میاں افتخار حسین کا بیان اور اسرائیل و فلسطین تنازع


پندرہ اگست کی صبح جمیعت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری میاں افتخار حسین کے بھائی کی وفات کی تعزیت کیلئے باچا خان مرکز آ گئے۔ فاتحہ خوانی کے بعد مولانا اور میاں افتخار حسین نے بڑی تعداد میں آئے ہوئے میڈیا کارکنان کے سوالوں کے جواب بھی دئے۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ موجودہ دنیا کا سیاسی منظر نامہ بدل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے حکومت کے لئے پارلیمان کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ مزید بات کرتے میاں صاحب نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی خدائی خدمتگار تحریک کے عدم تشدد کا تسلسل ہے اس لئے تنازعات کے حل کیلئے جنگ کی بجائے مذاکرات اور بات چیت کو صحیح راستہ تصور کرتی ہے۔ اس سے انکا مدعا یہ تھا کہ فلسطین کے حق خود ارادیت پر کوئی کمپرومائز نہ کیا جائے۔ فلسطین کی محکومیت اور قبلہ اوّل کی آزادی پر کوئی کمپرومائز نہ کیا جائے۔

ایسا لگتا ہے کہ مقتدرہ کے کچھ حلقوں کو شاید مولانا فضل الرحمان کا باچا خان مرکز آنا اور میاں صاحب کے بھائی کی تعزیت کرنا ناگوار گزرا اس لئے کچھ حلقوں اور مرکزی دھارے کے کچھ میڈیا کارندوں نے میاں افتخار حسین کے بیان کو توڑ مروڑ کر ایسا تاثر دینا شروع کردیا جیسے کہ خدا نخواستہ میاں صاحب نے اسرائیل کی جارحیت کی حمایت کردی۔ اس طرح کا سراسر جھوٹ اور غلط بیانی پر مبنی جعلی خبریں پھیلانا کچھ مفاد پرست حلقوں کا پرانا دھندہ اور وطیرہ رہا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کا قوموں کے حق خود ارادیت کی حمایت کا موقف ایک عرصے سے معلوم بھی ہے اور جانا پہچانا بھی۔ فلسطین کو تو چھوڑیں عوامی نیشنل پارٹی نے تو کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت بھی کی ہے اور اس کے حق میں مسلسل آواز بھی اٹھائی ہے۔ محکوم و مظلوم اقوام کے حق خود ارادیت کی حمایت اور اس کے لئے آواز اٹھانے پر کئی بار عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان اور رہنما زیر عتاب بھی آئے ہیں۔ یہ ساری معلومات ریکارڈ پر موجود ہیں۔

باالخصوص فلسطین کے حق خود ارادیت کے حوالے سے بیسویں صدی کے درمیانی عرصے میں باچا خان کے فلسطین کے دورے سے لیکر عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیار ولی خان تک عوامی نیشنل پارٹی اور اسکے پیشرؤں کا ایک ہی موقف رہا ہے۔ وہ موقف یہ ہے کہ فلسطینی عوام کا آزادی اور خود اختیاری پر اتنا ہی حق ہے جتنا کسی بھی دوسری اقوام کے عوام کا ہے۔ اور یہ کہ قبلہ اوّل پر کسی قسم کا قبضہ قابل قبول نہیں۔

میاں افتخار حسین جیسے سیاسی رہنما جو لڑکپن سے خدائی خدمتگاری اور اسکے تسلسل عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ رہے ہیں انکے خلاف اسرائیل کی حمایت کا ایسا جھوٹ اور غلط بیانی پر مبنی غلیظ پروپیگنڈا کرنا تاریخ، منطق اور سچائی کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان اور انسانیت کے اعلی تر مفاد میں گزارش کی جاسکتی ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین کے خلاف جھوٹ اور غلط بیانی پر مبنی پروپیگنڈا مہم بند کی جائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خادم حسین

(خادم حسین پانچ کتابوں کے مصنف ہیں اور @khadimHussain 4 پر ٹویٹ کرتے ہیں۔ )

khadim-hussain has 9 posts and counting.See all posts by khadim-hussain