اقتصادی زونز معاشی ترقی کے ضامن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین۔ پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت جن منصوبوں کو پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے دوررس اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے ان میں ملک بھر میں خصوصی اقتصادی زونز کا قیام بھی شامل ہے۔ اقتصادی زونز کسی بھی ملک کی مجموعی معاشی سرگرمیوں کا آئینہ دار ہوتے ہیں جس میں برآمدات و درآمدات، بیرونی سرمایہ کاری، کاروباری اداروں کے درمیان عالمی شراکت داری، ٹیکنالوجی کا تبادلہ، مقامی صنعتوں کی ترقی اور روزگار کی فراہمی کلیدی عناصر ہیں۔

آج عالمگیریت کے ترقی یافتہ دور میں اقتصادی اعتبار سے مضبوط ممالک کا معیشت کی عالمی گورننس میں بھی ایک کلیدی کردار ہے اور معاشی پہلوؤں میں خصوصی اقتصادی زونز کا قیام پالیسی سازوں کے نزدیک لازمی تصور کیا جا رہا ہے۔ چین بھی انہی ممالک میں شامل ہے جس نے گزشتہ چار دہائیوں میں مضبوط اقتصادی پالیسیوں کی بدولت معجزاتی ترقی کی ہے اور آج دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ چین میں جدت پر مبنی ترقی کے سفر کا آغاز 1978 سے ہوتا ہے جب ملک میں معاشی اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسیاں متعارف کروائی گئیں۔

ابتدا میں ہی چین کی دوراندیش قیادت نے معاشی ترقی کے لیے خصوصی اقتصادی زونز کی اہمیت کو بھانپ لیا اور 1980 میں ملک کے پہلے ”شنزن خصوصی اقتصادی زون“ کی بنیاد ڈالی گئی۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ شنزن جو اس وقت ایک غریب گاؤں تھا اور جہاں کے باسیوں کا ذریعہ معاش ماہی گیری تھا، آنے والے برسوں میں ملکی اور عالمی سطح پر اقتصادی سرگرمیوں کے ایک مصروف مرکز میں ڈھل گیا اور آج شنزن کو چین میں اصلاحات اور کھلے پن کے تحت حاصل شدہ کامیابیوں کا ”چمکتا ہوا ستارہ“ کہا جاتا ہے۔

رواں برس شنزن اقتصادی زون کے قیام کو چالیس برس بیت چکے ہیں۔ ان چالیس برسوں میں یہاں پیداوار کے جدید طریقہ کار متعارف کروائے گئے، ترجیحی پالیسیوں کی بدولت بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ ملا، شہر بھر میں بنیادی تنصیبات کی تعمیر کی گئی، وقت گزرنے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ممکن ہوئی، لوگوں کو روزگار کے مواقع ملے اور معاشی شعبے میں چینی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے درمیان بہترین شراکت داری دیکھنے میں آئی۔

اس وقت چینی قیادت کے دانشمندانہ فیصلے نے آج شنزن شہر کو عالمی و علاقائی سطح پر ایک ایسے جدید مثالی معاشی مرکز میں تبدیل کر دیا ہے جسے ”ورلڈ فیکٹری“ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ یہاں تیارکردہ موبائل فون، کمپیوٹرز، الیکٹرانکس اور ملبوسات سمیت بے تحاشا مصنوعات کی نہ صرف اندرون ملک بلکہ عالمی و علاقائی سطح پر بے حد مانگ ہے۔ معاشی سرگرمیوں کے پیش نظر شنزن کو چین کی ”سیلیکون ویلی“ بھی کہا جاتا ہے جبکہ تکنیکی جدت میں بھی اس شہر کا ثانی کوئی نہیں ہے۔

یہ شہر ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی شہرت یافتہ کمپنیوں ہواوے، ٹینسنٹ اور ڈی جے آئی کا گھر ہے۔ شنزن خصوصی اقتصادی زون کی ترقی کے لیے چینی حکومت کی موثر پالیسیوں کی بدولت یہ شہر دنیا بھر میں اپنے بہترین سازگار کاروباری ماحول اور نجی شعبے کی ترقی کے لیے وسیع امکانات کے باعث جانا جاتا ہے جبکہ یہاں کی مقامی حکومت نے کاروبار کی پائیدار نمو کے لیے ہمیشہ ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کو حمایت فراہم کی ہے۔ حالیہ عرصے میں شنزن شہر میں آن لائن انتظامی خدمات کی فراہمی کو فروغ دیا گیا ہے اور ستر فیصد سے زائد کاروباری معاملات آن لائن نمٹائے جا سکتے ہیں۔

کاروبار کی راہ میں حائل انتظامی رکاوٹوں کو اس انداز سے دور کیا گیا ہے کہ ”اسٹارٹ اپس“ صرف ایک یوم میں اپنے کاروبار کا اجازت نامہ حاصل کر سکتے ہیں۔ کاروباری اداروں کے لیے انتہائی کم شرح محصولات اور لچکدار ضوابط اپنائے گئے ہیں۔ ان پالیسیوں کے ثمرات مستقل بنیادوں پر سامنے آ رہے ہیں اور صرف رواں برس کی پہلی ششماہی میں ہی بیرونی سرمائے سے چلنے والی تقریباً دو ہزار کمپنیاں قائم ہوئی ہیں۔ شنزن نے اپنے جی ڈی پی کا 4.2 فیصد ”ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ“ پر صرف کیا ہے جو مسلسل سولہ برسوں سے چین میں سرفہرست ہے۔

مارچ میں یہاں نئے سائنسی و تیکنیکی پارکس کی تعمیر شروع ہو چکی ہے جس کا مقصد ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کو ایک نمایاں مقام پر فائز کرنا ہے۔ ترقی اور فطرت کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے گرین اور کم کاربن ترقیاتی تصورات اپنائے گئے ہیں جبکہ شنزن کو فضلے سے پاک شہر بنانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ شنزن میں ایک تہذیب یافتہ سماج اور شائستہ طرز زندگی چینی حکومت کا حقیقی وژن ہے۔

شنزن جہاں پائیدار ترقی کے اعتبار سے چین کا اہم ترین شہر ہے وہاں اسے نوجوانوں کے نزدیک خوابوں کا شہر بھی قرار دیا جاتا ہے۔ چین کے مختلف علاقوں سمیت دنیا بھر سے لوگ یہاں آتے ہیں اور شنزن کی تیزرفتار ترقی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور اپنے خوابوں کی تکمیل کی خواہش کرتے ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ اپنے ذاتی کاروبار کی خواہش لوگوں کو شنزن کی جانب کھینچ کر لے آتی ہے۔ چین کی کوشش ہے کہ رواں صدی کے وسط تک اس شہر کو چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم کے تحت مسابقت، جدت کاری اور اقتصادی اثر و رسوخ کے اعتبار سے ایک ”گلوبل ماڈل سٹی“ میں تبدیل کیا جائے۔

شنزن کی ترقی سے متعلق چینی کمیونسٹ پارٹی اور ریاستی کونسل کا رہنما منصوبہ واضح کرتا ہے کہ 2025 تک شنزن کو اپنی معاشی مضبوطی اور معیاری ترقی کے بل بوتے پر عالمی معیار کے حامل ایک جدید بین الاقوامی تخلیقی شہر میں ڈھالا جائے گا۔ 2035 تک شنزن کو جدت، تخلیق اور کاروبار کے لیے ایک ایسے نمونے میں تبدیل ہونا چاہیے جس سے شہری سطح پر ایک جدید سوشلسٹ ملک کی تشکیل کی راہ ہموار ہو سکے۔ اسی باعث یہاں قانون کے تابع مستحکم، منصفانہ اور شفاف کاروباری ماحول کو یقینی بنایا گیا ہے۔

شنزن خصوصی اقتصادی زون کے تحت 1980 میں شروع ہونے والا ترقی کا یہ سفر آج بھی کامیابی سے جاری ہے اور چینی حکومت کے وژن کی روشنی میں شنزن بہت جلد عالمی منظرنامے میں 5 G، آرٹیفشل انٹیلی جنس، سائبر اسپیس، سائنس و ٹیکنالوجی، بائیو میڈیسن، انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات سمیت اپنی مضبوط معاشی نمو اور معیاری ترقی کی بدولت دنیا بھر میں سرفہرست ہو گا جس سے نہ صرف چین بلکہ دیگر دنیا کے لیے بھی وسیع ثمرات حاصل ہوں گے۔ پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک بھی خصوصی اقتصادی زونز کی تعمیر میں شنزن ماڈل سے بہت کچھ سیکھتے ہوئے اپنے پسماندہ علاقوں کی ترقی کو یقینی بنا سکتا ہے اور سازگار معاشی پالیسی سازی کی بدولت تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •