ترقی کرنے کا نسخہ


قوموں کی ترقی کا لائحہ عمل طے کرنا انتہائی سنجیدہ طرز عمل کا متقاضی ہے۔ اس عمل کے چیدہ چیدہ مراحل مندرجہ ذیل ہو سکتے ہیں۔

1۔ احساس زیاں : کچھ کھونے کا احساس ہی وہ محرک ہے جو کسی قوم میں ترقی کرنے کے لیے عمل انگیز کا کام کرتا ہے۔ کارواں کی طرح کسی قوم کے دل سے زیاں کا احساس جاتا رہے تو وہ اپنی موجودہ حالت پر قانع ہو کر جمود کا شکار ہوجاتی ہے۔ اگر ایسی قوم خوش قسمت ہو تو اس میں کوئی مستقبل شناس انسان یا دوروبیں مفکر پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر قوم اس کی بات پر کان دھرے تو امید کی جا سکتی ہے کہ اس میں احساس زیاں پیدا ہو جائے۔ ماضی قریب میں سرسید اور اقبال جیسی شخصیات نے مسلمان قوم کو ان کے روشن ماضی یاد دلاکر یہ احساس پیدا کیا۔ موجودہ دور میں جامعات اور اجتماعی دانش اس عمل میں میر کارواں کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔

2۔ موجودہ صورتحال کا معروضی جائزہ: زمانے کی رفتار سے ہم آہنگ ہونے کے لئے اپنی موجودہ صورتحال کا معروضی جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ ہم کہاں کھڑے ہیں اور زمانہ کہاں پہنچ گیا۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں اب ایسا تجزیہ کرنا مشکل نہیں رہا۔ ہر نئی ایجاد اور جدت طرازی پسماندہ قوموں کو خود بخود یہ احساس دلاتی ہے کہ دوڑو زمانہ قیامت کی چال چل گیا۔ صرف کورونا کی صورتحال میں علاج دریافت کرنے کی باہم دوڑ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کے سامنے آجاتی ہے کہ علاج دریافت ہونے کے بعد غریب قوموں کے لیے اس تک رسائی کتنے جوکھوں کا کام ہوگا۔ پسماندہ قومیں گردنیں اونچی کیے ترقی یافتہ اقوام کو خلا میں سیڑھیاں لگاتے دیکھ رہی ہیں۔

3۔ اسباب کا بے لاگ تجزیہ: مختلف میدانوں میں ترقی یافتہ قوموں کی کامیابی اور اپنی ناکامی کے اسباب کا بے لاگ تجزیہ وہ بنیاد فراہم کرتا ہے جس پہ کھڑے ہو کر کوئی قوم اپنے مستقبل کی تعمیر کر سکتی ہے۔ قومی ادارے، جامعات اور دانشور ان اسباب کا تجزیہ کرکے ان کو عام بحث کے لئے پیش کر سکتے ہیں۔

4۔ نتائج پر بحث: معروضی حالات کے جائزے اور ان حالات تک پہنچنے کے اسباب کے تجزیے کے نتائج مرتب کر کے ان پر سیر حاصل قومی بحث سوچ کے کئی نئے در وا کر سکتی ہے۔ اس بحث کی مناسب جگہ مقننہ، قومی تحقیق کے ذمہ دار ادارے اور جامعات ہو سکتی ہیں۔

5۔ حاصل بحث پر اتفاق: ترقی کی سمت طے کرنے کے لیے اسباب اور نتائج کے تجزیے اور قومی بحث کے بعد کچھ نکات پر اتفاق رائے بہت ضروری ہے۔ یہ اتفاق مختلف قومی اداروں میں یکجہتی پیدا کرکے ان کو انتشار سے بچاتا ہے تاکہ ایک متفقہ لائحہ عمل طے کر کے اس کو حاصل کرنے کی طرف پیش قدمی کی جا سکے۔

6۔ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اہداف کا تعین: مختلف اقوام کی ترقی کی طرف پیش قدمی اور کامیاب حصول کے اسباب کا تجزیہ بتاتا ہے کہ ہر قوم کا میدان عمل مختلف ہو سکتا ہے۔ ہر قوم اپنے زمینی حالات کا جائزہ لے کر اپنے لئے قابل حصول اہداف کا تعین کرتی ہے۔ مختلف میدانوں میں سائنسی تحقیق کا مرتکز ہونا اور نئی نئی ایجادات کا سامنے آنا ایسے اہداف کی نشاندہی کرتا ہے۔ سائنسی تحقیق کے ادارے اور جامعات اس عمل میں حکومت کی مدد کر سکتی ہیں۔

7۔ متعلقہ رجال عمل، سرمایہ اور وسائل کا اجتماع: اہداف کی نشاندہی کے بعد ان میدانوں میں تربیت یافتہ انسانی سرمائے کو تلاش اور منضبط کرنا سب سے اہم قدم ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں جامع طرز عمل اختیار کر کے افرادی قوت کو مزید تربیت دلائی جا سکتی ہے۔ بہت سی مثالیں موجود ہیں جن میں اقوام نے اپنے انسانی سرمائے کو ترقی یافتہ ممالک میں باضابطہ تربیت دلائی اور واپسی پر ان کو موزوں ماحول فراہم کیا تاکہ وہ اپنی بہترین صلاحیت سے قوم کو مستفید کر سکیں۔ ایسے باصلاحیت اور تربیت یافتہ لوگوں پر مشتمل قومی ادارے بنا کر ان کو وسائل اور سرمایہ فراہم کیا جائے تو کوئی عجب نہیں کہ مختصر عرصے میں قوم اپنے اہداف کو حاصل کرلے۔ اس ضمن میں پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے حصول کی مثال کافی ہے۔

8۔ نقشہ عمل پر نکتہ وار عمل درآمد: جس طرح ہر عمارت کو بنانے سے پہلے اس کا نقشہ بنایا جاتا ہے اس طرح ہر ہدف کے حصول کا نقشہ عمل بنایا جائے اور اس پر نکتہ وار عمل کیا جائے۔

9۔ تسلسل اور مستقل مزاجی سے اہداف کا حصول: ترقی کے کسی بھی ہدف کا حصول مسلسل محنت اور مستقل مزاجی سے عبارت ہے۔ نقشہ عمل کے ہر نکتے پر طے شدہ سنگ میل اور حاصل کردہ ہدف کے درمیانی فاصلے کو ماپا جائے اور ناکامی کی صورت میں اسباب کا تجزیہ کر کے ان کو دور کیا جائے۔

10۔ جزا اور سزا کا بے رحم اور سفاک نظام: ایک مہیب مشین میں نصب شدہ ہر پرزے کو اپنا کام پوری دیانت داری اور طے شدہ مہارت سے کرنا ہوتا ہے۔ جس طرح کسی ایک بھی پرزے کا غلط طرز عمل مشین میں خرابی پیدا کر سکتا ہے اسی طرح کسی ادارے میں ایک نا اہل، بددیانت اور غیر ذمہ دار عامل سارے عمل کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ سزا اور جزا کا بے رحم اور فوری نظام ایسے طرز عمل کو وقوع پذیر ہونے سے بچا کر ہدف کے بروقت حصول کو ممکن بناتا ہے۔

ایک انصاف پسند معاشرے میں ترقی پاکر قیادت کے منصب پر فائز ہونے والا میر کاروان ترقی کے اس عمل کو مہمیز کر سکتا ہے بشرطیکہ اس میں بلند نگاہ، دلنواز سخن اور پر سوز جان کی خصوصیات موجود ہوں۔

Facebook Comments HS