تمہارے نام آخری خط


میرے دوست!

مجھے یقین ہے کہ تم بالکل خیریت سے ہو۔ تمہاری خیریت پتہ چلنا کون سا مشکل کام ہے۔ دنیا گول ہے۔ اور اسی گول دنیا کے چھوٹے سے سرکل میں ہم چند لوگ ایک دوسرے جڑے ہیں۔ ایک دوسرے کی خیر خبر سے کون ناواقف رہ سکتا ہے۔ جب میں نے پہلے تمہارے نام خط لکھا۔ میں بہت سی باتوں سے انجان تھی۔ سچ کہتے ہیں۔ کبھی بھی انسان کو مکمل پرکھے بنا اس کے متعلق کوئی رائے نہیں رکھنی چاہیے۔ بس یہاں آ کے میں مار کھا جاتی ہوں۔ مجھے سب اپنے جیسے دکھتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم جو چند لوگ ہیں۔ ہم شاید عام لوگوں سے مختلف ہیں۔ ہم صاف دل و مخلص لوگ ہیں۔

سچ کہوں تو یہ میری زندگی کی بڑی غلط فہمیوں میں سے ایک بڑی ہی غلط فہمی رہی ہے۔ میں اپنی غلطیاں مان لیتی ہوں۔ میں یہ مانتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتی کہ مجھے لوگوں کی پرکھ نہیں ہے۔ میں غلط لوگوں پہ اعتبار کر لیتی ہوں۔ پھر کئی عرصہ خود کو کوستے گزار دیتی ہوں کہ مجھ سے ایسا کام کیوں سرزد ہوا۔ چلو خیر ایک اور غلطی سہی۔

میں جذبوں کے اظہار میں بڑی صاف اور کھری ہوں۔ جو جذبہ جس شدت سے ہے۔ سو ہے۔ مجھے اسے کہنے میں کبھی عار محسوس نہیں ہوا۔ سرعام کہنے میں بھی کیا ہے۔ مگر ہاں کہ جس معاشرے کی میں عورت ہوں۔ وہاں ایسی باتیں سننا اور انہیں ہضم کرنا عام لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ مگر میں نے پھر بھی تمہارے نام محبت نامہ لکھا۔ جن دنوں لوگ وبا سے خوفزدہ تھے۔ میں نے محبتوں کی بات کی۔ جن دنوں لوگوں پہ موت کا خوف سوار تھا۔ میں نے اچھے لمحے جینے کی خواہش کی۔ خواہش پہ بھلا کس کا زور ہے۔

میرے پاس بہت سے لوگ اپنی خواہشوں کی ٹوکریاں لیے آتے ہیں۔ ہمت نہیں پڑتی کہ میں ان کو برے لہجے میں دھتکار دوں۔ ہاں مگر انکار کا بھی سلیقہ ہوا کرتا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں یہ سلیقہ رکھتی ہوں۔ میں چار لوگوں میں کبھی کسی کے جذبے کا مذاق اڑانے کا تصور تک نہیں سوچ سکتی۔ یہ توہین ہے۔ محبت کی بھی اور آپ کے انسان ہونے کی بھی توہین ہے۔

کچھ باتیں و چیزیں آپ کا نقصان بہت گہرائی تک کر دیتی ہیں۔ ایسا ہی کچھ نقصان مجھے تمہارے لیے محبت نامہ لکھنے پہ ہوا ہے۔ کیونکہ ابھی تک تو نہ میں امرتا ہوں نہ تم ساحر اور نہ ہی میرے گھر میں کوئی امروز رہتا ہے۔

میں نے بڑی کوشش کی کہ میں تمہیں محبت و دوستی کے حوالے سے کچھ بتا سکوں۔ سکھا سکوں۔ مگر تمہارے لیے چیزیں تمہاری نظر سے کچھ اور ہیں۔ ہو سکتا ہے تمہاری نظر زیادہ وسیع ہو۔ میں یہاں تمہیں مارجن دے دیتی ہوں۔ میں نے کہا ناں۔ کہ میں جذبوں کے متعلق بڑی کلیئر ہوں۔ سو میں بہت دنوں سے یہ بتانا چاہ رہی تھی کہ میں نے تمہارا نام اپنے دل سے صاف کر دیا ہے۔ بالکل ویسا صاف جیسے گاچی مل کے تختی صاف کر دی جاتی ہے۔ تم سوچو گے کہ اس کے لیے اتنا لمبا خط لکھنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی۔ تو بھئی جب محبت کے نام خط لکھے جا سکتے ہیں۔ تو محبت کی فاتحہ بھی تو پڑھ لی جائے۔

محبت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے تو نکلے۔ اسی دھوم سے جیسے اظہار کی ڈولی اٹھی تھی۔ پہلے میں نے بہت سوچا کہ میں اس خط کو ڈیلیٹ کروا دوں۔ مگر پھر میں نے سوچا کہ یہ تو بہت غلط بات ہو گی۔ اس خط پہ میرے استادوں کے تجزیے بہت اچھے ہیں۔ ویسے بھی وہ دل سے لکھی تحریر تھی۔ تحریریں بھی تو اولاد جیسی ہوتی ہیں۔ اب اپنی اولاد کو کیسے اپنے ہاتھ سے مار دوں۔ وہ بھی سند رہے گا۔ یہ بھی سند ہے۔ تا کہ بوقت ضرورت کام آوے۔

سو میرے سابقہ دوست۔ میں تو نہیں چاہتی تھی کہ کبھی تمہارے نام کے ساتھ سابقہ کا لاحقہ لگے۔ مگر افسوس کہ تم وجہ جانتے ہو۔ تمہارے ساتھ ساتھ بہت سے لوگوں کو سابقہ کر دیا ہے۔ جب سے ایسا کیا ہے۔ سکون ہو گیا ہے۔ ہوتا تو بہت اذیت ناک ہے۔ مگر کیا کریں۔ یہ ضروری ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں تو بے حد ضروری تھا۔ وجہ تو تمہیں پتہ ہی ہے۔

میں نے کئی دن پہلے سے خود کو تمہاری یاد سے آزاد کر لیا ہوا ہے۔ وقت نہیں مل رہا تھا کہ بتا پاتی۔ تم اور تمہارے مہربان اب میری زندگی سے مائنس ہیں۔ ایسے جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔

ہاں تمہیں ایک چیز کا ہمیشہ خیال رہتا تھا کہ تم وقتی طور پہ تو برے بننا پسند کر سکتے ہو۔ لیکن مستقل برا بننا تمہیں منظور نہیں تھا۔ اطلاعا عرض ہے کہ یہ ہو چکا ہے۔ جس کا مجھے بھی بے حد افسوس ہے۔ باقی تم خوش رہو۔ سلامت رہو۔ جیسے لوگوں میں رہنا تمہیں پسند تھا۔ ان کے ساتھ رہو۔ تمہارے نام یہ میرا آخری خط تھا۔

جیتے رہو۔
نوشی بٹ

Facebook Comments HS