کرونا وبا کے مثبت اور منفی سماجی پہلو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس کی وبا اگرچہ زاوال پذیر ہے لیکن ماہرین طب نے ابھی مکمل کلین چٹ نہیں دی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں اس وبا نے دوبارہ سر اٹھایا ہے لیکن اس کی تباہ کاریوں کی شدت میں کمی واضح طور پر محسوس کی جارہی ہے۔ وطن عزیز میں بھی زندگی کرونا وبا سے پہلے والی ڈگر پر چلنا شروع ہوچکی ہے۔ عید الاضحی کے دوران بد احتیاطیوں کے باوجود الحمد اللہ مرض کے متاثرین میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔

کرونا وبا کے جہاں منفی اثرات نے خاص کر ہر سطح اور ہر طبقے کی معاشی حالت کو نقصان پہنچایا ہے اس کے اذالہ کے لیے یقیناً ایک مدت درکار ہوگی۔ لیکن جہاں اس وبا کے نقصانات بھی ہیں وہاں سماجی سطح پر بھی ہمارے معمولات زندگی میں چند مثبت اور منفی تبدیلیوں کا سبب بنا ہے۔ سرپٹ بھاگتی زندگی رکی نہیں تو ٹھیری ضرور ہے۔ مادی خواہشات کے حصول میں بے پناہ مصروفیات نے انسان کو سماج سے دور کیا ہی کیا تھا نوبت خاندان سے دوری تک پہنچ چکی تھی۔

ہمارے سماجی معمولات کی زوال پذیری کا حال تو یہ ہے کہ ہمارے بنیادی مذہبی فرائض کی ادائیگیوں کے لئے بھی مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔ لیکن اس وبا نے کیا یہ کہ جو لوگ صرف گھر کو ایک سرائے سمجھتے تھے اور فقط سونے کے لئے گھر آتے تھے، وہ جب گھروں میں قید ہوئے تو انھیں پتا چلا کہ گھر کا سکون کیا ہوتا ہے۔ بیوی بچے جنھیں ہفتے یا پندرہ دن میں چند گھنٹے ملا کرتے تھے ان سے قربت کے لمحوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا۔ ہمارے بازار جو دن گیارہ بجے کھلا کرتے تھے اور رات بارہ بجے بند ہوتے تھے وہ شام سے پہلے ہی بند ہونا شروع ہوگئے۔

شادی بیاہ میں جہاں رسوم کے نام پر غیرضروری اخراجات پر لاکھوں کا اصراف ہوتا تھا وہ محدود ہو ا اور سفید پوش طبقے نے بھی کچھ سکون کا سانس لیا۔ ۔ ”ورک فرام ہوم“ کی اصطلا ح عام ہوئی اور زیادہ تر افراد اپنے دفتری فرائض گھر وں سے ہی ادا کرتے رہے۔ وبا کے دنوں میں ہر فرد نے اپنے ذوق کے مطابق مصروفیت تلاش کی۔ پہلے جو شخص ملنے پر مصافحہ کرتا تھا ہو مہذب کہلاتا اور جو معانقہ کرتا اسے تو مہذب کے ساتھ خوش اخلاق بھی گردانا جاتا۔ لیکن کرونا کے بعد تو حال یہ ہوا کہ اب جو مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھائے وہ نئے سماجی ضابطوں سے نابلد اور جو معانقہ کے لیے آگے بڑھے وہ انتہائی نابلد اور لاپروہ کہلایا جانے لگا۔

لیکن غضب یہ ہوا کہ بجائے ہم کرونا سے پیدا ہونے والے مثبت پہلوؤں کو آگے لے کر چلتے ہم نے ہمیشہ کی طرح کچھ نہیں سیکھا۔ جو ں ہی حکومت نے لاک ڈاؤن ختم کیا تو پھر وہ معمولات واپس لوٹ آئے جن کے منفی اثرات نے ہماری زندگیوں کے سماجی پہلوؤں کو حد درجہ متاثر کر رکھا تھا۔ بازاروں میں بے ہنگم رش اور وہی معمول کہ صبح دیر سے اور رات دیر تک کھلے رہنے لگے، جہاں بجلی کے دو بلب سے کام چل جائے وہاں بیس بل لگا کر بجلی کے بل کا بوجھ بھی گاہک کی جیب پر ڈالنے کی روش دوبارہ ا اختیار کرلی۔ مغربی ممالک میں رہنے والے بتاتے ہیں کہ وہاں شام کے بعد بڑی مارکیٹں بند ہوجاتی ہیں سوائے محلے کی چند چھوٹی دکانوں کے۔

نجی دفاتر میں جہاں احتیاط کے نام پر ”ورک فرام ہوم“ کی اصطلاح کو متعارف کروایا گیا اب کرونا کی معاشی تباہیوں کا بہانہ بنا کر ”ریلیز فرام جاب“ کی خبر سنا دی گئی۔ ہمارے معاشی تجزیہ کاروں نے کبھی ہمیں یہ نہیں بتایا کہ کسی بھی تجارتی یا صنعتی ادارے کے اخراجات میں سب سے کم ملازمین کی تنخواہیں اور مراعات ہوتی ہیں، لیکن جب بھی کسی کاروباری ادارے کو نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے تو پہلی ضرب ملازمین کی تنخواہوں اور دوسری ضرب ان کی نوکریوں پر پڑتی ہے۔

مگر کیا یہ ممکن ہے کہ ہم کرونا وباکے مثبت پہلوؤں کو مستقل اختیار کر لیں؟ لیکن اس کی ابتداء کہاں سے ہوگی گھر سے انفرادی سطح پر یا پر اجتماعی طور پر؟

پس تحریر: گزشتہ کالم تحریک آزادی 1857 ء میں پنجاب کے کردار کے بارے میں پروفیسر تراب الحسن صاحب کی کتاب کے حوالے سے تھا۔ کالم پر مختلف رد عمل آیا۔ ممتاز محقق ڈاکٹر معین الدین عقیل صاحب نے کالم کو سراہتے ہوئے اصلاح فرمائی کہ یہ مکمل طور پر درست نہیں کہ 1857ء کی جنگ آزادی کی تاریخ عصبیت کی بنیاد پر لکھوائی گئی۔ تاریخ لکھنے والوں میں صرف شمالی ہند اور دہلی والے نہیں تھے بلکہ ہر علاقے اور قومیت سے تعلق رکھنے والے تھے۔

اسی طرح معروف محقق اور تاریخ دن ڈاکٹر حسن بیگ صاحب نے بتایا کہ جنگ آزادی اور بغاوت پر سب سے زیادہ کتب مستشرقین کی ہیں اور ان کا ہی نقطہ نظر پیش کیا گیا ہے۔ ان کے مطالعے کے مطابق مولانا غلام رسول مہر صاحب کی کتاب 1857 ء اور اکرام چغتائی صاحب کی 1857 ء ہیں جن میں پنجاب کے بارے میں چند صفحات ہیں۔ زیادہ تفصیل جناب سلیم اختر صاحب کے مضمون سہ ماہی اردو۔ جنوری۔ مارچ 1988 ء میں ملتی ہے جس کے سترہ صفحات میں صرف پانچ صفحات میں موجودہ پنجاب کا ذکر ہے۔ لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ عام مسلمانوں کے جذبات باغیوں کے ساتھ تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •