر ملتا ہے جو ”پنجا ندا“ کے حوالے سے ہے۔ پنجاب کی تاریخ کا پنجند سے گہرا تعلق ہے۔

مسلمانوں کی آمد سے پہلے پنجاب کا علاقہ بیاس سے غزنی کی دیواروں تک تھا اور اسے سپت سندھو ست دریاؤں کی سرزمین کہا جاتا تھا۔ جب دریائے سندھ اور اٹک کے علاقے اس سے علیحدہ ہوئے تو اس کا نام پنج ند ہو گیا۔ جب کابل کے راستے مسلمان پنجاب میں آئے تو انہوں نے اس کا نام پنج ند کی بجائے پنجاب پانچ دریاؤں کی سرزمین رکھ دیا اور یہ نام سب کے دلوں میں گھر کر گیا۔

1922 ء میں ستلج ویلی پراجیکٹ کے تحت اس دریا پر ہیڈ ورکس کی تعمیر شروع ہوئی جو 1932 ء میں ایک کروڑ 92 لاکھ 79 ہزار 93 روپے کی لاگت سے پایہ تکمیل کو پہنچا۔ اس منصوبے کے تحت ہیڈ پنجند سے دو بڑی نہریں عباسیہ اور پنجند کینال اور بعد ازاں نیو عباسیہ لنک کینال نکالی گئیں جو پنجاب اور سندھ کے وسیع علاقہ کو سیراب کرتی ہیں۔ دسمبر 2014 ء میں ایشیائی ترقیاتی بنک کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر ورنر۔ ای لیپچ اور اقتصادی امور کے سیکرٹری محمد سلیم سیٹھی کے درمیان ہیڈ پنجند کی بحالی اور اپ گریڈیشن کے سلسلے میں 150 ملین ڈالر قرضہ فراہمی کا معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے پر اس دور کے سیکرٹری انہار سیف انجم نے دستخط کیے تھے۔ تاہم ابھی تک معاہدے کی پیش رفت کا کچھ پتہ نہیں۔

کسی بھی ملک کی تہذیب و ثقافت اوراس کے تاریخی مقامات اس ملک کی شناخت ہوتے ہیں جنہیں آنے والی نسلیں ”ثقافتی ورثے“ کے طور پر سنبھال کر ہمیشہ زندہ رکھتی ہیں۔ پنجند تاریخی اعتبار سے رومانیت کی حامل سرزمین رہی ہے جسے بابا بلھے شاہ، شاہ عبدالطیف بھٹائی اورابراہیم ذوق جیسے صوفی شعراء نے موضوع سخن بنایا۔ پانچ دریاؤں کے ملاپ کا تصور ہی انسانی ذہن کے لیے دلچسپی کا حامل ہے جس کی وجہ سے ملک بھر کے دوردراز علاقوں سے لوگ یہاں کھنچے چلے آتے ہیں۔

یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ پاکستان ٹورازم کی سرکاری ویب سائٹ پر ہیڈ پنجند جیسے تاریخی اور تکنیکی لحاظ سے اہمیت کے حامل مقام کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ یہاں سیاحت کے فروغ کے لیے کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے گئے اور نہ ہی یہاں روز مرہ زندگی کے لیے بنیادی سہولیات میسر ہیں۔ پانچ دریاؤں کے سنگم پر کھڑے ہو کر بھی سیاحوں کو اپنی پیاس بجھانے کے لیے پانی کے ہر گھونٹ کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

یہاں مارکیٹ کے نام پر چند مچھلی تلنے کی دکانیں ہیں جہاں بجلی کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے چند لمحے گزارنابھی مشکل ہو جاتا ہے۔ دریا کے کنارے پنجاب اریگیشن ڈیپارٹمنٹ کاسائن بورڈ عوام کی توجہ حاصل کر رہا ہوتا ہے جس کا ایک کمرہ ہیڈ پنجند کی تاریخی اشیاء اور دستاویزات کے لیے مخصوص ہے لیکن ظلم یہ کہ طلبہ اور سیاحوں کے لیے بھی یہ کمرہ نہیں کھولا جاتا۔ یہی نہیں بلکہ دور دراز سے آئے سیاحوں کی راہنمائی کے لیے یہاں کسی گائیڈ کا تصورتک موجود نہیں۔

پنجاب کی زراعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے مقام پر دہشت گردی یا ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے کوئی انتظام موجود نہیں۔ عید کے ایام اور جشن آزادی کے دنوں میں ہر سال کئی من چلے دریا کی بے رحم لہروں کی نذر ہو جاتے ہیں لیکن تاحال اس کے سدباب کے لیے سیفٹی اینڈ سکیورٹی کا کوئی نظام وضع نہیں کیا جا سکا۔ دنیا بھر میں سیاحت صنعت کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ کئی ممالک ایسے ہیں جن کی معیشت کا مکمل دار و مدار سیاحت پر ہے۔

ہمارے ملک میں سیاحوں کے لیے قدرتی حسن اور تاریخی اہمیت کے حامل سینکڑوں مقامات موجود ہیں مگر ان غیر ترقی یافتہ علاقوں میں زندگی کی سہولیات کی عدم دستیابی نے ان کا حسن گہنا دیا ہے۔ پنجند ہیڈ ورکس پر ملک کے پانچ دریاؤں کا باہم مل جل کر بہنا قوم کو محبت، اخوت اور یگانگت کا درس دیتا ہے۔ پل کی بحالی کے بعد اس مقام کو حکومتی سرپرستی سے اہم سیاحتی مقام بنایا جا سکتا ہے جس سے مقامی ترقی کے علاوہ کثیر زرمبادلہ کمانے کے مواقع دستیاب ہوں گے۔ یہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم پاکستان کے چہرے پر سے دہشت گردی، جہالت اور عالمی گداگر جیسی متعصب دھند کو صاف کر کے اس کے خوبصورت چہرے کو دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے 73 ویں یوم آزادی کے پرمسرت موقع پر وسیب زادوں کے لئے ہیڈ پنجند کے پل کی بحالی کا مژدہ ان کی خوشی کو دوبالا کر گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •