میں بطور قاتل ہی ڈیزائن ہوا ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانوں کو تو چھوڑ ہی دیجیئے کیونکہ ان کے لیے تو یہ زندگی محض ایک امتحان ہے اور تیاری ہے اگلے جہان کے لیے۔ اگلی دنیا میں جنت یا دوزخ ملے گی۔ اس لیے اس آرٹیکل میں انسان بحث سے باہر ہیں۔

میں بات کرنا چاہتا ہوں انسانوں کے علاوہ تمام جانداروں کی۔ خاص طور پر ان جانوروں کی جو گوشت خور ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کے لیے یہ دنیا کیسی ڈیزائن کی گئی ہے۔ کیونکہ جانوروں کی تو صرف یہی دنیا ہے۔ انہیں اگلی دنیا میں نہیں جانا، جنت یا دوزخ، سزا یا جزا ان کے لیے نہیں ہے۔ کم از کم ابھی تک کسی نے اس سلسلے میں کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔

تو اس دنیا کے اس ڈیزائن میں جانوروں کو کیا ملا۔ تمام جانوروں کو بھوک لگتی ہے۔ اپنے لیے خوراک مہیا کرنا ان کی فطرت میں ہے۔ بچے پیدا کرنا چاہتے ہیں یہ بھی ان کی فطرت میں ہے۔ تمام جانوروں کو اپنے بچوں سے بے پناہ پیار ہوتا ہے، ان کی فطرت میں ہے۔ زندہ رہنا چاہتے ہیں یہ بھی ان کی فطرت میں ہے۔ تمام جانوروں کو بیماری یا چوٹ لگنے سے جسمانی تکلیف محسوس ہوتی ہے اور انہیں دکھ درد بھی ہوتا ہے۔ ساتھیوں سے بچھڑنے یا بچوں کے مرنے کا دکھ وہ بہت زیادہ محسوس کرتے ہیں۔

تمام جانوروں نے اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے ایک خاص خوراک مہیا کرنا ہوتی ہے۔ وہ کیا کھاتے ہیں یا کھا سکتے ہیں اس میں ان کی اپنی کوئی چوائس نہیں ہے۔ سب فطری ہے۔ ان کے ڈی این میں پرنٹ کر دیا گیا ہے کہ وہ گھاس کھا کر بھوک مٹائیں گے یا گوشت کھا کر زندہ بچیں گے۔

تمام جانداروں کی اس فطرت کی وجہ سے دنیا ایسی ڈیزائن ہو گئی ہے کہ قتل کرنا ہر گوشت خور کی مجبوری ہے۔ اگر ایک گوشت خور جانور اپنے سے کمزور جانور کو قتل نہیں کرے گا تو خود بھوکا مر جائے گا اور اس کے بچے بھی بھوکے مر جائیں۔ اس لیے قتل کرنا فطرت میں ہے۔ اس دنیا کا ڈیزائن ہی ایسا ہے۔

یہ جو فوڈ چین ہم بچوں کو پڑھاتے ہیں، یہ اصل میں قتل کرنے کی چین ہے۔ اے بی کو کھا جاتا ہے، بی سی کو کھا جاتا ہے، سی ڈی کو کھا جاتا ہے اور یہ سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے۔ اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اے بی کو قتل کر دیتا ہے، بی سی کو قتل کر دیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ پوری دنیا کے تمام جاندار فوڈ چین کا حصہ ہیں۔ تو فوڈ چین کا اصل نام تو ”قتل چین“ ہی ہونا چاہیے۔ ایسا سوچیں تو یہ دنیا ایک قتل گاہ سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔

جہاں تک انسانی سوچ اور محسوسات کا تعلق ہے اس کے تحت اس ڈیزائن کی منطق کو سمجھنا کہ جس میں ہر زندہ جاندار کو محض زندہ رہنے کے لیے کسی دوسرے جاندار کو قتل کرتے رہنا ہے، کافی تکلیف دہ ہے۔ شاید دنیا کی اسی خصوصیت کی بنیاد پر ڈارون نے یہ سوچنا شروع کیا کہ یہ کوئی سوچا سمجھا ڈیزائن نہیں بلکہ اربوں سال کے ارتقاء کا نتیجہ ہے۔ اور جب اس نے یہ کہا تو بہت سے لوگوں نے یہ مان بھی لیا۔

ہم انسان قاتل کی نظر سے سوچتے ہیں، مقتول کی نظر سے نہیں۔ ہم شکاری کی نظر سے دیکھتے ہیں اور شکاری کے کمال کی تعریف کرتے ہیں، شکار ہونے والے کا نہیں سوچتے۔ نیشنل جیوگرافک پر جانوروں کے متعلق حقیقی فلمیں دیکھتے ہوئے جب شیر یا چیتا ہرنی یا زیبرے کو دبوچ لیتا ہے تو ہم ہرنی یا زیبرے کا نہیں سوچتے، ہم شیر یا چیتے کی طاقت اور قتل کرنے کے ہنر کا سوچتے ہیں اور اسے انجوئے کرتے ہیں۔ یہ مناظر بار بار دیکھتے ہیں اور دوستوں کو بتاتے ہیں کہ کیا مزے دار سین ہے۔ اسی طرح جب کوئی شخص شکار کرنے کو جاتا ہے اور کسی پرندے کا ٹھیک سے نشانہ لگاتا اور ایک اڑتا ہوا پرندہ لڑکھڑا کر زمین پر آ پٹختا ہے تو ہم اس پرندے کے دل کی حالت کا نہیں سوچتے بلکہ شکاری کے فن کی تعریف کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ فن قتل کرنے کا فن ہے اور اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔

دنیا کے ڈیزائن پر واپس آتے ہیں۔ انسان اپنی سوچ کا طرز بدل سکتا ہے۔ جیسا کہ بہت سارے لوگ اب سبزی خور بن گئے ہیں اور فخر کرتے ہیں کہ ان کی وجہ سے کسی جاندار کا قتل نہیں ہوتا۔ لیکن انسان ہی ایسا کر سکتا ہے کیونکہ انسان اومنی وورس ہے یعنی وہ سبزی اور گوشت دونوں ہی کھا سکتا ہے۔ لیکن بہت سے جاندار تو وہ ہیں جو گوشت کے علاوہ کچھ کھا ہی نہیں سکتے۔ انہوں نے تو قتال جاری رکھ کر ہی خود زندہ رہنا ہے اور اپنے بچوں کو پالنا ہے۔ اس لیے دنیا تو قتل گاہ ہی رہے گی۔ اس کا ڈیزائن ہی ایسا ہے۔ اس کی ذمہ داری ارتقاء پر ہی ڈالیں تو اچھا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 248 posts and counting.See all posts by salim-malik