لاری اڈہ بادامی باغ لاہور
ایک طویل عرصہ کے بعد مجھے چند گھڑیاں لاری اڈہ بادامی باغ لاہور کے ایک خیمہ ہوٹل میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا۔ میرا سفر آج لاہورسے راولپنڈی تھا۔ کیوں کہ مجھے گجرخان تحصیل سے چند کلومیٹر پہلے مسہ کسوال المعروف کرم آباد شریف اترنا تھا اس لیے مجھے براستہ جی ٹی روڈ سفر کرنا تھا۔ اس خیمہ ہوٹل میں رکنے کی وجہ میرے دوست کا انتظار کرنا مقصود تھا کیوں کہ میں اور میرادوست دونوں ایک ہی مرض کے مریض تھے اور اتفاق سے ہمارا طبیب بھی ایک ہی تھا۔
اس لیے ہم دونوں میں طے یہ ہوا کہ علی الصبح ہم بادامی باغ پہنچ جائیں گے۔ حسب روایت وہ آج بھی کچھ لیٹ تھا۔ بہرحال میں تقریباً چودہ سال بعد آج ایک بارپھر بادامی باغ ایک پھٹے پہ بیٹھا قدرت کے فیصلوں پہ سرتسلیم خم تھا۔ آپ کو اگر بادامی باغ جانے کا اتفاق ہو تو آپ دیکھیں گے کہ گزشتہ حکومت نے اس غلاظت کے ڈھیر جیسی جگہ کو کسی خوبصورت پارک میں تبدیل کر دیا ہے۔ سڑک کے ایک ہرطرف سبزہ پھول پودے اور تعمیراتی شاہکار نظر آتے ہیں۔
مختلف طرز تعمیر کے پل۔ زیر زمین پیدل راستے۔ سڑکوں کے اوپر گزرگاہیں۔ میٹرو کے پل اور سڑکیں۔ مینار پاکستان اور ٹیکسالی کے درمیان دورویہ سڑک کو ختم کرکے احاطہ مینارپاکستان کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ جب کہ سڑکے کے دوسری جانب وہی بے ڈھنگی ٹریفک۔ موٹرسائیکل رکشوں کا شور۔ جابجا کوڑے غلاظت اور بسوں کے ٹائروں کے نیچے انسانی پیشاب کی بدبو پھیلی نظرآتی ہے۔ آج سے چودہ سال قبل جب میں یہاں مینارپاکستان کے احاطہ میں بیٹھا تھا تو رات کے تقریباً دس بجے کا وقت تھا دو لڑکوں نے میرے ساتھ واردات کرنے کی کوشش کی تھی لیکن بیچاروں کو خبر نہ تھی کہ میں انڈر ٹریننگ کمانڈو ہوں۔
ان کے ہاتھ میں گن یا پستول کی جگہ پانی والا فوارہ تھا۔ جس سے حجام داڑھی بال بناتے وقت گاہک کے سر منہ پر پانی مارتے ہیں۔ یقیناً اس فوارے والی بوتل میں کوئی مہلک تیزاب یا بے ہوش کرنے والی دوائی ہوگی۔ آپ حیران ہوں گے کہ ان وارداتیوں کی مجھ سے جان بخشی گشت پہ مامور موٹرسائیکل اسکارٹ والوں نے کروائی تھی۔ بعد میں مجھے بتایا گیا کہ ”بادامی باغ دربار داتا صاحب کے علاقہ میں اس طرح کی وارداتیں پولیس کی آشیرباد سے ہوتی ہیں۔
یہ اسکارٹ والے ان کے برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ اگر یہ لڑکے واردات کرتے پکڑے جائیں تو پولیس والے انھیں لے جاتے ہیں اور دوسری گلی میں جاکر چھوڑ دیتے ہیں اگر واردات کامیاب ہو جائے تو پولیس والے اپنا حصہ وصول کرلیتے ہیں“ آج پولیس کا رویہ کیسا ہے یہ تو میں نہیں جانتا لیکن یہ دو ہزار چھ کی بات ہے۔ یہ ساری کارستانی بادامی باغ احاطہ میں قائم ہوٹل مالک نے میرے ساتھ ناکام واردات کے بعد مجھے سنائی۔ میں ہوٹل مالک کی اس بے وقوفی سے نہ اس وقت متفق تھا اور نہ ہی اس من گھڑت کہانی پہ آج یقین کرنے کو تیار ہوں۔
کیوں کہ کوئی محافظ بھلا اس قدر مکار کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ محض بغض تھا جو اس ہوٹل مالک نے جھوٹی الف لیلی ٰ مجھے سنائی بہرحال ماسوائے بے بسی سے دانت پیسنے کے میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔ آج جب میں نماز فجر کے بعد بادامی باغ پہنچا ہوں تو تعمیراتی نقشہ مکمل بدل چکا ہے مگر وہی بوسیدہ چہرے۔ ننگے پاؤں والی میلی کچیلی عورتیں۔ انسانی پیشاب کی بدبو۔ تعفن۔ طرح طرح کی بے ڈھنگی آوازیں نکالتے ہاکر۔ سڑکوں کے دائیں بائیں فٹ پاتھوں پہ سوئے نشئی اور ملنگ۔ سگریٹ پیتے بچے۔ بھکاریوں کی شکل میں حاملہ عورتیں ہاتھوں میں مختلف تحریریں لکھے بیننر کارڈ اور اپاہج بچے گود میں لیے جابجا نظر آئی ہیں۔
آپ چند گھڑیاں بادامی باغ لاری اڈہ کے کسی ہوٹل کے پھٹے پر جابیٹھیں دو چار عورتیں باری باری مختلف حلیے لباس اور مختلف انداز سے آپ کے قریب ضرور آ ٹپکیں گی۔ آپ کو اس پورے علاقہ میں کسی دکان سے کھانے پینے کی کوئی خالص چیز مل جانا بھی کسی معجزے سے کم نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ پانی کی بوتل بے شک سیل بند ہوگی بوتل کھولنے پر آپ ک چودہ طبق روشن ہوجائیں گے کہ اس سیل بند بوتل میں بھی کسی قریبی سرکاری نلکے کا پانی بھرا گیا ہوگا۔
اگر آپ کوئی جوس خریدنا چاہیں گے تو آپ کو کمپنیوں کے جوسز کی قیمت میں ناجانے کون کون سے لیبل لگے جوس کے ڈبے تھمادیے جائیں گے۔ کسی چھپر ہوٹل سے چائے پینے کا سوچنا بھی آپ کو کسی معدے کے مرض میں مبتلأ کر سکتا ہے۔ یہاں ہوٹلوں والے جس طرح کپ پیالیاں دھو رہے ہوتے ہیں بس اللہ ہی معاف کرے۔ ایک بالٹی یا پلاسٹک کے ٹب میں پانی بھر کے رکھا ہوتا ہے اور دن بھر اسی پانی میں کپ پیالیاں رکھے ہوتے ہیں یہاں تک کہ بیچارے پانی کا رنگ بھی عجیب طرح کا ہوچکا ہوتا ہے اس بالٹی یا ٹب میں صرف پیالیاں کپ ہی نہیں بلکہ کسی بس کے ٹائر کے ساتھ بیٹھ کر پیشاب کرنے والے حضرات ہاتھ بھی دھولیا کرتے ہیں۔
مکھیوں کی بھنبھنا ہٹ سے سیب آم ناشپاتیوں پہ ہوئی کشیدہ کاری۔ گاڑیوں رکشوں کے دھوئیں سے اپنی اصلی شناخت کھوچکے انگور کے گچھے اور کیلے دیکھ کر انھیں خریدنا یا کھانا کسی طور ممکن ہے اور نہ ہی صحت افزا ہو سکتا ہے۔ مجال ہے یہ ریہڑی ٹھیلے والے فروٹ کو ڈھانپ لیں یا کوئی محکمہ صحت کا خوف انھیں صفائی ستھرائی رکھنے پہ مجبور کرسکے۔ غرض گزشتہ چودہ سال میں عمارتوں سڑکوں پلوں کا نقشہ بدل دیا گیا مگر انسانی سوچ۔ رویے۔ رہہن سہن جوں کا توں دکھائی دیا۔ میری ناقص عقل اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ محض رہہن سہن۔ لباس مکان عمارتیں پل سڑکیں اور تعمیراتی شاہکار بنادینے سے بدلاؤ نہیں لایا جاسکتا۔ بلکہ حقیقی تبدیلی کے لیے انسانوں میں فکر۔ تعلیم کی خواہش۔ شعور۔ احساس ذمہ داری پیدا کرنا انتہائی ناگزیر ہے۔




