بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عام مشاہدے کی بات ہے کہ دنیا میں کامیاب اور ناکام افراد کے درمیان اہم فرق اس جذبے کا ہوتا ہے جس کے تحت وہ زندگی کے مختلف مراحل کو عبور کرتے ہیں۔ علمی میدان ہو یا معاشی زندگی، ا نفرادی تربیت کی بات ہو یا اجتماعی امور کی، عسکری جنگیں ہوں یا سیاسی معرکے، فتح اسی کا مقدر بنتی ہے جو کبھی کم نہ ہونے والے جذبے کے ساتھ مسلسل آگے بڑھتا رہتا ہے۔ جذبہ ایسی نفسیاتی خصوصیت ہے جو بلا تفریق انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں پر اثر انداز ہوتی ہے۔

گاڑی کو چلانے کے لیے جو حیثیت ایندھن کی ہے، وہی حیثیت انسانی زندگی میں جذبے کو حاصل ہے۔ لہذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انقلابی جذبہ انقلاب کی خصوصیات میں سے ایک اہم ترین خصوصیت ہے۔ یونیورسٹیوں میں علم سیاست کے اساتذہ برسوں سے عالمی انقلابات کے مضامین پڑھاتے آرہے ہیں اور طلبا انہی انقلابات پر مقالے لکھتے چلے آرہے ہیں، لیکن کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ افراد انقلابی ہیں؟ یا وہ تنظیمیں اور سیاسی پارٹیاں جن کی پہچان انقلابی نعرے ہیں، کیا یہ سب انقلاب لا سکتے ہیں؟

انقلاب لانے کے لیے انقلابی جذبہ ہونا لازمی ہے اور یہ جذبہ بھی آئیڈیالوجی پیدا کرے۔ حالات سے تنگ آئی ہوئی عوام کے جذبات (Emotions) تو ابھارے جا سکتے ہیں جذبہ (Morale) نہیں۔ جذباتی عوام کو چند گھنٹوں کے لیے جلسے جلوس میں لایا جا سکتا ہے لیکن انقلاب جیسے لمبے عرصے پر محیط دشوار راستوں کے راہی وہی بن سکتے ہیں جن کے اندر انقلابی جذبہ موجود ہو۔ کہا جاتا ہے جنگیں اسلحے سے نہیں جذبے سے جیتی جاتی ہیں، اور یہ حقیقت ہے کے عسکری تربیت میں ایک فوجی کے اندر جس پہلو کی سب سے زیادہ تربیت کی جاتی ہے وہ اس کا دفاع وطن کے لیے جذبہ ہے۔ جذبہ چند دیگر خصوصیات کا مجموعہ ہے جن کابالعموم تمام انسانوں اور بالخصوص انقلابی افرد کے لیے سمجھنالازمی ہے۔

جذبے کا سب سے بنیادی اور اہم رکن ارادہ ہے۔ ارادہ جذبے کے لیے محرک کی حیثیت رکھتا ہے لیکن جو چیز ارادے کے کمزور یا قوی ہونے پر اثر انداز ہوتی ہے وہ شوق ہے۔ شوق آگاہی سے پیدا ہوتا ہے۔ کسی بھی چیز کی جتنی زیادہ آگاہی و معرفت ہوگی اتنا زیادہ شوق پیدا ہوگا، جتنا شوق قوی ہوگا اتنا ہی ارادہ مضبوط ہوگا۔ قرآن مجید نے انبیا کو پختہ اور ناقابل شکست ارادہ رکھنے کی وجہ سے اولوالعزم کہا ہے۔ عزم ارادے کی مضبوط ترین حالت کا نام ہے جس کے بعد کوئی بھی طاقت انسان کو اس کی راہ سے نہ ہٹا سکے۔

اسی طرح قرآن نے انسان پر شیطانی غلبے کی ایک بڑی وجہ انسان کے اندر ارادے کی کمزوری کو بتایا ہے۔ لازمی نہیں کہ آگاہی کے بعد ارادہ قوی ہو جائے، کمزور نفوس اور بیمار دلوں پر آگاہی کا بھی کوئی اثر نہیں ہوتا اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر لوگ انقلاب کی باتیں سن کربڑے بڑے ارادے کرلیتے ہیں لیکن ایک چھوٹی سی مشکل کے خلاف بھی مزاحمت نہیں دکھا سکتے اور راہ انقلاب کو ترک کر دیتے ہیں۔

جذبے کا دوسرارکن وہ محرک اور انگیزہ ہے جو انسان کے اندر سے بیدار ہو، وہی محرک جس کے لیے قرآن نے لفظ بعثت استعمال کیا ہے۔ بعثت کے لیے وجود کے باہر کوئی کشش نہیں رکھی جاتی۔ انبیا کے اندر وہ باعث ایجاد ہوتا ہے جن سے ان کے وجود کے اندر ایک نہ ختم ہونے والی تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ ایک انسان کو دن بھر پانی کے فوائد پر درس دیا جائے تو وہ درس کے بعد شاید چند گھونٹ پانی پی لے، لیکن اگر اسی انسان کو کچھ دیر کے لیے ورزش کروائی جائے تو یہ کسی سے بھی پانی کے فوائد نہیں پوچھے گا بلکہ اگر اسے ہر کوئی پانی پینے سے روکے، تب بھی یہ ہر حال میں پانی تک پہنچے گا اور کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لائے گا۔ انگیزہ ایسی ہی اندرونی تشنگی کو بجھانے کے کام آتا ہے۔

جذبے کا تیسرا رکن حوصلہ ہے، حوصلے کے بغیر جذبات تو پیدا ہوسکتے ہیں لیکن جذبہ صرف با حوصلہ افراد کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ کسی بھی ہدف کے حصول کے لیے جتنا وقت درکار ہے، اس تمام مدت میں سختیوں کو برداشت کرنا اور استقامت دکھانا حوصلہ مندی کا لازمہ ہے۔ بے حوصلہ افراد جلدی اکتا جاتے ہیں اورسوال کرتے ہیں کہ انقلاب کیوں نہیں آرہا؟ کب آئے گا؟ ، یہ لوگ کبھی بھی راہ انقلاب پر نہیں چل سکتے کیونکہ ذمہ داری لے کر اس پر ثبات و پائیداری کے ساتھ قائم رہنا با حوصلہ لوگوں کا کام ہے۔

جذبے کا چوتھا رکن خود اعتمادی ہے۔ خود اعتماد انسان کسی بھی ہدف کے حصول کے لیے خود کو عاجز و ناتوان نہیں سمجھتا۔ اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہ ہونا بہت بڑی محرومیت ہے، بے اعتماد انسان آسان ترین مقابلے میں بھی شکست کھا جاتا ہے۔ خود اعتماد انسان دوسروں کی نسبت احساس برتری نہیں رکھتا اور نہ ہی دوسروں کی صلاحیت کے بارے میں قضاوت کرتا ہے، غرور و احساس برتری کا شکار نہیں ہوجاتا بلکہ صرف اپنی صلاحیت پر بھروسا کر کہ کسی بھی کام کو انجام دینے کے لئے آمادہ رہتا ہے۔

اگر انسان کے اندر خود اعتمادی کامل ہو جائے تو یہ جسارت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہاں جسارت سے مراد ہتاکی یا حدود توڑنا نہیں بلکہ جسارت ایک مثبت صفت کے طور پر پیش کی جارہی ہے۔ خصوصیت جسارت انقلابی انسان کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ سختیوں کی پرواہ نہیں کرتا، کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لاتا۔ ہمارے تعلمی و تربیتی نظام کے اندر یہی خامی ہے کہ جوانوں کو جسور نہیں بناتا، جس کا شکوہ علامہ اقبال بھی کرتے نظر آتے ہیں، کبوتر کو شاہین سے لڑانا یعنی اسے بے باک بنانا، خطرپذیر بنانا۔

لہذا ایک انقلابی انسان کے لیے جسور و غیور ہونا بہت ضروری ہے تا کہ یہ مصلحت پسندی چھوڑ دے اور خطروں میں کود پڑے۔ اگر جسور نہ بنا تو یہ کسی کام کا نہیں چاہے تمام عمر بھی انقلاب کے درس سنتا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے کا جوان ذاتی زندگی میں بھی بزدلانہ فیصلے کرتا ہے، اس کے ارادے جسارت والے نہیں ہیں، اس کے فیصلوں میں جسارت نظر نہیں آتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •