غلام سرور خان: وفاقی وزیرِ برائے ہوا بازی کا بدعنوان سیاست دانوں کو ’واجب القتل‘ قرار دینے کے بیان پر وزرا کی تنقید، سوشل میڈیا پر بحث
پاکستان کی حکمران جماعت میڈیا کی جانب سے ملک کی موجودہ صورتحال پر کیے جانے والے زیادہ تر سوالات کا رخ گذشتہ 35 سالوں سے ملک میں حکومت کرنے والوں کی طرف موڑتی رہتی ہے اور پچھلے دو برسوں سے پاکستان تحریکِ انصاف کے مختلف رہنما کئی چھبتے ہوئے سوالات ماضی کی حکومتوں پر الزامات لگاتے لگاتے گول کر جاتے ہیں۔
تاہم گذشتہ روز وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان کے ایک نفرت انگیز بیان کے باعث سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور پاکستانی سیاست میں بڑھتی انتہاپسندی اور اس سے جڑے بیانیے پر بحث ہوتی رہی۔
گذشتہ روز ٹیکسلا میں لیبر کمپلیکس کے دورے کے دوران غلام سرور خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں پر شدید تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں ‘واجب القتل’ بھی قرار دے دیا۔
انھوں نے کہا کہ ‘ان چور، کرپٹ اور بدکردار ڈکیتوں نے پچھلے 35 برسوں کے دوران ملک کو جمہوریت کے نام پر لوٹا ہے۔ ان کرپٹ سیاست دانوں نے غریبوں کا خون چوسا ہے، اس لیے یہ واجب القتل ہیں۔‘
خیال رہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز بیانات دینے کی روایت نئی نہیں ہے، چاہے وہ شہباز شریف کے آصف زرداری کو ‘سڑکوں پر گھسیٹنے’ کا بیان ہو یا موجودہ وزیرِ اعظم عمران خان کے سنہ 2014 کے دھرنے کے دوران کے دیے گئے بیانات۔
اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان ‘کرپٹ سیاستدانوں’ کا احتساب چین کی طرز پر کرنے کی بات بھی کر چکے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ برس دورہ چین کے دوران اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ‘کاش میرے پاس چینی صدر شی جنپنگ کی طرح 500 کرپٹ سیاستدانوں کو جیل بھیجنے کا اختیار ہوتا۔’
https://twitter.com/appcsocialmedia/status/1181804250080403456
اس کے علاوہ وزیرِ پانی فیصل واوڈا نے گذشتہ برس ایک ٹاک شو پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہمارے بس میں ہو تو پانچ ہزار کرپٹ افراد کو لٹکا دیا جائے تو ملک کے 22 کروڑ لوگوں کی قسمت بدل جائے گی۔ تاہم جب میڈیا پر ان کے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا تو انھوں نے قومی اسمبلی میں اس کی وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان پانچ ہزار لوگوں کو لٹکانے سے پہلے کاش گاڑی کے پیچھے باندھ کر چلایا جائے اور پھر گھاٹ پر چڑھایا جائے۔
وفاقی وزرا کی غلام سرور خان کے بیان کی مذمت
وفاقی وزیرِ ہوابازی کے اس بیان کے بعد جہاں سوشل میڈیا پر سخت ردِ عمل سامنے آیا وہیں وفاقی وزرا کی جانب سے بھی اس تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے کہا کہ قتل کرنا یا کسی کو مار دینا سیاسی شیوہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمارے پاس عدالتیں موجود ہیں اگر کسی کو کسی کے خلاف کوئی شکایت ہے تو اسے عدالت جانا چاہیے۔
‘سیاست میں انتہا پسندی، خواہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کی اس کی سخت مذمت کرنی چاہیے۔’
Very inappropriate statement, the Minister failed to ascertain gravity of such statements ….. politics is war of ideas its no more era of killing opponents … you may have extreme disagreements but such statement is in a bad taste n cannot be approved https://t.co/9vyxRu1bzy
