سندھ وفاق کی جاگیر نہیں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قابل تکریم چیف جسٹس جناب جسٹس گلزار احمد نے کراچی رجسٹری میں ایک کیس کی سماعت کے دوران فرمایا کہ سندھ حکومت انتہائی نا اہل ہے اور مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، یہاں مکمل مافیاز کا راج ہے، سارا پیسہ ہڑپ کر گئے ہیں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا، کراچی، حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ سمیت سندھ میں تباہی ہے۔ قابل تکریم چیف جسٹس نے اس این ڈی ایم اے کو کراچی کے نالوں کی صفائی اور ان پہ قائم تجاوزات کے خاتمے کا حکم دیا جس کی کارکردگی پہ کچھ عرصہ قبل ہی وہ سنگین نوعیت کے سوالات اٹھا چکے ہیں، جس کے چیئرمین کی سخت سرزنش کر چکے ہیں۔

قابل احترام چیف جسٹس کے سندھ اور سندھ حکومت کے متعلق ریمارکس کوئی پہلی بار نہیں آئے اس سے پہلے بھی وہ اس طرح کے ریمارکس کورونا از خود نوٹس کیس میں دے چکے ہیں، مگر یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا چیف جسٹس صاحب کو ایک صوبے کی منتخب عوامی جمہوری حکومت کے خلاف اس طرح کے ریمارکس دینے چاہئیں، جس کو غیر مستحکم کرنے اور صوبائی حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کے غیر آئینی اقدام کا جواز وفاقی حکومت پہلے سے ہی ڈھونڈ رہی ہے۔ سندھ کی حکومت کو سندھ کی عوام کی دو تہائی سے زائد اکثریت نے اپنے ووٹوں کے ذریعے منتخب کرکے حق حکمرانی دیا ہے، کیا یہ اس صوبے کے عوام کے ووٹوں ان کے مینڈیٹ کی توہین نہیں ہے، کیا یہ آئینی اختیارات اور حدود سے تجاوز نہیں ہے۔

پاکستان کے محترم چیف جسٹس صاحب کو پہلے اپنی آئینی ذمے داریاں نبھانے، اپنے آئینی حلف کی پاسداری کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ میں 45 ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں، جن کی تعداد کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہے ہے، چاروں ہائی کورٹس اور ماتحت عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد بیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتے غریب، مجبور و بے بس اپنے کیسوں کی شنوائی کے لیے بھٹک رہے ہیں، انصاف کی سہولیات بلا امتیاز نہیں بلکہ امتیازی اصولوں کی بنیاد پہ، ذاتی پسند و نا پسند کی بنیاد پہ، حکمران طبقے کی ترجیحات اور سیاسی ایجنڈے کی بنیاد پہ یا پھر با اثر امیر ترین کلاس کو ان کی خواہشات کے مطابق تو مل رہا ہے مگر پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 227 ( 1 ) کے مطابق ابھی تک ایک خواب ہی بنا ہوا ہے آئین کا یہ آرٹیکل کہتا ہے کہ،

” تمام موجودہ قوانین کو قرآن پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا، جن کا اس حصے میں بطور“ اسلامی احکام ”حوالہ دیا گیا ہے، اور ایسا کوئی قانون وضع نہیں کیا جائے گا جو مذکورہ احکام کے منافی ہو“

محترم چیف جسٹس صاحب آئین کے اس آرٹیکل کے مطابق پاکستان کے قانون کو اسلامی احکامات کے مطابق قرآن و سنت میں وضع کیے گئے نظام عدل و انصاف کے مطابق ڈھالنے میں کس قدر کامیاب رہے ہیں، وہ اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پہ حاصل کیے گئے اسلامی مملکت کی خلق کو کس قدر اور کتنا جلد عدل و انصاف فراہم کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں انہیں اس کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے نہ کہ ایک صوبے کی منتخب عوامی جمہوری حکومت کے خلاف غیر ضروری اور ناپسندیدہ رائے کا اظہار کرکے اس صوبے کے عوامی جمہوری اختیار کی تذلیل کرنی چاہیے۔

قابل تکریم چیف جسٹس کے تحفظات یقیناً صوبے میں عوامی مسائل، ابتری، بدانتظامی پہ ان کی ایماندارانہ اور ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے تشویش کا اظہار ہے مگر ان کے ان ریمارکس نے سندھ پہ پہلے سے قبضے کی خواہش رکھنے والے وزیراعظم عمران نیازی کی خواہشات کو تقویت فراہم کرنے کا سبب بھی بنے ہیں لہذا ایک انتہائی اہم ذمے دارانہ آئینی حیثیت کے حامل قابل احترام شخصیت کو اس طرح اپنی رائے کے اظہار سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے نہ صرف فاشسٹ حکمرانوں کی خواہشات کو تقویت ملے بلکہ ایک صوبے کے کروڑوں لوگوں کے حق رائے دہی اور حق حاکمیت کی توہین کا کوئی پہلو نکلے۔

چیف جسٹس صاحب کے ان ریمارکس کے جواب میں وفاق کے نمائندے اٹارنی جنرل نے جو فرمایا چیف جسٹس صاحب کو اس کا بھی فوری نوٹس لینا چاہیے کہ کس طرح انہوں نے سندھ پہ غاصبانہ قبضے کی اپنے دل میں دبی خواہش کا ڈھکے چھپے الفاظ میں ہی سہی مگر بے دھڑک اظہار کر دیا، اٹارنی جنرل کا یہ کہنا کہ وفاق کراچی کو بچانے کے لیے آئینی آپشنز پہ غور کر رہا ہے کا کیا مطلب ہے؟ کیا کراچی خدانخواستہ کسی دوسرے ملک کے قبضے میں جا رہا ہے یا خدانخواستہ کراچی پہ کوئی آفت منڈلا رہی ہے۔

کراچی پہ دہشتگردی کا راج تھا جو اپنے بدترین انجام کو پہنچا، کراچی میں نالوں، سوسائٹیز پہ قبضے کرکے تجاوزات قائم کرنے، چائنا کٹنگ کرکے کراچی کے کھربوں روپے کی زمینیں بیچ کھانے والوں کا راج تھا جو اختتام پذیر ہوا، آج کراچی کے جو بھی مسائل ہیں وہ دو تین سالوں میں پیدا نہیں ہوئے کئی دہائیوں سے یہ مسائل ہیں جو روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ سندھ وفاق کی جاگیر ہے جو جب چاہے گا اس کے وسائل اختیار پہ قابض ہو جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان عوامی راج قائم کرنے، جمہوریت کے تسلسل اور استحکام کا عزم کرکے، ملک کی تعمیر ترقی خوشحالی کی دعویٰ کرکے، اداروں کی بحالی، تعمیر نو کرنے اور ان میں جدید اصلاحات لانے کا وعدہ کرکے برسر اقتدار آئے، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اب تک صرف دو سال کے دوران اداروں کی بحالی سے لے کر ان کی تعمیر نو تک، اظہار رائے کی آزادی سے لے کر اظہار رائے پہ قدغنیں لگانے تک، عدل و انصاف کی فوری اور سستی فراہمی سے لے کر مخالفین کے خلاف بدترین انتقام تک وہ مودی کی آر ایس ایس اور ہٹلر کی نازی پارٹی سے خاصے متاثر نظر آئے ہیں، کراچی پہ غیر آئینی قبضے اور سندھ کو اپنی جاگیر سمجھنے کی سوچ ان کے فسطائی نظریات کی غمازی کرتے ہیں، خان صاحب اپنے اتحادی سابقہ را ایجنٹوں اور موجودہ نفیس لوگوں کے کراچی میں سابقہ کارناموں کو بھی مدنظر رکھیں اور یہ بھی دیکھیں کی پچھلی کئی دہائیوں سے کراچی کی اکثریت کا مینڈیٹ کس کے پاس ہے، کراچی کی تباہی اور مسائل کا ذمے دار کون ہے؟

کراچی کے حالات کو جواز بنا کر سندھ کے صدر مقام کو ہتھیانے کے لیے کوئی غیر آئینی اقدام اٹھا کر وفاق کی وحدانیت، سالمیت کو نقصان پہنچائیں اور سندھ کے عوام کو یہ باور کرائیں کہ سندھ آزاد اسلامی جمہوری پاکستان کا صوبہ نہیں بلکہ وفاق کی جاگیر ہے، انہیں سندھی عوام کے مینڈیٹ اور حق حاکمیت سے کوئی سروکار نہیں ہے، خان صاحب کو ایسی سوچ، ایسے اقدامات سے اجتناب کرنا چاہیے۔ سندھ کے عوام نے بھی ٹویٹر پر سندھ وفاق کی جاگیر نہیں ہے، کے ہیش ٹیگ سے اپنے واضح دوٹوک اور واشگاف موقف کا پیغام ناعاقبت اندیش حکمرانوں کو پہنچا دیا ہے اب دیکھتے ہیں کہ انہیں پاکستان کی سالمیت، استحکام، وحدانیت عزیز ہے یا اپنی جھوٹی انا، ضد اور سیاسی مفادات جن کے حصول کے لیے وہ مودی کی کشمیر میں کی گئی غیر آئینی کارروائیوں کی پیروی کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •