وزیر داخلہ اور ذلتوں کے مارے لوگ ….

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"zeeshanکل کا واقعہ ہے اور آج کے اخبار میں خبر کہ وزیراعظم نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی ہے جس میں چیف آف آرمی سٹاف سمیت وزیر داخلہ اور سلامتی امور کے بقیہ تمام ذمہ داران نے شرکت کی ، جانے اس اجلاس میں کیا گفت شنید ہوتی رہی ، نہیں معلوم – مگر عوام کے لئے جو کچھ برآمد ہوا وہ ہے فقط ایک عدد پریس ریلیز جس میں ان قوتوں کو ڈرانے کی کوشش کی گئی ہے جو عوام خصوصا ہمارے تعلیم کے خواہش مند بچوں کو ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں –
کچھ دن پہلے وزیر داخلہ نے اپنے مخصوص انداز میں ایک دھواں دھار پریس کانفرنس کی – جس میں یہ دعوی کیا گیا کہ ہم حقیقتا دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ جیت چکے ہیں مگر سیکورٹی اداروں پر عوام کی بے جا تنقید سے ہمارا مورال ڈاو¿ن ہو رہا ہے یوں ہم نفسیاتی محاذ پر جنگ ہار رہے ہیں – یہ بات سمجھنا مشکل تھا کہ موصوف ایک جمہوری حکومت کے وزیر داخلہ تھے یا کسی آمر کے ترجمان جو عوامی جوابدہی کو قومی سلامتی کے لئے خطرہ سمجھ رہے تھے- باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے دنوں میں ہم نے دو روز میں ایک سو لاشیں اٹھائی ہیں – یہ کیسی فتح ہے جس میں دہشت گردوں کے گروہ معصوم شہریوں پر شب خون مار رہے ہیں اور یہ کیسی جمہوری حکومت ہے جس کے وزیر داخلہ کو یہ اعتراض ہے کہ عوام فتح کا جشن منانے کے بجائے سو لاشوں پر کیوں ماتم کناں ہے ؟
جہاں تک نفسیاتی محاذ پر پسپائی کا تعلق ہے ،تو کیا جب مولانا عبدالعزیز ریاست جمہوریت اور فوج کے خلاف زہر اگلتا ہے ، اس وقت ہم نفسیاتی محاذ پر صحت مند ہوتے ہیں ؟ جب مولوی منور حسن پاکستانی فوجی کو شہید ماننے سے انکار کر دیتا ہے اس وقت بھی نفسیاتی محاذ پر ہمیں کوئی اثر نہیں پڑتا ؟ داعش کے گروہ جب زیر زمیں سرگرمیوں میں اپنا نیٹ ورک وسیع کر رہے ہوتے ہیں تب بھی فتح کے شادیانے بجانا جائز ہیں؟ جب آرمی پبلک اسکول ، جی ایچ کیو ، نیول ہیڈ کوارٹر ، واہگہ بارڈر ، مون مارکیٹ ( ان گنت ایسے ظالمانہ واقعات ہیں) اور چارسدہ جیسے سانحات ہوتے ہیں تب بھی نفسیاتی محاذ پر پیش قدمی جاری رہتی ہے مگر صرف عوامی جوابدہی اور نیشنل ایکشن پلان پر سوالات اٹھانے سے یہ محاذ کمزور پڑ جاتا ہے ؟
جو حقیقت ہے وہ یہی ہے کہ چوہدری نثار کو ہمیشہ سے اسٹبلشمنٹ کی مدد حاصل رہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ہی کی سرپرستی کا فیضان ہے کہ وہ ایک جمہوری حکومت کے وزیر داخلہ ہونے کے باوجود غیر جمہوری زبان بول رہے ہیں – چوہدری صاحب کی پھرتیوں اور پریس کانفرنس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ موصوف خود کو ہی وزیراعظم سمجھ بیٹھے ہیں – ایک مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ میں نے وزیراعظم کی کئی بار …. ہے کہ آپ کیسے پاکستان کو لبرل بنانا \"zeeshan\"چاہتے ہیں – ناشائستہ لفظ کو راقم نے حذف کیا ہے، وزیر داخلہ نے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ زبان کی تہذیب ذہن کی تہذیب کو ظاہر کرتی ہے –
ایک اور خبر ہے کہ باچا خان یونیورسٹی سانحہ کو ادارے کے وائس چانسلر اور سیکورٹی انچارج کی لاپرواہی قرار دے کر وائس چانسلر کی برخواستی کے نوٹیفکیشن جاری کر دیئے گئے ہیں – سبحان اللہ ، اس جنگ میں ستر ہزار سے زائد معصوم شہری قتل کر دیئے گئے ہیں۔ یہ کن طاقتوں کی لاپرواہی ہے؟ آرمی پبلک اسکول سانحہ کن کی غفلت ہے؟ حملہ آور افغانستان سے چارسدہ آئے، سرحدوں کی حفاظت کن کی ذمہ داری ہے ؟ کن کی چشم پوشی کے سبب یہ خونخوار عفریت پیدا ہوئے اور ہنوز ہم شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ؟ تعلیمی ادارے کا منصب طلبا کی ذہنی پرورش ہے ۔ پورے ملک میں سلامتی کو یقینی بنانا سیکورٹی اداروں کا فرض منصبی ہے یا اسکول کے اساتذہ اور طلبا کا؟ حضور ریاست کو اتنا تو بے توقیر نہ کریں ۔
چوتھی خبر یہ ہے کہ پنجاب کے سکولوں کو پہلے سردی کے بہانے بند کیا گیا پھر فرمایا گیا کہ دہشت گردی کا خطرہ ہے – اب پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے نمائندوں سے مذاکرات کے بعد انہیں اسکول کھولنے کی اجازت دی گئی ہے – سوال یہ ہے کہ کیا اب سیکورٹی کے خطرات ٹل گئے ہیں ؟ کیا ایسے ٹل گئے ہیں کہ اب یہ تعلیمی ادارے اپنی سیکورٹی کا انتظام خود کریں گے ؟ چھ لاکھ سے زائد کی فوج ابھی تک جو کام نہیں کر سکی وہ یہ غیر تربیت یافتہ سیکورٹی گارڈ کر سکیں گے ؟
ہو گا یہی کہ نجی سکولوں کی انتظامیہ سیکورٹی چارجز کی صورت میں طلبا سے زیادہ فیس بٹورے گی – اگر خدا نخواستہ کوئی اور آرمی پبلک اسکول جیسا سانحہ ہو گیا تو عوام نوحہ کناں تو ہو ں گے ہی ، وزیر داخلہ فرمائیں گے ہم نے پیشگی اطلاع کر دی تھی ، اور سیکورٹی ادارے فرمائیں گے کہ ہم جنگ جیت رہے ہیں ہمیں نفسیاتی طور پر کمزور نہ کیا جائے – اور عوام جو پہلے ہی بجٹ کا پچاس فیصد سے زائد قومی دفاع پر خرچ کر رہے ہیں، اب بھاری فیسوں کی شکل میں اپنے بچوں کے دفاع پر مزید خرچ کریں گے- یہ تعلیمی اداروں کی سیکورٹی کا مسئلہ نجی نوعیت کا نہیں، یہ ایک قومی مسئلہ ہے جو صرف ریاست کی سطح پر حل ہو سکتا ہے –


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 167 posts and counting.See all posts by zeeshan

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments