شاہراہ قراقرم، بارش اور اجنبی مسافر
میں اک خوف کے عالم میں سانس لیتا تھا اور ہر پل ہر آواز سے اور چوکنا سا ہوجاتا تھا۔ ہر سو اک سیاھی میں بس اسمان پہ کڑکنے والی بجلی کی اک دم سب روشن کردینے والی جھلک سیاہ تصویر میں چھپے پہاڑوں، شاہراہ اور نیچے بہنے والے دریا کو جیسے اک بلیک اینڈ وائٹ منظر کی طرح اک لمحے کے لیے آنکھوں کے سامنے لے اتی تھی اور پھر وہی ہراک سو پھیلی ہوئی سیاھی۔
پہاڑوں کا اندھیرا جیسے آپ کے اندر کو پڑھنے سا لگتا ہے اور اگر آپ ڈرنے لگتے ہیں تو یہ آپ کو ڈراتا ہے اور اگر آپ تاریکی اور سناٹے سے سکون کشید کرنے لگتے ہیں تو یہ آپ کو خاموشی اور اندھیرے کا ایک منفرد امتزاج دیتا ہے۔
اس شاہراہ پر اب گاڑیوں کی ایک طویل قطار تھی دونوں جانب، انے والی اور جانے والی گاڑیاں اور زیادہ تر لوگ ان گاڑیوں کے اندر کے سکون میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ چند اک بے چین اور پریشان سے لوگ شاہراہ کے اس حصے پر احتیاط سے پتھروں اور مٹی کے اس ڈھیر کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے جو بارش کے بعد پہاڑوں سے نیچے کی جانب چلا آیا تھا اور اب ایک خودرو سی تعمیر کی صورت میں ڈھل گیا جس نے ربر کے پہیوں پر چلنے والی سب گاڑیوں کی رفتار کو روک دیا تھا۔
ہمارا سفر بھی اپنے آپ کو اور اپنی زمین کو جاننے کے لیے تھا جس میں چار لوگوں نے ایک گاڑی کے ذریعے زمین کے ساتھ چلتے چلتے موسم، جغرافیے، ثقافت اور اپنے لوگوں کے رنگوں کو جاننے کا قصد کیا تھا اور اس سفر کے پیچھے بہت سے سال، خواہشیں، جستجو، اندر کہیں دور دبی ہوئی خانہ بدوشی، سعید بلتستانی کا خلوص اور مستنصر حسین تارڑ کی بہت سی کتابوں میں لکھی نثر کی زبان میں شاعری تھی۔
جولائی کے مہینے میں جمعہ کی اک صبح جب سورج نے اپنی کرنوں سے کراچی کو روشن کرنا شروع کیا بس اس ہی لمحے یہ ایک گاڑی جس میں کچھ آوارہ گرد روحیں اور تھوڑا سا سامان لدا ہوا تھا، کراچی سے باہر لے جانے والی سپر ہائی وے پر رواں دواں تھی اور اب ہفتے کی رات یہ آوارہ گرد شاہراہ قراقرم پر اندھیرے اور پانی کی آسمانی یلغار کے بیچ وقتافوقتاً کڑکتی ہوئی آسمانی بجلی کی دہشت ناک آوازوں اور خیرہ کردینے والی اک لمحے کی مدت والی روشنی کے ساتھ ایک لینڈسلائیڈ کے سامنے کھڑے تھے۔
کافی دیر تک تو بہت سے دوسرے مسافروں کی طرح اپنی گاڑی کی پرسکون سی لگنے والی پناہ میں دبکے رہے مگر گاڑی میں موجود اسکردو سے تعلق رکھنے والے فوجی ڈرائیور محمد علی کی یہ بات سن کر وہ سکون بھی ڈرانے لگا کہ شاہراہ قراقرم پر اس طرح کی بارش میں کھڑے رہنا بھی خطرناک ہے کیونکہ پتہ بھی نہیں چلتا اور پہاڑ کب نیچے آ جائے (یعنی کسی وقت بھی کوئی اور لینڈسلائیڈ یا لینڈ سلائیڈز)
اسکردو سے تعلق رکھنے والا فوجی ڈرائیور محمد علی ہمیں راولپنڈی کے پیرودھائی بس اڈے پر ملا تھا جہاں ہم اپنے دوست سعید بلتستانی کے حوالے سے کسی سے شاہراہ قراقرم پر پہلی دفعہ سفر کرنے کے موقعے پر نیٹکو کے کچھ تجربہ کار ڈرائیورز سے کچھ مفید مشورے اور کارآمد باتیں سمجھنے کے لیے پہنچے تھے۔
وہاں ہماری ملاقات اسکردو جانے والے ایک فوجی ڈرائیور محمد علی سے ہوئی جو چھٹی لے کر اپنی موٹرسائیکل کو بس پر لاد کر خود بھی اسکردو جانے کا ارادہ لے کر وہاں ائے تھے اور سعید بلتستانی کے حوالے سے ملنے والے پیرودھائی بس اڈے والے دوست نے ہمیں نہانے اور کچھ ساعتوں کے لیے آرام کرنے کی غرض سے وہیں واقع ایک ڈرائیوروں کے کمرے جانے کی پیش کش کی اور ہم جو جمعہ کی صبح سے مسلسل سفر میں تھے اور اب بھی براہ راست گلگت کے لیے نکلنا چاہتے تھے، ہم نے بہت ہی شکرگزاری کے ساتھ یہ پیشکش قبول کی اور نہالیے تاکہ کچھ تازہ دم ہو سکیں اور اس دوران فوجی سپاہی محمد علی سے گفتگو اور پیرودھائی بس اڈے والے دوست کی سفارش کے بعد یہ طے پایا کہ اب شاہراہ قراقرم سے گلگت سے تھوڑا پہلے عالم پل کے مقام تک فوجی بھائی محمد علی ہماری گاڑی کے کپتان ہوں گے تاکہ دشوار گزار مقامات سے گزرنا تھوڑا سہل ہو جائے اور بعد کے واقعات و حالات نے اس فیصلے کے انتہائی صحیح ہونے پر اپنی مہر صادر کی۔
اویس اور میں گاڑی سے نیچے اترے اور لینڈ سلائیڈ کے پاس جاکر دیکھنے لگے اور اس دوران اویس نے پہلا قدم اٹھایا اور کچھ چھوٹے پتھر اٹھا کر سیدھے ہاتھ پر سڑک کے کنارے سے سینکڑوں فٹ نیچے بہتے ہوئے دریا میں پھینکنا شروع کردیئے اور پھر کچھ اور لوگ بھی اگئے، گزرتے لمحوں کے ساتھ لینڈسلائیڈ کے گرد لوگ زیادہ ہوئے تو رفتہ رفتہ لینڈسلائیڈ کچھ تھوڑا سا کم ہوئی اور اس دوران اک فوروہیل ڈرائیو جیپ کے ڈرائیور نے اس پر سے گزرنے کی ہمت کی اور انجن کی پوری طاقت کو آزماتا ہوا کامیابی سے لینڈ سلائیڈ سے گزر گیا اور اس کے بعد بڑی بڑی بسیں، جیپیں، ہائی ایس گزرنے لگیں اور ان سب کے جانے کے بعد ہمارے فوجی ڈرائیور محمد علی صاحب نے بھی اپنے تجربے، ہمت اور قسمت کو آزمانے ہوئے گاڑی اس لینڈسلائیڈ پر سے گزار تو لی اور ہم نے بارش، اندھیرے میں شاہراہ قراقرم پر اپنے سفر کو دوبارہ شروع کیا اور کچھ دیر بعد پتن کے مقام پر پہنچے اور دیکھا کہ اک اور پانچ سے چھ فٹ بلند لینڈ سلائیڈ نے عین اک ریسٹ ہاوٰس سے تھوڑا اگے شاہراہ قراقرم کو بلاک کر دیا ہے اور اوپر پہاڑ سے انے والا چھوٹا سا پانی کا نالا بھی مزید مٹی اور پتھروں کو نیچے لارہا ہے کیونکہ بارش ابھی جاری تھی۔
اپس کے مشورے اور صورت حال کے غیر یقینی ہونے کی وجہ سے ہم سب نے باہمی مشورے سے اس ریسٹ ہاؤس میں ایک کمرا لے لیا اور سامان اوپر رکھ کر نیچے ائے اور دوبارہ لینڈ سلایئڈ کے پاس پہنچے جہاں دونوں جانب کھڑی گاڑیوں کے کچھ مسافر اور مقامی لوگوں کو ملا کر پھر اتنی بڑی لینڈ سلائیڈ کو صاف کرنے کے لیے کچھ کوشش شروع کی اوپر سے انے والے نالے کے پانی کے ایک دھارے کو لینڈ سلائیڈ کے اوپری حصے پر لانے کی کوشش نے کافی کام کیا اور بہتے ہوئے زوردار پانی نے لینڈ سلائیڈ کو کاٹنا شروع کیا اور رفتہ رفتہ لینڈ سلائیڈ تھوڑی کم اور چوڑی سی ہوگئی، کافی دیر بعد کچھ گاڑیوں نے اس پر سے گزرنے کا جوکھم اٹھایا اور ان کی کامیابی کے بعد پہلے فور وہیل ڈرائیو جیپوں، ہائی ایس نے اس پر سے احیتاط سے گزرنا شروع کر دیا اور پھر یہ سلسلہ جاری ہوگیا۔
یہ دیکھ کر ہمارے فوجی ڈرائیور محمد علی نے مشورہ دیا کہ کیوں نہ ہم ریسٹ ہاوٰس میں قیام کو منسوخ کرکے اپنا سفر دوبارہ سے جاری کریں کیونکہ بارش کے موسم میں مزید لینڈسلائیڈ کا خطرہ معمول کی بات ہے اور ہم نے سفر دوبارہ شروع کیا۔ مگر ابھی بھی آسمان سے بہنے والا بارش کا دریا جاری تھا اور اس زور و شور سے کہ اوپر سے گرنے والی بارش کی گہری اور موٹی چادر کے اگے گاڑی کی ہیڈلائٹس بھی کام نہیں کرپارہی تھیں، خوش قسمتی سے اور ہمارے اک اور ساتھی شیخ ماجد کی تکنیکی سوجھ بوجھ کہ ہمارے پاس اک بڑی لائٹ جو بیڑی سے چل سکتی تھی موجود تھی اور اب اس لائٹ کو نکال کر کار کی بیڑی سے منسلک کیا اب ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھنے کی وجہ سے ہمیں ایک ہاتھ باہر نکال کر اس بڑی لائٹ کو سڑک پر رکھنا تھا تاکہ ڈرائیور کو راستہ نظر آ سکے اور سفر جاری رکھا جاسکے۔
اس رات بارش میں شاہراہ قراقرم پر پتن کے مقام سے داسو تک شاید سینتیس سے چالیس کلومیٹر کے درمیان کا وہ فاصلہ زندگی کے خوفناک تجربوں میں سے ایک تھا کیونکہ بارش میں بائیں ہاتھ میں بڑی لائٹ پکڑے گاڑی کی کھڑکی سے باہر نکال کر روشنی کو سڑک پر رکھنا جہاں ہماری کسی بھی غلطی کی صورت میں گاڑی دریا کے اندر گر سکتی تھی، شیدد ذہنی دباؤ اور جسمانی تھکن کے ساتھ سفر کے اس حصے کو عبور کرکے جب ہم داسو کے ایک چائے خانہ تک پہنچے تو بارش کا زور تو ٹوٹنے لگا تھا۔ سورج بھی طلوع ہونے کے قریب تھا اور اس کی ہونے والی روشنی اب ہمیں امید دے رہی تھی کہ اگے کا سفر مختلف ہوگا۔


