موساد ایک ہاتھ کی دوری پر؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عرب دنیا میں 1979 میں مصر اور پھر 1994 میں اردن نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کئے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے اپنے مقبوضہ علاقے خالی کروائے جبکہ اردن نے امریکہ سے فوجی امداد کی بحالی جس میں F-16 طیارو ں کے اسکوارڈن کےحصول سمیت تقریبا 700 ملین ڈالر کا قرض بھی معاف کروا لیا تھا۔ متحدہ عرب امارات کی نہ اسرائیل سے سرحد ملتی ہے اور نہ ہی اس کے کسی علاقے پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ عرب امارات کے اس فیصلے سے نہ صرف خطے بلکہ پوری مسلم دنیا کی  حرکیات ہی تبدیل ہو کر رہ گئی ہیں اور خاص طور پر پاکستان کے لئے مشکل وقت شروع ہوا چاہتا ہے۔ پاکستان پر آنے سے پہلے ایک نظر اسرائیل امارات تعلقات پر ڈال لیتے ہیں ۔

امریکی جریدے نیو یارکر کے مطابق اسرائیل امارات تعلقات ایک دن کی کہانی نہیں ہیں بلکہ 90 کی دہائی سے ہی ان کے بیک ڈور رابطے موجود تھے۔ معاملہ ایک بار پھر امریکی  F-16طیاروں کا تھا جب متحدہ عرب امارات امریکہ سے یہ طیارے حاصل کرنا چاہتا تھا لیکن اسےخدشہ تھا کہ اسرائیل کو ایک عرب ملک کے پاس ایف 16 طیاروں پر اعتراض ہو سکتا ہے۔ اسی سلسلے میں بیک ڈور رابطے ہوئے اور اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن نے کلنٹن انتظامیہ کو بتا دیا کہ اسرائیل کو اس ڈیل پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ ان بیک ڈور روابط کے بعد اسرائیل اور امارات کے درمیان مختلف سطحوں پر تعلقات رہے ۔

اسرائیل اور امارات کے معاشی تعلقات بھی نئے نہیں۔ اسرائیلی ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپ نیوز (سی ٹیک) نامی ویب سائٹ کی رپورٹوں کےمطابق غیرسرکاری طور پر اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاشی تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور دو سو کے قریب اسرائیلی کمپنیاں اپنی مصنوعات عرب امارات میں ذیلی کمپنیوں کے ذریعے فروخت کر رہی ہیں ۔

عرب امارات اور اسرائیل کو قریب لانے میں جس ایک نظریہ نے کردار ادا کیا اس کا نام ہے ایران جس کی پاکستان کے ساتھ 950 کلومیٹر طویل سرحد ہے اور تعلقات میں بہتری کی نئی سوچ دونوں طرف پائی جا رہی ہے۔ لبنان کی حزب اللہ اور فلسطین میں حماس کی ایرانی حمایت اور مدد اسرائیل کے لئے پہلے ہی درد سر بنی ہوئی ہے جبکہ عرب ممالک کی حالیہ برسوں میں ایران سے روز افزوں بڑھتی مخاصمت نے دشمن کے دشمنوں کو ایک میز پر اکھٹا ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ اسرائیل کی اس خطے میں ایران کے علاوہ نظر پاکستان پر بھی ہو گی کیونکہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت اور مظبوط فوج اسرائیلی مفادات کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں۔

اب ذرا ایک نظر اپنے خطے اور موجودہ حالات پر ڈالیے۔ ایک طرف ہندوستان جہاں پہلے ہی اسرائیل موجود ہے، مطلب کریلا وہ بھی نیم چڑھا۔ دوسری طرف افغانستان جس سے ہمارے تعلقات مثالی نہیں۔ ادھر ایران پاکستان تعلقات میں بڑھوتری کی ایک نئی لہر سے کئی ممالک کی تشویش میں اضافہ بھی ہو رہا ہے لیکن یہ چین اور پاکستان کے مفاد میں ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کی از سر نو تعمیر کی جائے۔ چینی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں ایرانی دلچسپی بھارت کے ایران سے بوریا بستر لپیٹنے میں بھی مددگار ثابت ہو گی۔ اس کا ایک مظہر گذشتہ دنوں نظر بھی آ چکا ہے جب ایران نے بھارت کو چاہ بہار پورٹ کی ریلو ےلائن منصوبے سے نکال باہر کیا تھا ۔

امارات میں بیٹھ کر پاکستان اور ایران پر نظر رکھنا زیادہ آسان ہو گا جہاں اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لئے یہ دونوں ممالک ایک ہاتھ کی دوری پر ہوں گے۔ عرب امارات کے اندر تقریبا 15 لاکھ پاکستانی موجود ہیں جو کہ امارات کی کل آبادی کا، ایک اندازے کے مطابق،12.5  فیصد ہیں ۔ بھارت کے اندر اسرائیلی موجودگی پاکستان کے لئے اس طریقے سے باعث تشویش نہیں ہے جیسا کہ عرب امارات کے اندر۔ ایک تو وجہ پاکستانیوں کی وہاں پر بڑی تعداد اور آنے جانے کی آسانی، دوسرا عرب دنیا میں پاکستان کے حوالے سے پائی جانے والی تازہ سرد مہری اور جیسے جیسے عرب ممالک اسرائیل سے تعلقات بناتے چلے جائیں گے، ویسے ویسے مسلم دنیا میں تقسیم گہری سے گہری ہوتی جائے گی ۔

گو کہ سعودی عرب نے واضح کر دیا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات صرف شاہ عبداللہ کے تجویز کردہ 2002 کے عرب امن آغاز پلان کے تحت ہی ہو گا لیکن امریکی صدر ٹرمپ اور انکے داماد جیراڈ کشنر سعودیہ سمیت باقی ممالک پر اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے پر مصر بھی ہیں اور اسکے لیے یقینا کام بھی کر رہے ہیں۔ ادھر اسرائیلی ٹیکنالوجی میں عرب امارت کی دلچسپی اور اسرائیل کی سائبر سیکورٹی میں مہارت اور ایک مشترکہ دشمن ایران  سمیت امریکی خوشنودی کے حصول جیسے محرکات کی بنا پر ہی کہا جا رہا ہے کہ بہت جلد دیگر عرب ممالک بھی عرب امارات کا راستہ ہی پکڑیں گے۔ یہ سب بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ عرب ممالک کس ملک کا اشارہ ابرو دیکھ کر چلتے ہیں اس لئے عرب امارات کا اقدام عرب ممالک میں ایک نئی سوچ کی آمد کا عندیہ ہے۔ اسی بنا پر بیانات کو بیانات ہی سمجھیے اور تھوڑے کو بہت لکھا جانیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
علی منیر کی دیگر تحریریں