گیارہ اگست کی تقریر پر بحث

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تہتر برس قبل ہمارے اجداد ایک قطعہ ارض حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن زمین کا وہ ٹکڑا جو انتھک محنت اور لا زوال جد وجہد سے حاصل ہوا تھا، پون صدی گزرنے کے بعد بھی گھر بن سکا اور نہ اسے حاصل کرنے والے ایک خاندان۔ ہمارے ساتھ ہی ہندوستان نے آزادی حاصل کی۔ وہاں پہلے روز ہی چند بنیادی باتوں پر اتفاق ہو گیا اور آج تک وہ اسی سمت گامزن ہیں۔ افسوس ہمارے ساتھ اس کے بر عکس معاملہ ہوا اور ہماری تاریخ حادثات اور اتفاقات سے دوچار ہوتی رہی۔

اس میں کیا شک ہے کہ بر صغیر کا بٹوارہ خالصتا مذہبی بنیاد پر ہوا تھا۔ اب تک مگر قیام پاکستان کے مقصد کے بارے شکوک و شبہات ختم نہیں ہو رہے۔ قائداعظم نے 13 جنوری 1948 کو اسلامیہ کالج پشاور میں خطاب کرتے فرمایا تھا کہ ”ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کی خاطر نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں“ ۔ اس کے باوجود ہر سال گیارہ اگست کو قائداعظم کی تقریر کے چند جملوں کو بنیاد بنا کر بحث چھیڑ دی جاتی ہے۔

یہ درست ہے کہ قائد اعظم نے گیارہ اگست کی تقریر میں کہا تھا ”پاکستان میں نہ کوئی مسلم ہے، نہ ہندو نہ سکھ نہ پارسی یا عیسائی، مذہبی حوالے سے نہیں بلکہ سیاسی حوالے سے، سب پاکستانی ہیں۔ لیکن اس تقریر میں انہوں نے یہ کب کہا کہ وہ ایک سیکولر ریاست چاہتے تھے۔ بانیان پاکستان کے پیش نظر اگر ریاست کو سیکولر بنانا ہی مقصد تھا تو پھر اس قدر خوں خرابے کی کیا ضرورت تھی۔

ہندو نمائندہ جماعت کانگریس کا موقف شروع سے یہ تھا کہ قومیں وطن سے بنتی ہیں۔ یعنی ایک جغرافیے میں رہنے والے لوگ خواہ کسی کا عقیدہ کچھ بھی ہو، ایک قوم ہوتے ہیں۔ ہندوستان کے اندر رہنے والا ہر شخص بلا تفریق مذہب ہندوستانی ہے۔ ہندوستانی ریاست سیکولر ہو گی اور ہر فرد برابر کے حقوق کا حق دار ہو گا۔ سیکولر کی تعریف یہ بیان کی جاتی ہے کہ مذہب ہر شخص کا ذاتی مسئلہ ہے اور وہ اسے اپنے آپ تک محدود رکھے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ کاروبار میں مذہبی نقطہ نظر سے بالکل بیگانہ رہے اور کسی بھی مذہبی وابستگی سے بالاتر ہو کر نظام چلائے۔

مسلم لیگ اور اس کے رہنماؤں کا اصرار تھا کہ مسلمان اپنا مکمل جداگانہ تہذیبی، ثقافتی اور سماجی تشخص رکھتے ہیں۔ ان کی مذہبی تعلیمات اجتماعی نظم و نسق کا تقاضا کرتی ہیں اور اس کی حفاظت ان کا بنیادی حق ہے۔ اس دلیل کو بنیاد بنا کر یہ مطالبہ پیش ہوا کہ جہاں جہاں مسلم اکثریت ہے، انہیں مکمل علیحدگی دی جائے یا پھر انہیں واضح خود مختاری حاصل ہو تاکہ وہ آزادانہ اپنی مذہبی تعلیمات سے اپنی اجتماعی زندگی کو مطابقت دے سکیں۔

متحدہ ہندوستان میں 1946 ء کے انتخابات میں کانگریس اور مسلم لیگ دونوں بڑی جماعتیں بن کر ابھریں۔ مسلم لیگ کے پاس مسلمان ووٹروں کی نمائندگی کا مینڈیٹ تھا اور مسلمانوں کے لئے مختص نشستوں کی بہت بڑی تعداد اس نے حاصل کر لی تھی۔ یاد رہے کہ یہ نمائندگی مسلمانوں کے لئے مذہبی بنیادوں پر الگ ریاست کے حصول کی جد و جہد کے وعدے پر ہی حاصل کی گئی تھی۔ اس انتخاب کے بعد دونوں بڑی جماعتوں اور قابض برطانوی حکومت کے نمائندوں کے درمیان بات چیت ہوئی جس میں برصغیر کے تصفیے کے لیے مختلف آپشن زیر غور آئے۔

بعد ازاں طے پایا کہ برصغیر کو ہندو اور مسلم اکثریت کے علاقوں میں تقسیم کر کے، دو الگ الگ ریاستیں بنا دی جائیں۔ بٹوارے سے قبل کی تاریخ سے قطع نظر صرف اس تقسیم کے نتیجے میں ہونے والی ہجرت کی خونچکاں داستان ہی مد نظر رکھی جائے تو سمجھنا مشکل نہیں کہ یہ انتظامی یا سیاسی تقسیم ہرگز نہیں تھی بلکہ یہ خالصتا مذہبی بنیادوں پر تقسیم تھی جس کے تحت وجود میں آنی والی دو ریاستوں میں سے ایک ریاست پاکستان کا مقصد ہی مسلمان قوم کو اپنی مذہبی اقدار کے تحفظ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا تھا۔ لیکن بد قسمتی سے اس قول سے انحراف کے نتیجے میں خواجہ ناظم الدین کے دور میں فسادات برپا ہو گئے۔ اس کے باوجود صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرنے کے بجائے سازشی عناصر نے اپنے مقاصد کے لیے دانستہ شورش کو طول دیا جس کے سبب پہلے مارشل لاء کی راہ ہموار ہوئی۔

اسی طرح پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے قرارداد مقاصد منظور کی جس کا کہنا ہے کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے، اور عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے اسے بروئے کار لایا جائے گا۔ یعنی یہ بھی اتفاق تھا کہ اس مملکت میں طاقت کا اصل سر چشمہ عوام ہوں گے۔ انہیں ہمیشہ یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ جسے چاہیں خود پر حکمرانی کا حق عطا کریں۔ لیکن اس عہد پر بھی کتنا عمل ہوا؟ عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے جمہوری نظام چنا گیا۔

لیکن جمہور کی منشا ہر دور میں کتنی شامل حال رہی، یہ دہرانے کی نہ تو یہاں ضرورت ہے اور نہ اجازت۔ بس اتنا کہنا کافی ہے کہ ضمیر پر بوجھ ہے، اور دل میں کسک موجود ہے مگر زبان پر مصلحتوں کا قفل ہے جو کچھ کہنے سے روکتا ہے۔ اسی دوران بھارتی دستوریہ نے بھی اپنی ضرورت کے مطابق ایک قرارداد منظور کی۔ جس کے مطابق نظریاتی اعتبار سے ہندوستان سیکولر ریاست قرار پائی اور وہاں بھی حکمرانی کے لیے پارلیمانی جمہوری نظام چنا گیا۔

ہماری اور ان کی تاریخ بھی یکساں ہے۔ ان کے اور ہمارے مسائل و وسائل میں بھی زیادہ فرق نہیں۔ حالات و واقعات کی یکسانیت کے باوجود لیکن اپنے عہد و قرار کی پاسداری کی وجہ سے آج تک نہ تو وہاں نظام مملکت کی گاڑی پٹڑی سے اتری اور نہ ہی وہاں کوئی آپسی کشمکش نظر آئی۔ دنیا بھی اسی وجہ سے آج ان کی بات کو زیادہ اہمیت اور ہمارے بیانیے کو شک کی نظر سے دیکھتی ہے۔

انہی اسباب کے باعث سینتالیس میں حاصل کی گئی دنیا کی واحد نظریاتی ریاست اکہتر میں دولخت ہو گئی۔ بلا شبہ اس دیوار کو کھینچنے میں اغیار کی سازش بھی ہو گی مگر، ہم اس کو بیان کرنے کے ساتھ خود بگاڑی ہوئی اپنی تقدیر کا ذکر کیوں بھول جاتے ہیں۔ کینہ پرور ہمسائے کا کام ہے کمینگی دکھانا لیکن اپنا گھر اندر سے محفوظ رکھنا کس کی ذمہ داری ہے؟ اتفاق رائے سے آج تک ہمیں کس نے روکا ہے؟ ہم اب تک جمہوری اقدار مضبوط کیوں نہیں کر پائے؟

کیا جمہوری روایات اور سوچ کو بھی کسی دشمن نے یہاں پنپنے نہیں دیا۔ یہ کس دشمن کی کارستانی ہے کہ بار بار یہاں مذہبی حساسیت کے حامل قوانین کو چھیڑ کر شورش اور غیر جمہوری قوتوں کی مداخلت کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ ہم اگر اکثریتی رائے کا احترام کرنے اور عوام کے منتخب نمائندوں کو اختیار دینے کے قائل نہیں تو اس میں کسی خارجی عامل کا کیا دوش ہے؟ خدا کو حاضر ناظر جان کر ذرا سوچیے کیا ہمارا وجود محض دشمن کی مداخلت سے ٹکڑے ہو سکتا تھا؟

بانیان پاکستان نے بلا شبہ بہت مقدس خواب دیکھا تھا، مگر یہ خواب حقیقت بننے میں نہ تو حالات موافق رہے اور نہ انہیں اتنی مہلت ملی۔ آج اگر ہم راندہ درگاہ ہیں تو اس میں بانیان پاکستان کی سوچ، نظریہ پاکستان یا نظام مملکت اسلامی بنانے کی خواہش کا کوئی دوش نہیں بلکہ قصور ہماری گروہوں میں بٹی سوچ کا ہے۔ دعا ہے کہ ہمارا برسوں سے جاری دائرے کا سفر ختم ہو اور ہمیں وہ منزل نصیب ہو جس کا خواب بانیان پاکستان نے دیکھا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •