ہمارے بچوں کو جینے دیا جائے
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہوئے یہ لازم ہو چکا ہے۔ کہ آپ اپنی آنکھیں اور کان بند رکھیں۔ کچھ بھی ہو جائے۔ کسی سانحے کسی واقعے پہ آواز نہ اٹھائی جائے۔ ورنہ آپ کو کون کب کہاں لے جائے۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا۔ بطور پاکستان کی شہری میں بالکل چپ رہ سکتی ہوں۔ مگر میں کیا کروں۔ کہ میں ایک ماں بھی ہوں۔
ماں ہوں تو اولاد کے لیے فکر مندی شاید میری رگوں میں دوڑتی ہے۔ اولاد بے شک نشے کے پیسے نہ ملنے پہ ماں کا سر تن سے جدا کرنے والی نکل آئے۔ یا پھر مار مار کے حشر نشر کرنے والی ہو۔ ماں پھر ماں ہی ہے۔ ایسے مواقع پہ انور مسعود کی نظم امبڑی ذہن میں گھومنے لگتی ہے۔ جسے سنتے ہوئے آنسو نہیں رکتے۔
بات ہو رہی ہے ریاست پاکستان میں رہتے ہوئے اپنی اولاد کی سلامتی کی فکر میں مبتلا رہنے کی۔ ایک لمبی لسٹ ہے۔ ان ماؤں کی جو اپنی اولاد کے لیے پریشان بینر پکڑے یا تو کیمپوں میں نظر آتی ہیں۔ یا کبھی پریس کلب، پارلیمنٹ یا اسمبلی کے سامنے سڑکوں پہ۔ مشعال کی ماں کے لفظ کسے بھولے ہوں گے ۔
”جب میں نے اس کی انگلیاں چومنا چاہیں تو وہ ٹوٹی ہوئی تھیں“ ۔
یہ لکھنا میرے لیے تو آسان نہیں۔ اے پی ایس سکول کے بچوں کی ماؤں کا غم کون بانٹ سکتا ہے۔ جن ماؤں نے بچے سکول پڑھنے بھیجے تھے۔ وہ شہادت کے ٹیگ لگا کے خون میں لت پت واپس ملے۔ نقیب اللہ محسود جیسا خوبصورت جوان ماورائے عدالت قتل ہو گیا۔ قاتل آزاد گھومتے ہیں۔ اس ملک میں قاتل کا طاقتور ہونا بہت ضروری ہے۔ ورنہ غریب تو قتل بھی کر دے تو دو گھنٹے میں چھتر کھا کے تھانے ہوتا ہے۔ یا پھر اس کا پورا ٹبر تھانے ہوتا ہے۔ جب تک ملزم پکڑ نہ لیا جائے۔
سانحہ ساہیوال میں الٹ ہو گیا۔ وہاں والدین مار دیے۔ غم منانے کو معصوم رہ گئے۔ لسٹ ہوتے ہوتے حیات بلوچ تک پہنچ چکی ہے۔ نہ جانے اس کا اینڈ کیا ہونے والا ہے۔ لیکن بحیثیت ماں کے میرا دل ہولتا رہتا ہے۔ ہولنا چاہیے۔ یہ میری نالائقیوں کی سزا ہے۔ مجھے یاد ہے جب شادی سے پہلے امی نے مجھے اپنے ساتھ لے جانے کے لیے منت سماجت کی۔ بار بار کہا کہ دبئی چلو۔ اس وقت آج جیسے حالات نہ تھے۔ میں بہترین طریقے سے سیٹل ہو جاتی۔ تعلیم مکمل کرتی۔ شادی ہو بھی جاتی تو کم سے کم بچے تو سیکیور رہتے۔ مگر میرے سر پہ دو عشق سوار تھے۔ ایک شادی کا اور ایک لاہور رہنے کا۔ سو اب بھگت رہی ہوں۔
والدین کے لیے اس سے بڑا غم اور کیا ہو سکتا ہے۔ کہ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی اولاد کا قتل کر دیا جائے۔ حیات بلوچ کے والدین کی جو تصویر وائرل ہوئی۔ وہ کسی بھی با شعور والدین کے لیے الارمنگ ہے۔ آپ سوچئیے۔ آپ بچے کو سکول بھیج کے اس کی مرضی کا کھانا بنا رہے ہیں۔ آپ کو پتہ چلتا ہے وہ تو شہید کر دیا گیا۔ آپ کا بچہ یونیورسٹی گیا۔ آپ آرام سے گھر بیٹھے ہیں کہ میرا بچہ کل کو ملک و قوم کے کام آئے گا۔ خبر ملتی ہے وہ تو توہین کے الزام میں مار دیا گیا۔ آپ کا بچہ آپ کے ساتھ کھیت میں کام کر رہا ہے۔ آپ کے سامنے اسے گولیوں سے بھون دیا گیا۔ آپ شادی پہ جا رہے ہیں۔ آپ کو مار دیا گیا۔ آپ کے بچے لاوارث کھڑے ہیں۔
کہاں جائیں کس سے انصاف مانگیں۔ کون انصاف دے گا۔ وہی قتل کرے ہے وہی کرامات کرے ہے۔ سیدھا مطلب یہ ہے کہ آپ قیامت کے دن کا انتظار کریں۔ یا پھر مر جائیں۔ یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ تو بے حسی کی چادر اوڑھ کے منہ پہ ٹیپ لگا لیں۔
منہ کھولنا منع ہے۔ بات کرنا منع ہے۔ سوال کرنا منع ہے۔ مگر صاحب مائیں کیا کریں۔ یا تو مستقبل کی ماؤں کو بانجھ کر دیا جائے۔ یا پھر بچے پیدا کرنے پہ پابندی لگا دی جائے۔ مگر ہم جو پیدا کر چکے ہیں۔ ہم کیا کریں۔ ہم کیسے صبر کریں۔
مائیں سانجھی ہوتی ہیں۔ ایک ماں کا دکھ ساری ماؤں کا دکھ ہے۔ یہ بات آپ کیوں نہیں سمجھتے۔ خدارا ہمارے بچوں کو جینے دیں۔ ان کے خوابوں کو مت ماریں۔ انہیں زندگی سے محبت کشید کرنے دیں۔ مر تو آخر سب ہی جائیں گے۔ مگر یوں مت ماریں کہ کلیجہ چھلنی ہو جائے۔ ہم نہ سہی ہمارے بچوں کو تو خوف سے پاک سانسیں لینے دیں۔ انہیں جینے دیں۔


