سندھ اسمبلی میں قابل تعریف قانون سازی


سندھ اسمبلی نے صوبے میں جبری مذہب تبدیل کروانے کے خلاف ایک قانون منظور کیا ہے ۔ یہ قانون سندھ کریمینل لا مجریہ 2015 کہلائے گا۔ اس کے تحت کسی \"edit\"شخص کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرنے والے یا اس کی اعانت کرنے والے کو پانچ برس قید کی سزا دی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ اگر کوئی بالغ شخص اپنی مرضی سے عقیدہ تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اسے اس فیصلہ پر غور کرنے کے لئے اکیس روز کا وقت دینا ضروری ہو گا تاکہ وہ سوچ سمجھ کر یہ اہم فیصلہ کرسکے۔ سندھ میں ہندو آبادی کے ساتھ تبدیلی مذہب کے حوالے سے ہونے والی ذیادتیوں کے تناظر میں یہ ایک اہم فیصلہ ہے۔ تاہم یہ قانون اسی صورت میں سود مند ہو سکتا ہے ، جب حکومت اور اس کے ادارے اسے نافذ کروانے کے لئے سنجیدگی سے کوشش کریں گے۔ پاکستان میں عام طور سے قانون پر عملدرآمد کے بارے میں افسوسناک تساہل کا مظاہرہ دیکھنے میں آتا ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کی آبادی چھ کروڑ کے قریب ہے جس میں پچاس سے ساٹھ لاکھ ہندو آباد ہیں۔ گزشتہ کئی برس سے یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ ہندوؤں کی کمسن لڑکیوں کو اغوا کرلیا جاتا ہے اور پھر انہیں مذہب تبدیل کرکے اغوا کرنے والے کے ساتھ شادی پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ اس لڑکی کو اس کے خاندان کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دے کر مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ عدالت میں بیان دے کہ اس نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرکے شادی کی ہے۔ اس طرح ایسی متعدد مجبور لڑکیوں کو زندگی بھر کے لئے غلامی کی زنجیروں میں باندھ لیا جاتا ہے اور ان کے خاندان تمام تر کوششوں کے باوجود ان کی مدد کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

ایسے واقعات میں عام طور سے علاقے کے بااثر لوگ ملوث ہوتے ہیں اور اس معاملہ کو مذہبی حرمت کا معاملہ بنانے کے لئے انہیں انتہا پسند مذہبی گروہوں کی مدد بھی حاصل ہوتی ہے۔ یہ گروہ مقامی عدالتی نظام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ججوں کو ان کی مرضی کے خلاف فیصلہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائیج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اغوا شدہ لڑکی کی مرضی اور عمر کے بارے میں تصدیق کرنے کی کوئی بامقصد کوشش نہیں کی جاتی۔ صوبے کی ہندو آبادی میں اس قسم کے واقعات کی وجہ سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ اسی لئے سندھی ہندوؤں میں پاکستان چھوڑ کر بھارت میں پناہ لینے کے رجحان میں بھی اضافہ ہؤا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے شور مچانے کے باوجود حکام اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لئے کوئی مؤثر اقدام کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اب سندھ اسمبلی نے مسلم لیگ (ف) کے رکن نند کمار کولکانی کا تجویز کردہ نیا قانون منظور کیا ہے۔ تاہم اس کی افادیت کے لئے سندھ حکومت کو اس قانون کو نافذ کرنے میں پوری سرکاری قوت استعمال کرنا پڑے گی۔ مقامی حکام کو یہ واضح پیغام دینے کی ضرورت ہوگی کہ وہ ایسے افسوسناک معاملات میں ملوث لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کریں خواہ وہ جتنے بھی طاقتور ہوں۔ اس حوالے سے علاقے کے انتہا پسند مذہبی گروہوں کو متنبہ کرنے اور اس قسم کی قانون شکنی سے دور رکھنے کے لئے بھی اقدامات ضروری ہوں گے۔

کسی بھی شخص کو عقیدہ تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی آئین کے تحت ہر شخص کو اپنے عقیدہ پر اپنی مرضی اور صوابدید کے مطابق عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔ تاہم اس حوالے سے سماجی اور آئینی حدود پھلانگنے والے مذہبی گروہوں پر مناسب کنٹرول نہ ہونے کے باعث حالات دگرگوں ہوئے ہیں۔ اب یہ صورت حال تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ سندھ اسمبلی میں اس مقصد کے لئے قانون کی منظوری ایک اچھا اقدام ہے۔ تاہم اب دیکھنا ہو گا کہ حکومت کتنی سنجیدگی سے اس پر عملدرآمد کرواتی ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali