نوشابہ کی ڈائری: ڈر تھا کہ حیدرچوک کے مسئلے پر کوئی ہنگامہ نہ ہو جائے



27 اگست 1988

کتنے دنوں بعد ٹرین کا سفر کیا۔ میرپورخاص جا کر بیتے دن یاد آگئے۔ کب سے بھائی جان سے کہہ رہی تھی لے چلیں ہمیشہ ٹال دیتے تھے۔ زہرہ باجی کی شادی کا کارڈ نہ آتا اور امی چلنے کو نہ کہتیں تو اب بھی ٹالتے رہتے۔ یہ سن کر تو میں خوشی سے نہال ہوگئی کہ زہرہ باجی بیاہ کر کراچی آ رہی ہیں۔ مگر ان کا سسرال کتنی دور ہے رضویہ سوسائٹی میں، چلو شہر تو ایک ہی ہے نا۔ زہرہ باجی کی قسمت کتنی اچھی ہے، شوہر ڈاکٹر اور پھر اتنا اسمارٹ، خیر ہماری زہرہ باجی بھی کسی سے کم ہیں کیا۔

اچھا ہوا سفیان کی سال گرہ بھی انھی دنوں میں تھی تو واپسی پر باجی کے ہاں بھی چلے گئی۔ سفیان کتنا پیارا لگ رہا تھا چوڑی دار پاجامہ کرتا اور شیروانی میں جیسے ننھا منا سا دولہا۔ شکر ہے سال گرہ خیریت سے ہو گئی ورنہ سب ڈر رہے تھے کہ حیدرچوک کے مسئلے کی وجہ سے کوئی ہنگامہ نہ ہو جائے۔ امی اور بھائی جان کی ساس منع کرتی رہ گئیں مگر غنی بھائی مجھے اور بھابھی کو حیدرچوک دکھانے لے گئے۔ دور سے دیکھا مگر وہاں لکھا ”مہاجرچوک“ اور سرسید، لیاقت علی خان، مولانا محمد علی جوہر اور ٹیپوسلطان شہید کی تصویریں صاف نظر آ رہی تھیں۔

وہاں کھڑی میں سوچ رہی تھی سرسید، لیاقت علی، مولاناجوہر، حسرت موہانی، ٹیپو سلطان یہ تو ہم سارے پاکستانیوں کے سانجھے ہیرو ہیں، انھوں نے جو بھی جدوجہد کی صرف اردو بولنے والوں کے لیے تو نہیں تھی، پھر ایم کیوایم والے انھیں صرف مہاجروں کا ہیرو کیوں کہتے ہیں، یہ صرف ہمارے کیوں رہ گئے؟ اردو کے ساتھ بھی تو یہی ہوا۔ پورے ہندوستان کی زبان تھی ورنہ کرشن چندر اور پریم چند اردو میں افسانے کیوں لکھتے! پھر یہ مسلمان زبان ہوگئی اور اب یہ جس ملک کی قومی زبان ہے وہاں بہت سے لوگ اسے غیرملکی زبان کہنے لگے ہیں۔ ہمارے لوگوں ہماری زبان کے ساتھ جانے ایسا کیوں ہوا؟

اور یہ ایم کیوایم والے کسی اور چوک کو مہاجر چوک کا نام دے کر اپنا جھنڈا اور یہ تصویریں لگا دیتے کیا ضروری تھا کہ سندھیوں کے ہیرو کامریڈحیدربخش جتوئی سے منسوب چوک کا نام بدلیں۔ اس کی وجہ سے حیدرآباد میں کتنی ٹینشن ہوگئی تھی، حالات کتنے کشیدہ تھے۔ اس دن بھی راستہ چلتے ہوئے کئی سندھیوں نے غنی بھائی کو اور غنی بھائی نے انھیں کس بری طرح گھور کر دیکھا تھا جیسے ایک دوسرے کو کچا چبا جائیں گے۔ راستے میں کئی جگہ دیواروں پر ”سندھی مہاجر بھائی بھائی“ لکھا تھا۔

کاش یہ دلوں پر بھی لکھا ہوتا۔ حیدرآباد اور اندرون سندھ کے دیگر شہروں کے حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ دیواروں پر لکھے اس نعرے پر بھی سیاہی پھر جائے گی۔ میئرحیدرآباد آفتاب احمد شیخ کے بیانات اور ان پر سندھی قوم پرستوں کا ردعمل فاصلوں کو اور بڑھا چکے تھے پھر آفتاب شیخ پر قاتلانہ حملے نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔ وہ شدید زخمی ہوئے مگر خدا کا شکر ہے جان بچ گئی۔ اس حملے کے بعد وہی کچھ ہوا جو ایسے واقعات کے بعد ہوتا ہے۔

حیدرآباد میں ہنگامے پھوٹ پڑے بینک، دکانیں، پیٹرول پمپ جلادیے گئے۔ تصادم میں کئی لوگ جان سے گئے۔ آفتاب شیخ سندھ یونی ورسٹی میں مہاجر طلبہ سے بدسلوکی پر احتجاج اور حیدرآباد میں یونی ورسٹی کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سندھی قوم پرستوں کی طرف سے یہ کہنا تو سمجھ میں آتا ہے کہ آفتاب احمد شیخ کا سندھ یونی ورسٹی میں مہاجر طلبہ سے بدسلوکی کا الزام غلط ہے، لیکن حیدرآباد میں یونی ورسٹی کے قیام کی مخالفت کیوں کی جارہی ہے؟

سندھ کے کسی شہر میں ایک اور یونی ورسٹی بن گئی تو اس میں سندھ کا کیا نقصان ہے؟ اپنے بیانات کے بعد آفتاب شیخ اندرون سندھ کے مہاجروں میں بہت مقبول ہوگئے تھے، اور قاتلانہ حملے میں بچنے کے بعد تو وہ حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص، نواب شاہ کے مہاجروں کی آنکھ کا تارہ بن گئے ہیں۔ لیکن کراچی میں ان کے بارے میں خیالات کچھ اور ہی ہیں۔ اس دن ہم لوگ بھائی جان کے دوست جاوید بھائی کے گھر گئے تھے۔ جاوید بھائی بھی ایم کیوایم میں ہیں۔ آفتاب شیخ کی بات نکلی تو میں سمجھی

ان کا بہت احترام سے ذکر کریں گے، لیکن وہ کہنے لگے ”آفتاب شیخ صاحب بہت ہیرو بن رہے تھے، دماغ درست کر دیا گیا۔“ واقعی اندرون سندھ تو وہ ہیرو بن گئے تھے، مگر ان کے ہیرو بننے سے کسی کو کیا مسئلہ تھا؟ کس نے ان کا دماغ درست کر دیا؟ یہ سارے سوالات لے کر واپس آ گئی۔

حیدرچوک سے واپسی پر جو کچھ دیکھا وہ امی کو بتایا تو کہنے لگیں ”یہی سب دلی میں ہوا تھا۔“ یہ سن کر بہت دکھ ہوا کہ الطاف حسین کے کہنے پر ان سب تصویروں پر سیاہی پھیر دی اور ایم کیوایم اس چوک سے دست بردار ہوگئی۔ بھائی جان تو بہت غصے میں تھے۔ پہلی بار انھیں الطاف حسین کے خلاف بولتے سنا۔ کہہ رہے تھے ”اس نے تصویروں پر نہیں مہاجروں کے منہ پر کالک پھیری ہے۔“ چلو فساد تو ٹلا۔ مگر ایک فساد ٹلنے سے کیا ہوتا ہے یہاں تو روز ہی کچھ نہ کچھ ہوتا ہے۔

کبھی مہاجروں اور پنجابیوں میں ماراماری تو کبھی ایم کیوایم اور اسلامی جمیعت طلبہ کا جھگڑا۔ کبھی شاہ فیصل کالونی میں جھنڈا لگانے پر جنگ چھڑ جاتی ہے، لوگ مارے جاتے ہیں، اور مرنے والا ایم کیوایم کا کوئی سرگرم کارکن ہو تو اس کے نام پر ایک شہید چوک بن جاتا ہے جس پر ایم کیوایم کا پرچم لہرا رہا ہوتا ہے۔ کبھی یہی سب ماڈل کالونی میں ہوتا ہے۔ ایم کیوایم نے ”حقوق یا موت“ کا نعرہ لگایا تھا، دیواروں پر یہ نعرہ کراس میں بنی دو بندوقوں اور ایک نقاب پوش کی گھٹیا سی پینٹنگ کے ساتھ لکھا ہوتا تھا۔

حقوق تو پتا نہیں کب ملیں گے، ملیں گے بھی یا نہیں، لیکن لاشیں روز مل رہی ہیں۔ مرنے والا مہاجر ہو تو ایم کیوایم کا بیان آتا ہے کہ مرحوم مہاجرقومی موومنٹ کے ہم درد تھے۔ جانے اندھادھند فائرنگ کرتے گزر جانے والوں کو کیسے پتا چلتا ہے کہ انھوں نے جسے مارا وہ ایم کیوایم کا ہم درد تھا۔ شاید ایم کیوایم کے مخالفوں اور خود ایم کیوایم میں اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے کہ ہر مہاجر ایم کیوایم کا ”ہم درد“ ہے۔ لیکن ایم کیوایم ہر مہاجر کی ہم درد نہیں، ان کی تو بالکل بھی نہیں جو کسی اور جماعت سے وابستہ ہیں۔

پچھلے ہفتے ہی بینا بتارہی تھی کہ نیپا چورنگی پر جمیعت کے لڑکوں کو بہت بری طرح مارا ہے۔ چھوٹے چچا بھی اسی لیے پریشان ہیں۔ پریشان تو ہونا ہی ہے، رہتے ہیں ایم کیو ایم کے گڑھ نیو کراچی میں اور بیٹا جمیعت کا سرگرم کارکن۔ چچی بھی کہہ رہی تھیں جب تک فراز کالج سے نہ آ جائے دل کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے۔ امی نے بھائی جان کو چھوٹے چچا کی پریشانی کا بتایا اور کہا کہ شہاب بھائی سے بات کرکے کہیں کہ اردو سائنس کالج میں اے پی ایم ایس او والوں پر اپنا اثرورسوخ استعمال کریں کہ فراز کو کچھ نہ کہا جائے۔

بھائی جان ہنسنے لگے اور بولے، ”امی شہاب صرف کونسلر ہے تنظیمی عہدے دار تھوڑی ہے کہ کوئی اس کی سنے گا۔ اور جماعت اور جمعیت میں تو اس کا سگا بھی ہو تو وہ کچھ نہ کرے، یہ تو مہاجر دشمن ہیں۔ انھوں نے الطاف بھائی اور ان کے ساتھیوں کو مارمار کر جامعہ کراچی سے نکال دیا تھا۔“ آخر امی نے خود ہی شہاب بھائی کو فون کرکے کہا۔ انھوں نے بس ہوں ہاں کرکے تسلی دے دی کہ بے فکر رہیں کچھ نہیں ہوگا۔ ان کے لہجے سے امی سمجھ گئیں کہ وہ اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتے نہ ہی کچھ کرنا چاہتے ہیں۔

میڈم انیس پڑھاتی معاشیات ہیں مگر دل چسپی انھیں سیاسیات سے زیادہ ہے۔ ان کی گفتگو سے مجھے بہت کچھ جاننے کو ملتا ہے، اس لیے کوئی بات چھیڑ کر ان کی سننے میں مگن ہوجاتی ہوں۔ جس زمانے میں الطاف حسین اور عظیم احمد طارق نے کراچی یونی ورسٹی میں اے پی ایم ایس او بنائی میڈم انیس بھی وہیں پڑھ رہی تھیں۔ سب کچھ ان کا آنکھوں دیکھا ہے۔ بتاتی ہیں کہ الطاف حسین اور اے پی ایم ایس والوں کو بہت بری طرح مارا پیٹا گیا تھا۔

عظیم طارق کو تو چاقو بھی لگا تھا۔ کہنے لگیں، ”میں بھی اے پی ایم ایس او میں شامل ہونا چاہتی تھی، لیکن جمعیت کے خوف سے ارادہ بدل دیا۔“ کبھی جمعیت کے مہاجروں نے بلوچ، پختون، سندھی، پنجابی طلبہ تنظیموں کو گوارا کر لیا لیکن مہاجر طلبہ تنظیم کو برداشت نہیں کیا تھا، اب ایم کیوایم والے جماعت اسلامی کے مہاجروں کو مہاجر سمجھنے پر تیار نہیں۔

ﷲ اللہ کرکے گھر میں ٹیلی فون لگ گیا۔ ٹیلی فون لگنے کی کتنی خوشی تھی مگر الٹی سیدھی کالیں آنے لگیں تو بھائی جان نے پابندی لگا دی کہ فون وہ خود، امی یا ابو اٹینڈ کریں گے میں اور بھابھی فون نہیں اٹھائیں گی چاہے گھنٹی بجتی رہے۔ کیسے کیسے چھچھورے ہیں لاکھ برا بھلا کہو پھر بھی ”اچھا بات تو کرو، بات تو سنو“ کی رٹ لگائے رکھتے ہیں۔ یہ بھی ایک معجزہ ہے کہ ہمارے ہاں اتنی جلدی فون لگ گیا سب حیران ہیں ورنہ درخواست دے کر بھول جاؤ یا پیسے کھلاؤ تب جاکر لائن کھمبے سے گھر تک کھینچی جاتی ہے۔

وہ تو قسمت اچھی تھی کہ بھائی جان درخواست لے کر گئے تو ٹیلی فون ایکسچینج کے اے ای نے انھیں پہچان لیا۔ وہ بھی میرپورخاص کا ہے۔ بھائی جان بھی اسے پہچان گئے کہہ رہے تھے بہت متعصب سندھی ہے۔ وہاں ہمیں دیکھ کر اس کی آنکھوں سے نفرت جھلکنے لگتی تھی کوئی اردو میں بات کرے تو سندھی میں جواب دیتا تھا، مگر یہاں ایسے ملا جیسے پردیس میں کوئی اپنا مل جائے۔ عجیب بات ہے جو اپنے شہر میں غیر تھا دوسرے شہر میں اپنا بن گیا، جو بھی ہوا لیکن ہمارے گھر دو مہینے بعد ہی فون کی گھنٹی ٹرن ٹرن ٹرن بج رہی تھی۔

اب کراچی میں فون ضروری بھی تو بہت ہوگیا ہے پتا ہی نہیں ہوتا کب حالات خراب ہوجائیں، آدمی کم ازکم اپنی خیریت تو بتا سکتا ہے۔ پھر گھر سے نکلنے والا دیر تک نہ آئے تو اسے تلاش کرنے کی کوشش تو کی جاسکتی ہے ٍ، جیسے اس دن پچھلی گلی میں رہنے والے ابو کے دوست بشیر صاحب کا بیٹا رات تک نہیں آیا تو وہ ہمارے گھر آکر ہی نمبر ملاملاکر بیٹے کے دوستوں اور اپنے رشتے داروں کے گھر جن جن کے ہاں فون تھا اسے ڈھونڈتے رہے تھے۔

سب سے مایوس ہوکر اسپتالوں میں فون کیے تو پتا چلا جناح اسپتال میں ہے پی پی آئی والوں نے گولی ماردی تھی اسے۔ آج کل کسی کو مارنا بھی نہایت آسان ہے یہی سمجھا جائے گا کہ مرنے والا زبان کی وجہ سے مارا گیا یا مسلک کی وجہ سے۔ بھابھی کی خالہ کے محلے ٹی اینڈ ٹی کالونی میں یہی تو ہوا تھا۔ ایک پٹھان اپنا قرض واپس لینے آیا تو پیسے واپس کرنے کے بجائے شور مچادیا کہ وہ مارنے آیا ہے۔ لوگ سوچے سمجھے بغیر اس پر ٹوٹ پڑے اور بے چارے پٹھان کی جان لے کر ہی چھوڑی۔

شمن دادا کہتے ہیں، ”نرم دل لوگ جب ہجوم کی صورت میں ماریں تو نہایت ظالم ہو جاتے ہیں۔ نفرت بھی نکل رہی ہوتی ہے اور ان میں سے ہر ایک کا ضمیر بھی مطمئن ہوتا ہے کہ اس کے چند مکوں، لاتوں اور ڈنڈے کے ایک دو وار سے کوئی تھوڑی مرا۔“ شمن دادا کس طرح ہر واقعے ہر معاملے کی تہہ تک اتر جاتے ہیں حیرت ہے۔ وہ ہفتے دس دن بعد ہمارے گھر کا چکر ضرور لگاتے ہیں۔ بہت دنوں تک نہیں آئے تو امی کہنے لگیں ”جاکر دیکھ آؤ، شمن بھائی کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟

“ جیسے ہی شمن دادا کے گھر میں داخل ہوئی، ان کی بہو مجھے دیکھ کر ہنستے ہوئے بولیں، ”ابا کو بھول جاؤ، اب تو بس وہ ہیں اور پرانی فلمیں“ پھر ساتھ والے کمرے کی طرف اشارہ کر دیا، کھلے دروازے سے ہی ٹی وی اسکرین دکھائی دے رہی تھی، ایک بڑی بڑی آنکھوں والی خاتون ذرا بھی ہلے جلے بغیر گارہی تھیں ”آجا صنم مدھر چاندنی میں ہم تم ملے تو ویرانے میں بھی آ جائے گی بہار“ اور صنم صاحب ان کی طرف پیٹھ کیے چلے جا رہے تھے۔

مگر دیکھنے کا منظر تو یہ تھا کہ شمن دادا آرام کرسی پر ٹیک لگائے کرسی کے ہتھوں کو گانے کی دھن پر تھپتپاتے ہوئے ہیروئن کے سر سے سر ملانے کی پوری کوشش کر رہے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی جھینپی ہوئی مسکراہٹ گالوں کی جھریوں تک پھیل گئی۔ انھوں نے ریموٹ اٹھایا تو میں نے دھیان دیا کہ ٹی وی کی ٹرالی کے خانے میں یہ بڑا وی سی آر دہرا ہے۔ پتا چلا شمن دادا کے بیٹے وی سی آر لے آئے ہیں، جس کے بعد سے وہ ہر دوسرے دن پرچی پر کسی فلم کا نام لکھ کر بیٹے کو تھما دیتے ہیں ”یہ ملے تو لے آنا“ جب بیٹے کا صدر جانا ہو تو رینبو سینٹر سے یہ فرمائشی فلم آ جاتی ہے۔

محلے کی تینوں وڈیوشاپس پر اتنی پرانی فلمیں نہیں ملتیں ورنہ شمن دادا خود ہی جاکر لے آتے۔ اچھا ہوا بھابھی کے جہیز میں وی سی آر آ گیا، کرائے کا وی سی آر لاکر رات بھر تین تین چار چار فلمیں دیکھنے کی مشقت سے جان چھوٹ گئی۔ اب تو کوئی نئی فلم یا عمرشریف کا ڈراما آتا ہے، بھائی جان پٹھان کے ہوٹل کے ساتھ والی ”صبا وڈیو“ سے لے آتے ہیں، کبھی کبھی میں بھی لے آتی ہوں۔ مجھے یہ دیکھ کر بڑا عجیب لگتا تھا لڑکے وڈیو کی دکان سے کوئی وڈیوکیسٹ لیتے اور ادھرادھر دیکھتے ہوئے اسے قمیص اٹھا کر نیفے میں اڑس لیتے۔

میں سوچتی اس میں بھلا چھپانے والی کیا بات ہے؟ پھر معلوم ہوا کہ یہ فلمیں چھپانے والی ہی ہوتی ہیں۔ کس قدر بے شرم، بے حیا، بے غیرت ہوتے ہیں یہ لڑکے۔ اس دن عامر خان کی ”قیامت سے قیامت تک“ لینے گئی۔ فلم ہاتھ میں لے کر پلٹ ہی رہی تھی کہ ایک باؤلا سا گھبراہٹ کی شکل کا آدمی دکان میں داخل ہوا اور آتے ہی بولا ”بپی ہے، بپی ہے“ ، میں نے بے اختیار پلٹ کر دیکھا تو صبا وڈیو والا ارشد چہرے پر شرمندگی اور برہمی لیے اسے ہاتھ کے اشارے سے چپ کرارہا تھا۔ بعد میں ایک دوست کو یہ واقعہ سنایا تو چھوٹتے ہی بولی ”B P کہہ رہا ہوگا“ پھر اسی نے بتایا یہ کس بلاکا نام ہے۔

اس سیریز کے دیگر حصےنوشابہ کی ڈائری: وہ کسی اسامہ نام کے مجاہد سے بہت متاثر ہوانوشابہ کی ڈائری: انھیں بس چوبیس گھنٹے کا ٹائم ملا ہے بدلہ لینے کے لیے…

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).