رن مرید بننے پر مقدمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر دولہے کو شادی کے بعد زندگی میں ایک مرتبہ یہ طعنہ سننے کو ضرور ملتا ہے کہ ”اب یہ رن مرید ہو گیا ہے“ ۔ اگر کوئی منہ پر نہ بھی کہے تو پیٹھ پیچھے کہہ دیا جاتا ہے کہ فلاں بڑا رن مرید ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا یہ لقب خاندان میں کسی نہ کسی ایک کو ضرور پکا پکا الاٹ کر دیا جاتا ہے۔ دراصل رن مرید کوئی خاص مضمون یا ڈگری نہیں، یہ کوئی خاص عہدہ یا اعزاز بھی نہیں بس یہ ایک مخصوص لقب ہے جو صرف ان شوہروں کے لئے تخلیق کیا گیا ہے جو اپنی بیوی سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں، اس کے گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔

بیوی سے اس قدر محبت اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے والا رویہ جب دوسروں پر عیاں ہونے لگتا ہے تو پھر ایسے شوہروں پر رن مرید ہونے کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ رن مرید ہونے کا لقب عموماً شوہر کے گھر والوں کی طرف سے طرف سے لگایا جاتا ہے جبکہ بیوی کے گھر والے شوہر کے ایسے رویے کو محبت کا نام دیتے ہیں۔ اب بے چارہ شوہر اسی کشمکش میں مبتلا رہتے ہوئے خود سے یہ سوال پوچھتا رہتا ہے کہ وہ رن مرید ہے یا محبت کرنے والا شوہر؟ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ لفظ رن مرید باقاعدہ اردو لغت میں موجود ہے جس کے معنی ہیں ”بیوی کا مطیع ہونا، بیوی کے اشاروں پر چلنے والا، جورو کا غلام، جورو کا تابع ہونا“ ۔

ہر لڑکی کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے ایسا شوہر ملے جو اس سے بے پناہ محبت کرے، اس کی خواہشات کو پورا کرے، اس کی ہر بات مانے اور یہ ساری خوبیاں ایک رن مرید میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہیں اسی لئے رن مرید ٹائپ شوہر ان کا آئیڈیل ہوتا ہے۔ لیکن بھارت میں ایک خاتون ایسی بھی ہے جس نے رن مرید بننے پر اپنے شوہر کے خلاف مقدمہ کر دیا اور طلاق مانگ لی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش میں ایک خاتون شادی کے ڈیڑھ سال بعد ہی اپنے شوہر کے حد سے زیادہ محبت کرنے اور لڑائی جھگڑا نہ کرنے پر تنگ آ کر طلاق لینے عدالت پہنچ گئی۔

خاتون نے جب شرعی عدالت کے جج ( مولوی صاحب) کو طلاق لینے کی وجوہات بتائیں تو وہ بھی چکرا کر رہ گئے کیونکہ اکثر خواتین شوہر کی بے اعتنائی، لڑائی جھگڑے، بحث مباحثہ، خواہشات پوری نہ کرنے پر طلاق لینے عدالت آتی ہیں لیکن یہ اپنی نوعیت کا منفرد کیس تھا جس میں خاتون صرف اس لئے طلاق کا مطالبہ کر رہی تھی کہ اس کا شوہر اسے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ شرعی عدالت کے جج ( مولوی صاحب) نے میڈیا کو بتایا کہ جب خاتون کو دلیل دینے کے لئے بلایا گیا تو اس نے عدالت میں موقف اپنایا کہ وہ اپنے شوہر کی بے پناہ محبت کو اپنا نہیں سکی۔

خاتون نے کہا کہ میرا شوہر بہت زیادہ پیار کرنے والا ہے اور بالکل بھی جھگڑا نہیں کرتا، نہ تو وہ کبھی مجھ پر چلایا اور نہ ہی کسی معاملے پر میری مخالفت کی، میں ایسے ماحول میں گھٹن محسوس کر رہی ہوں، کبھی کبھی وہ میرے لئے کھانا بھی بناتا ہے اور گھر کا کام کرنے میں میری مدد بھی کرتا ہے، وہ کپڑے اور برتن دھوتا ہے اور گھر کی صفائی بھی کر دیتا ہے، اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو جائے تو بالکل بھی بحث نہیں کرتا اور فوری معاف بھی کر دیتا ہے، میں جو بھی کہتی ہوں وہ فوراً مان لیتا ہے، میں اس سے بحث کرنا چاہتی ہوں لیکن وہ مسکرا کر میری باتیں سنتا ہے اور آگے سے کوئی جواب نہیں دیتا، میں ایسی زندگی نہیں جینا چاہتی جس میں میرا شوہر میری ہر بات کو مانے اور جھگڑا نہ کرے۔

خاتون نے اپنی درخواست میں مزید کہا کہ وہ چاہتی ہے کہ شوہر محبت کے علاوہ میرے ساتھ لڑائی بھی کرے لیکن وہ ایسا کرنے کی نوبت ہی نہیں آنے دیتا ہے۔ دوسری جانب خاتون کے شوہر کا عدالت میں کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ اپنی بیوی کو خوش رکھنا چاہتا ہے اس نے اپنی اہلیہ سے کیس واپس لینے کی درخواست بھی کی لیکن خاتون نہ مانی۔ آخرکار عدالت نے خاتون کی درخواست کو غیر عملی قرار دیتے ہوئے اسے خارج کر دیا۔ کہتے ہیں جب انسان کی عقل ماری جائے تو پھر کوئی بھی نہیں بچا سکتا۔

خاتون کی عدالت سے ناجائز مطالبے کی دادرسی نہ ہوئی تو طلاق کا معاملہ لے کر پنچایت پہنچ گئی۔ پنچایت کے لوگ بھی خاتون کی عجیب و غریب شکایت سن کر حیران رہ گئے اور وہ بھی اس جوڑے کی طلاق کے حوالے سے فیصلہ نہیں کرپائے۔ پنچایت نے یہ کہہ کر اپنی جان چھڑائی کہ ایسے معاملے حل کرانا پنچایت کے دائرہ اختیار میں نہیں۔

ایشیائی خواتین طلاق کے اس انوکھے کیس کو خاتون کی بدقسمتی قرار دے رہی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ خاتون کی ذہنیت کے مطابق اگر اس کی شادی جھگڑالو اور مارپیٹ کرنے والے شوہر سے ہوتی تو پھر اسے رن مرید کی قدر ہوتی۔ اگر یہی رن مرید شوہر اس کی خواہش پر جھگڑالو شوہر بن گیا تو پھر اس خاتون کا دم نہیں گھٹے گا؟ بدقسمت خاتون شوہر کی سچی محبت کو ٹھکرا رہی ہے جو ہر کسی کو نہیں ملتی اور جسے مل جائے یہ دنیا اس کے لئے جنت بن جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •