گلگت بلتستان میں شفاف انتخابات کا انعقاد کیوں ضروری ہے؟
گلگت بلتستان کی اسمبلی نے اپنی دوسری مدت پوری کرلی اور نئے انتخابات کی تیاری ہے۔ 2009ء میں ایک صدارتی حکم کے تحت وجود میں آنے والی اسمبلی اور گلگت بلتستان کونسل عوامی نمائندگی کا واحد ادارہ ہے جس کو قانون سازی کے (محدود) اختیارات حاصل ہیں۔ 2009ء کے بعد صداراتی حکم نامہ میں حکومت پاکستان نے کئی ترامیم کی ہیں جو ایک الگ موضوع بحث ہے۔
اس علاقے کو گلگت بلتستان کے اصل نام کی شناخت دینے کے علاوہ ایک اور اچھی بات 2009ء کےصدارتی حکم نامہ کی یہ بھی ہے کہ مقامی لوگوں کو محدود پیمانے پر ہی سہی مگر اختیارات استعمال کرنے کا موقع ملا جس کی وجہ سے عوام کو امور مملکت میں احساس شراکت داری ہونے لگا ہے۔ وگرنہ وزارت امور کشمیر و شمالی علاقہ جات کے بابو سیاہ و سپید کے مالک ہوتے تھے اور لوگ محض رعایا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسمبلی کی مدت ختم ہونے کے 60 دنوں کے اندر انتخابات کروانے کا حکم دیا تھا جو صدارتی حکم نامہ کے تحت بھی لازم ہے لیکن گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن نے غیر معینہ مدت تک ملتوی کیا جس کو گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔ اب انتخابات فوری کروانے کا حکم صادر ہوا ہے مگر حتمی شیڈول کا اعلان ہونا اب بھی باقی ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان اور صدارتی حکم نامہ کی مقامی انتظامیہ کی طرف سےایسی خلاف ورزی ریاست پاکستان کا بحیثیت اس علاقے کی کسٹوڈین فریق کے اچھا تاثر نہیں جاتا۔ افسر شاہی کی طرف سےسربراہ ریاست اور اعلیٰ عدلیہ کے احکامات اور فیصلوں کو نظر انداز یا پس پشت ڈالنے کا مطلب یہاں ریاست کی عملداری کا فقدان ہے جو بین الاقوامی برادری میں اچھا تاثر نہیں۔
انتخابات سیاست کا پیمانہ ہوتے ہیں کیونکہ اس عمل میں سیاسی جماعتیں اور افراد اپنی مقبولیت اور پذیرائی کی بنیاد پر اپنے حلقہ نیابت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انتخابات میں افراد اور جماعتوں کے لئے یکساں مسابقت کی فضا ہموار کی جاتی ہے جس میں بغیر بیرونی مداخلت اور اثر و نفوذ کے وہ ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر سکیں۔ مگر گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرکے انتخابات ہمیشہ اسلام آباد کی مداخلت کا شکار ہوئے ہیں۔ جس جماعت کی وفاق میں حکومت ہوتی ہے، اس کے وزراء اور دیگر اہلکار مختلف وعدوں، لالچ اور دھونس سے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ ایسا کرنا خود پاکستان میں جرم ہے مگر گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے معاملے میں آئین کے ارٹیکل 2 کا سہارا لیا جاتا ہے جس کے تحت یہ علاقے پاکستان کا حصہ نہیں اس لئے اس کے قوانین اور آئین کا یہاں اطلاق نہیں ہوتا۔ ایسے میں اسی قانون اور آئین کے تحت سزا پانے والے جب سوال کرتے ہیں کہ ان پر اس کا طلاق کیسے ہوتا ہے تو صاحبان اختیار و اقتدار ناراض ہوجاتے ہیں اور غداری کا سرٹیفیکیٹ دیا جاتا ہے۔
گلگت بلتستان میں ہمیشہ وہی جماعت حکومت بناتی آئی ہے جس کی اسلام آباد میں حکومت ہو۔ ایسا کرنا مقتدرہ کی بھی غالباً منشا ہوتی ہے تاکہ یہاں کی حکومت اور اسلام آباد میں ہم آہنگی رہے۔ مقتدر ادارے اور وفاقی حکومت یہاں انتخابات جیتنے کے لئے ہمیشہ ایک خاص حکمت عملی کے تحت کام کرتے ہیں۔
سب سے پہلے یہاں بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح جیتنے کے قابل لوگ جن کو عرف عام میں الیکٹیبلز کہا جاتا ہے سب کی فہرست بنا کر اس جماعت میں بھیجا جاتا ہے جس کو حکومت دینا مقصود ہو۔ بار بار جماعتیں بدلنے والے ایسے لوگوں کو پہلے لڑھکتے رہنے کی وجہ سے تھالی کے بینگن اور ‘بے پیندے کے لوٹے’ کہا جاتا تھا اب ان کی پہچان کے لئے صرف لوٹا کہنا ہی کافی ہوتا ہے۔ کبھی لوگ اپنی وفاداری بدلتے ہوئے ججھک بھی محسوس کرتے ہوں گے مگر اب یہ سیاست کے تھیٹر کا آرٹ کہلاتا ہے اور ایسا کرنے والا فنکار اصلی سیاست دان۔
اس حکمت عملی کے دوسرے حصے میں انتخابات جیتے ہوئے نمائندوں کو حکومتی جماعت میں شامل کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں جب جنرل ضیالحق کے دور میں 1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد جیتے ہوئے لوگوں سے اسمبلیوں کے اندر مسلم لیگ کی تشکیل ہوئی تو اییسے لوگ گھوڑے کہلائے تھے اور اسمبلیاں اصطبل۔ مگر اس کے بعد ایسا بار بار ہونے کی وجہ سے اب یہ بھی سیاست کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ اب ایسے لوگ گھوڑے نہیں کہلاتے اور نہ ہی اسمبلیاں اصطبل۔
گلگت بلتستان کی اسمبلی میں خواتین کے علاوہ ایک خاصی تعداد ٹیکنو کریٹس کی رکھی گئی جو پاکستان کی دیگر قانون ساز اسمبلیوں میں سوائے سینٹ کے نہیں ہوتے۔ خواتین کی طرح یہ ٹیکنو کریٹس بھی بالواسطہ منتخب ہوتے ہیں مگر قائد ایوان کے انتخاب میں اثر انداز ہوتے ہیں۔ اپنے لوگوں کو بطور ٹیکنو کریٹ ممبر منتخب کروانے کے لئے آزادانہ طور انتخابات جیت کر آنے والے بھی ترجیحاً حکومتی جماعت کا حصہ بن جاتے ہیں۔
ماضی قریب میں گلگت بلتستان میں مقتدرہ کی منشا کے مطابق حکومت سازی میں سہولت کاری کے لئے مذہبی فرقہ واریت کی بنیاد پر سیاست کو فروغ دیا گیا۔ جب ملکی فضا فرقہ واریت کے لئے ساز گار نہ رہی تو ایک ہی رات میں ان مذہبی جماعتوں کو مقتدرہ کی زیر سرپرستی ایک سیاسی جماعت میں مدغم کرکے حکومت کی تشکیل کی گئی۔ جب اسلام آباد میں حکومت تبدیل ہوئی تو یہاں بھی سیاسی جماعت کے حروف تہجی بدل دئے گئے۔ آج کل ایک اور سیاسی جماعت کے مفلر سیاسی گھوڑوں کی گردنوں میں پٹے بنا کر ڈالے جارہے ہیں۔
ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے ہندوستان کے زیر قبضہ کشمیر کے لداخ اور کارگل جیسے علاقوں میں بھی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے اتحادی بھی اکثریت کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ ان علاقوں میں ہندوؤں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ لالچ، دھونس اور دھاندلی سے انتخابات تو جیتے جاتے ہیں مگر لوگوں کے دل نہیں۔ ایسے انتخابات سے سے حکومت تو بنائی جا سکتی ہے مگر لوگوں کی حقیقی شراکت داری نہیں ہوتی جس کے نتیجے میں ریاست اور شہریوں کے درمیان میں فاصلے پیدا ہو جاتے ہیں۔
گلگت بلتستان میں ایک غیر جانبدار اور غیر سیاسی عبوری حکومت بناکر اس کے زیر نگرانی انتخابات کروانے کی شرط کے باوجود وفاقی حکومت کے وزراء اور مشیران کی مداخلت جس کی وجہ سے مقامی افسر شاہی اور سرکاری کارندے اپنی غیرجانبداری برقرار رکھ نہیں پاتے۔ انتخابات کی شفافیت پر ہمیشہ ایک بہت بڑا سوال رہا ہے۔ انتخابات جیتنے کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے بلند بانگ دعوے اور بعد میں ایفائے عہد سے رو گردانی کی وجہ سے یہاں سیاست ہی نہیں، خود حکومت اور ریاست کی بھی ساکھ خراب ہوجاتی ہے۔ لوگوں کا جب سیاسی عمل پر سے اعتماد اٹھ جائے تو مکالمہ کے بجائے مقابلہ کا سہارا لیتے ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں تشدد اور زور زبردستی کا رواج فروغ پاتا ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر میں منعقد ہونے والے انتخابات کے معاملے میں ہندوستان پر سوالات اٹھائے ہیں کہ دہلی لوگوں کی رائے دہی میں اثرانداز رہتا ہے جس کی وجہ سے یہاں ہمیشہ بھارت کی ایک کٹھ پتلی حکومت بنتی ہے۔ دنیا نے پاکستان کے اعتراض کو تسلیم بھی کیا ہے۔ پاکستان گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں آزاد، غیر جانبدار اور شفاف انتخابات منعقد کروا کر دنیا کو بہ آسانی یہ باور کروا سکتا ہے کہ ایک متنازعہ علاقے کے لوگوں کو امور حکومت میں شامل کرنے کے لئے شفاف اور غیر جانبدارانتخبات کیسے کروائے جاتے ہیں جو بھارت آج تک مقبوضہ کشمیر میں کروانے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے لئے کسی لاطینی سائنس کی ضرورت نہیں صرف ریاستی اداروں اور وفاقی حکومت کو غیر جانبدار رہنا ہے تاکہ لوگ آزادانہ طور پر اپنی حق رائے دہی کا استعمال کر سکیں جو ان کا پیدائشی حق ہے۔


