خود مختار پاکستان ایک خواب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنگ عظیم دوم کی تباہ کاریوں سے برطانیہ کے دیوالیہ ہونے کے بعد برصغیر سے اس کی واپسی نوشتۂ دیوار تھی۔ قائد اعظم کی قیادت میں مسلم لیگ ہندوستان کی تقسیم اور اپنی جدا گانہ حیثیت کے بل پر مسلمانوں کے لیے الگ وطن جبکہ گاندھی کی قیادت میں کانگریس متحدہ ہندوستان کے خواہاں تھے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن جو مارچ کے اواخر میں سلطنت برطانیہ کی جانب سے متحدہ ہندوستان کے آخری وائسرائے مقرر کیے گئے تھے۔ انہوں نے جون 1947 میں ہندوستان کی تقسیم پر دونوں جانبین کی رضامندی کے بعد مہر ثبت کی۔

اور بالآخر چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی رات کو دنیا کے نقشے پر ایک نئی مملکت پاکستان کے نام سے وجود میں آئی۔ بانی پاکستان قائد اعظم کے مطابق الگ وطن کا مقصد فقط ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست کا وجود تھا جس میں مسلمانان ہند اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلام کے اصولوں پر بغیر کسی مداخلت، دباؤ اور غلامی کے گزار سکیں۔ مگر قائداعظم اس خواہش کو وجود دینے سے پہلے ہی انتقال فرما گئے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم اور قائد اعظم کے رفیق خاص لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد آنے والے حکمرانوں نے قائد کے جمہوری، فلاحی اور اسلامی ریاست کے خواب کو چکنا چور کر دیا اس پر مستزاد یہ کہ ذاتی فائدے، آسائش اور مراعات کے عوض ملک پر غیروں کے بلاواسطہ تسلط کی بنیاد رکھی۔

دستور کے مطابق عوام کی حکمرانی کے بجائے طاقت کو مخصوص حلقوں تک محدود کر کے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی راہ ہموار کی۔ غیر ملکی آقاؤں کے دباؤ اور ڈالروں کی حرص نے حکمرانوں کو پرائے کی جنگ میں حصہ لینے پر مجبور کیا جس نے پاکستان میں گولی اور بندوق کے کلچر کی بنیاد رکھی دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کی آڑ میں آئے دن ملک کی سرحدیں پامال ہوتی رہیں اور ہماری بے بسی فقط مذمت تک محدود رہتی۔ ملک میں شیعہ سنی فسادات کے نام پر غیروں کی پراکسی جنگ لڑی جاتی، رنگ زبان نسل کی بنیاد پر نفرت کو کیش کرایا جاتا اور ہم بھیڑ بکریوں کی طرح استعمال ہوتے رہے۔

عدل اور انصاف کا یہ عالم تھا کہ ایک غیرملکی دن دھاڑے لوگوں کو کچلنے کے باوجود بھی رہا ہو جاتا جبکہ غریب روٹی چوری کے الزام میں بھی پیشیاں بھگت رہا ہوتا۔ دستور جو کسی بھی ملک میں قانون کی بالادستی کا ضامن ہوتا ہے اس کو ہمارے ہاں ہر طاقتور اپنے ذاتی انا اور عہدوں کی خاطر روندنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ہمارے بجٹ میں عوام کے بجائے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ترجیحات کو ترجیح دی جاتی رہی۔ ملک کی قومی زبان ہونے کے باوجود اردو دفتری اور سرکاری زبان کے طور پر نافذ نہ ہو سکی مسلمان ملک میں ہونے کے باوجود دین اور دین سے وابستہ لوگوں کو بدنام کیا جاتا رہا۔ جہاد جیسے پاکیزہ فریضے کو دہشتگردی سے نتھی کر دیا گیا۔ شعائر اسلام کا مذاق اڑانے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔

غرض ان تہتر سالوں میں پاکستان کی سیاسی، داخلی، خارجی، سرحدی، نظریاتی اور خاص طور سے معاشی خود مختاری پر اپنوں اور غیروں دونوں نے نقب لگائی معاشی خود مختاری کے ذیل میں یہ بات بھی یاد رہے کہ جس دور ایوب کو ہمارے محترم وزیراعظم عمران خان صاحب مثالی اور ترقی کا دور گردانتے ہیں اس دور میں ہماری معاشی خود مختاری پر پہلی چوٹ لگائی گئی جس کا خمیازہ ہم 72 سال گزرنے کے باوجود ابھی تک بھگت رہے ہیں نیز ریاست پاکستان کے کرتا دھرتاؤں کو یہ بات اپنے اذہان میں راسخ کر لینی چاہیے کہ ملک کی حقیقی آزادی معاشی خودمختاری کے بغیر دیوانے کا خواب ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عبدالواسع مالک کی دیگر تحریریں