گمشدہ بچہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک نہایت ہی ضعیف اور بوڑھا شخص تھانے میں اپنے بچے کی گمشدگی کی رپورٹ کے حوالے سے لاٹھی کے سہارے ہانپتا اور کانپتا ہوا داخل ہوا۔ تھانیدار نے ان کی عمر اور ضعیفی دیکھتے ہوئے اٹھ کر استقبال کیا اور فوراً انہیں بیٹھنے کے لئے کرسی پیش کی۔ سامنے کھڑے سپاہی سے پانی لانے کے لئے کہا۔ بوڑھے شخص کو اپنی سانسوں کو نارمل کرنے میں بھی کافی دیر لگی تب جا کر وہ پانی پینے کے قابل ہوا۔ اس کی سانسوں کی رفتار بہتر ہوئی تو تھانیدار کو بھی سوال پوچھنے کی ہمت ہوئی۔

”جی بزرگو! فرمائیے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟“

تھانیدار نے نہایت ادب و احترام سے پوچھا تو بوڑھے شخص نے اپنی جھکی ہوئی نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اور کچھ توقف کے بعد بے حد تھکے ہوئے لہجے میں بولا

”بیٹا میری عمر اور ضعیفی دیکھ کر تمہیں مجھ پر ترس تو آ گیا ہے مگر ٹوٹی ہوئی کمر شاید اب کبھی بھی سیدھی نہ ہو سکے۔ میں زندگی سے بے حد مایوس ہو چکا ہوں، کچھ پتا نہیں زندگی کی بازی کس وقت ہار جاؤں مگر بیٹا زندہ تو میں اس وقت بھی نہیں ہوں۔ یہ جو تمہارے سامنے ایک لاچار، مجبور اور تھکا ہوا ہوا شخص بیٹھا ہوا ہے، یہ ایک زندہ لاش ہے۔“

بوڑھے شخص نے سانس لینے کے لئے تھوڑا سا وقفہ لیا تو تھانیدار نے پھر پوچھنے کی جرات کی۔
” معاف کیجئے گا بابا جی مجھے آپ نے یہ نہیں بتایا کہ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟“

”بیٹا! اللہ تمہیں لمبی عمر اور صحت عطا فرمائے۔ بیٹا غم ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو وقت سے پہلے مار دیتی ہے۔ یہ غم اگر تمہارے کسی بہت ہی عزیز رشتے کے حوالے سے ہو تو پھر یہ غم نہیں رہتا بیٹا، ایک اذیت بن جاتا ہے جو نہ جینے دیتا ہے نہ مرنے دیتا ہے۔ ۔ ۔“

بابا جی پھر ایک دم خاموش ہوگئے جیسے سانس لینا چاہ رہے ہوں یا جیسے بات کرتے کرتے بندہ بھول جائے کہ وہ کیا بات کر رہا تھا۔ قدرے توقف کے بعد تھانیدار نے پھر سوال پوچھنے کی ہمت کی۔ وہ یہی سمجھ رہا تھا کہ بزرگ شاید غلطی سے تھانے میں آ گیا ہے۔

” معاف کیجئے گا بابا جی، آپ نے بتایا نہیں کہ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں۔ ۔ ۔ ؟“

”بیٹا۔ ۔ ۔ میں یہ کہ رہا تھا کہ غم بہت ہی اذیت ناک چیز ہے، نہ جینے دیتا ہے، نہ مرنے۔ میرا بیٹا کئی سالوں سے گم ہے بیٹا۔ اس کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں چلا گیا، یا اسے کسی نے گم کر دیا۔ ۔ ۔“

بابا جی نے ”کئی سالوں سے“ کو بہت زیادہ کھینچتے ہوئے کہا اور پھر چپ ہو گئے، جیسے کہیں کھو گئے ہوں۔
” کب گم ہوا ہے آپ کا بیٹا بابا جی؟ اور اس کی عمر کیا ہے؟“

تھانیدار کو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کیونکہ اس کا اندازہ تھا کہ بزرگ کی اپنی عمر بھی سو سال سے اوپر ہی ہوگی۔ تو اس عمر میں اس کے بیٹے کی عمر کیا ہو سکتی ہے اور وہ کیسے گم ہو سکتا ہے۔ یقیناً بابا جی کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہو گا۔ اس نے دل میں سوچا اور پھر بزرگ سے مخاطب ہوا۔ مگر بابا جی نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش رہے تو تھانیدار نے نہایت تحمل اور احترام سے اپنا سوال پھر دہرایا۔

”بابا جی! ذرا یاد کرکے مجھے بتائیں کہ آپ کا بیٹا کب گم ہوا تھا اور اس کی عمر کیا تھی؟“
”بہت کم عمر تھی اسکی، بہت ہی چھوٹا تھا اس وقت وہ۔ ۔ ۔ بہت ہی چھوٹا اور معصوم۔ ۔ ۔“
بابا جی نے ایسے کہا جیسے اس کے سامنے اپنے معصوم بچے کا تصور آ گیا ہو۔
”یہ کب کی بات ہے بابا جی۔ ۔ ۔ کچھ یاد ہے آپ کو۔ ۔ ۔ ؟“

” ٹھیک طرح سے تو یاد نہیں مگر میرے بچے کو گم ہوئے کوئی ساٹھ ستر سال تو ہوگئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں اس وقت وہ کتنا بڑا ہوگیا ہوگا؟“

بابا جی نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا۔ اب تھانیدار کو پورا پورا یقین ہوگیا کہ بابا جی کا دماغی توازن خراب ہے۔

” بابا جی! اتنے سال گزر گئے، اب کہاں سے ملے گا آپ کا بیٹا۔ ۔ ۔ ؟“

” میرا بیٹا تو ملے یا نہ ملے، اب مجھ پر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں تو اب ایک زندہ لاش بن چکا ہوں اور لاشیں دوبارہ زندہ نہیں ہوتیں۔ مگر وہ گم کیوں ہوا اس سوال کا جواب ڈھونڈنا تو تمہارا فرض بنتا ہے، تم اگر اس سوال کا جواب نہیں ڈھونڈ سکو گے تو شاید تاریخ تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ۔ ۔“

بزرگ نے یہ جملہ بڑے کرب سے کہا اور تھانے میں کرسی کے بالکل اوپر لگی ہوئی تصویر کو ایسے دیکھا جیسے اس نے اپنے حصے کا کام کر لیا ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •