ایک پرانی تصویر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ پرانی تصویر کسی نے بھجوائی ہے تو کیا کیا یادیں بھاگی بھاگی آن پہنچی ہیں۔ یہ زندگی شروع کرتے کچھ لڑکے اکٹھے کھڑے ہیں۔ لڑکے؟ مرد؟ نوجوان؟ یہ کون ہیں، یہ تو عام سے لڑکے ہیں، گندمی رنگ، بال سنوارے، شیو بنائے، داڑھی مونچھ تراشے، عام سے لڑکے، کسی گلی کے موڑ پر کھڑے آوارہ گرد، روایتی، رواجی سے لڑکے۔ ان جیسوں سے ہر بازار بھرا پڑا ہے۔ غور سے دیکھیے، تصویر پر توجہ دیجیئے۔ کچھ نظر آیا؟ ان کی آنکھوں کی چمک دیکھئیے۔ یہ کون ہیں؟

یہ بکھری کہانیاں ہیں؟ یہ زندگی شروع کرتی کچھ کہانیاں ہیں، کہانیاں، جی کہانیاں، متوسط طبقے سے تعلق رکھتے، اپنے وطن سے ہزاروں میل دور، ایک اجنبی زبان بولتے بیگانے معاشرے میں روشن مستقبل کی آس میں اپنے گھر بار سے دور نکلے طالب علم ہیں۔ طالب علم؟ نہیں، یہ طالب علم نہیں ہیں۔ کیوں جھوٹ بولتے ہو، یہ محنت کش ہیں، مزدور، مستقبل کی اجرت کے وعدے پر پہاڑ کاٹتے تیشہ زن ہیں، یہ کان کن ہیں۔ مجھ سے مت جھوٹ بولو، یہ طالب علم نہیں ہیں۔ انہوں نے دیار غیر میں پڑھنا ہے، اپنا خرچہ نکالنا ہے، اپنی فیسیں ادا کرنی ہیں، پیچھے دیس میں منتظر خاندان کے لیے پیسے بھجوانے ہیں، اپنی گیلی آنکھیں خشک کرنی ہیں۔ مجھ سے جھوٹ مت بولو، یہ طالب علم نہیں ہیں، یہ محنت کش ہیں۔

یہ بکھری کہانیاں ہیں۔ کہانیاں جو کبھی یکجا ہوئی تھیں اور اب نگر نگر بکھر گئی ہیں، نگر نگر، قریہ قریہ، ادارہ بہ ادارہ، ائر بس کی کمپنی سے یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا تک اب یہ کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔

یہ تصویر یونیورسٹی کے سالانہ عالمی فوڈ فیسٹیول کی ہے ؛ جب یونیورسٹی میں دیس دیس سے آئے طالبعلم اپنے علاقوں کا کھانا پکا کر لاتے ہیں، جب برازیلی طالبعلموں کے سٹال سے گڑ مل جاتا ہے، جب ترک طالبعلم لسی کے گلاس پیش کر رہے ہوتے ہیں، پاکستانی طالب علموں کے سٹال سے بریانی کی خوشبو آ رہی ہوتی ہے، تب پتا لگتا ہے کہ بکھرنے کے باوجود اولاد آدم ایک ہی ہے۔

فوڈ فیسٹیول کے بارے میں بات پھر کریں گے، مجھے اس تصویر کے بارے میں بتاؤ۔ سندھی ٹوپی پہنے سے لے کر دائیں طرف دیکھتے لڑکے سب کی کہانی سناؤ۔

کہانیاں لمبی ہیں۔ کہانیاں لمبی ہی ہوتی ہیں۔ مختصر کہانیاں بھی لمبی ہوتی ہیں کہ وہ ایک لمحے میں سب کچھ ہوتی ہیں اور لمحے میں جیو تو لمحہ بہت لمبا ہوتا ہے۔

میں تمہیں ان لڑکوں کی کہانیاں نہیں سنا سکتا، مگر چلو تمہیں میں اس تصویر کا بتاتا ہوں۔ ان میں ایک لڑکا مین ریلوے اسٹیشن کے سامنے اٹالین ریسٹورنٹ میں کام کرتا ہے، ہر شام چار بجے سے رات ایک بجے تک یہ وہاں برتن دھوتا ہے، میزیں صاف کرتا ہے، گندی پلیٹیں اٹھاتا ہے، گوشت، پیاز کاٹتا ہے، آگ کے سامنے کھڑے ہو کر برا بھلا پکاتا ہے۔ کبھی کھڑے ہونا پھر تمہیں پتہ لگے گا کہ ٹانگیں بھی بولتی ہیں۔

ٹانگیں ؛ اٹالین ریسٹورنٹ کے ساتھ والی سڑک پر تمہیں کئی ٹانگیں نظر آئیں گی، ننگی ٹانگیں۔ مین ریلوے اسٹیشن کے ساتھ کا علاقہ نشئیوں، جواریوں، طوائفوں کا علاقہ ہے۔ اس سڑک پر ہر دو قدم پر طوائفیں کھڑی ہیں، ننگی ٹانگوں اور کھلے گریبانوں کے ساتھ، ہر آتے جاتے کو پر امید نگاہوں سے دیکھتیں۔ عجب ڈائیلما ہے، پرامید نگاہوں کو جھٹلانا بھی بڑا مشکل ہوتا ہے۔ کبھی کسی سے بات کر کے پوچھنا، وہ تمہیں بتائے گی کہ کھڑے ہو تو پتہ لگتا ہے کہ ٹانگیں بھی بولتی ہیں۔

اس تصویر کے لڑکوں میں سے ایک ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ، جی وہی منٹو والا ٹوبہ ٹیک سنگھ۔ وہی جس میں پاگل بشن سنگھ ہر ایک سے پوچھتا پھرتا ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟ ان طالب علموں سے پوچھنا، یہ تمہیں بتائیں گے کہ ہجرت کے بعد علم نہیں ہوتا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟ نقشے سے اتر کر دل میں شہر آ بستے ہیں، اور آخر میں بشن سنگھ کی مانند سوجی ٹانگیں وزن نہیں اٹھا پاتیں اور زمین کے اس ٹکڑے پر جس کا کوئی نام نہیں ہوتا مسافر گر پڑتا ہے۔ سنیں، تو ٹانگیں بھی بولتی ہیں، بس سننے کی حس ہونی چاہیے۔

اسی تصویر میں ایک اور بھی کھڑا ہے، وہ جو منفی نو درجہ حرارت میں اپنی دو سال کی بیمار بیٹی کو لے کر ڈاکٹر کی کلینک کو نکلا تھا۔ منفی نو، یہ بھی کیا درجہ حرارت ہوتا ہے۔ درجہ حرارت؟ کیوں جھوٹ بولتے ہو، حرارت تو منفی نو میں کہیں نہیں ہوتی۔

سنو، تحقیقات کو چھوڑو، کہانی سنو۔

وہ اور اس کی بیوی بس سے بیمار بچی کو لے کر ڈاکٹر کو کلینک کو جا رہے تھے اور غلط سٹاپ پر اتر گئے۔ غلط سٹاپ پر اتر جاؤ تو خمیازہ تو بھگتنا پڑتا ہے۔

سخت سردی یا منفی نو کہوں؟ منفی نو ہی کہو۔

جی، منفی نو میں وہ دونوں کئی کلومیٹر بیمار بچی کے ساتھ برف میں پیدل چلے تھے کہ ان کے پاس صرف واپسی کے ہی پیسے تھے۔ جوتے برف میں گیلے اور ٹانگیں چور ہو گئی تھیں۔ سالہا سال گزر گئے، برف بالوں میں اتر آئی ہے مگر وہ وقت ان میں جم سا گیا ہے۔

تم درست کہہ رہے ہو، یہ طالب علم نہیں بلکہ محنت کش ہیں۔
مگر ان کی آنکھیں دیکھو، ان کی چمک بتاتی ہے کہ کہانیاں اور بھی ہیں۔

بالکل، کہانیاں اور بھی ہیں۔ یہ چمک بتاتی ہے کہ یہ شرارتی لوگ ہیں۔ ٹھیک کہہ رہے ہو، شرارت ضروری ہے۔ شرارت نہ ہو تو تھکا آدمی بہت تھک جاتا ہے، اور پھر تھکے، گرے آدمی کو اٹھایا نہیں جاسکتا۔

اس تصویر میں کہانیاں ہیں، پانامہ کی رہنے والی خوبصورت لڑکی کی کہانی، وہ جب ہنستی تھی تو ارد گرد ہنستا تھا، جب وہ مسکراتی تھی تو تھکے ہارے بھی مسکرا اٹھتے تھے۔ وہ اس تقریب میں شریک تھی۔ وہ جو اسے کہتی تھی، تو کورس میں پریزنٹیشن نہیں دیتا بلکہ کہانی سناتا ہے، ایسی کہانی جو مجھے مسکرانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ وہ کہتا کہ میری پوٹلی میں کئی کہانیاں ہیں ؛ ایسی کہانیاں جو آنکھیں بھر لاتی ہیں، مگر ان میں سب مسکراتی کہانیاں تیرے لیے ہیں کہ تیری ہسپانوی آنکھوں میں مجھے الحمرا کے عقب میں ڈوبتے سورج کا منظر دکھائی دیتا ہے۔

سینوریٹا، آج سے کچھ سال بعد جب میں ساوتھ امریکہ کی سیاحت پر نکلوں گا تو تیرے پاس آوں گا کہ ٹینگو ڈانس سیکھنے کے لیے مجھے ایک ساتھی کی ضرورت ہوگی۔ وہ مسکراتی اور کہتی کہ یہ ڈانس تو میں تجھے ابھی بھی سکھا سکتی ہوں۔ مگر ابھی اس کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا کہ اسے گھوڑوں کی خوراک بناتے کارخانے میں وہ بھوری ڈلیاں بوریوں میں بھرنا ہوتیں جو مشینوں سے لگاتار نکلتیں اور اس کے بعد بلینک رسیدوں پر دستخط کرنے ہوتے جو کارخانے کا مالک اپنا ٹیکس بچانے کے لیے پر کر کے استعمال کرتا۔ وہ کہتا، سینوریٹا، یہ وقت زندگی کے رقص کا ہے، طالب علم ابھی اور رقص کا متحمل نہیں۔

سینوریٹا اسی تقریب میں تھی جب اسے ان سامنے کھڑے دو شرارتیوں نے راضی کیا تھا کہ وہ سب کے سامنے ان میں سب سے کم گو کے گال کو چوم کر اس سے لپٹ جائے گی۔ اور پھر کیا ہنگامہ ہوا تھا۔ بے فکروں کے قہقہوں اور اردو کی گالیاں کی فضا میں ایسی آمیزش تھی کہ علیحدہ نہ ہو پائیں۔ کم گو کچھ ایسا بھی کم گو نہ تھا۔

اس سے اگلی کہانی بھی دلچسپ ہے کہ ایک بھارتی ناری اور دو پاکستانی عشاق دو بدو تھے۔ کہانی دلچسپ اور رنگین بھی ہے کہ وجود زن سے تصویر کائنات میں ہی نہیں کہانی میں بھی رنگ آ جاتا ہے۔
اگلی کہانی، دیکھئیے کب لکھ پاتا ہوں۔ مگر کوشش ہے کہ لکھوں کہ اس سے زیادہ کیا بری بات ہے کہ قصہ گو کے پاس کہانی ہو اور وہ کہانی نہ سنائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عاطف ملک

عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینرنگ میں ماسڑز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسڑن آسڑیلیا میں سکول آف کمپیوٹر سائنس اور سوفٹ وئیر انجینرنگ میں پڑھاتے ہیں ۔ پڑھانے، ادب، کھیل اور موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ طالبعلمی کے دور میں آپ نے اپنی یونیورسٹی کا400 میٹر کی دوڑ کا ریکارڈ قائم کیا تھا، جبکہ اپنے شوق سے کے-ٹو پہاڑ کے بیس کیمپ تک ٹریکنگ کر چکے ہیں۔

atif-mansoor has 57 posts and counting.See all posts by atif-mansoor