خوشی کی راہ کیا ہے؟

ہر ایک شخص زندگی میں بار بار اس بات پر غور کرتا ہے کہ خوشی کیا ہے؟ ہر اک گزرتے دن کے ساتھ زندگی کے فیصلے، تجربے اور نتیجے اسے ایک نئی سیکھ اور سمجھ دیتے ہیں۔ بیماریاں، پریشانیاں، دباؤ، موسم اور حالات اسے بسا اوقات بس یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ خوشی کا تعلق شاید صرف دولت، طاقت اور شہرت کے حصول سے ہے اور اگر وہ جزوی یا کلی طور پر اس تجزیہ پر یقین

Read more

کتاب خوشی کی راہ اور زندگی

انسان کی زندگی میں کیا چیز سب سے ضروری ہے؟ کامیابی اور خوشی کا باہمی تعلق کیا ہے؟ خوشی کا حصول اپنی ساخت میں ایک انفرادی عمل ہے یا اجتماعی؟ خوشی بنیادی طور پر کن چیزوں سے عبارت ہے؟ کیا خوش رہنا ممکن ہے؟ انسان کی زندگی کا بنیادی اصول ”بقا“ جاری رکھنا ہے اور ”بقا“ کے بہتر حصول کا تعلق ”خوشی“ سے ہے۔ زندگی میں ہمارا سب سے اہم مسئلہ ”خوشی“ ہے۔ ممکن ہے آج کی دنیا ایک پرمسرت

Read more

سوشل میڈیا کو سمجھنے کی ضرورت

آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے اور دنیا میں رہنے والا ہر ایک شخص براہ راست یا بالواسطہ طور پر سوشل میڈیا کے استعمال کنندگان میں شامل ہے۔ سوشل میڈیا نے رابطے، روزگار، معیشت، سیاست، سماج، سکھائی، تشہیر، ابلاغ، فن، سائنس اور تفریح، غرض یہ کہ تمام شعبہ ہائے زندگی پر اثر مرتب کیا ہے۔ سوشل میڈیا نے بہت سی اصطلاحات بدل دیں، بہت سی نئی اصطلاحات کو ایجاد کیا اور اس طرح آج کی زندگی بالکل بھی پہلے

Read more

شہر کا وجود

شہر کیسے بنتے ہیں؟، اور کیا ہے جو اک شہر کو وجود میں لاتا ہے؟ سوال عام سا اور سادہ ہے مگر جواب زمانے کے کئی رخ چھو کر واپس آتا ہے۔ شہر دیکھنے اور محسوس کرنے کے تمام عناصر سے گندھ کر نہ وجود میں آیا ہو تو اک مجموعہ سا لگتا ہے :عمارات اور ہجوم کا۔ گویا اک بے روح جسم۔ اور شہر میں اگر محسوس اور یاد کرنے کے لیے کچھ نہیں! یا تلاش کرنا پڑے تو

Read more

معیشت کے حوالے سے کچھ سوال

ایسٹ انڈیا کمپنی کے زمانے سے لے کر زمانہ حال میں بھی حکام بالا اور ایوان اقتدار کے مختلف شراکت داروں کے لیے ایک خاص نظام مراعات و سہولیات برائے خواص اک مسلسل استحکام و ترقی کے عالم میں رائج ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ اس کی ہیئت مختلف ضرور ہوئی ہے مگر اس کا وجود بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ہر اک ادارہ اپنے تئیں اس قدیم نظام مراعات و سہولیات برائے خواص کو مضبوط کر کے پروان چڑھانے

Read more

موسمیاتی تبدیلی کے اسباب اور فرد کا کردار

ہر اک شخص کسی نہ کسی طرح موسم کی شدت پر بات ضرور کرنے لگا ہے۔ اب چاہے یہی بات موسموں کی شدت کے حوالے سے ہو یا معیشت اور موسمی تبدیلی کے باہمی ربط و تعلق کی۔ کوئی قدرتی طور پر پائی جانے والی اشیا کی کمیابی یا ان کے معدوم ہونے کی بات چھیڑے یا سبزیوں اور پھلوں کے نامیاتی یا غیر نامیاتی پہلو کو زیر بحث لائے۔ موسمی تبدیلی جیسی انگلش میں کلائیمٹ چینج کہا جاتا ہے

Read more

دسمبر، یادیں، وعدے اور بے نظیر

کچھ تحریریں اک عجب سی دیوانگی کے عالم میں لکھی جاتی ہیں کہ لکھنے والے کا خود پر کہاں قابو ہو، بس اک کیفیت ہوتی ہے جو یاد کے پردے پہ کچھ منظر دکھلاتی ہے، کچھ آوازیں سناتی ہے اور واقعے یاد دلاتی ہے۔ بہت سی باتیں یادداشت کے کسی ایسے حصے میں جاگزیں ہوجاتی ہیں کہ برف پوش پہاڑ کی چوٹی کی مانند بہت دور سے بھی نمایاں نظر آتی رہتی ہیں۔ کوئی کوئی واقعہ بہت مضبوط، طاقت ور

Read more

الاؤ اور آسمان

دسمبر کی اک لمبی اور سرد رات، سلگتے، چٹختی ہوئی لکڑیوں سے چنگاریاں برامد کرتے اک بجھتے ہوئے الاؤ کے نزدیک ہم چار نے یادوں کو روشن کرنے والے پل بتائے اور ان کو اک خزانے کی مانند اپنے ذہن کے اک دستیاب گوشے میں فروزاں کر دیا۔ زندگی کیا ہے؟ خوشی کیا ہے؟ اک مثلث ہے الاؤ، سرد موسم اور اکٹھے بیٹھنا، یا دوست، مقام اور کیفیت، یا دسمبر، لمبی رات اور ہم، یا کچھ اور، کہ ریاضی سے

Read more

کہانی، ذمہ داری اور سماج

کہانیاں تاریخ کے مختلف ادوار کی حقیقتوں پر مبنی، مگر اک الگ انداز میں بیان کردہ واقعات کی ایسی تفصیلات ہوتی ہیں جو کسی صورتحال میں شخصیات، حالات، کردار اور ترجیحات کے بارے میں بغیر ہر اک پہلو کی ہو بہو تصویر کھینچے اس کے اخلاقی، سماجی، معاشرتی اثر کو ایک دلچسپ اور اثر انگیز اسلوب میں بیان کرتی ہیں۔ اک ادیب اور لکھاری کہانی کی کسی بھی شکل کے ذریعے تاریخ رقم کرتا ہے اب چاہے ناول ہو یا

Read more

مہر در کی بہادر لڑکیاں

اک کے بعد اک شاندار کہانی۔ کلمات تحسین، تالیوں اور حاضرین کے تمتماتے چہروں سے عیاں۔ اک سے بڑھ کر اک شاہکار۔ امید کو جنم دینے اور پروان چڑھانے کی باتیں۔ کٹھن حالات اور مشکلات کے انبار میں۔ پریشانیوں، صعوبتوں، غربت اور تنہائی کا سامنا کرتی ہوئی کچھ ولولہ انگیز کہانیاں۔ سمندر کی ایک شاخ اور تیمر کے جنگلات کے پڑوس میں کراچی کے ایک قدیم اور منفرد سے ہوٹل کے لان میں فطرت سے قریب تر اس خطے کے

Read more

پرین جو کنڈ، رنی کوٹ

خوشی کیا ہے؟ خوشگوار موسم، اچھی صحت، من پسند ماحول، اچھے دوستوں کا ساتھ اور پہاڑ کے نیچے کے جنگل کی جانب پیدل سفر۔ ہم چاروں دیوار سندھ کے نام سے مشہور رانی کوٹ کے اندر ایک قلعے میری کوٹ کے پڑوس سے اوپر پہاڑوں پر اک اور قلعے شیر گڑھ کی دیواروں کو حیرت اور شوق کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ قلعے کی دیواروں کو دیکھتے اور ایک گہری کھائی کے کنارے ٹھنڈی ہوا اور نرم دھوپ سے لطف

Read more

دسمبر اور اک بے نظیر دکھ

ستائیس دسمبر کے دن کے ساتھ کچھ ایسی یادیں جڑی ہوئی ہیں جو دل میں آگے شجر غم کی پرورش کرتی رہتی ہیں اور ہر سال اس درخت پہ بہت ہی گہرے سرخ کے عجب سے پھول آتے ہیں جن کی خوشبو اور رنگ قربانیوں کی بہت سی داستانوں کا دکھ اجاگر کرتے ہیں. ہمیں کیا خبر تھی، ہمیں کیا پتہ تھا. کہ ستائیس دسمبر کا دن اک عظیم المیے کو جنم دے گا اور پھر ادب، شاعری اور زندگی

Read more

احساس کا رشتہ

سنگلاخ پہاڑوں کے بیچ بہت سے قلعوں اور ایک جنگل کے پڑوس میں گذرے دو دن میری زندگی میں کچھ ہی ماہ قبل آئے تین لوگوں کے ساتھ بیتے کہ جب میں نے اپنی زندگی کے کچھ ادھورے معنی مکمل کیے اور بہت کچھ سیکھا کہ سیکھنے کو اک عمر بھی ناکافی پڑ جاتی ہے اور کبھی کچھ لمحے زندگی کے کئی سبق ذہن نشین کرجاتے ہیں. کوئی کبھی براہ راست تو کبھی بالواسطہ آپ کی زندگی کو ایک مجسمے

Read more

بکھرے ہوئے لفظوں کی نامکمل کہانی

سنا ہے کہ قصے اور کہانیوں نے ظالم بادشاہوں کے دور میں رواج پایا اور ترقی کی کہ جب براہ راست بات نہ سمجھ آئے اور نہ کوئی اسے سمجھنے کی کوشش کرے تو اشاروں کنایوں میں باتیں کی جاتی ہیں اور کہانی سے اچھے اشارے کا طریقہ اور کیا ہو گا۔ ساری کہانیاں بھی اک طرز کی نہیں ہوتی کہ جن میں کچھ واضح کردار ہوں اور ان سے وابستہ کچھ باتیں۔ مگر کچھ کہانیاں پکاسو کی تصویروں کی

Read more

بکھرے ہوئے لفظوں کی نامکمل کہانی

سنا ہے کہ قصے اور کہانیوں نے ظالم بادشاہوں کے دور میں رواج پایا اور ترقی کی کہ جب براہ راست بات نہ سمجھ ائے اور نہ کوئی اسے سمجھنے کی کوشش کرے تو اشاروں کنایوں میں باتیں کی جاتی ہیں اور کہانی سے اچھے اشارے کا طریقہ اور کیا ہوگا ۔ ساری کہانیاں بھی اک طرز کی نہیں ہوتی کہ جن میں کچھ واضح کردار ہوں اور ان سے وابستہ کچھ باتیں ۔ مگر کچھ کہانیاں پکاسو کی تصویروں

Read more

کرونا کی دوسری لہر، فیک نیوز اور ذمہ داری

نومبر، دسمبر کی خوشگوار دھوپ سے لطف اندوز ہونے کے دن اس سال کرونا کی دوسری لہر کے درمیان لاگو ہونے والے محدود آزادی نقل وحرکت یا اسمارٹ طرز کے لاک ڈاوٰن کے دوران گزر رہے ہیں۔ پہلا لاک ڈاوٰن مارچ دوہزاربیس سے شروع ہو کر کچھ مہینوں تک جاری رہا اور وہ آتی ہوئی گرمیوں کے دن تھے اور کرونا کے بحران کی ابتدا کے دن جو اندیشوں، افواہوں اور مختلف قسم کی خبروں کی بھرمار کے ساتھ گزرے۔

Read more

زندگی کا کھیل اور ہمارا رویہ: کچھ سوال

حرف، لفظ اور مضمون ہمارے لیے کیا ہیں۔ علم اور جاننے کے بارے میں دراصل کون سی تعریف ہمارے ذہنوں پر مسلط ہے اورکسی بھی وجہ سے کیوں ہم صلہ رحمی، رواداری، امن، سکون، ادب، ثقافت، تہذیب، زبان، شعر، گیت، موسیقی، کھیل اور زندگی کی صریح مخالف سمت میں کھڑے ہونے پر مصر ہیں۔ میرا مضمون شاید اس خطے کے بارے میں کہ پتہ نہیں کیوں جسے جنوبی ایشیا کہا جاتا ہے اور میں ابھی تک اس سوال کا جواب

Read more

”ٹی آر پی“ اور ”کیوں نہ دکھائیں“ کے مابین کی اک کہانی

قدیم یونانی اور لاطینی زبان کے الفاظ ٹیلی اور ویژن (ٹیلی ویژن) اپنے اندر دلچسپ اور گہرائی رکھنے والے مفہوم پنہاں رکھتے ہیں۔ قدیم یونانی زبان کے لفظ ’ٹیلی‘ کا مطلب دور یا دور کا ، اور لاطینی زبان کے لفظ ’ویژن‘ کا مطلب منظر یا نظارہ اور ویژن کے لفظ کا مفہوم تو اپنے تصور کے پیدا کردہ منظر کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ تو دونوں الفاظ کا ایک مشترکہ مفہوم ہوگا: دور کا منظر یا نظارہ۔ اب ٹیلی ویژن کی ابتدا سے اب تک کی تاریخ میں ٹیکنالوجی کی ترقی اور پھیلاوٰ کی وجہ سے اس مفہوم یا مطلب میں کئی طرح کے اضافے کے پہلو بھی دیکھے جا سکتے ہیں جو بنیادی مفہوم سے انحراف تو نہیں کرتے مگر بہت دلچسپ انداز میں مفہوم میں اک پہلو کے اضافے یا ایک منفرد سی تشریح کا سبب بنتے ہیں۔

Read more

مری تم اب بھی منفرد اک الگ سا شہر ہو

مری میں پھر آؤں گا کہ مجھے محسوس کرنے کی اور تمنا ہے اور کچھ خواہشیں ہیں کہ وہاں، وہاں اور جہاں وقت بتانا ضروری ہے۔ بس کہنا چاہتا ہوں کہ مری تم اب بھی منفرد اک الگ سا شہر ہو۔ کتنی یادیں ہیں جو مختلف موسموں اور الگ الگ وقتوں کی ہیں۔ بدلتے پہر اور گھڑی کی گھومتی سوئیاں۔ علی الصبح کوئی پانچ سے چھ بجے کا وقت اور مری کے پہاڑی قصبے یا شہر میں یہ ایک عاشقانہ سے سماں والا ماحول کہ جہاں بادلوں سے باتیں کرنا، دھند میں چلنا اور سردی کو چہرے کے راستے گردن سے اترتے ہوئے جسم کے اندر محسوس کرنا۔

Read more

نا انصافی کا بہاو

اک شوریدہ سر بہاو ہے اور سب بہے چلے جا رہے ہیں۔ طاقت ور ہوں یا کم زور۔ نابغہ کہلائے جانے والے ہوں یا سوچ کی سطح پر کھڑے رہنے والے۔ اقتدار کی غلام گردشوں پر اختیار رکھنے والے ہوں یا سورج کی انتہائی شدت سے تپتی ہوئی سڑکوں پر رہنے والے جو اڑتی ہوئی دھول کے ساتھ چل رہے ہوں۔ خواب دیکھنے والے ہوں یا الجھنوں میں گم، رزق سے آسودہ خاطر لوگ ہوں یا نان کو ترستے افراد،

Read more

اٹھارہ اکتوبر کی ادھوری کہانی

صاحب بڑا کنفیوژن ہے اور کہنا یہ ہے کہ شور کیوں مچا ہے۔ کچھ تو شاید اک معیشت پہ پڑنے والا دباو ہے جس نے کرونا وائرس کے ازسرنو پھیلاو کے بعد دو ہزار بیس میں ایک بڑی پریشانی اور تفکر کو جنم دیا جس کا دائرہ کار ہر ایک طبقے جس کا تاثر ہر شعبہ ہائے زندگی کو اک نئے بدلاو کی جانب بہائے لیے جا رہا ہے۔ اور دیکھیے کہ اسی دو ہزار بیس جسے بیس بیس بھی

Read more

ایک چھوٹی سی بات

زندگی بذات خود ایک داستان ہے، جس کے متعدد باب ہیں۔ پیدائش سے سفر کا اک مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ ساتھ ساتھ یادداشت کی کتاب میں مناظر، تجربات اور مشاہدات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ خوشی اور غم تجربات کی دو انتہائیں ہیں۔ یہاں انتہا سے مراد، کنارہ ہے، جیسے دریا یا ندی کے دو کنارے ہوتے ہیں۔ جیسے شہر کے دو کنارے ہوتے ہیں۔

کناروں کے درمیان بہت کچھ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ اتنی اہمیت کا حامل نہیں لگتا، حالاں کہ درمیان کی اہمیت سے تو انکار ہی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ درمیان کو توازن کے حوالے سے بھی دیکھا جاتا ہے۔ بسا اوقات درمیان کو امتزاج کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے۔ چاہے یہ امتزاج معیشت کا ہو، سماج کا ہو، سیاست کا ہو، زندگی کے مختلف پہلووٰں کا ہو۔

Read more

کل اور آج: ثقافت اور شعور کا سفر

شاید آج کچھ لوگوں کو خواب جیسا لگے مگر کوئی بہت پرانی بات نہیں۔ وقت کا سفر اک ہمیشگی اور تسلسل سے وابستہ ہے۔ بچپن اک مستانہ سا زمانہ تھا، ابھی بہت سی سہولتیں عام نہیں تھیں اور ترقی نے ہر اک در پر اخباروں اور اسکرینوں پر ائے اشتہارات کی بھرمار کے ذریعے یلغار نہیں کی تھی۔ خواہشیں اور معلومات بہت نہ تھیں۔ جاننے کا ذریعہ سننا تھا یا پڑھنا، دیکھنے کی محدود سہولت عفریت نہ بن پائی تھی۔

Read more

سفر کی جہتیں: اک الگ سی کہانی

آسمان پر جیسے روشنی کے بہت سے در کھلے ہوں اور چمک گویا راستہ دکھا کر بلا رہی ہو۔ کتنا صاف اور شفاف تھا آسمان۔ کہیں سنہری اور کہیں روپہلی سی لگنے والی نرم ریت پر نیم دراز ہم اس عجیب سے آسمان کو دیکھتے تھے اور محو تھے شاید گہرے سے خیالوں میں، اور شاید لاکھوں سالوں سے بھی پرانی یاداشتوں کے کچھ ذرے ہمارے ذہن میں جگمگاتے تھے اور پھر کہیں غائب سے ہو جاتے تھے۔ ستارے کہ

Read more

سماجی المیے کی تجریدی تصویر

ہر معاشرے کے لیے کچھ سوال ضروری ہوتے ہیں اور ان سوالوں کے جواب اجتماعی اور انفرادی ضمیر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جہاں شور شرابا اور غیرضروری بحث روزمرہ کا معمول بن چکے ہوں کیا ایسے معاشرے میں ہم بامقصد و ضروری امور پر شائستہ اور نیتجہ خیز گفتگو کا تصور کر سکتے ہیں؟ ہمارے معمول کے رویے ہماری سوچ اور فہم کو سادگی کے ساتھ عیاں کردیتے ہیں اور یوں کچھ لوگوں کے فرض کردہ عظیم قوم اور اس

Read more

ملکہ پربت کے قدموں میں شام وادی کاغان اور ہائیک کہانی

زندہ رہنے اور جھیل میں گر کر ڈوبنے میں بس وہ اک لمحہ حائل ہوا۔ جب پہاڑی کی چوٹی سے اک ترنگ میں اترتے ہوئے میری رفتار تیز ہوتی چلی گئی اور میں جیسے پتھروں پر بے ارادہ دوڑنے لگا، نیچے ایک جھیل تھی اور پتہ نہیں کتنی گہری تھی۔ لیڈر ٹرینر اک دم سامنے آگئے اور اپنی ہائیکنگ اسٹک زمیں میں گاڑ دی اور پھر جم کر کھڑے رہے، میں ان سے ٹکرا کر رکا اور اس طرح اس

Read more

ڈوبا ہوا شہر، بارش کہانی

شہر ڈوب گیا تھا۔ ہر سڑک اک دریا میں بدل چکی تھی اور پانی تھا کہ راستہ ڈھونڈ کر ہر سو گھستا چلا جا رہا تھا۔ یہ وہی شہر تھا جہاں بارش برسوں پہلے اک کہانی بن گئی تھی۔ سال میں اگر کسی دن بارش کے نام پر پانی کا چھینٹا پڑ جاتا تو جیسے لوگ جشن منانے لگتے۔ اور اب بارش تھی کہ بند ہونے کا نام نہیں لیتی تھی۔ پانی آسمان سے کچھ یوں برس رہا تھا کہ

Read more

شاہراہ قراقرم، بارش اور اجنبی مسافر

میں اک خوف کے عالم میں سانس لیتا تھا اور ہر پل ہر آواز سے اور چوکنا سا ہوجاتا تھا۔ ہر سو اک سیاھی میں بس اسمان پہ کڑکنے والی بجلی کی اک دم سب روشن کردینے والی جھلک سیاہ تصویر میں چھپے پہاڑوں، شاہراہ اور نیچے بہنے والے دریا کو جیسے اک بلیک اینڈ وائٹ منظر کی طرح اک لمحے کے لیے آنکھوں کے سامنے لے اتی تھی اور پھر وہی ہراک سو پھیلی ہوئی سیاھی۔

پہاڑوں کا اندھیرا جیسے آپ کے اندر کو پڑھنے سا لگتا ہے اور اگر آپ ڈرنے لگتے ہیں تو یہ آپ کو ڈراتا ہے اور اگر آپ تاریکی اور سناٹے سے سکون کشید کرنے لگتے ہیں تو یہ آپ کو خاموشی اور اندھیرے کا ایک منفرد امتزاج دیتا ہے۔

Read more

کٹھمنڈو، بدھاناتھ اسٹوپا اور سنہری مینار پر دور تک دیکھتی آنکھیں

شام رفتہ رفتہ اتر رہی تھی اور سورج کی روشنی گویا بس جانے کو ہی تھی اور اجنبی شہر کٹھمنڈو کا وہ اسرار بھرا گوشہ جہاں اک منتر کے زور زور سے پڑھنے کی آواز گونج رہی تھی اوم مانی پدمے ہم، اوم مانی پدمے ہم۔ ہم بھی اس دائرے کے گرد اک بہاؤ کا حصہ بنے اس دائرے میں چلتے ہجوم کا حصہ تھے۔ پشوپتی ناتھ مندر کے وسیع وعریض احاطے کے گویا اختتام سے قبل بھاگ متی دریا

Read more

سبز پاسپورٹ، ترک اہلکار اور پاکستانی مسافر

سبز پاسپورٹ کو دیکھتے ہی اور پاکستان کا نام سنتے ہی ان کی آنکھوں کی پیشہ ورانہ سختی اک ہی لمحے میں برادرانہ محبت میں بدلی اور ان کے پیشہ ورانہ لہجے میں اک اپنائیت سی در ائی۔ بڑی محبت سے اس نے کہا کہ آپ اپنا دستی سامان اور لانگ شوز اس ٹرے میں رکھ دیں۔ استنبول کا اتاترک بین الاقوامی ہوائی اڈا سیاحوں اور مسافروں سے بے انتہا آباد سا تھا۔ جہاں دیکھو مختلف تہذیبوں، جغرافیائی خطوں، زبانوں

Read more

نیپال کا پہاڑ، رات میں ٹریفک جام اور روشنی کی شاہراہ

پہاڑ پر وہ سڑک دور تک چلی جارہی تھی۔ ڈھلتی شام میں تیزی سے پھیلتا اندھیرا اک انوکھے منظر میں ڈھل گیا تھا کہ طویل فاصلے تک پھیلی لہراتی اور بل کھاتی پہاڑی سڑک گاڑیوں کی روشنیوں سے گویا جگمگا رہی تھی جن سے وجود میں انے والی روشنی کی شاہراہ کا کیا عجب خوبصورت سا منظر تھا جس نے گویا دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں گرفتار کر لیا تھا۔ حالانکہ صورتحال اور وقت تو مختلف سا اور کچھ

Read more

سبز اور زرد گھاس والے پہاڑی میدان میں اک شام

اس پہاڑی کے اوپر واقع سبز اور زرد گھاس والے دو میدانوں میں سے اوپر والے بڑے میدان کے کنارے پر پڑی اک بنچ پر ہم دونوں بیٹھے سامنے پھیلے ہوئے شہر کے منظر اور اس سے پرے بادلوں اور دھند میں ڈھکے پہاڑوں کے سلسلے کو اک بے خودی کے عالم میں دیکھے جا رہے تھے۔ مرے نیپالی دوست حیران بھی ہوتے ہیں اور خوش بھی کہ میں جب فیس بک میسینجر اور واٹس ایپ پر ان سے باتیں

Read more

ملیر مندر کے سامنے والا ریلوے اسٹیشن اور حبیب درانی

لاک ڈاؤن کی وجہ سے کراچی کے مقبول عام پٹھان کے چاے والے ہوٹل تو بند ہیں، اس کے علاوہ پابندی کی وجہ سے پارک، ساحل سمندر اور بیٹھنے کے مختلف مقامات پر بھی بیٹھنا ممکن نہیں تو پھر شام کی ٹھنڈی ہوا کا لطف لینے اور دوستوں سے ملنے کے لیے ایسے مقام کی تلاش ضروری ہے جہاں موجودہ ماحول میں لاگو کیے جانے والے تحفظ سے متعلق قواعد و ضوابط پر عمل کو ممکن بنایا جاسکے۔ یہ سوال موجودہ

Read more

امید کا فقدان اور ہمارا نوجوان

آج کا نوجوان کیا پرامید ہے یا مایوس۔ کیا اس ملک میں مستقبل کے خواب دیکھنا اور ان کی تعبیر حاصل کرنا ممکن ہے یا نہیں؟ شکوے شکایات اور الزامات تو شام کے بعد جگمگاتی ٹیلی ویژن کی اسکرینوں پر مہنگے اور برانڈڈ سوٹ میں ملبوس اینکر پرسنز کا شعبہ خصوصی ہیں تو ہم شکوے شکایات اور الزامات سے دور رہ کر اپنی بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوال کرنا اور جاننے کی خواہش شاید یہ دو چیزیں ان

Read more

کتابیں: محبت کی پیامبر

میری کتابوں سے محبت بہت چھوٹی عمر سے شروع ہویٰ اور شاید اس کی وجہ تھی کہانی کی کتابیں، کہانی کی کتابیں جو پڑھنے والے کو کسی اور دنیا میں لے جاتی ہیں۔ اس دنیا میں جہاں تصور کی سلطنت میں مادی رکاوٹیں اس حیثیت کی حامل نہیں ہوتیں جو کہ حقیقی دنیا میں وہ رکھتی ہیں۔ کہانی کی دنیا تو تصور کی آزادی اور خیال کی پرواز کی دنیا ہے، جہاں آپ وہ سوچتے اور پڑھتے ہیں جس کا

Read more

پرواز

پرندوں کو نیلے آسمان پر پرواز کرتے دیکھنا ایک خوبصورت منظر ہے اور انسانوں نے شاید اسی منظر کی خوبصورتی، شان، آزادی اور اڑان کے سحر میں مبتلا ہو کر فضا میں پرواز کے خواب دیکھے اور ابتدا میں اس خواب کی تعبیر کی ابتدا ایسی کہانیوں اور قصوں کو لکھنے سے ہویٰ جس میں پرواز کی باتیں تھیں، شروع میں انسان نے پرواز کرنے کی خواہش کو ایسی کہانیوں کے ذریعے بیان کیا جس میں قوی الحبثہ پرندوں کے

Read more

خواب خیال اور زندگی

خواب شاید انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے ہی اک عجب سی اہمیت اور امید کا استعارہ رہے ہیں۔ اور یہ خواب ہی تو ہیں جو انسان کو نت نے ٰ انوکھے تصورات اور مختلف خیالات سے اشنا کرتے رہے ہیں، انسانی ترقی میں خوابوں کا کردار کبھی کم نہیں کیا جاسکتا اور اس کا قطعی یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف خواب دیکھنے سے ہی سب کچھ ممکن ہو جائے ٰ گا مگر خیال اور خواب کے بغیر شاید پہلا قدم اٹھانا ممکن ہی نہیں ہو سکتا تھا۔

کسی نے کیا خوب کہا کہ خواب انسان کی زندگی میں ایک ایسے دروازے کی مانند ہیں جو اسے انوکھی سرزمینوں، اجنبی کائناتوں اور حیران کن مناظر سے روشناس کرانے کے راستوں پر لے جاتے ہیں۔ کسی نے کہا کہ خواب گمشدہ میراث تک لے جانے کے سراغ پر مبنی اشارے ہیں اور جو ان اشاروں کو سمجھ لیتا ہے وہ بہت سی مشکل اور غیر حل شدہ پہیلیوں کے جواب ڈھونڈھ سکے گا۔

Read more