ڈاکٹر شاہد اقبال کامران۔۔۔ ایک راست گو محقق و استاد
ڈاکٹر شاہد اقبال کامران شعبہ اقبالیات علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر اور ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومینٹیز ہیں۔ وہ 2008 سے 2018ء تک شعبہ اقبالیات کے صدر کے طور پر اپنے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ اقبالیات میں تحقیق و تنقید کے ساتھ ساتھ مطالعہ فیض ’اردو زبان و ادب اور اردو کی نصابی کتب کے تجزیاتی مطالعے ان کی خصوصی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ اقبال اور اردو کے حوالے سے سات کتب کے مصنف ہیں (اقبال دوستی دوسرا ایڈیشن‘ اقبال چند خصوصی مطالعات (مرتب) ’اقبال دوستی‘ پاکستان میں تدریس اردو ’اقبالیات درسی کتب میں‘ اقبال کا تصور قومیت ’ملت اسلامیی۔ ایک عمرانی مطالعہ ”۔ مختلف موضوعات پر اسی 80 سے زائد تحقیقی مقالات لکھ چکے ہیں جبکہ قومی اخبارات میں ان کے ساٹھ سے زائد مضامین شائع ہوچکے ہیں۔
ڈاکٹر شاہد اقبال کامران اپنے شاگردوں اور تحقیق کی دنیا میں قدم رکھنے والے محققین کے لیے ایک مشفق رہنما /استاد کی مانند ہر مشکل مرحلے کو آسان بنانے میں بھرپور معاونت فرماتے ہیں۔ آج سے قریباً بیس پچیس برس قبل ’جب ملکی جامعات کی تعداد بھی خاصی کم تھی اور ایم۔ فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر داخلوں کی زیادہ حوصلہ افزائی بھی نہیں کی جاتی تھی۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کو تحقیق سے دلچسپی رکھنے والے طالب علموں کے لیے ایک اہسا موزوں پلیٹ فارم سمجھا جاتا تھا۔
جہاں مختلف اداروں اورشعبوں میں ملازمت کرنے والے افراد بآسانی داخلہ لیتے تھے اور جامعہ کے قواعد و ضوابط پر عمل کرتے ہوئے اپنی ڈگری مکمل کرتے تھے۔ باقاعدہ کلاسوں کی بجائے سیمیناروں کا رواج تھا جہاں ملک بھر سے نامور اہل علم و فن تشریف لاتے تھے اور ریسرچ سکالرز سے مکالمہ کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے ہماری ایم فل کی ورکشاپ کے دوران میں ایک دن ایسا بھی آیا کہ بیرون شہر سے مدعو کیے گئے مقررین میں سے کوئی بھی بروقت نہ پہنچ سکا۔
ڈاکٹر صاحب نے یماری جماعت کو اکٹھا کیا اور دریافت کیا کہ آپ میں سے کون سے ریسرچ سکالرز اپنی جماعت سے نصاب کے حوالے سے مکالمہ کرنا چاہتے ہیں۔ بس پھر ہمیں ہماری دلچسپی کے موضوعات تفویض کردییے گئے اور ہم جماعتوں سے ایک علمی و ادبی مکالمہ ہوا جس کی نگرانی ڈاکٹر شاہد اقبال کامران نے کی۔ اس طرح نہ صرف ایک پورا دن ضائع ہونے سے بچ گیا بلکہ ہمارے جیسے طالب علموں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا۔ تحقیقی مقالے کے لیے موضوع کے انتخاب سے لے کر زبانی امتحان کے انعقاد تک ڈاکٹر صاحب جس شفقت کے ساتھ رہنمائی فرماتے وہ ان سے ہی خاص ہے۔
زبانی امتحان کے موقع پر جب ریسرچ سکالر سخت ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے اسے تحقیقی مقالے پر کچھ گفتگو کے بعد مقالہ ایک طرف رکھنے کا کہتے اور اپنے زمانۂ طالب علمی کے قصے سناتے یہاں تک کہ ریسرچ سکالر کے ذہن سے زبانی امتحان کا خوف عنقا ہوجاتا‘ پھر فرماتے کہ نہایت اعتماد کے ساتھ ممتحنین کے سوالوں کے جواب دیجیے اور پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس تمام شفقت کے باوجود ڈاکٹر شاہد اقبال کامران حق کی راہ کے ایک ایسے مسافر ہیں جنھوں نے آج تک اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
اسی راست گوئی کے سبب انھیں اپنی ملازمت کے دوران میں بارہا نامساعد حالات کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر وہ اپنے اصولی موقف سے کبھی دستبردار نہ ہوئے۔ میں نے 2006 میں اپنی ایک کتاب ”توضیحی مطالعات“ دیباچے کی درخواست کے ساتھ پیش کی تو کہنے لگے ”رابعہ تم نے اتنی چھوٹی سی عمر میں وہ سب کچھ لکھ ڈالا ہے جو لوگ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعداور اپنی وفات سے ذرا پہلے لکھتے ہیں۔ میں پریشان ہوں کہ جب تک تم ان کی عمر کو پہنچو گی تمھارے تصنیفی کاموں کی فہرست کتنی طویل ہوگی؟
“ سچ تو یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی بدولت مجھ جیسے اور بہت سے شاگرد اپنے علمی و ادبی سفر کو ایک عزم اور حوصلے سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ افراتفری کے اس دور میں ایک سچا اور کھرا استاد اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ ڈاکٹرشاہد اقبال کامران ایک مشفق رہنما کی حیثیت سے اپنے شاگردوں کے لیے کسی اثاثے سے کم نہیں۔ مختلف سیمیناروں اور کانفرنسوں میں ان کی بے باک گفتگو کچھ سامعین پر گراں بھی گزرتی ہے مگر وہ اپنے موقف کو سہولت سے شرکائے محفل تک پہنچانے کے ہنر سے بخوبی واقف ہیں۔ فرسودہ اور گھسے پٹے انداز تدریس و تحقیق سے گریزاں یہ استاد تحقیق و تدریس میں تازگی کے متلاشی ذہنوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ دعا ہے کہ اللہ ان کی توفیقات میں مزید اضافہ کرے اور بحیثیت استاد اپنے اصولی موقف اور راست گوئی کا محافظ بنائے۔