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) August 24, 2020
اس کے علاوہ وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی جانب سے بھی اس حوالے سے مذمتی ٹویٹ سامنے آئی۔
انھوں نے کہا کہ: ’بہت ہی نامناسب بیان، وزیر صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگانے میں ناکام رہے ہیں۔۔۔ سیاست نظریات کی جنگ ہے اور اب مخالفین کو مارنے کا دور نہیں رہا۔۔۔ آپ کو شدید اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن ایسے بیان انتہائی نامناسب ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے۔‘
سوشل میڈیا پر ردِ عمل
گورنر غلام سرور کے بیان پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِ عمل سامنے آ رہا ہے۔ جہاں کئی افراد ان پر تنقید کر رہے ہیں وہیں کئی دوسروں کا ماننا ہے کہ انھوں نے کوئی غلط بات نہیں کی۔
صحافی حامد میر کہتے ہیں کہ وفاقی وزیر غلام سرور خان نے دو مخالف سیاسی جماعتوں کی قیادت کو واجب القتل قرار دے دیا ہے کیا ایک وزیر کی طرف سے ایسا بیان جاری کرنا تشدد پر اکسانے کی کوشش نہیں؟ کیا وزیر صاحب کو اپنے بیان پر معافی نہیں مانگنی چاہیے؟
گمن نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’کیا یہ کسی حکومتی نمائندے کی زبان ہو سکتی ہے؟ کیا یہ ہمارے نمائندے ہیں؟ جب تک کسی پر جرم ثابت نہ ہو وہ مجرم نہیں ہوتا لیکن ان لوگوں نے اپنی عدالتیں لگائی ہوئی ہیں۔‘
Today, Ghulam Sarwar said people who have looted the country are wajib-ul-qatl
Last year, Faisal Vawda expressed his desire to see corrupt people tied to cars and dragged before being hanged
Troubling to see such violent fantasies becoming part of PTI’s accountability rhetoric pic.twitter.com/BrkgXGe2n4
— Reema Omer (@reema_omer) August 24, 2020
ماہرِ قانون ریما عمر کہتی ہیں کہ آج غلام سرور نے ملک لوٹنے والوں کو واجب القتل قرار دیا۔ اور پچھلے سال فیصل وواڈا نے بھی ایسی ہی خواہش کا اظہار یہ کہتے ہوئے کیا تھا کہ کرپٹ لوگوں کو پھانسی دینے سے پہلے انھیں گاڑیوں سے باندھ کر گھسیٹا جانا چاہیے۔
ریما کہتی ہیں کہ اس طرح کے پرتشدد خیالات کو تحریک انصاف کے احتسابی نظریات کا حصہ بنتے دیکھنا پریشان کن ہے۔
غلام سرور کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کی رکنِ پارلیمنٹ حنا پرویز بٹ کہتی ہیں کہ ’پاکستانی پائلٹس کو پوری دنیا میں بدنام اور متنازع بنانے والے شخص غلام سرور خان خود استعفی دینے کی بجائے اپوزیشن رہنماؤں کو ’واجب القتل‘ قرار دے رہے ہیں۔ یہ بیانات دہشت گردوں کے بیانات سے کم نہیں۔‘
جس پر کئی صارفین انھیں یہ کہتے نظر آئے کہ حنا جی غلام سرور نے کہا ہے کہ ملک لوٹنے والے یا ملک کو نقصان پہنچانے والے واجب القتل ہیں۔۔۔ تو آپ کو کیوں لگا وہ آپ کی بات کر رہے ہیں؟
کئی صارفین یہ بھی کہتے نظر آئے کہ وزیر صاحب کی معافی کسی کام کی نہیں۔ عدلیہ کو نوٹس لینا چاہییے اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت کاروائی ہونی چاہیے۔
Start with Ghulam Sarwar Khan since he is also in power for the last 35 years. pic.twitter.com/4kJwBKRzSM
— Danish Zaidi (@syedmdz) August 24, 2020
دانش زیدی نامی صارف کہتے ہیں ’غلام سرور صاحب سے شروع کریں کیونکہ وہ خود 35 سال سے اقتدار میں ہیں۔‘
کئی صارفین یہ دعویٰ کرتے نظر آئے کہ وہ غلام سرور کے اس بیان کی ہم حمایت کرتے ہیں اور وہ کرپٹ جماعتوں کی بات کر رہے ہیں، حزبِ مخالف کی جماعتیں اگر کرپٹ نہیں ہیں تو انھیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔


