سنکیا نگ میں انتہا پسندی کے خلاف چینی حکمت عملی کی کا میابی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا کی عالمی وبا ابھی تک پوری دنیا کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بجارہی ہے لیکن مغرب چین کے خلاف پراپگینڈ ے میں مشغول ہے۔ چین پرالزام ہے کہ سنکیانگ کے صوبے میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چین کے صوبے سنکیانگ میں جس کی آبادی میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، مشرقی صوبوں کے مقابلے میں پسماندہ تھا۔ نے 2009 ؁ء میں بغاوت کاعلم بلند کیا۔ ان کی پشت پناہی چین کے کچھ بیرونی دشمن کر رہے تھے۔ چونکہ باغیوں نے اپنے مقصد کے حصول کی خاطر دہشت گردی اور انتہا پسندی کو اپنا یا لہذا ان سے نمٹنے کی خاطر چینی حکومت نے جامع حکمت عملی تیارکی جس کے تحت شرپسندوں کو تحویل میں لے کر قانون کے مطابق قرار واقع سزادی گئی۔

معمولی جرائم میں ملوث گمراہ لوگوں کو خصوصی مراکز میں مدعوکیا گیا جہاں انہیں چینی آئین اور قانون پڑھانے کے علاوہ اپنی پسند کے پیشوں اور شوق کو پورا کرنے کی تربیت دی گئی تاکہ وہ کامیاب زندگی بسر کر سکیں۔ علاوہ ازیں سنکیانگ میں ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے تا کہ صوبے کے عوام خوش حا ل زندگی بسر کرسکیں۔ یہ حکمت عملی کا میاب ثابت ہوئی لیکن مغرب کی جانب سے تنقید برقرار ہے۔

راقم نے پاک۔ چین دوستی کا ایک ادارہ قائم کیا اور اس کے پرچم تلے ایک عالمی سطح پر ویبینار Webinar منعقد کرایا جس کا عنوان یہی تھا۔ ”سنکیانگ میں انتہا پسندی کے خلاف چینی حکمت عملی کی کامیابی“ سابق وزیراطاعات سنیٹر نثار میمن اس موقع پہ مہمان خصوصی تھے۔ مذاکراے میں چار پاکستانی اور چار غیر ملکی دانشوروں نے اپنے مقالے پڑھے اور سوالوں کے جواب دیے۔ کورونا و با کے باعث یہ تمام سلسلہ آن لائن تھا اور زومZoomکے ذریعہ کرایا گیا۔

یونیورسٹی اور علم کدوں کی بھاری تعداد نے آن لائن شرکت کی اور حصہ لیا۔ پاکستان مقرروں میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکڑ شافعی معز حالی، سابق سفیر جاوید حفیظ، راقم خود اور انجینئر پر وفیسر ضمیر اعوان شامل تھے۔ بین الاقوامی دانشوروں میں نیوزی لینڈ کے ڈیوڈ بروموچ، چین سے پروفیسر ژورونگ، فرانس سے مادام کر سٹائن بئر اور ریاستہائے متحدہ امریکہ سے ولیٹم جو نز نے اپنے پرمغز مقالوں سے شرکاء کو مستفید کیا اور سخت سوالوں کے جواب دیے۔

تمام اہل دانش اس خیال سے متفق تھے کہ چین۔ پاکستان اقتصادی راہداری کی تکمیل سے سنکیانگ میں ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ جدید شاہراہ رشیم نے سنکیانگ میں روشن مستقبل کی امید پیدا کردی ہے۔ کیونکہ وہ چین کو افغانستان، روس یورپ، بھارت، قازقستان، کر غستان، منگولیا، پاکستان اور تاجکستان سے جوڑتی ہے۔

سابق سفیر اور کالم نگار جاوید حفیظ نے سنکیانگ میں معاشی ترقی کو اجاگر کرنے کے لئے چینی پالیسی کی کامیابی پہ روشنی ڈالتے ہو ئے کہا کہ چین کا مغربی صوبہ سنکیانگ، صحراؤں اور پہاڑوں پر مشتمل وسیع وعریض خطہ ہے جو قدرتی وسائل سے مالامال ہے، سنکیانگ آج چین کے تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے علاقوں میں سے ایک ہے جہاں توانائی کا شعبہ ترقی پذیر ہے۔ خطے میں بڑی صنعتیں قائم کی جا رہی ہیں اور اقتصادی راہداری اپنی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات پورا کرے گا۔

ڈاکٹر شافعی معز حالیؔ جوپانچ برس چین میں درس وتدریس کے شعبے سے منسلک رہے اور فی الوقت اسلام آباد کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، نے سنکیانگ میں عدم استحکام کے بارے میں غیر ملکی میڈیا کی جانب سے جاری پروپگینڈہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چینی حکومت غربت کے خاتمے اور انتہا پسندی پرقانو پانے اور اس خطے کو ترقیاتی سرگرمیوں کا مرکز بنانے میں کامیاب رہی ہے۔ ڈاکڑ شافعی نے کہا کہ مرکزی حکومت نے سنکیا نگ میں کوئی بچہ اسکول سے باہر نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت خطے میں بے روز گاری کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ ڈاکٹر شافعی نے بتایا کہ، مرکزی حکومت نے سنکیا نگ میں گزشتہ کئی سالوں کے دوران 2.35 ٹریلین یوآن کی سرمایہ کاری کی ہے۔ 2014ء اور 2018ء کے درمیان سنکیانگ کی دیہی جی ڈی پی میں 9.7 فیصد اضافہ ہوا۔

انجینئر پروفیسر ضمیراعوان نے سنکیا نگ میں غلامی کے شکنجے میں جکڑے ایوغروں سے متعلق جھوٹے پروپگینڈ ے کو رد کرتے ہوئے بتایا کہ چینی صوبے کے منعقد دوروں کے دوران ان کیمپوں میں پیشہ وارانہ مہارت کے کورسیز، زبان سکھانے کی تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔

پاک۔ چائنہ فرینڈ شپ فورم کے صدر سلطان محمود حالیؔ نے کہا کہ چین کے دشمنوں کی جانب سے پھیلائی گئی جعلی خبریں سنکیانگ کی زمینی صورتحال کی نفی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین نے متحرک سرمایہ کاری کی پالیسی کے ذریعہ چین کے مغربی اور مشرقی صوبوں کے مابین اعتماد بحال کرنے کی خاطر 1999ء میں ”گوٹنگ ویسٹ“ Going Westپالیسی اپنائی جس کے تحت اہل ثروت مشرقی صوبوں نے مغربی صوبوں میں سرمایہ کاری شروع کی اور وہاں صنعتیں نصب کیں تاکہ مشرقی اور مغربی صوبوں میں فرق کم ہو۔

شرکائے گفتگو نے مغربی پروپگینڈ ے سے مظاہر متاثر ہو کر چین سے متعلق سخت سوال کیے اور سنکیانگ میں زبردستی نس بندی اور تولیدی کنٹرول کے ذریعہ مسلمانوں کی نسل کشی، اسلامی رسومات اور عقائد پہ عمل کرنے پہ پابندی سے متعلق سوالات کیے ۔ چینی فیکٹریوں میں مسلمانوں سے غلاموں کے طور پر کام لیا جاتا ہے۔ یہ تمام بین الاقوامی ماہرین جو گزشتہ برس ہی سنکیانگ کی سیر کرچکے ہیں، جھوٹے پروپگینڈ ے کو بے نقاب کیا۔ مہمان خصوصی نے پاک۔ چین فرینڈ شپ فورم کے زیر اہتمام آن لائن مذاکرے کی تعریف کی، شرکاء کا شکریہ کیا اور اپنے تجربے کی روشن میں چینی حکومت کی جامع اور مربوط پالیسیوں کی تعریف کی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •