نصیحت کا اثر کیوں نہیں ہوتا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج بہت عرصہ بعد اس سے ملاقات ہوئی۔ کافی دیر گپ شپ چلتی رہی۔ اسی دوران اس نے اپنے ایک دوست کا قصہ سنایا کہ میرا ایک بہت ہی پرانا دوست جس کانام زید ہے ایک منہ پھٹ سا انسان تھا۔ وہ کہیں بھی کچھ بھی کہہ دینے سے یا (لفظ کی تعریف کے مطابق) پھینک دینے سے گریز نہیں کرتا تھا۔ لاکھ دفعہ سمجھانے کے باوجود عین اسی وقت جب اسے دانت کے نیچے ”گیٹی“ رکھنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے تو اسے کی جانے والی تمام نصیحتیں دریا برد ہو جاتی ہیں۔

یہ سب وہ جان بوجھ کر نہیں کرتا تھا بلکہ جان پر بوجھ سمجھ کر کیا کرتا تھا۔ ایک تو یہ بری عادت تھی اس میں کہ اگر اسے کوئی راز کی بات بتا دی جاتی اور ساتھ یہ کہا جاتا کہ ”بھئی منہ بند ہی رکھنا، اور کسی سے مت کہنا، آپس کی بات ہے“ بس اسے تو خلے پڑ جاتے جب تک کسی کے کان میں پھونک نہ دیتا اس کے پیٹ کا درد نا جاتا۔ لیکن دوسری طرف اگر کسی بات کی اشاعت مقصود ہوتی اور اسے بتایا جاتا کہ یہ فلاں کو بھی بتا دینا اور فلاں کو بھی۔

مجال ہے کہ اس موقع پر اس نے کبھی کوئی ڈھنگ کا کام کیا ہو۔ خیر دن گزرتے رہے اور ہم وقتاً فوقتاً وعظ و نصیحت کرتے رہتے۔ اس لئے کہ ہمارے استاذ محترم ہم سے ازراہ مذاق کہا کرتے کہ تم تو علامۃ الدھر والقہر والغضب ہو، اور ہم اسے حقیقت سمجھ کر دوسروں کو حکمت کی باتیں بتانے کے در پے ہو جاتے۔ اگرچہ اپنی نام نہاد مصروفیت ہمیں ان پر عمل کا موقع میسر نہ کرتی۔

ایک دن ایسا ہوا کہ ہم ایک بزرگ کی مجلس میں جا بیٹھے۔ اتفاق سے زید بھی اسی مجلس میں ہمارے قریب ہی بیٹھا تھا۔ ہماری توجہ بزرگ سے زیادہ زید پر تھی، جیسے ہی اس کے ہونٹوں پہ حرکت محسوس ہوتی تو دل حلق کو آتا ناجانے اب کیا پھینکنے والا ہے۔ لیکن ہر دفعہ وہ کچھ کہتے کہتے رک جاتا، تو ہم بھی سکھ کا سانس لیتے۔ ہم سمجھے شاید ہماری نصیحتوں کا اس پر اثر ہوا، بس پھر کیا تھا ہم پھولے نہ سمائے جا رہے تھے۔ لیکن اچانک ہماری تمام خوش فہمیاں اس وقت غلط فہمیوں میں بدل گئی جب زید نے بات شروع کر دی۔

ہم اسے روک نہیں سکے اس لئے سننے میں ہی خیر سمجھی، کیونکہ اگر اسی مجلس میں ہمیں وہ منہ پھٹیاں سنا دیتا تو ہمارا کیا بنتا۔ خیر، زید نے بزرگ سے کہا : حضرت! بہت سے لوگ وعظ و نصیحت کرتے ہیں، اور بہت انمول و قیمتی باتیں بھی بتا دیتے ہیں۔ بعض دفعہ تو ان کے انداز بیان سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان سے بڑا ولی کوئی نہیں۔ لیکن ان کی باتوں کا اثر نہیں ہوتا۔ میں تو یہ سمجھا ہوں ہماری توجہ کا مسئلہ ہے اور کئی دفعہ اس مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش میں ان حضرات کی باتیں بھی بڑی توجہ سے سنی ہیں لیکن پھر بھی اثر نہیں ہوا۔

بزرگ نے زید کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور کہا : بیٹا آپ جو سمجھے وہ بھی خوب ہے کہ توجہ کے بغیر کوئی بھی کام اہمیت کھو بیٹھتا ہے۔ نہ اس کا خود پر کوئی اثر رہتا ہے نہ کسی دوسرے پر تاثیر۔ لیکن ہم تو یہ سمجھے۔ کہ کان کا کام توجہ سے سننا ہے یہ وہ کام ہے جو سامع کے لئے ضروری ہے قطع نظر اس بات سے کہ کہنے والا جو بھی ہو۔ لیکن دوسرا کام بولنے والے کی زبان کا ہے کہ زبان ترجمان ہوتی ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس کی ترجمان ہے۔ اس لئے کہ کبھی تو وہ دل کی ترجمانی کر رہی ہوتی ہے اور کبھی دماغ کی۔ ( بزرگ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا) بیٹا! میری بات غور سے سن رہے ہو نا؟ زید نے اثبات میں سر ہلایا۔ (ہم بھی پاس بیٹھے حیران تھے کہ زید نے آج کیا خوب موضوع چھیڑاہے ) ۔

بزرگ نے کہا: بیٹا! دنیا میں بہت سے لوگ علم حاصل کرتے ہیں، کسی کا علم دماغ تک پہنچتا ہے تو کسی کا دل تک۔ ( زید نے حیرانی سے ان کی طرف دیکھا) تو وہ مسکراتے ہوئے بولے، بیٹا! یہ ایسا ہی ہے۔ اس لئے کہ جب انسان مکتب میں کتاب کھولے، پڑھے اور یاد کرے اور یہاں تک ہی اپنی ذمہ داری مکمل سمجھ بیٹھے تو اس کا علم دماغ تک پہنچ جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی یہ تینوں کام کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اور کام کرے وہ یہ کہ جس کتاب کو کھولا، پڑھا اور یاد کیا اور پھر اس پر عمل کرنے کی حتی الامکان کوشش کی تو اس کا علم اس کے دل تک پہنچ جاتا ہے۔

پھر ان دونوں قسم کے لوگوں کو نصیحت کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پس جب یہ دونوں کسی نہ کسی موقع و مقام پر لوگوں کو نصیحت کرتے ہوئے اچھی باتیں اور عادات اپنانے کا درس دیتے ہیں۔ تو زبان ان کی ترجمانی کر رہی ہوتی ہے۔ جس کے علم کا مرکز دماغ ہو تو زبان دماغ کی ترجمان بن جاتی ہے اور اکثر اوقات سننے والوں کے دماغ میں بھی وہ کہی بات گھر کر جاتی ہے۔ اور جس کے علم کا چشمہ دل ہو تو اس وقت زبان دل کی ترجمانی کر رہی ہوتی ہے اور سننے والے کے دل میں کہی بات اتر جاتی ہے۔

پھر ہوتا یہ ہے جن کے دماغ تک بات پہنچی ہوتی ہے وہ لوگوں کو سنانے کے لئے اسے سنبھال رکھتے ہیں۔ اور جس کے دل تک بات پہنچی ہوتی ہے اسے لوگ عمل میں لاتے ہیں۔

بزرگ نے جیسے ہی بات ختم کی زید نے گھورتے ہوئے ہمیں دیکھا اور قریب ہو کر کان میں کہا : آئندہ مجھے اگر محض کسی سنی یا پڑھی ہوئی بات کی نصیحت صرف اپنے دماغ کے بل بوتے پر کرنے کی کوشش کی تو پھر میں یہ لحاظ نہیں کروں گا کہ تم کون ہو۔ آج یہ وہ دن تھا کہ جسے میں منہ پھٹ سمجھتا تھا، اس کی کی گئی ایک عملی نصیحت میری سیکڑوں بے عمل نصیحتوں پر بازی لے گئی۔ اور میں سوچتا ہی رہ گیا کہ زید کی کہی بات اتنی پر اثر کیوں تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •