لوکاٹ، آلوچے اور خوبانی کے پیڑوں میں گزرے بچپن کی یاد
کیسے سہانے دن تھے وہ۔ سردی گرمی کا احساس ہوتا تھا نہ تھکن کا۔ بچپن میں شاید ہر کسی میں ایک عجیب سی توانائی لہریں لیتی ہے جو عمر بڑھنے پر ایک بے نام اداسی اور جمود میں بدل جاتی ہے۔
ہمارا گاؤں ملکیار، ہری پور شہر کے قریب واقع ہے۔ اس زمانے میں گاؤں باغوں میں گھرا ہوتا تھا۔ لوکاٹ، امرود، آلوچا اور خوبانی ہر طرح کے پھلوں کے باغات چاروں طرف پھیلے ہوتے تھے۔ صبح کا آغاز مسجد میں قاری صاحب سے قرآن مجید پڑھنے سے ہوتا جس کے بعد سکول جانے کی آزمائش درپیش ہوتی۔ ہمارا سکول ایک کرائے کے گھر میں قائم تھا۔ گھر والوں کے خوف اور سکول میں استادوں کی مار کے ڈر نے مجھے سکول سے بھاگنے سے دور رکھا لیکن یہ اس زمانے کی ایک بہت زبردست فینٹسی تھی۔ کبھی کبھار سکول سے غیر حاضر لڑکوں کی تلاش میں پارٹی جاتی اور لڑکے کو گھر یا باغ سے ڈنڈا ڈولی کر کے لایا جاتا۔
سکول کے پاس ہی ایک نالہ بہتا تھا جسے ہم کٹھا کہتے تھے۔ صاف شفاف پانی جس میں ہم اپنی تختیاں دھوتے اور کبھی کبھار سکول سے واپسی پر مچھلیاں پکڑتے تھے۔ اس زمانے میں اکثر نالوں میں مچھلیاں نظر آ جاتی تھیں اور نالوں کا پانی گھروں میں بھی استعمال ہوتا تھا۔ تختیاں دھونے کے بعد اس پر گاچنی لگا کر ہاتھ سے لیپ کرتے اور دھوپ میں سکھانے کے لیے رکھ دیتے۔ یہ تختیاں سکول میں لکھنے اور سکول کے بعد ہتھیار کا کام کرتیں جب طالب علموں میں کسی بات پر لڑائی ٹھہر جاتی۔ ہم اس لڑائی کو جنگ کہا کرتے تھے جو کبھی کبھی اسکول سے باہر گاؤں تک بھی پھیل جاتی۔ جنگ کے لیے کسی خاص وجہ کا ہونا ضروری نہیں تھا۔
استاد جنہیں ہم ماسٹر جی کہتے تھے دو یا تین ہی ہوتے تھے۔ ہیڈ ماسٹر ارشاد صاحب تھے جنھیں بڑے ماسٹر صاحب کہا جاتا۔ اب بھی کبھی نظر آتے ہیں تو شاگرد ان کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ ارشاد صاحب ایک نزدیکی گاؤں سے سائیکل پر آتے اور ہماری تمام تر دعاؤں کے باوجود ہمیشہ وقت پر سکول پہنچتے۔ سکول کے زمانے کی سب سے بڑی عیاشی چھٹی ہوتی تھی البتہ نصیب کبھی کبھی ہوتی جب بہت زوروں کی بارش ہوتی یا کسی وجہ سے اسکول بند ہوتا۔
بڑے ماسٹر صاحب کا رعب پورے اسکول پر قائم تھا اس کے باوجود شاید ہی انہوں نے کبھی کسی کو سزا دی ہو۔ سزا دینے کا کام اکثر شفیق صاحب کے سپرد ہوتا جو ہمارے ہی گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک نفیس اور خوبصورت انسان ہیں۔ اکثر سزا مرغا بنانے تک محدود ہوتی تھی۔
اسکول کے بعد اور گرمیوں کی چھٹیوں کا زیادہ تر وقت کھیل کود میں گزرتا۔ گاؤں کی گلیاں، باغات، ندی دوڑ اور گاؤں سے کچھ دور واقع رنگیلا نامی تالاب ہماری جولان گاہ ہوتے۔ سارا دن کھیل کود کے بعد دھول میں لت پت واپس گھر پہنچتے تو والدین سے جھاڑ اور مار پڑتی۔
گاؤں کا سکول چوتھی جماعت تک تھا۔ نتیجے کا اعلان 31 مارچ کو ہوتا تھا۔ نتیجے کا دن بہت گہما گہمی کا ہوتا تھا۔ اس دن استادوں کی زیر نگرانی مختلف ہم نصابی سرگرمیاں بھی منعقد ہوتیں اور بچوں کے والدین کو بلایا جاتا۔ اچھی تعلیمی کارکردگی والے بچوں کو انعام بھی ملتا۔ بچے پھولوں کے ہار بنا کر سکول لے جاتے اور استادوں کے گلے میں ڈالتے۔ نتیجے کے اعلان کے بعد سکول بہار کی چھٹیوں کے لئے بند ہو جاتا۔
پاس ہونے والے بچوں کو گاؤں سے تین کلومیٹر دور شہر میں واقع ہائی سکول میں داخلہ ملتا۔ بچے پیدل سکول جاتے اور ان کو کوئی ڈر نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت ہری پور میں ٹیلیفون انڈسٹریز کی فیکٹری چل رہی تھی۔ سردیوں گرمیوں میں صبح سویرے گاؤں سے سائیکلوں پر سوار لوگ فیکٹری میں مزدوری کے لیے جاتے۔
گاؤں اب بھی وہی ہے لیکن اس کی شکل بدل چکی ہے۔ باغ سارے کٹ چکے ہیں اور آبادی کے بے ہنگم پھیلاؤ نے گاؤں کو شہر سے ملا دیا ہے۔ شفاف پانی کے نالے اب گندی بدرو میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ سکولوں کی تعداد بڑھ گئی ہے لیکن تعلیم کا معیار روز بروز گرتا جا رہا ہے۔ وہ مخلص اور بے غرض استاد اب ڈھونڈے نہیں ملتے جو بچوں کی تعلیم اور تربیت میں ذاتی دلچسپی لیا کرتے تھے۔ جدید زمانے کی زندگی نے بچوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ ہیجان زدہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ نے بچوں کو گھر میں جدید ٹیکنالوجی کے لوازمات تک محدود کر کے ان سے ان کی فطری بے ساختگی اور چلبلا پن چھین لیا ہے۔ لوگ بہتر مستقبل کی امید میں گاؤں سے شہروں کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔ گاؤں جانا ہو تو چشم تصور وہی پرانے دن ڈھونڈتی ہے لیکن مایوس لوٹ آتی ہے۔


