معیشت مستحکم نہیں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان اور اسد عمر نے ٹویٹ کر کے بتایا کہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 42 کروڑ ہو گیا ہے۔ حکومت اسے بہت بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ شاید وزیر اعظم کو معیشت کے بارے میں صرف کرنٹ اکاؤنٹ کا ہی پتا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ ہی واحد معاشی اشاریہ نہیں ہوتا۔ اور بھی معاشی اشاریے ہوتے ہیں جس سے کسی بھی ملک کی معیشت کے بارے میں مثبت یا منفی رائے مرتب کی جا سکتی ہے۔

اب ہمیں دیکھنا ہوگا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت 2018 میں معیشت چھوڑ کر گئی۔ اس وقت معیشت کی حالت کیا تھی۔ اس وقت ترقی کی رفتار 2.9 % سے 5.8 % ہوئی۔ ملکی زر مبادلہ 18 ارب ڈالر تھے جب موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی۔ صنعتی ترقی اور زرعی ترقی بھی مثبت تھی۔ شرح سود 5.75 % تھا۔ حکومت سنبھالی تو احتساب کی خواہشمند حکومت اور نیب نے احتساب کے نام پر جب سارے خواہ استاد ہو، صنعت کار ہو، سیاستدان ہو، بیوروکریٹ ہو کو پکڑا تو خطرے کی گھنٹی بج گئی۔

مارکیٹ سے کانفیڈنس ختم ہو گیا اور بے یقینی کی صورتحال نے معیشت کو بہت نقصان پہنچایا۔ سرمایہ بیرون ملک جانے لگا۔ مگر سب سے بڑا دھچکا تھا وہ روپے کی بے قدری بڑی جلدی سے کی گئی۔ ایک سال کے اندر ڈالر کے مقابلے روپیہ 123 سے 164 پر آ گیا۔ پھر سٹیٹ بینک نے مداخلت کر کے اسے 155۔ 157 کے درمیان رکھا کافی عرصہ۔

ملک کی ترقی کی شرح 5.8 % سے 1.9 % ہو گئی۔ حالانکہ 11 جون 2019 کے بجٹ میں حماد اظہر نے شرح ترقی 3.3 % بتائی مگر جو ورلڈ بینک کو اعداد و شمار ظاہر کیے گئے وہ 1.9 % بتایا گیا۔ وہ پارلیمان کے فلور پر جھوٹ بولا گیا مگر شاید وہ صاف جماعت سے ہیں اس لئے آرٹیکل 62,63 کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا۔ ہماری معیشت کا حجم 2018 میں 315 ارب ڈالر تھا وہ آج 248 ارب ڈالر ہے۔ اس سال 1952 کے بعد منفی میں ترقی ہوئی۔ حکومت کے 2 سالوں میں معیشت 6۔ 7 % سکڑ چکی ہے۔

کرونا وبا کا لاک ڈاؤن تو مارچ سے شروع ہوا مگر معیشت منفی ہونے کی اطلاعات پہلے ہی تھیں۔ اور منفی 0.38 % کے بجائے منفی 1۔ 1.5 % ترقی رہی ہے۔ بے روزگاری دو سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اس وقت بے روزگاری 8 % ہو چکی۔ ایک عالمی مندی ہے مگر 2018۔ 19 میں کوئی عالمی معیشت مندی کا شکار نہیں تھی۔ وہ 1 کروڑ نوکریاں تو نا ہو سکی مگر اتنے لوگ بے روز گار ہو چکے ہیں۔ 2018 میں ملک کی 30 % آبادی غربت کا شکار تھی۔ اب آدھی سے زیادہ آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ وہ جو 1200 ارب کا معیشت بحالی پیکج تھا وہ اللہ جانے 1200 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے ہیں۔

پاکستان کے اوپر اندرونی و بیرونی قرضے تقریباً 225 ارب ڈالر ہیں۔ یعنی تمام قرضے معیشت کا 87 % بنتا ہے۔ ان دو سالوں میں بیرونی قرضے 13 ہزار ارب بڑھ چکے ہیں۔ کہا گیا قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لئے قرضے لئے گئے مگر آپ کو کس نے کہا تھا کہ شرح سود 13.25 % پر لے جائیں۔ وہ ہاٹ منی اللہ جانے 3 ارب ڈالر کی آئی وہ جب انٹریسٹ ریٹ گرایا تو واپس چلی گئی۔ آپ نے خود اپنے اوپر ڈیبٹ سروسنگ کا بوجھ بڑھایا۔

بجٹ خسارہ اس وقت ملک کا سب سے زیادہ ہے۔ یہ معیشت کا 9.1 % ہو چکا ہے اور خدشہ ہے اگلے سال 10 % ہو جائے گا۔ حکومتی اداروں مثلاً پی آئے اے، پاکستان سٹیل ملز وغیرہ کا خسارہ 2000 ارب ہو چکا ہے۔ اب اس کی نجکاری جو ہونی تھی وہ اب تک ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ ٹیکس کلیکشن کے لئے 5500 ارب تو مان لیا تھا آئی ایم ایف پیکج لینے کے لئے۔ وہ تو نا ہوا بس یہ فرق آیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے دور سے اس بار ایف بی آر نے 161 ارب زیادہ اکٹھے کیے ہیں۔

ہماری ملک میں صنعتی ترقی منفی 10 فیصد رکارڈ ہوئی ہے۔ کئی کارخانے بند ہو چکے۔ کئی لاکھ افراد کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے ہیں۔ آٹو موبائل انڈسٹری، ٹیکسٹائل انڈسٹری نیز تمام انڈسٹریز کو نقصان ہوا۔ بلند شرح سود پر قرضہ لینا ممکن بھی نہیں تھا۔ زرعی ترقی بھی منفی میں رہی۔ اس بار گندم، چاول، کپاس اور گنے کی پیداوار کا ہدف بھی حاصل نا ہو سکا۔ اس بار ہمیں گندم کی قلت کا سامنا ہے۔ چینی بھی درآمد کرنی پڑی ہے۔

بات اب کرتے ہیں تجارتی خسارہ کی۔ کرنٹ اکاؤنٹ تجارت پر ڈیپینڈ کرتا ہے۔ ملک کی برآمدات اور ترسیلات زر اور درآمدات سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ یا سرپلس کا تعین ہوتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے دور میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھا۔ وہ اس لئے کہ برآمدات کے لئے جو خام مال چاہیے ہوتا ہے وہ باہر سے درآمد کرنا پڑتا ہے۔ روپیہ 40 % گرا کر بھی برآمدات میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ ہاں درآمدات پر بھاری ڈیوٹی لگا کر اور روپیہ کو گرا کر درآمدات کافی کم ہو کر 58.8 ارب ڈالر سے 33۔

35 ارب ڈالر پر آ چکی ہیں۔ اب اس بار کیونکہ عید کے لئے اور وبا کے باعث کئی لاکھ بیرون ملک ورکرز واپس آ گئے ہیں تو جون میں ترسیلات زر 2.46 ارب ڈالر رہی۔ حکومت نے اپنا کریڈٹ قرار دے دیا۔ اب صرف دو سال بعد 42 کروڑ ڈالر کا سرپلس حاصل ہوا تقریباً 65۔ 70 ارب ڈالر معیشت کا حجم سکڑ کر اور ترقی منفی میں کر کے۔ بڑے بڑے ممالک کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کا شکار ہیں۔ بھارت، بنگلہ دیش کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کافی زیادہ ہے۔

سٹاک ایکسچینج 42000 پوائنٹ سے 28000 پر گر کر اب دوبارہ 42000 کی سطح پر پہنچ رہی ہے۔ اب مارکیٹ کیپیٹلائزیشن بڑھ رہی ہے یہ خوش آئند بات ہے۔ اصل مقابلہ مہنگائی سے ہے۔ مہنگائی اس وقت پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے بعد سب سے زیادہ 12۔ 14 % ہے۔ قوت خرید کم ہوتی جا رہی ہے۔ فی کس آمدنی 1652 ڈالر سے کم ہو کر 1380 ڈالر ہو چکی ہے۔ چینی فی کلو 110 روپے مل رہی ہے۔ نیز تمام اشیائے ضروریہ مہنگی ہوتی جار ہی ہیں۔

گردشی قرضے اس وقت 2200 ارب ہیں۔ روزانہ 1.2 ارب روپے گردشی قرضہ بڑھ رہا ہے۔ بہت دعوی کیے گئے کہ ہم نے کم کر دیا مگر ہوا نہیں۔ اب آئی پی پیز سے دوبارہ معاہدہ کرنا چاہ رہے ہیں مگر انہوں نے کہا ہے کہ پہلے 2200 ارب ہمیں ادا کریں۔ لائن لاسز ابھی بھی ہیں۔ گیس کمپنیز کا خسارہ گیس 300 فیصد مہنگی کرنے کے باوجود بڑھ رہا ہے۔ پی آئے کا خسارہ 360 ارب سے 434 ارب ہو چکا ہے۔ ریلوے کا خسارہ 40 سے 50 ارب ہو گیا ہے۔ اب پی ٹی وی بچانے کے لئے اب اس کی فیس 100 روپے ہو جائے گی۔ ابھی گیس اور بجلی کی قیمتیں مزید بڑھیں گی۔

آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ صیغہ راز رکھا گیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی تلوار بھی سر پر منڈلا رہی ہے۔ اسی لئے قانون سازی جلدی جلدی ہو رہی ہے۔ بیرون ملک سرمایہ کاری کم ہو چکی ہے۔

اب کئی منصوبے جیسے راوی ریور فرنٹ کے لئے 300 ارب ڈالر کہاں سے آئے گا۔ تعمیراتی شعبہ کے لئے پیکج ایک ایمنسٹی سکیم ہے کہ بلیک وائٹ ہو جائے گا۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ پیکج سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے یا نہیں۔

اس بار بجٹ میں پی ایس ڈی پی میں کٹ لگانا پڑا۔ صحت اور تعلیم پر بھی کٹ لگا۔ 1000 ارب قرضے کی ادائیگی موخر ہونے کے باوجود زیادہ سود کی ادائیگی رکھی گئی۔ اب مزید ایسے حالات نہیں چل سکتے ورنہ دفاعی بجٹ پر کٹ لگانا ناگزیر ہو جائے گا۔ ہمارے زرمبادلہ ذخائر کی یہ صورت حال ہے کہ اگر دوست ممالک نے پیسہ نکال لیا تو پھر ہم دیوالیہ ہو جائیں گے۔ آئی ایم ایف نے اب تک نئی قسط نہیں دی ہے۔ اب بیلنس آف پیمنٹ کا بحران جلد یا بدیر پیدا ہوگا۔

وزیر اعظم سے درخواست ہے کہ سرکاری سچ کو سچ نا مانا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ معیشت ابھی بھی خطرے میں ہے۔ خود ماہر معاشیات بلا کر معیشت سمجھیے اور فیصلہ کریں۔ صنعت کاری کو فروغ دیں کاروباری افراد کو کاروبار کرنے کا کانفیڈنس دیں۔ کچھ کام حکومت کو کرنا پڑے گا۔ معیشت مثبت کانفیڈنس سے ہی آگے بڑھتی ہے۔ سی پیک کے منصوبے مکمل کیے جائیں اور ایک معیشت پر میثاق ہونا چاہیے تا کہ بار بار معیشت ٹیک آف کے بعد کریش نا ہو جائے۔

اس ملک کی مقننہ کو ملک کی خاطر اب قانون سازی یا میثاق معیشت سائن کریں۔ معیشت مضبوط تو دفاع مضبوط، خارجہ پالیسی مضبوط اور عالمی دنیا میں بھی ہم مضبوط ہو جائیں گے۔ دنیا کی پانچویں بڑی آبادی والے ملک، واحد اسلامی ایٹمی قوت ملک کو اب معاشی طور پر مضبوط ہونا پڑے گا۔ تب ہی پاکستان اقوام عالم میں اپنا مقام و مرتبہ بنا سکے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •